کالم و مباحث


  وقت اشاعت: 4 دن پہلے 

عزیزم بلاول زرداری نے اپنے ساتھ بھٹو کا لاحقہ بھی لگا رکھا ہے جو لوگوں کو یہ یاد دلانے کے لئے ہے کہ یہ نوخیز سیاستدان  بے نظیر بھٹو کا بیٹا اور جناب ذوالفقار علی بھٹو شہید کا نواسہ ہے  ۔ جی ہمیں سب یاد ہے اور یہ بھی یاد ہے کہ وہ حاکم علی زرداری کے پوتے ہیں ۔ بھلا بھٹو مرحوم اور اُن کی بیٹی کو کون بھول سکتا ہے اور مجھ جیسے فقیر کو جس نے اُن کے دو ماموؤں میر مُرتضیٰ اور شاہ نواز بھٹو کے ساتھ کابل میں کئی مہینے گزارے ہیں ، ایک ایک بات یاد ہے کہ کون کیا ہے ، کیا تھا  اور وہ عوام کے حق میں کیسا تھا ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 12 اگست 2017

پاکستان میں اسلام کے بہتر فرقے ہیں،  مُلکِ خداداد  کے بہتر ٹی وی چینل ہیں ، بے شمار سرکاری اور غیر سرکاری ریڈیو ہیں جن کی نشریات چوبیس گھنٹے جاری رہتی ہیں ۔ انگنت اخبارات ہیں ، بھانت بھانت کے جرائد ہیں  اور  مستزاد یہ کہ سوشل میڈیا  کے ہوم میڈ صحافیوں کا حدِ لوح و قلم تک جال  پھیلا ہوا ہے ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 05 اگست 2017

بارہ سال کی لڑکی کی آبرو ریزی کا بدلہ لینے کے لئے اہل خاندان نے متاثرہ بچی کے اٹھارہ سالہ بھائی کو ملزم کی سترہ سالہ چچیری بہن کے ساتھ ریپ کرنے کا حق دے دیا۔ معاملہ آپس میں طے کرلیا گیا۔ ملتان کے نواحی علاقے مظفر آباد میں پیش آنے والے اس المناک سانحہ کا انکشاف اس وقت ہؤا جب جنسی تشدد کا نشانہ بننے والی ایک لڑکی کے اہل خانہ نے باہمی ’معاہدہ ‘ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پولیس میں شکایت درج کروادی۔ اس طرح دوسرے خاندان نے بھی اپنی بچی کے ساتھ ہونے والی زیادتی کا مقدمہ درج کروایا۔ یہ واقعہ ایک ایسے ملک اور سماج میں پیش آیا ہے جہاں اخلاقیات کو ترجیح دی جاتی ہے، غیرت کے نام پر جان دی اور لی جاتی ہے، معاشرہ میں مذہب کے بارے میں سنگین مباحث کئے جاتے ہیں اور عقیدہ کو بنیاد بنا کر ہر دم کفر کے فتوے صادر کرنے کا اہتمام ہوتا ہے۔ معاشرہ کی دو کمسن بچیوں کے ساتھ بدترین جنسی ظلم کے بعد معاشرہ کے سب نمائیندوں سے صرف یہی پوچھا جا سکتا کہ یہ کون سی روایت ، کون سا عقیدہ اور کس قسم کی غیرت ہے۔ یہ تو گمراہی ، جہالت اور استحصال کی بدترین سطح ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 04 اگست 2017

پاکستان کا مطلب کیا
لا الہ الاللہ
جی ہاں  ، بلند بانگ دعوے اور نعرے ایجاد کرنا ، خواب دیکھنا اور تاریخ کی کتابوں میں اپنے دینی و نظریاتی  آباؤاجداد کے قصے دوہرانا اور اُن کی عظمت کی قسم کھا کر سر دھننا ، ہمارا پُرانا رویہ ہے ۔ نعروں کی جگالی کرتے کرتے ستر برس ہونے کو آئے مگر اس قوم کی حالت عموداً نہیں بدلی ۔ ہم نے لا الہ کے رستے پر اعلیٰ روحانی اور اخلاقی  اقدار کا سفر طے نہیں کیا ، کیونکہ یہ ہم سے ہو ہی نہیں پایا۔ تاہم برساتی مینڈکوں کی طرح شور بہت مچایا  گیا ہے ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 29 جولائی 2017

28 جولائی 2017
آج کا دن پاکستان کی تاریخ کا ایک اور سیاہ دن ہے ۔ آ ج پھر ایک نام نہاد منتخب حکومت کو ، جس کے پاس بھاری مینڈیٹ کا دعویٰ تھا ، اقتدار سے معزول کر دیا گیا ۔ اِس بار نہ تو فوج نے مارشل لا ٗ کا بگل بجایا اور نہ ہی کوئی بیرونی سازش ہوئی بلکہ اس کے بر عکس مقدر نے ستم ڈھایا ، آسمان گرا اور پانامہ کے پنگے کا دستاویزی پلندہ دھم سے کود کر وزیر اعظم ہاؤں میں آ گرا  اور عمران خان نے اُسے کیچ کرلیا ۔ وہ دن اور آج کا دن ، پاکستان کی پوری سیاست پانامہ پانامہ ہوگئی ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 23 جولائی 2017

