معزز صارفین ہماری ویب سائٹ اپ ڈیٹ ہو رہی ہے۔ اگر آپ کو ویب سائٹ دیکھنے میں دشواری پیش آرہی ہے تو ہمیں اپنی رائے سے آگاہ کریں شکریہ

کالم و مباحث


  وقت اشاعت: 07 اپریل 2018

واں پہ رہتا ہوں جہاں برف پڑی ہوتی ہے
ہر گھڑی میری جُدائی کی گھڑی ہوتی ہے
ایک وکیل صاحب سے ، جو لندن میں رہتے ہیں ، میری الیکٹرانک قلمی دوستی ہے ۔ وہ صرف وکیل ہی نہیں ، کالم نگار بھی ہیں اور زندگی کے اداکار بھی ۔ وہ سیاسی پناہ کے طالبوں کو قانونی مدد فراہم کرتے ہیں اور اُن کو برطانیہ میں اقامتی ویزہ دلواتے ہیں ۔ میں نے اُن سے گزارش کی کہ کیا وہ مجھے پاکستان میں سیاسی پناہ دلا سکتے ہیں ، تو اُنہوں نے معذرت کرلی ۔ پاکستان میں صرف کرپشن پناہ دیتی ہے اور خود  موجودہ چیف جسٹس سے پناہ مانگتی ہے ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 01 اپریل 2018

اِن دنوں پاکستان کے سارے سیاسی بزنس مین اپنے اپنے سیاسی کاروبار کی تشہیری مہم پر نکلے ہوئے ہیں ۔ ہر ایک اپنے کھٹے انگوروں کو جنّت کی کھجوریں ثابت کرنے پر تُلا ہوا ہے ۔ اپنی پبلسٹی مہم اور کنویسنگ کے دوران  یہ  بزنس مین اپنی سابقہ کارکردگی بھول جاتے ہیں کہ گزشتہ ستّر برس کے دوران اُن کے ہاتھوں عوام پر غُربت ، بے روزگاری ، تعلیم سے محرومی اور طِبّی سہولتوں کے خوفناک فقدان کے باعث کیا کیا قیامت ٹوٹی ہے اور پولیس کے ہاتھوں جو نوعّیت اور کردار کے اعتبار سے اُن کی نجی پولیس ہے ، قانون کی میّت کس کس طرح سڑکوں پر گھسیٹی گئی ہے ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 25 مارچ 2018

ہم ایک عجیب عہد میں جی رہے ہیں ، جس میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے عشق کے دعویداروں کی روز مرہ زندگی ، قرآن و سُنّت کی تعلیمات کے واضح اور شرمناک حد تک استرداد کی گواہی  دیتی ہے جو اس بات کا بیّن ثبوت ہے کہ آج کے مسلمان کا اسلام سے رشتہ واجبی ، سطحی اور سریع الاعتقادی کا شہکار ہے۔ اس بات کے پیش نظر مجھے قرآن کی وہ نشانیاں یاد آتی رہتی ہیں جن میں مسلمانوں کی مختلف کیٹیگریاں بیان کی گئی ہیں ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 17 مارچ 2018

کئی دہائیاں پہلے فارسی کی ایک کتاب پڑھی ۔ نام تھا " نصیحت الملوک" ۔ یہ حکمرانوں کو کی جانے والی نصیحتوں اور مشوروں پر مشتمل تھی ۔ چونکہ میں اُس وقت اپنی ذات تک کا بھی حکمران نہیں تھا ، اس لیے میں نے اُس کتاب کو بہشتی زیور کی طرح کا شاہی زیور سمجھا اور نظر انداز کردیا۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 10 مارچ 2018

میں نہ مُلّا ، نہ قاری ، نہ مُفتی ، نہ فقیہہ اور نہ ہی ماہرِ اقتصادیات ۔ مجھے اسلام میں دولت کی تقسیم کے بنیادی تصور کا کیا اندازہ ۔ اور پھر صوفیا یہ بھی کہتے ہیں کہ اندازے ، قیاس اور گمان سے کہی ہوئی بات شاذ ہی درست ہوتی ہے ۔ کیونکہ گفتگو بھی ایک ریاضی ہے جس میں ناپ تول کے پیمانے میں ناپے اور تولے بغیر کی ہوئی بات ، بات نہیں ہوتی ، محض ایک زبانی جھک ہوتی ہے جو لوگ بے سوچے سمجھے مارتے ہیں اور مکالمے ضائع کر دیتے ہیں ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 04 مارچ 2018

پاکستان ، کون سا پاکستان ؟ لیکن موجودہ پاکستان  وہ تو نہیں جو  14 اگست اُنیس سو سنتالیس کو وجود میں آیا تھا ۔ وہ پاکستان تو 16 دسمبر کو 1971 میں فوجی گولیوں   کی بوچھاڑ میں چھلنی ہو کر ٹوٹ گیا تھا ۔ یہ تو بچا کھچا پاکستان ہے جو اب پانچ قومیتوں پر مشتمل ہے ۔ پنجابی ، سندھی ، پٹھان ، بلوچ اور مہاجر ۔ کشمیریوں کا ذکر فی الحال رہنے دیتے ہیں کیونکہ وہ ستر برس سے تنازعے کی آگ میں جل رہا ہے ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 26 فروری 2018

