کالم و مباحث


  وقت اشاعت: 6 دن پہلے 

خاتونِ خانہ پاکستانی ٹی وی پر  شور مچاتے مہذب لوگوں کی گفتگو سُن رہی تھی کہ اچانک  زور سے چیخی اور بولی ، " ایہہ اوتر جانڑیں ایسٹیبلشمنٹ کونڑ اے؟"
میں نے کتاب سے نظریں ہٹائے بغیر کہہ دیا ، " ایسٹیبلشمینٹ تو آپ خود ہیں  اور مجھ سے اپنے بارے میں پوچھ رہی ہیں ۔ یہ کچن ، یہ کھانے کی میز اور یہ گھریلو بیٹھک جسے ناروے میں سٹوا کہتے ہیں ، آپ کے دم قدم سے آباد ہے ، یہاں آپ کا حکم چلتا ہے ۔ آپ اس گھر کی آئینی حکمران ہیں اور آپ کی سہیلیاں اور وہ رشتہ دار خواتین ، جن سے آپ کی گاڑھی چھنتی ہے اور جن کے مشورے سے لباس ، وضع قطع اور تزئین و آرائش کے فیصلے ہوتے ہیں ، وہ سب ملا کر  ایسٹیبلشمنٹ ہیں۔
 

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 04 2017

نام و نمود کو بطور سماجی رویہ اختیار کرنا اور  اس لسانی اقرار کو نعرہ ، نظریہ اور فلسفہ بنا دینا بہت خطر ناک عمل ہے ۔  لیکن شومئی قسمت سے  ہم فی زمانہ بڑے اُونچے کلمات کے بینرز تلے ایک نمائشی جلوس میں چل رہے ہیں  ۔ اس کیفیت پر صوفیا ء کرام نے بھی مراقبہ کیا اور اپنے نتائج مُرتب کیے ، سلطان باہو نے فرمایا:
اُچّے کلمے سویو پڑھدے ، نیت جیہناں دی کھوٹی ہو

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 29 2017

پچھلے دو تین دن میں ٹی وی سکرینوں پر  کچھ ایسی اندوہ ناک ، کرب ناک  اور بھیانک تصویریں دیکھنے کو ملیں  کہ مجھ سا کمزور دل ، عمر رسیدہ بچہ کانپ کر رہ گیا ۔ کتنی ہی دیر تک میرے بدن کے رونگٹے کھڑے رہے  ۔ اب میں عمر کے اس حصّے میں ہوں  کہ مجھے یہ تک یاد نہیں رہتا کہ کب کیا کہا تھا  اور میں پہلے سے کہی ہوئی باتیں  بار بار دوہرانے لگتا ہوں  ۔ یہی وہ کیفیت ہے جو بچوں کو بوڑھا کردیتی ہے  اور عمر رسیدہ بوڑھے  مجبور اور لاچار  بچّے بن کر رہ جاتے ہیں ۔ اور تب اچانک سورہ  مُزمل کی ایک آیت مجھے دہشت زدہ کیے دیتی ہے :
"فکیف تتقون ان کفرتم یوماً یجعل الولدان شیا "
اور تم کیسے صاحبِ تقویٰ ہو  ، جو اُس دن کا انکار کرو جو بچوں کو بُوڑھا کر دے گا  ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 20 2017

قانون حُکم ہے ۔ حُکم حکمت زاد ہے ۔ چنانچہ حضرت فضل شاہ قادری فاضلی نُور والے فرمایا کرتے تھے کہ جو شخص حُکم میں رہتا ہے ، حفاظت میں رہتا ہے ، جس کا واضح مطلب یہ ہے کہ جو شخص قانون کی پابندی کرتا ہے ، وہ خُدا کے قانون کی پناہ میں محفوظ اور مامون رہتا ہے ۔ قانون کی پابندی تمام عبادات کا سرچشمہ ہے ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 14 2017

دلوں کے حکمران میاں نواز شریف نے پچھلے دنوں اعلان کیا کہ وہ اب ایک نظریاتی آدمی بن چکے ہیں ۔ یار لوگوں نے سابق نا اہل وزیر اعظم کے اس بیان کو بغیر سمجھے سُنا ، مگر در خُو رِ اعتنا ہی نہیں سمجھا اور نہ ہی یہ جاننے کی کوشش کی کہ میاں نواز شریف کس نظریہ کی بات کر رہے ہیں ۔ حالانکہ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ میاں صاحب کے اس نظریاتی انکشاف کے بعد اُن کا ایک باقاعدہ نظریاتی انٹرویو کیا جاتا اور اس نظریے کو نہایت احتیاط سے حیطہ تحریر میں لا یا جاتا تاکہ علمِ سیاسیات کی کتابوں میں اس نئے جمہوری نظریے کو شامل کرکے شریف اکادمی ٗ سیاسیات کی اس علمی نظریاتی ایجاد کو عالمی سطح پر متعارف کروایا جاتا۔ مگر یہ میڈیا کے بقراطوں ، یونیورسٹیوں کے سقراطوں اور صحافت کے افلاطونوں کی نا اہلی ہے کہ انہوں نے اس نظریاتی انکشاف کو ٹریش بیگ میں ڈال دیا ۔ یہ بہت بڑی سیاسی بے ادبی ہے کہ علم کے ہیروں کو غیر ذمہ داری کے کوئلوں سے سیاہ کرکے بالائے طاق رکھ دیا جائے ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 08 2017