پانامہ ، پانامہ ، پانامہ  ۔ سُنتے سُنتے کان پک گئے اور کانوں سے سائیں سائیں  کی جگہ پائیں پائیں کی آواز آنے لگی ہے اب تو ۔ یار اب  معاف کردو۔ کب تک اس چیونٹی کو ہاتھی بنانے میں اپنی زندگی کو خوشامد کے تیل میں تلتے رہو گے ۔ جتنی تعریفیں درباریوں نے اپنے ممدوح آقا  کی کر لیں اُن کو جمع کریں تو فردوسی کے شاہ نامے کی پچاس جلدیں تیار ہو جائیں گی ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 19 جولائی 2017

تماشہ لگا ہے۔ تھیٹر سجا ہے۔ آئیے تماشہ دیکھتے ہیں۔ اس سے فرق نہیں پڑتا کہ آپ یہ ڈرامہ دیکھ دیکھ کر تنگ آ چکے ہیں۔ اس سے بھی فرق نہیں پڑتا کہ آپ جانتے ہیں کہ پرانے دلائل اور نئے کرداروں کے ساتھ سجائے گئے اس نئے شو میں آپ کی دلچسپی کا سامان نہیں ہے۔ نہ ہی اس سے اس خواب کی تکمیل ممکن ہے جسے دیکھتے پاکستان کی تیسری چوتھی نسل بوڑھی ہو رہی ہے اور جس خواب کو تماشہ بناتے حکمرانوں کے تہہ در تہہ کئی طبقات اپنی نسلوں کی بہبود کی ضمانت حاصل کر چکے ہیں۔ یا تو اپنے بچوں اور ان کے بچوں کو حکمرانی کےلئے تیار کر چکے یا بیرون ملک املاک حاصل کر چکے یا اپنے اہل خاندان کےلئے محلات اور جاگیریں تعمیر کر چکے یا ملک کے خزانے کا بوجھ ہلکا کرنے کےلئے قومی وسائل کو ذاتی اکاؤنٹس میں منتقل کر چکے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 15 جولائی 2017

انارکی کو شُدھ اردو میں کیا کہتے ہیں؟
اس تصور کا  ایک ہندی ترجمہ نراجیت کے نام سے موجود ہے لیکن لُغت میں انارکی کے انار جب چھوٹتے ہیں تو ان گنت رنگ بکھرتے ہیں ۔ انارکی انتشار ہے ، بحران ہے ، پریشاں فکری ہے ، نقصِ امن ہے ، بد انتظامی ہے  ، لا حکومتیت ہے ،  لا قانونیت ہے ، بلوہ ہے اور بغاوت ہے  ۔اور مسلمان جہاں جہاں بھی ہیں اس نراجیت کا شکار ہیں۔ دو روز پہلے بھارت میں اُتر پردیش کی ایک مسجد میں سے ایک محوِ  نماز مسلمان کو ہندوؤں نے پکڑ کر  باہر نکالا اورتشدد کا نشانہ بنایا لیکن  آج کی خبروں میں بتایا گیا ہے کہ انتہا پسند ہندوؤں نے ایک ٹرین روک کر ایک مسلمان خاندان پر حملہ کیا اور ایک معذور نوجوان کو تشدد کا نشانہ بنایا ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 09 جولائی 2017

اور اب نُون لیگ کے وزیروں ، مشیروں اور لکیر کے پہلوان فقیروں کے شہر شہر جلسوں اور عوامی عدالت میں جانے کے پے در پے اعلانات سے ایسا لگتا ہے  جیسے اگلے عام انتخابات کی تیاری شروع ہو چکی ہے ۔ پاکستان میں عام انتخابات کی لفظی ترکیب ہمیشہ ہی سوالیہ نشان کی زد میں رہی ہے بلکہ اس ترکیب کی معنوی اوقات کبھی بھی ایک مضحکے یا جُگت سے زیادہ کی  نہیں رہی۔  کیونکہ عام انتخابات کے نام پر اور انتخابی شو کی آڑمیں پاکستان میں ہمیشہ ہی خواص کے انتخابات ہوئے ہیں  جن میں جاگیرداروں ، جرنیلوں ، سیاسی شریفوں اور میڈیا کے مداریوں  کو ملک پر   انتظامی  شکنجہ کسنے کے  مواقع مہیا کیے جاتے رہے ہیں ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 05 جولائی 2017

لال بجھکڑ نے کھیر بنانے کا ارادہ کیا۔ سوچا سب اپنی اپنی دیگ چڑھاتے ہیں، دوسروں کا منہ چڑاتے ہیں، باتیں بناتے ہیں اور یوں غرور سے گردن اکڑا کر دیکھتے ہیں کہ جیسے دیگ نہ اتری ہو کسی تخت پر ان کی سواری اتری ہو۔
’’تو مجھ میں کیا کمی ہے‘‘ لال بجھکڑ نے سوچا، جسے سب اس کی بے سروپا باتوں اور حرکتوں کی وجہ سے اس نام سے پکارتے تھے۔ ’’میں بھی یہ سارے کام کر سکتا ہوں۔ کچھ ایسا پکا سکتا ہوں کہ جو بھی دیکھے منہ سے رال ٹپکنے لگے لیکن میں اسے ایک چمچ بھی کھانے کو نہ دوں‘‘۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 01 جولائی 2017