اہلِ پاکستان کو مژدہ ہو کہ عدلیہ کی سہولت کے لیے نُون لیگ نے عوامی عدالتیں قائم کر دی ہیں تاکہ سرکاری عدالتوں پر مقدمات کا بوجھ کم ہو سکے ۔ شاید تحریکِ عدل کا یہی مطلب ہوگا ۔ واللہ اعلم ۔ چنانچہ لوگوں کو اس عوامی عدل کی مثال پیش کرنے کے لیے میاں نواز شریف ٹیسٹ کیس کے طور پر اپنا کیس عوام کی عدالت میں لے گئے ہیں اور اس کیس میں مدعی بھی نون لیگی لیڈر ہیں ، عدالت بھی وہ خود ہیں اور خود ہی فیصلہ دے کر سامنے کھڑی بھیڑ سے تائید  لے لیتے ہیں کہ فیصلہ منظور ہے ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 20 فروری 2018

یونان کے دارالحکومت ایتھنز پر خداؤں کی حکومت ہے۔ آپ کسی طرف ہو لیجئے، کوئی نہ کوئی خدا آپ کا راستہ کاٹنے کے لئے ایستادہ ہوگا۔ ان سب خداؤں نے اپنی خدائیاں بھی بانٹ رکھی ہیں۔ کوئی ہواؤں کا نگران ہے، کوئی پانی کا ، کوئی موسم کی خبر رکھتا ہے تو کوئی محبت اور حسن کا دیوتا ہے۔ البتہ یہ جاننے کے لئے قدیم تاریخ کی عرق ریزی کرنا ہوگی کہ ان خداؤں کے عوام کے ساتھ تعلق اور رشتے کی کیا نوعیت تھی۔ خوبصورت موسم میں ایک خوشگوار شہر میں یہ کام کرنے سے بہتر تھا کہ ہم گھر پر ہی رہتے اور تحقیق و جستجو کا شوق پورا کرتے رہتے۔ لیکن یہ خدا پیچھا نہیں چھوڑتے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 18 فروری 2018

دھرنا عوامی دباؤ کی علامت ہے اور پچھلے چند سالوں سے یہ روایت پاکستان کی سیاسی جماعتوں کے منظم مظاہروں میں بڑی سرعت اور تواتر سے دوہرائی جا رہی ہے ۔ اِن دھرنوں میں ڈاکٹر طاہر القادری  کا دھرنا ، تحریکِ انصاف کے عمران خان کا دھرنا اور تحریکِ لبیک یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم) دھرنا قابلِ ذکر ہیں جنہیں سیاسی دھرنوں کے طور پر تاریخ میں بطور حوالہ پیش کیا جاتا رہے گا۔ لیکن اس وقت میں جس دھرنے کی بات کر رہا ہوں وہ محسود قبیلے کے پشتونوں کا دھرنا ہے جو ریاستی دہشت گردی کے خلاف دیا جا رہا ہے ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 09 فروری 2018

خربوزہ ،  خربوزے کو دیکھ کر رنگ پکڑتا ہے حالانکہ خربوزوں کی آنکھیں نہیں ہوتیں اور سیاستدان سیاستدان کو دیکھ کر رنگ پکڑتا ہے اور بالکل خربوزہ لگتا ہے جس میں زور خر پر ہوتا ہے ۔ چونکہ سیاستدان کی آنکھیں ہوتی ہیں اس لیے وہ دیکھ بھال کر رنگ پکڑتا ہے اور کرپشن اور منی لانڈرنگ کی جادوگری کو ایک دوسرے کی دیکھا دیکھی جائز سمجھتا ہے ۔ آج ایم کیو ایم کے خربوزے کامران ٹیسوری کو ایک پریس کانفرنس میں یہ کہتے سنا کہ سیاست اور کرپشن لازم و ملزوم ہیں ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 02 فروری 2018

کبھی کبھی لگتا ہے کہ پاکستان کسی گھر کا ایسا آنگن ہے جس میں جھاڑ چوہے کا کانٹا دفن ہے جس کے سبب اس گھر میں ہر وقت جوتیوں میں دال بٹتی ہے ، پگڑیاں اُچھلتی ہیں ، جُگتیں تیروں کی طرح چھٹتی ہیں اور ایک دوسرے کے خلاف دشنام طرازی ہوتی ہے ۔ مذہبی اور سیاسی کارکنوں کی ایک فوجِ طفر موج ہے جو ایک دوسرے کے خلاف صف آرا ہے ۔ حکومت اپنے سیاسی مخالفین کو کوستی ہے اور حزبِ اختلاف حکومتِ وقت کے لتّے لیتی ہے ، پولیس مقابلہ ایک عام سی بات ہے ۔ دھرنے ، کنٹینر ، بد کلامی ، ٹی وی ٹاک شوز میں مونہہ زبانی ہاتھا پائی ہمارا روز مرہ ہے اور یہ اکیسویں صدی کے برقیاتی دور کا مسلمان ملک ہے جسے نظریاتی طور پر حاصل کیا گیا تھا مگر وہ نظریہ اپنی بھانت بھانت  کی تعبیروں میں قتل ہو کر رہ گیا ہے ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 27 جنوری 2018

