کالم و مباحث


  وقت اشاعت: 4 دن پہلے 

ایک بار پھر پوری قوم یوم قرار داد پاکستان منانے کی تیاری کررہی ہے۔ یہ دن اس روز کی یاد میں منایا جاتا ہے جب آج سے 77 برس قبل لاہور میں مسلم لیگ کی قیادت میں ایک قرار داد منظور کی گئی جو بالآخر قیام پاکستان پر منتج ہوئی۔ اس سوال پر تاریخ دان مباحث کرتے رہیں گے کہ کیا ہندوستان میں مسلمانوں کے لئے علیحدہ ملک کے قیام کے لئے 23مارچ 1940 کو منظور کردہ قرار داد کے بعد جد و جہد کا آغاز ہؤا یا اس مطالبے کی بنیاد یہ قرار داد منظور ہونے سے بہت پہلے رکھ دی گئی تھی۔ اسی طرح یہ سوال بھی زیر بحث رہے گا کہ کیا پاکستان ایک اسلامی ریاست بنانے کے لئے معرض وجود میں آیا تھا اور اس صورت میں بانیان پاکستان کے ذہن میں نئی ریاست کا کیا خاکہ موجود تھا۔ یا ان کا مقصد ایک ایسی علیحدہ ریاست کا قیام تھا جہاں مسلمان ، ہندو اکثریت کے خوف سے آزاد ہوکر اپنی دینی اور ثقافتی سرگرمیوں پر عمل کرسکتے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 4 دن پہلے 

ان دنوں میڈیا  میں ،  خواہ سوشل ہو یا اینٹی سوشل  دو  چٹھیوں کا تذکرہ ہے ۔ ایک وہ جسے ایک قطری شہزادے نے وزیر اعظم  نواز شریف کے  بچوں کی املاک کو جائز وراثت ثابت کرنے کے ضمن میں  لکھا ، جسے پاکستان کی عدالتِ عظمیٰ میں پیش کیا گیا ۔ دوسرا خط سابق بعد ازاں نا اہل وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کا ہے جو اُنہوں نے امریکیوں کو ویزے جاری کرنے کے لیے لکھا تھا ، جو اب متنازعہ بن گیا ہے ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 19 مارچ 2017

یہ ستتر سال پہلے کا وہ قصّہ ہے جو نئی نسل کو تو کیا ، اس عہد کے بیشتر سیاسی خُداؤں پر بھی پوری طرح آشکار نہیں ۔ میرے جیسے لوگ جو عمر میں پاکستان سے بھی دو چاربرس بڑے ہیں ، محض سنی سنائی اور رپورٹ کی ہوئی باتوں پر ایمان رکھتے ہیں ۔ ماقبلِ تقسیمِ ہند کی مخلوط مذہبی سوسائٹی میں  جس کسی کے ماں باپ ، محلے کے مولوی ، میونسپل کمیٹی کے  داروغہ  نے کہہ دیا یا مولوی ظفر علی خان کے اخبار نے لکھ دیا وہ مسلمان سچ تھا اور جو کچھ  کسی دوسری سیاسی یا مذہبی جماعت کی طرف سے آیا ہو وہ نا قابلِ قبول اور مبنی بر دروغ  قرار پایا ۔ روایتی معاشروں کی یہی ریت رہی ہے اور اب بھی ہے کہ مخالفین کو مت سنو خواہ وہ عقل کی بات ہی کیوں نہ کہ رہے ہوں کیونکہ سچ ہر زمانے میں اپنا اپنا رہا ہے اور آج بھی ہے ۔

مزید پڑھیں

loading...

  وقت اشاعت: 14 مارچ 2017

تحریر اور ردِ تحریر ، ابلاغ اور ردِ ابلاغ اور مدح  و ذم ،  سب کے سب جدید معاشرتی اور  صحافتی لوازمات ہیں ۔ کالموں کا پیٹ بھرنے کے لیے ناگزیر ہیں  کیونکہ نقار خانے کے  طوطیوں  کا منصب یہی ہے کہ وہ اپنے اپنے لہجے میں ٹیں ٹیں کرتے رہیں ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 13 مارچ 2017

وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے دہشت گردی کے خلاف بیانیہ تبدیل کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے ۔ لاہور میں جامعہ نعیمیہ میں ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا ہے کہ اب دہشت گردوں سے نمٹنے کے لئے فتوے کافی نہیں ہوں گے بلکہ ان بنیادی تصورات کے برعکس اسلام کا حقیقی پیغام سامنے لانے کی ضرورت ہے، جو اس گمراہ کن پیغام کو غلط قرار دے کہ اسلام اور عقیدے کے نام پر قتل و غارتگری  درست طریقہ کا ر ہے۔ اسی نظریہ نے مسلمانوں میں افتراق پیدا کیا ہے اور اسی کی وجہ سے بعض گروہ اسلام کے علمبرادار بن کر پہلے مسلمانوں کے خلاف تکفیریت کے فتوے جاری کرتے رہے ہیں اور پھر انہیں قتل کرنے کا سلسلہ شروع کردیا گیا۔ اس طریقہ کو بدلنے کے لئے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ وزیر اعظم کی ان باتوں سے سو فیصد اتفاق کرتے ہوئے یہ سوال کرنے کی ضرورت ہے کہ پاکستان میں یہ کام کیسے اور کون سرانجام دے گا۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 04 مارچ 2017