آج جب یہ سطور لکھی جا رہی تو یہ 2016 کے جون مہینے کی آخری تاریخ ہے ۔ 30 جون ۔ علم الاعداد کی کرشمہ سازیوں اور 30 کے عدد کے اثرات سے قطع نظر آج عام پاکستانی کا المیہ یہ ہے کہ وہ ذہنی ، فکری ، قلبی ، نظریاتی اور سماجی طور پر دہشت گردی کا شکا ر ہے ۔ اور پچھلی کئی دہائیوں سے  دہشت گردی کے لعنتی اور منحوس عفریت  کے خلاف لڑتے لڑتے خود بھی خوفناک دہشت گرد میں تبدیل ہوتا چلا گیا ہے  اور خُدا ہی جانے اس سماجی دہشت گردی کا  نقطہ ء عروج کیا ہوگا ۔ ذرا ہمارا روز مرہ ملاحظہ ہو :
 

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 28 جون 2017

پاکستان میں عید سے ایک روز پہلے بہاولپور کے نزدیک ایک آئل ٹینکر میں آگ لگنے سے آخری خبریں آنے تک ڈیڑھ سو سے زائد افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ اس سانحہ نے عید کی خوشیوں کو گہنا دیا ہے۔ اہل پاکستان اس سے پہلے کوئٹہ اور پاڑا چنار میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات سے ہی دل گرفتہ تھے کہ احمد پور شرقیہ میں رونما ہونے والے اس سانحہ نے ہر دل کو زخمی اور ہر آنکھ کو اشک بار کردیا۔ ایک نامعلوم سرائیکی شاعر نے پاکستان کے عام آدمی کی بے بسی کو ان چند اشعار میں قلم بند کیا ہے جو قارئین کے لئے پیش خدمت ہیں:

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 24 جون 2017

معروف ٹی وی اینکر ڈاکٹر شاہد مسعود المعروف دبڑ دُوس ، ڈاکٹر کم اور مولوی زیادہ ہیں اور پُورے تزک و احتشام سے اپنی مولویت میں رہتے ہیں ۔ وہ ایک عرصے سے وقت کے خاتمے پر تحقیق کر رہے ہیں اور اس سلسلہ میں اُن کی کتاب " دی اینڈ آف ٹائم" بھی شائع ہو چکی ہے ۔ اس بار رمضان کے دوران اُن کا " دی نیوز ون" پر چلنے والا  رمضان شو ، جس میں انعامات کی بارش ہوئی  اور عمروں کے ٹکٹوں کے تحفے تقسیم کیے گئے، بہت مقبول ہوا ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 18 جون 2017

پاکستان میں کامیاب بزنس مین بننے کے لیے اقتدار میں ہونا ضروری ہے یا پھر بطور سیاستدان اتنا موثر ہونا لازمی ہے جتنے مولانا فضل الرحمان، تاکہ شیر کے مونہہ سے اپنے حصے کا نوالہ چھینا جا سکے ۔ رزق یقیناً خُدا تعالیٰ کی طرف سے ہے لیکن اُس کی تقسیم کا ذمہ اور اختیار انسانوں کو دیا گیا ہے۔  اور انسان چاہیں تو خُدا کے اُتارے ہوئے رزق کو ، اُس کی عطا اور امانت سمجھ کر اُس کی رضا  کے لیے اور شریعت کے قانون کے مطابق خرچ کریں یا اسراف کرنے والوں کی طرح اللہ کے عطا کردہ رزق کو اپنے اللوں تللوں کی مد میں گل چھرے اُڑا کر حرام میں گنوا دیں ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 10 جون 2017

مذہب زندگی کا روڈ میپ ہے ۔ یہ خُدا کاقانون ہے جس کا ظاہر شریعت اور باطن محبّت ہے ۔
ہم مذہب اس لیے اختیار کرتے ہیں ، تاکہ محبّت کرنا سیکھ سکیں اور محبّت اس لیے کرتے ہیں  تاکہ مذہب کی حقیقت پوری تفصیل کے ساتھ جان سکیں  ۔ زندگی کو محبت کے سوا کسی رہنمائی یا سبق کی ضرورت نہیں  ۔
لیکن یہ کون ہے جو محبت کا سزاوار ہے ۔ اِس کو جاننے ، محبوب کو پہچاننے اور کسی بھی گمرہی سے بچنے کے لیے استاد جلال الدین رومی نے ایک اشارہ دیا ہے ۔ فرماتے ہیں :
سورہ ء رحماں بخواں اے مبتدی

مزید پڑھیں

Praise and prayers for the great people of Turkey

One year ago, this day, the people of Turkey set an example by defending their elected government and President Recep Tayyip Erdogan against military rebels.

Read more

loading...