ہم پنجابی طبعاً ، مزاجاً اور روایتاً بڑے زندہ دل تماشائی ہیں ۔ میں نے اپنے بچپن سے کُتوں کی آپس کی لڑائی ، ریچھ کُتّوں کے معرکے ، سانپ نیولے کی جنگ ، بٹیروں ، مرغوں اور مینڈھوں سے لے کر گاؤں  کے "شریکوں" تک کی لڑائیاں دیکھی ہیں ۔ اس قسم کی لڑائیاں دیکھنے اور اُن میں نفسیاتی فریق بننے کا ہم سب کو تجربہ ہے ۔ میں نے پنجاب کے علاوہ دوسرے صوبوں پر اُنگلی اُٹھانے کی جسارت نہیں کی کہ کہیں میرے سندھی ، بلوچ اور پٹھان دوست مجھ پر متعصب پنجابی ہونے کا ٹھپہ نہ لگا دیں ۔ آپ ہم سب اپنی اس عادت سے واقف ہیں کہ ایک دوسرے کو مطعون کرنے اور ملعون قرار دینے میں ہم ذرا سا بھی توقف نہیں کرتے کیونکہ پچھلی کئی صدیوں سے ہماری جو سائیکی بنی ہے ، وہ ہمارے لاشعور کا حِصّہ ہے اور ہم من حیث الاجتماع " وما یشعرون" کی کیفیت میں رہتے ہیں اور شعورسے ہر گز کام نہیں لیتے ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 20 جنوری 2018

پاکستان میں کون سا طرزِ حکومت  رائج ہے؟
حکمرانوں کے محاورے میں یہ جمہوریت ہے جو بیس کروڑ لوگوں کے ووٹوں سے وجود میں لائی گئی ہے ۔ لیکن  عوام اپنی زبانِ حال سے اسے نظریے کی تردید کرتے ہیں  اور اسے نون لیگ کی پارٹی ڈکٹیٹر شپ کہتے ہیں جو یہ اپنی نوعیت میں   بالفعل ہے۔ کیونکہ اس پارٹی کا واحد مقصد حکمران خاندان  کے اقتدار کی رسی کو دراز رکھنا ہے ۔ یہ طرزِ حکومت ایک بڑا  کمرشل کمپلیکس ہے جس میں پورا انتظامی ، سیاسی اور مذہبی ڈھانچہ پارٹی کا تنخواہ دار ہے ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 14 جنوری 2018

مابعدِ زینب ۔۔۔ اُس سات سالہ بچی کے جسم کے ساتھ جنسی دہشت گردی اور اُس کے وحشیانہ قتل  کے بعد سیکس ایجوکیشن کی بات چل نکلی ہے اور کہا جا رہا ہے کہ سیکس ایجوکیشن کے ذریعے اسلام کی مشرقی قدروں کو پامال کرنے کی سازش کی جا رہی ہے اور اس ضمن میں طرح طرح کی موشگافیاں برساتی مینڈکوں ، ڈینگی مچھروں اور موسمِ گرما کی مکھیوں کی طرح  ذہنی فضا کو آلودہ کر رہی ہیں ۔ تو صاحبو ! یہ سیکس ایجوکیشن ہے کیا اور کیا یہ کوئی مجرمانہ اور غیر انسانی فعل ہے ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 05 جنوری 2018

کسی فلسفی کا قول ہے :
"عالی ظرف لوگ آئیڈیاز اور تخیلات پر تبادلہ خیال کرتے ہیں ، اوسط فکری استعداد کے حامل لوگ واقعات کو زیرِ بحث لاتے ہیں اور خطِ عقل و ہوش سے نیچے زندگی بسر کرنے والے لوگ افراد اور شخصیات پر جملے کستے اور ریمارکس دیتے ہیں اور مدح و ذم کے دائروں میں گردش کرتے رہتے ہیں " ۔
لیکن اس طرح کے علمی بیانیے ہماری روز مرہ زندگی کے حقائق نہیں ہیں  بلکہ ہم رٹّو طوطوں کی طرح آسمانی آیات کی نقلیں اُتارے رہتے ہیں اور اسے اپنی دینی ذمہ داری سمجھتے ہیں ۔  محولہ بالا قول پر غور و خوض کرتے مجھے پچاس کی دہائی کا پاکستان یاد آگیا جس میں پاکستان ویسٹرن ریل چلتی تھی اور ریل کے ڈبے انگریز کی بنائی ہوئی  درجہ بندی کے مطابق فسٹ کلاس ، انٹر کلاس اور تھرڈ کلاس  یعنی تیسرے درجے میں تقسیم تھے ۔

مزید پڑھیں

Donald Trump's policy towards Pakistan

Donald Trump's; the president of US war of tweets was a fierce attack on Pakistan, accusing the country of "lies and deceit" and making "fools" of US leaders. Trump decla

Read more

loading...