( آزادی ایک پہاڑ ہے جسے پیٹھ پر اُٹھا کر چلنا پڑتا ہے ۔ آزادی کی متعدد قسمیں ہیں ۔ ان میں سے سب سے اہم ضمیر اور اظہار کی ٓزادی ہے ۔ اظہار کی آزادی پر نون لیگی حکومت قدغن لگانا چاہتی ہے اور ایک صحافی ارشد شریف کا ٹیسٹ کیس حال ہی میں سامنے آیا ہے، جو ایک ٹی وی چینل کے پروگرام پاور پلے کے میزبان ہیں ۔ ارشد شریف کے بعد کس کس کی باری ہے ، خُدا ہی جانے ۔ یہ صورتِ حال تشویش ناک اور قابلِ مذمت ہے )

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 02 2017

" بین الاقوامی قرضوں پر چلنے والے مقروض معاشرے حقیقی آزادی سے محروم ہوتے ہیں  ، کیونکہ  اس طرح کے معاشروں میں قانون کی حیثیت، لاقانونیت کے ہاتھی کے نمائشی دانتوں سے زیادہ نہیں ہوتی ۔ "
درویش خانقاہی
فرد ہو یا اجتماع ، تین طرح کی قوتوں سے لیس ہوتا ہے اور تینوں قوتیں اپنی اپنی جگہ خود مُختار ہوتی ہیں ، تینوں کا ساختیہ الگ الگ ہوتا ہے اور اُن کو چلانے والے قوانین بھی الگ الگ ہوتے ہیں لیکن یہ اپنی تشکیل میں ایک ہی سرچشمے سے منسلک ہوتے ہیں ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 24 ستمبر 2017

" سیاسی مُخالفین کو تہس نہس کرنے کے بجائے اُن کے لیے بہتر نظم و ضبط اور صحت مند اختلاف کے مواقع پیدا کرنے چاہئیں " ۔ درویش خانقاہی
ہم برِ صغیر کے مسلمان بُلھے شاہ کے فلسفے کے پیرو ہیں اور نہیں جانتے کہ ہم کون ہیں اور کیا ہیں : مسجدوں کے مومنین ہیں یا کفر کی روایت پر قائم ہیں ۔ حُسین علیہ السسلام کے گھرانے کے حامی ہیں یا یزید کی جمہوریت کے ہم نوا ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 17 ستمبر 2017

پاکستان سے ہزاروں میل دور بیٹھے سابق پاکستانی ، پاکستانیت کے روز مرہ معاملات میں براہِ راست  شریک نہیں  ہوتے مگر وہ محض تماشائی بھی نہیں ہیں ۔ پاکستان اور پاکستانیت اُن کا ماضی ، بچپن ، لڑکپن ، تعلیم گاہوں میں دوستی کے سلسلے اور اُن کی محبتیں ہیں ۔ دیارِ غٖیر میں پاکستان سے آنے والی خبریں سُن کر  قلب و ذہن پر ایسا تاثر مُرتب ہوتا ہے کہ پاکستان اُن کا وہ سابقہ سکول ہے جہاں کا موجودہ نصابِ تعلیم محض رسمی ہے ،  جس کی برکات سے میڈیا کے جُگتیں اور ترقی کے جھوٹے وعدے بخیر و خوبی تخلیق کیے جا سکتے ہیں ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 08 ستمبر 2017

بہت سی باتیں ہیں جن پر لکھنا چاہتا ہوں ۔ سرِ فہرست برما کے روہنگیا مسلمانوں کا رنج و الم ہے لیکن سارا پاکستان ، ترکی اور ایران اُن کی مدد کو نکلا ہوا ہے ۔ سو میرے ہمدردی کے دو لفظوں کی اوقات کیا ہوگی۔ بہت سے لوگ ایک ٹی وی اینکر کے اس بیان پر سیخ پا ہیں کہ  اُس نے یہ کیوں کہا کہ پاکستان کے پاسپورٹ پر تو کوئی تھوکتا بھی نہیں ۔ پتہ نہیں وہ اینکر یہ کیوں چاہتا تھا کہ پاسپورٹ کو تھوکدان ہونا چاہیے ۔ مجھے محسوس یوں ہوتا ہے کہ لوگوں کی عقل سلامت نہیں رہی اور وہ اول فول بولنے لگے ہیں اور اول فول بیان پر اول فول قسم کا  ردِ عمل بھی مونہہ کا ذائقہ خراب ہی تو کرتا ہے ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 31 اگست 2017

