کالم و مباحث


  وقت اشاعت: 2 دن پہلے 

منم عثمان مروندی کہ یارِ شیخ منصورم
ملامت می کُند خلقے کہ من بر دار می رقصم
اور شیخ عثمان مروندی لال شہباز قلندر کی درگاہِ عالیہ قلندریہ پر سینکڑوں دھمالی لہو میں نہا گئے ۔ دار محبت پر رقص برپا ہو گیا اور ایسا رقص کہ رقاصوں کے پرزے اُڑ گئے ۔ اور پرزے کچھ ایسے اُڑے کہ پر لگا کر کچرا کُنڈی پر جا گرے ، جہاں آوارہ کُتّے ، جنگلی چوہے ، چیلیں اور گدھ اُن کی بوٹیاں چکھتے اور ضیافت اُڑاتے رہے ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 2 دن پہلے 

مقبوضہ کشمیر میں 8 افراد کی ہلاکت سے ایک بار واضح ہوگئی ہے کہ بھارت نے کشمیری عوام کی مرضی و منشا کے بغیر اس علاقے پر قبضہ جمایا ہوا ہے۔ وہ بے پناہ فوجی قوت کے ذریعے وادی کے عوام کی آواز کو دبانے کی سرتوڑ کوشش کر رہا ہے لیکن اس میں مسلسل ناکام ہے۔ گو کہ بھارت میں بھی مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کیلئے معقول آوازیں بلند ہوتی ہیں اور ملک کی بھلائی اور اپنے فیصلے خود کرنے کے بنیادی انسانی حق کے علمبردار اس حوالے سے اپنے حکمرانوں کو نوشتہ دیوار پڑھنے اور ملک کے وسیع تر مفاد اور بھلائی میں فیصلے کرنے کا مشورہ دیتے رہتے ہیں۔ لیکن مقبول عوامی نعروں اور جذبات کی بنیاد پر برسر اقتدار آنے والی پارٹی جو اس وقت بھارت میں بھی حکمران ہے، انتہا پسندانہ نعروں کو ہی مسئلہ کا حل قرار دے رہی ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 12 فروری 2017

جدید سیاسی فنون میں جو فن پاکستان میں سب سے زیادہ مقبول ہے وہ ہے اپنے سیاسی حریف کو اسٹیج پر کھڑے ہو کر بیان کی توپوں سے داغ دینا ۔ ہمارے یہاں تو عدالتوں میں بھی یہ بات معزز وکیلوں کی زبان سے کہلوائی جا چکی ہے کہ اسمبلی میں کی گئی حکمرانوں کی تقریروں کا مطلب وہ نہیں ہوتا جن کو الفاظ ادا کرتے ہیں بلکہ لفظوں کا چولا اُتار کر بات کو دیکھا جائے تو وہ کچھ اور نکلتی ہے ۔

مزید پڑھیں

loading...

  وقت اشاعت: 05 فروری 2017

ردِ عمل ظاہر کرنے اور کُڑھنے کے لیے بہت سی باتیں ہیں اور پھوڑنے کے لیے دل کے بہت سے پھپھولے ہیں  لیکن اس وقت آپا بانو قدسیہ کی رُخصتی رقم کرنے کا مرحلہ درپیش ہے  کہ وہ اپنے محبوب اشفاق احمد سے ملنے جا رہی ہیں ۔ اُنہیں ڈھنگ سے رُخصت کرنا اور اس رُخصتی کو ایک تقریب بنانا جو ان کے شایانِ شان ہو بہت ضروری ہے۔  کیوں کہ عدم صاحب فرما گئے ہیں:
جانے والوں کو کسی ڈھنگ سے رُخصت کرتے
آنے والوں کو بھی آرام دیا جا سکتا

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 05 فروری 2017

ایران نے فوری طور پر اپنے ملک میں امریکیوں کے داخلے پر پابندی لگا دی ہے۔ تہران میں ایک سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ پابندی اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک ایران کے شہریوں کی امریکہ میں داخلے کے غیر قانونی ، بلا جواز اور عالمی قوانین سے متصادم فیصلہ کو تبدیل نہیں کیا جاتا۔ ایران کا یہ فیصلہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس صدارتی حکم کے بعد سامنے آیا ہے جس میں ایران سمیت سات مسلمان ملکوں کے باشندوں کو ویزوں کا اجرا روک دیا گیا ہے۔ یہ پابندی فی الوقت 90 روز کےلئے ہوگی۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 01 فروری 2017

ہیں در پئے غارت گری مذہب کے جُنونی
ٹیکساس سے تا خاکِ کینیڈا و واشنگٹن
اور وہ آگ جس نے افغانستان کو تاراج کیا ، عراق کے پُرزے اُڑائے ، لیبیا کو برباد کیا اور پاکستان کے گلی کوچوں میں پچھلی تین دہائیوں سے وحشت و بربریت کا خونیں کھیل کھیلتی رہی ہے ، اب وہ  اپنے اصلی مرکز کی طرف لوٹ رہی ہے ۔ امرکہ کا گدھا دوبارہ امریکہ رسید ہو رہا ہے اور وہ اس لیے کہ ہر شے کو بالآخر اپنے اصل ہی طرف لوٹنا ہوتا ہے ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 24 جنوری 2017