یہ انسانی رشتوں کی موت کا نوحہ ہے ۔ یہ ہماری نفسا نفسی اور بے حسی کا منظر نامہ ہے کہ ایک ہی گلی کے ایک گھر میں جنازہ پڑا ہوتا ہے اور دوسرے گھر میں شادی کی ڈھولک بج رہی ہوتی ہے ۔ یہ روایت بہت پرانی ہے اور ہماری زندگیوں کے تمام شعبوں میں مختلف انداز میں اپنے پر پُرزے نکالتی دکھائی دیتی ہے ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 03 مارچ 2017

بے نظیر بھٹو کی صاحبزادیوں بختاور اور آصفہ نے اپنے والد آصف علی زرداری کے فیصلہ کے خلاف مؤقف اختیار کرکے ایک طرف پارٹی کے روشن خیال کارکنوں کی ہمت بندھائی ہے تو دوسری طرف یہ واضح کیا ہے کہ نوجوان نسل پیپلز پارٹی میں ترقی پسند روایات اور خواتین کے احترام کے بارے میں اقدار کاتحفظ کرے گی۔ یہ دونوں پہلو ملک کی سیاست اور پیپلز پارٹی کے مستقبل کے لئے امید افزا کہے جا سکتے ہیں۔ دونوں بہنوں نے سندھ کے ایک سیاست دان عرفان اللہ مروت کی سابق صدر سے ملاقات اور پیپلز پارٹی میں شمولیت پر اعتراض کیا ہے اور واضح کیا ہے کہ ایسے لوگوں کے لئے پارٹی میں جگہ نہیں ہو سکتی جو خواتین کا احترام کرنے سے قاصر ہیں۔ بختاور نے اپنے ٹوئٹ پیغام میں یہ بھی جتایا ہے کہ پیپلز پارٹی کی قیادت ایک خاتون کرتی رہی ہیں ۔ یہ پارٹی ہمیشہ خواتین کے حقوق اور احترام کے لئے کام کرے گی۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 26 فروری 2017

ارسطو نے قبلِ مسیح ایک سیاسی بیان جاری کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ انسان سوشل اینیمل یعنی سماجی حیوان ہے ۔ چنانچہ اس راز سے آشنا ہو جانے کے بعد میں چالیس برس تک سماجی حیوان بن کر سماجی حیوانوں میں پھرتا رہا لیکن مجھے بطور سماجی حیوان قبول ہی نہیں کیا گیا بلکہ ہمیشہ ایک آؤٹ سائیڈر ہی سمجھا گیا ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 19 فروری 2017

منم عثمان مروندی کہ یارِ شیخ منصورم
ملامت می کُند خلقے کہ من بر دار می رقصم
اور شیخ عثمان مروندی لال شہباز قلندر کی درگاہِ عالیہ قلندریہ پر سینکڑوں دھمالی لہو میں نہا گئے ۔ دار محبت پر رقص برپا ہو گیا اور ایسا رقص کہ رقاصوں کے پرزے اُڑ گئے ۔ اور پرزے کچھ ایسے اُڑے کہ پر لگا کر کچرا کُنڈی پر جا گرے ، جہاں آوارہ کُتّے ، جنگلی چوہے ، چیلیں اور گدھ اُن کی بوٹیاں چکھتے اور ضیافت اُڑاتے رہے ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 19 فروری 2017

مقبوضہ کشمیر میں 8 افراد کی ہلاکت سے ایک بار واضح ہوگئی ہے کہ بھارت نے کشمیری عوام کی مرضی و منشا کے بغیر اس علاقے پر قبضہ جمایا ہوا ہے۔ وہ بے پناہ فوجی قوت کے ذریعے وادی کے عوام کی آواز کو دبانے کی سرتوڑ کوشش کر رہا ہے لیکن اس میں مسلسل ناکام ہے۔ گو کہ بھارت میں بھی مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کیلئے معقول آوازیں بلند ہوتی ہیں اور ملک کی بھلائی اور اپنے فیصلے خود کرنے کے بنیادی انسانی حق کے علمبردار اس حوالے سے اپنے حکمرانوں کو نوشتہ دیوار پڑھنے اور ملک کے وسیع تر مفاد اور بھلائی میں فیصلے کرنے کا مشورہ دیتے رہتے ہیں۔ لیکن مقبول عوامی نعروں اور جذبات کی بنیاد پر برسر اقتدار آنے والی پارٹی جو اس وقت بھارت میں بھی حکمران ہے، انتہا پسندانہ نعروں کو ہی مسئلہ کا حل قرار دے رہی ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 12 فروری 2017

