کالم و مباحث


  وقت اشاعت: 1 دن پہلے 

پاکستان میں کون سا طرزِ حکومت  رائج ہے؟
حکمرانوں کے محاورے میں یہ جمہوریت ہے جو بیس کروڑ لوگوں کے ووٹوں سے وجود میں لائی گئی ہے ۔ لیکن  عوام اپنی زبانِ حال سے اسے نظریے کی تردید کرتے ہیں  اور اسے نون لیگ کی پارٹی ڈکٹیٹر شپ کہتے ہیں جو یہ اپنی نوعیت میں   بالفعل ہے۔ کیونکہ اس پارٹی کا واحد مقصد حکمران خاندان  کے اقتدار کی رسی کو دراز رکھنا ہے ۔ یہ طرزِ حکومت ایک بڑا  کمرشل کمپلیکس ہے جس میں پورا انتظامی ، سیاسی اور مذہبی ڈھانچہ پارٹی کا تنخواہ دار ہے ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 7 دن پہلے 

مابعدِ زینب ۔۔۔ اُس سات سالہ بچی کے جسم کے ساتھ جنسی دہشت گردی اور اُس کے وحشیانہ قتل  کے بعد سیکس ایجوکیشن کی بات چل نکلی ہے اور کہا جا رہا ہے کہ سیکس ایجوکیشن کے ذریعے اسلام کی مشرقی قدروں کو پامال کرنے کی سازش کی جا رہی ہے اور اس ضمن میں طرح طرح کی موشگافیاں برساتی مینڈکوں ، ڈینگی مچھروں اور موسمِ گرما کی مکھیوں کی طرح  ذہنی فضا کو آلودہ کر رہی ہیں ۔ تو صاحبو ! یہ سیکس ایجوکیشن ہے کیا اور کیا یہ کوئی مجرمانہ اور غیر انسانی فعل ہے ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 05 جنوری 2018

کسی فلسفی کا قول ہے :
"عالی ظرف لوگ آئیڈیاز اور تخیلات پر تبادلہ خیال کرتے ہیں ، اوسط فکری استعداد کے حامل لوگ واقعات کو زیرِ بحث لاتے ہیں اور خطِ عقل و ہوش سے نیچے زندگی بسر کرنے والے لوگ افراد اور شخصیات پر جملے کستے اور ریمارکس دیتے ہیں اور مدح و ذم کے دائروں میں گردش کرتے رہتے ہیں " ۔
لیکن اس طرح کے علمی بیانیے ہماری روز مرہ زندگی کے حقائق نہیں ہیں  بلکہ ہم رٹّو طوطوں کی طرح آسمانی آیات کی نقلیں اُتارے رہتے ہیں اور اسے اپنی دینی ذمہ داری سمجھتے ہیں ۔  محولہ بالا قول پر غور و خوض کرتے مجھے پچاس کی دہائی کا پاکستان یاد آگیا جس میں پاکستان ویسٹرن ریل چلتی تھی اور ریل کے ڈبے انگریز کی بنائی ہوئی  درجہ بندی کے مطابق فسٹ کلاس ، انٹر کلاس اور تھرڈ کلاس  یعنی تیسرے درجے میں تقسیم تھے ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 04 جنوری 2018

یہ مراسلہ پاکستان کے مظلوم ، بے بس اور ستم رسیدہ عام شہری کی طرف سے طالبان اور ان کے نام نہاد باپوں، چچاؤں ، سرپرستوں ، ہمدردوں اور خیر خواہوں کے نام ہے۔
طالبان اور اس ملک میں بے کس اور مجبور لوگوں پر موت مسلط کرنے والے دیگر گروہ اور ان کے وحشیانہ اور دہشت گردانہ حملوں کا جواز دینے والے اور ان کی طرف سے وضاحت کرنے والے اور معذرت خواہی کرنے والے بھی خود کو مکتوب الیہہ سمجھیں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 31 2017

یہ 2017 کی آخری شام ہے اور  میں پیچھے مُڑ کر دیکھنے کی تاب نہیں رکھتا کہ کہیں کسی خود کُش دھماکے کا نشانہ نہ بن جاؤں ۔ یہ ایک بہت ہی درد ناک سال تھا جو اپنے اختتام کو پہنچا ۔ کیا یہ سچ ہے کہ نیا سال آرہا ہے ؟ نہیں ، نیا سال تو نئے لوگوں سے بنتا ہے ۔ اور نئے لوگوں کے طلوع کا ابھی دور دور  تک کوئی اشارہ نہیں مل رہا ۔ ہاں البتہ ایک نا اہل قیادت ہے جسے خُدا حافظ کہنے کے امکانات موجود ہیں لیکن:
جانے والوں کو کسی ڈھنگ سے رُخصت کرتے
آنے والوں کو بھی آرام دیا جا سکتا