ایک ایسے ملک میں جہاں اکثریتی حمایت یافتہ بیانیہ سے اختلاف کرنے یا سوال اٹھانے والے کو ہلاک کر دینا جائز سمجھا جاتا ہو، آزادی رائے کے حوالے سے بحث کا تصور بھی محال ہے۔ یہی صورتحال اس وقت پاکستان میں دیکھی جا سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملک میں بعض آزاد آوازوں کو دبانے کےلئے جب بدترین ریاستی استبداد کا مظاہرہ ہوا تو اس ظلم کو مسترد کرنے والوں کی تعداد انگلیوں پر گنی جا سکتی ہے۔ یہ لوگ بھی خود پر غیر ملکی ایجنٹ یا مذہب دشمن ہونے کی تہمت لگوانے کا خطرہ مول لے کر ایک سادہ اور آسان بات سامنے لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ سادہ بات اس بنیادی اصول سے مشتق ہے کہ اگر کوئی غلط کار ہے۔ کسی نے قانون کی خلاف ورزی کی ہے۔ قومی مفاد پر سودے بازی کی ہے تو اسے مملکت کے قوانین کے مطابق مجاز عدالت سے سزا دلوانے کا اہتمام کیا جائے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 24 جنوری 2017

کل پی ٹی آئی کا پھر جلسہ تھا ۔ عمران خان نے کل پھر  وہی پُرانی تقریر کی  کہ نواز شریف کو وزارتِ عظمیٰ سے ہٹائے بغیر تبدیلی نہیں آ سکتی ۔  کل پھر پی ٹی آئی کے جلسے میں نوجوانوں کے درمیان  تصادم ہوا ، خواتین شرکا پر آوازے کسنے کی تاریخ دوہرائی گئی  اور  پولیس کو اجتماع پر دست اندازی کا بہانہ ملا ۔ کل پھر پُرانے پاکستان میں اُس نئے پاکستان کی باتیں ہوئیں جس کے آثار دور دور تک کہیں دکھائی نہیں دے رہے ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 15 جنوری 2017

سپریم کورٹ آف پاکستان نے اسلام آباد کے ایک ایڈیشنل سیشن جج کے ہاں ملازمت کے دوران تشدد اورظلم کا نشانہ بننے والی بچی کو پاکستان سویٹ ہومز کے حوالے کرنے کا حکم دیا ہے تاکہ بچی چند روز خوشگوار ماحول میں رہ کر بیان دینے کے قابل ہو سکے۔ عدالت عظمیٰ از خود نوٹس کے ذریعے اس معاملہ کی سماعت کررہی ہے۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے اسلام آباد کے ڈی آئی جی کاشف اسلم کو کسی قسم کا اثر قبول کئے بغیر اس معاملہ کی مکمل تحقیقات کرنے اور اگلی سماعت پر تفصیلی رپورٹ عدالت کے سامنے پیش کرنے حکم بھی دیا ہے۔ سماعت کے دوران طیبہ کے والد نے عدالت کو بتایا کہ اس نے جس اسٹام پر انگوٹھا ثبت کیا تھا، اسے اس کے مندرجات کے بارے میں کوئی علم نہیں تھا۔ اس سے کہا گیا تھا اگر اس نے انگوٹھا نہ لگایا تو اسے بچی نہیں ملے گی۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 15 جنوری 2017

یہ کوئی چنگیز خان کے حملے کے بعد کا منظر نامہ نہیں ہے ۔ یہ اکسویں صدی میں ایک مہذب جمہوری ملک کی سیاسی تاریخ ہے:
گلی گلی بوری بند لاشیں ، سرِ راہ ٹارگٹ کلنگ ، اغوا برائے تاوان ، سیاسی کارکنوں ، صحافیوں اور اہلِ قلم کا اچانک غائب ہوجانا اور پھر اچانک کسی دن مسخ شدہ لاش کا برآمد ہونا،  ایک ایسے ملک کا روز مرہ ہے جہاں پارلیمانی جمہوریت ہے۔ جہاں سیاسی جماعتیں  اسمبلیوں میں مچھلی مارکیٹوں کا سا سماں پیش کرتی ہیں  اور ایک دوسری کے خلاف دشمنوں کی طرح محاذ آرائی کرتی ہیں۔ جہاں دہشت گردی کو مذہبی جہاد کے نام پر کھلی چھٹی ہے ۔ اُف ، یہ سارا بیان کتنا تکلیف دہ ہے ۔ ان خُوں آشام واقعات و حالات کو سپردِ قلم کرتے ہوئے مجھے شرم آ رہی ہے کہ کیا مہذب جمہوری ریاستیں ایسی ہوتی ہیں ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 10 جنوری 2017