جدید سیاسی فنون میں جو فن پاکستان میں سب سے زیادہ مقبول ہے وہ ہے اپنے سیاسی حریف کو اسٹیج پر کھڑے ہو کر بیان کی توپوں سے داغ دینا ۔ ہمارے یہاں تو عدالتوں میں بھی یہ بات معزز وکیلوں کی زبان سے کہلوائی جا چکی ہے کہ اسمبلی میں کی گئی حکمرانوں کی تقریروں کا مطلب وہ نہیں ہوتا جن کو الفاظ ادا کرتے ہیں بلکہ لفظوں کا چولا اُتار کر بات کو دیکھا جائے تو وہ کچھ اور نکلتی ہے ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 05 فروری 2017

ردِ عمل ظاہر کرنے اور کُڑھنے کے لیے بہت سی باتیں ہیں اور پھوڑنے کے لیے دل کے بہت سے پھپھولے ہیں  لیکن اس وقت آپا بانو قدسیہ کی رُخصتی رقم کرنے کا مرحلہ درپیش ہے  کہ وہ اپنے محبوب اشفاق احمد سے ملنے جا رہی ہیں ۔ اُنہیں ڈھنگ سے رُخصت کرنا اور اس رُخصتی کو ایک تقریب بنانا جو ان کے شایانِ شان ہو بہت ضروری ہے۔  کیوں کہ عدم صاحب فرما گئے ہیں:
جانے والوں کو کسی ڈھنگ سے رُخصت کرتے
آنے والوں کو بھی آرام دیا جا سکتا

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 05 فروری 2017

ایران نے فوری طور پر اپنے ملک میں امریکیوں کے داخلے پر پابندی لگا دی ہے۔ تہران میں ایک سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ پابندی اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک ایران کے شہریوں کی امریکہ میں داخلے کے غیر قانونی ، بلا جواز اور عالمی قوانین سے متصادم فیصلہ کو تبدیل نہیں کیا جاتا۔ ایران کا یہ فیصلہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس صدارتی حکم کے بعد سامنے آیا ہے جس میں ایران سمیت سات مسلمان ملکوں کے باشندوں کو ویزوں کا اجرا روک دیا گیا ہے۔ یہ پابندی فی الوقت 90 روز کےلئے ہوگی۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 01 فروری 2017

ہیں در پئے غارت گری مذہب کے جُنونی
ٹیکساس سے تا خاکِ کینیڈا و واشنگٹن
اور وہ آگ جس نے افغانستان کو تاراج کیا ، عراق کے پُرزے اُڑائے ، لیبیا کو برباد کیا اور پاکستان کے گلی کوچوں میں پچھلی تین دہائیوں سے وحشت و بربریت کا خونیں کھیل کھیلتی رہی ہے ، اب وہ  اپنے اصلی مرکز کی طرف لوٹ رہی ہے ۔ امرکہ کا گدھا دوبارہ امریکہ رسید ہو رہا ہے اور وہ اس لیے کہ ہر شے کو بالآخر اپنے اصل ہی طرف لوٹنا ہوتا ہے ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 24 جنوری 2017

ایک ایسے ملک میں جہاں اکثریتی حمایت یافتہ بیانیہ سے اختلاف کرنے یا سوال اٹھانے والے کو ہلاک کر دینا جائز سمجھا جاتا ہو، آزادی رائے کے حوالے سے بحث کا تصور بھی محال ہے۔ یہی صورتحال اس وقت پاکستان میں دیکھی جا سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملک میں بعض آزاد آوازوں کو دبانے کےلئے جب بدترین ریاستی استبداد کا مظاہرہ ہوا تو اس ظلم کو مسترد کرنے والوں کی تعداد انگلیوں پر گنی جا سکتی ہے۔ یہ لوگ بھی خود پر غیر ملکی ایجنٹ یا مذہب دشمن ہونے کی تہمت لگوانے کا خطرہ مول لے کر ایک سادہ اور آسان بات سامنے لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ سادہ بات اس بنیادی اصول سے مشتق ہے کہ اگر کوئی غلط کار ہے۔ کسی نے قانون کی خلاف ورزی کی ہے۔ قومی مفاد پر سودے بازی کی ہے تو اسے مملکت کے قوانین کے مطابق مجاز عدالت سے سزا دلوانے کا اہتمام کیا جائے۔

مزید پڑھیں

Threat is from inside

Army Chief General Raheel Sharif assured the nation that country’s borders are secure and the army is aware of threats and intrigues of the enemies. Speaking at an even

Read more

loading...