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 23 2017

چند برس اُدھر ، نوم چومسکی کی کتاب " توسیع پسندی اور بقا" شائع ہوئی جس کے پہلے باب کا ترجیحات اور امکانات کے عنوان سے آغاز ہوا ۔ کتاب کے شروع میں ایک نامور محققِ حیاتیات ارنسٹ میئر کے حوالے سے بڑی دل چسپ باتیں کہی گئی ہیں جو بشر کی مافوق الفطرت سطح کی  دانش و حکمت کے حوالے سے تھیں ۔ یہ ارنسٹ کا خیال ہے یا  اُس کی علمی تحقیق کا حاصل جس کے مطابق وہ یہ نتیجہ اخذ کر سکا ہے کہ انسانوں میں اعلیٰ سطح کی دانش و فراست کے امکانات بہت معدوم ، مبہم اور غیر واضح ہیں ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 16 2017

سب سے پہلے رنگ ، اُس کے بعد ڈھنگ ۔ میں چیزوں کو نہ جانے کیوں اِسی ترتیب سے دیکھتا ہوں  یا کم از کم میری کوشش یہی ہوتی ہے کہ ہر شے جیسی ہے ، مجھے ویسی ہی دکھائی دے ۔ لیکن اصل حقیقت یہ ہے کہ :
" جہانِ نو ہو رہا ہے پیدا ، یہ عالمِ پیر مر رہا ہے "
تبدیلی کی نشانی انگریزی ٹوپی ہے ۔ انگریزی ٹوپی المعروف ہیٹ ، جسے انگریزی میں ہیٹ بمعنی نفرت بھی پڑھا جا سکتا ہے۔ دیسی عوام کے درمیان حکمرانی کے احساسِ برتری کو جوان رکھتی ہے اور یہ ٹوپی پہن کر حبیب جالب کے باغیانہ اشعار اُسی کے لہجے میں پڑھتے ہوئے ، آپ یہ سیاسی بیان جاری کر سکتے ہیں کہ :

" ہم لاشوں پر سیاست نہیں کرنے دیں گے " ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 10 2017

پاکستان سمیت دنیا بھر میں انسانی حقوق کا دن منایا جا رہا ہے ۔ یہ خبر میں نے پاکستان ٹی کے چینل 92 پر دیکھی جہاں ایک خاتون رپورٹر بے چارے پاکستانیوں سے پوچھ رہی تھی کہ آج انسانی حقوق کا عالمی دن ہے ، اس سلسلے میں اپ کیا کہتے ہیں ۔ اس پر ایک نوعمر خاتون نے کہا کہ کون انسان ؟ اور پھر وہ اپنی راہ چلتی بنی اور رپورٹر بغلوں سے کیمرا جھانکنے لگیں ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 03 2017

اب جب کہ میری زندگی کے کُہن سال شیشم کے پتّے زرد اور شاخیں حرارتِ غریزی سے محروم ہوتی چلی جا رہی ہیں ، میں اکثر بُخار ،کھانسی اور اعصابی تشنج میں لپٹا اپنے شب و روز کا احتساب کرتا رہتا ہوں  کہ آخر وہ کون سی کرپشن تھی جو میں نے اپنی زندگی میں کی ، کون سی منی لانڈرنگ تھی جس کے ذریعے میں نے ناروے کے بنکوں میں مالی اثاثے جمع کیے جو میری آمدنی سے زیادہ ہیں ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 25 2017

پاکستان ایک انتہائی نازک سیاسی ، معاشرتی اور مذہبی انارکی کی صورتحال سے دوچار ہے اور ایسا لگتا ہے کہ پاکستان کی نظریاتی اساس کو سنگین خطرات لاحق ہیں ۔ یوں بھی ما بعدِ سقوطِ ڈھاکہ کا پاکستان وہ پاکستان نہیں جسے قائدِ اعظم نے پاکستان کی سیاسی ، عسکری اور مذہبی قیادت کے سپرد کیا تھا ۔ قائدِ اعظم انتہائی کسمپرسی کی حالت میں اس دنیا سے رُخصت ہوئے اور اپنے پیچھے کسمپرسی میں مبتلا قوم کو چھوڑ گئے جو آج بھی اپنی تشکیل ، استحکام  اور بقا کی جنگ لڑ رہی ہے ۔ ہم نے دیکھا کہ مذہبی سیاست کی بنیاد پر کسی ملک کی تشکیل آسان کام نہ تھا لیکن خدا کی مہربانی اور تائیدِ غیبی سے دنیا کے نقشے پر ایک ملک ابھرا جو پچھلے ستر برس سے جلتے بجھتے بلب کی مثال بنا ہوا ہے ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 21 2017