اہلِ فکر و دانش کو مُژدہ ہو کہ اب سرکاری اعداد و شمار اور  اہلِ اقتدار کی مہیا کی ہوئی اطلاعات پر تنقید و  تردید کا باب بند ہونے والا ہے ۔ قلم اور زبانیں خریدے جانے کی افواہیں پھیلی ہوئی ہیں  اور حال ہی میں اسلام آباد میں ہونے والی اہلِ قلم کی " ضربِ قلم "  کانفرنس میں کچھ ایسے بوسیدہ اور کُہنہ بزرگ بھی دکھائی دیے جو عمر بھر حکمران گھرانوں کے دستر خوانوں کی ریزہ چینی کرتے رہے ہیں ، اور لفافوں کے عوض انسانیت کے دکھوں پر آنسو بہاتے رہے ہیں۔ مگر اپنے کشکول صورت چہرے دراز کیے  کانفرنس میں موجود تھے ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 06 جنوری 2017

بھارت میں جب سپریم کورٹ سیاست میں مذہب یا نسل و ذات برادری کی مداخلت کی روک تھام کے لئے حکم جاری کررہی تھی تو پاکستان میں ایک شخص کے خلاف محض اس لئے توہین مذہب کے الزام میں مقدمہ درج کیا جارہا تھا کہ اس نے ملک میں نافذ توہین مذہب کے قوانین کے غلط استعمال کے خلاف آواز اٹھائی ہے ۔ اس نے ان لوگوں سے اظہار ہمدردی بھی کیا ہے جو ان قوانین سے متاثر ہیں اور عدالتوں سے انصاف کے منتظر ہیں۔ پاکستانی عدالتیں توہین مذہب کے حساس معاملہ پر انصاف فراہم کرنے سے گھبراتی ہیں ، اس لئے ان معاملات پر فیصلہ صادر کرنے کی بجائے انہیں مؤخر کیا جاتا ہے ۔ غلط الزام اور جھوٹی گواہیوں کی بنیاد پر گرفتار لوگ برس ہا برس تک جیلوں میں سڑتے رہتے ہیں۔ لیکن اس صورت حال کے خلاف آواز اٹھانا منع ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 31 2016

مجھے کے آئی اے کی طرف سے ایک خط موصول ہوا ہے جس میں  لکھا ہے کہ بہت سے عیسائی خاندان مشرقِ وسطیٰ سے اس لیے ہجرت کر رہے ہیں کہ وہاں اُن کا جینا دوبھر کر دیا گیا ہے ۔ ایک تصویر میں ایک جلا ہوا گرجا گھر دکھایا گیا ہے ۔ ان مہاجرین میں سے کچھ ناروے بھی آئے ہیں جن کی آباد کاری کا  کام جاری ہے ۔  کے آئی اے ایک تنظیم کا نام ہے جس کا نارویجن نام کچھ یوں ہے :
Krsiten Interkulturelt Arbeid

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 31 2016

بس چند گھنٹوں کی بات ہے۔ 2016 کا آخری سورج غروب ہونے کو ہے۔ پھرنیا سال اپنی تمام تر حشر سامانیوں کے ساتھ طلوع ہوگا۔ نئی امیدیں باندھی جائیں گی اور نئے ارادے کئے جائیں گے۔ سال کے اختتام پر جب ہمیں ادراک ہوگا کہ ہم اپنے ارادوں میں اپی ہی کوتاہیوں کی وجہ سے ناکام رہے تو یہ ذمہ داری قبول کرنے کی بجائے اس کا سارا بوجھ جانے والے سال پر دھر دیا جائے گا۔ یکم جنوری کی نئی صبح کا انتظار کرتے ہوئے 2016 کی تاریک رات میں، ہم اپنی ناکامیوں کا ذمہ دار اس جانے والے سال کو قرار دیتے ہوئے پوری آن بان اور جوش و خروش سے نئے سال کا خیر مقدم کریں گے۔ پھر نئے نعرے لگائے جائیں گے اور نئی امیدیں باندھی جائیں گی۔ جان لینا چاہئے کہ قصور جانے والے سال کا نہیں ہے، نقص ہماری کوششوں میں رہا ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 29 2016

کالم لکھنا ، اردو پڑھنے والوں سے کسی موضوع پر مُخاطب ہونا اور " کاروان " کا حوالہ بننا ، زندگی کی ذمہ داریاں شمار ہونے لگی ہیں ۔  کالموں کا جو متن یا موضوع ہوتا ہے ، اس پر لکھنے والے کا اختیار کم اور حالات کا دباؤ زیادہ ہوتا ہے ۔ اور وہ   حالات لکھنے والے سے خود کو لکھواتے ہیں ۔

مزید پڑھیں

Threat is from inside

Army Chief General Raheel Sharif assured the nation that country’s borders are secure and the army is aware of threats and intrigues of the enemies. Speaking at an even

Read more

loading...