میرے مونہہ میں تجزیے کی زبان نہیں بلکہ کُل کے جوہر کی تفہیم ہے ۔ میں تجزیہ کرنے اور دنیا کے بارے میں اپنی ناقص رائے ظاہر کرنے پر فائز نہیں  ہوا بلکہ میں ارد گرد کی دنیا ، ماحول اور معاشرت کو آراء  سے بالاتر جانتا ہوں  ۔ میں دیکھتا ہوں کہ جہالت تھری پیس سوٹ اور ٹائی میں ملبوس ، سر پر وِگ کا تاج پہنے رہتی ہے اور  اُس نے اپنی بقا کے لیے باقاعدہ قانون سازی کر رکھی ہے تاکہ اُن قوانین کے تحت لوگوں کو نفسیاتی اذیّت میں مُبتلا رکھا جا سکے ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 26 اگست 2017

اُردو کے اہلِ زبان اور نا اہلِ زُبان مل کر یہ محاورہ باندھتے ہیں کہ جتنے مونہہ اُتنی باتیں اور اگر اِس بات کو اینکروں ، ٹاکروں ، وکیلوں اور سیاسی دانشوروں کے ہونٹوں کی رفتار سے ضرب دی جائے تو حاصل ضرب کُل ملا کر کھربوں باتیں بنتی ہیں۔ لیکن محتاط انداز میں کہا جائے تو یہ اُتنی باتیں ہیں جتنا پاکستان پر امریکہ اور دیگر بین الاقوامی مالیاتی اداروں کا قرضہ ہے اور اب پاکستان کی آبادی جو لگ بھگ بائیس کروڑ  کے عددِ اعظم تک پہنچ گئی ہے اس قرض کا طوقِ غلامی گلے میں ڈالے سڑکوں پر ایک دوسرے کے موبائل چھینتی اور بلاس فیمی کی آڑ میں ایک دوسرے کی جان کے درپے ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 20 اگست 2017

عزیزم بلاول زرداری نے اپنے ساتھ بھٹو کا لاحقہ بھی لگا رکھا ہے جو لوگوں کو یہ یاد دلانے کے لئے ہے کہ یہ نوخیز سیاستدان  بے نظیر بھٹو کا بیٹا اور جناب ذوالفقار علی بھٹو شہید کا نواسہ ہے  ۔ جی ہمیں سب یاد ہے اور یہ بھی یاد ہے کہ وہ حاکم علی زرداری کے پوتے ہیں ۔ بھلا بھٹو مرحوم اور اُن کی بیٹی کو کون بھول سکتا ہے اور مجھ جیسے فقیر کو جس نے اُن کے دو ماموؤں میر مُرتضیٰ اور شاہ نواز بھٹو کے ساتھ کابل میں کئی مہینے گزارے ہیں ، ایک ایک بات یاد ہے کہ کون کیا ہے ، کیا تھا  اور وہ عوام کے حق میں کیسا تھا ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 12 اگست 2017

پاکستان میں اسلام کے بہتر فرقے ہیں،  مُلکِ خداداد  کے بہتر ٹی وی چینل ہیں ، بے شمار سرکاری اور غیر سرکاری ریڈیو ہیں جن کی نشریات چوبیس گھنٹے جاری رہتی ہیں ۔ انگنت اخبارات ہیں ، بھانت بھانت کے جرائد ہیں  اور  مستزاد یہ کہ سوشل میڈیا  کے ہوم میڈ صحافیوں کا حدِ لوح و قلم تک جال  پھیلا ہوا ہے ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 05 اگست 2017

بارہ سال کی لڑکی کی آبرو ریزی کا بدلہ لینے کے لئے اہل خاندان نے متاثرہ بچی کے اٹھارہ سالہ بھائی کو ملزم کی سترہ سالہ چچیری بہن کے ساتھ ریپ کرنے کا حق دے دیا۔ معاملہ آپس میں طے کرلیا گیا۔ ملتان کے نواحی علاقے مظفر آباد میں پیش آنے والے اس المناک سانحہ کا انکشاف اس وقت ہؤا جب جنسی تشدد کا نشانہ بننے والی ایک لڑکی کے اہل خانہ نے باہمی ’معاہدہ ‘ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پولیس میں شکایت درج کروادی۔ اس طرح دوسرے خاندان نے بھی اپنی بچی کے ساتھ ہونے والی زیادتی کا مقدمہ درج کروایا۔ یہ واقعہ ایک ایسے ملک اور سماج میں پیش آیا ہے جہاں اخلاقیات کو ترجیح دی جاتی ہے، غیرت کے نام پر جان دی اور لی جاتی ہے، معاشرہ میں مذہب کے بارے میں سنگین مباحث کئے جاتے ہیں اور عقیدہ کو بنیاد بنا کر ہر دم کفر کے فتوے صادر کرنے کا اہتمام ہوتا ہے۔ معاشرہ کی دو کمسن بچیوں کے ساتھ بدترین جنسی ظلم کے بعد معاشرہ کے سب نمائیندوں سے صرف یہی پوچھا جا سکتا کہ یہ کون سی روایت ، کون سا عقیدہ اور کس قسم کی غیرت ہے۔ یہ تو گمراہی ، جہالت اور استحصال کی بدترین سطح ہے۔

مزید پڑھیں

Praise and prayers for the great people of Turkey

One year ago, this day, the people of Turkey set an example by defending their elected government and President Recep Tayyip Erdogan against military rebels.

Read more

loading...