پاکستان ایک ہفت حرفی مظہر ہے جس میں تیسرا کاف فی الوقت  کرپشن کا ہے ، جسے سر پر تان کر دو قومی نظریے کا قافلہ انتشار کا شکار ہے ، جس کی صفیں تِتّر بِتّر ہیں اور جس کو بیڈ گورننس کی اُستانی ہمیشہ یہ پٹّی پڑھاتی رہی ہے کہ جمہوریت حکمران خاندانوں کی خوش حالی ، مالداری ، زر اندوزی اور ماورائے قانون طرزِ سیاست کا نام ہے ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 21 2017

اس درخت پر ایک ہی پھل تھا اور وہ سارے ضرورت مند۔
سارے اس درخت کے نیچے جمع تھے اور پھل کو حاصل کرنا چاہتے تھے۔
یہ پھل اب پک کر تیار ہو چکا ہے۔ بس ٹپک پڑے تو ہماری بھوک اور ضرورت پوری ہو۔
لیکن پھل پوری طرح جوبن پر آنے کا نام نہ لیتا تھا۔ اس دوران بہت سے منچلوں نے چاہا کہ اس بے مقصد انتظار کا قصہ تمام کیا جائے اور پھل کو گرا کر اس سے استفادہ کر لیا جائے۔
پھل کو بھی شاید امیدواروں کی اس بے صبری کا انتظار تھا۔ اسی لئے وہ بدستور ان کے صبر کا امتحان لینے پر مصر تھا۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 14 2017

خاتونِ خانہ پاکستانی ٹی وی پر  شور مچاتے مہذب لوگوں کی گفتگو سُن رہی تھی کہ اچانک  زور سے چیخی اور بولی ، " ایہہ اوتر جانڑیں ایسٹیبلشمنٹ کونڑ اے؟"
میں نے کتاب سے نظریں ہٹائے بغیر کہہ دیا ، " ایسٹیبلشمینٹ تو آپ خود ہیں  اور مجھ سے اپنے بارے میں پوچھ رہی ہیں ۔ یہ کچن ، یہ کھانے کی میز اور یہ گھریلو بیٹھک جسے ناروے میں سٹوا کہتے ہیں ، آپ کے دم قدم سے آباد ہے ، یہاں آپ کا حکم چلتا ہے ۔ آپ اس گھر کی آئینی حکمران ہیں اور آپ کی سہیلیاں اور وہ رشتہ دار خواتین ، جن سے آپ کی گاڑھی چھنتی ہے اور جن کے مشورے سے لباس ، وضع قطع اور تزئین و آرائش کے فیصلے ہوتے ہیں ، وہ سب ملا کر  ایسٹیبلشمنٹ ہیں۔
 

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 04 2017

نام و نمود کو بطور سماجی رویہ اختیار کرنا اور  اس لسانی اقرار کو نعرہ ، نظریہ اور فلسفہ بنا دینا بہت خطر ناک عمل ہے ۔  لیکن شومئی قسمت سے  ہم فی زمانہ بڑے اُونچے کلمات کے بینرز تلے ایک نمائشی جلوس میں چل رہے ہیں  ۔ اس کیفیت پر صوفیا ء کرام نے بھی مراقبہ کیا اور اپنے نتائج مُرتب کیے ، سلطان باہو نے فرمایا:
اُچّے کلمے سویو پڑھدے ، نیت جیہناں دی کھوٹی ہو

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 29 2017

پچھلے دو تین دن میں ٹی وی سکرینوں پر  کچھ ایسی اندوہ ناک ، کرب ناک  اور بھیانک تصویریں دیکھنے کو ملیں  کہ مجھ سا کمزور دل ، عمر رسیدہ بچہ کانپ کر رہ گیا ۔ کتنی ہی دیر تک میرے بدن کے رونگٹے کھڑے رہے  ۔ اب میں عمر کے اس حصّے میں ہوں  کہ مجھے یہ تک یاد نہیں رہتا کہ کب کیا کہا تھا  اور میں پہلے سے کہی ہوئی باتیں  بار بار دوہرانے لگتا ہوں  ۔ یہی وہ کیفیت ہے جو بچوں کو بوڑھا کردیتی ہے  اور عمر رسیدہ بوڑھے  مجبور اور لاچار  بچّے بن کر رہ جاتے ہیں ۔ اور تب اچانک سورہ  مُزمل کی ایک آیت مجھے دہشت زدہ کیے دیتی ہے :
"فکیف تتقون ان کفرتم یوماً یجعل الولدان شیا "
اور تم کیسے صاحبِ تقویٰ ہو  ، جو اُس دن کا انکار کرو جو بچوں کو بُوڑھا کر دے گا  ۔

مزید پڑھیں

Donald Trump's policy towards Pakistan

Donald Trump's; the president of US war of tweets was a fierce attack on Pakistan, accusing the country of "lies and deceit" and making "fools" of US leaders. Trump decla

Read more

loading...