کالم و مباحث


  وقت اشاعت: 15 مئی 2017

مذہب کے نام پر مُلک بنانا اور پھر اُس میں مذہب کو مسخ کرکے اُس کے گوناگُوں بلکہ " ون سونّے "  ایڈیشن تیار کرکے رائج کرنا اور خُدا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر قتل کو روا سمجھنا بہت مشکل کام ہیں لیکن ہم نے اُنہیں بہت آسانی سے کر دکھایا ہے ۔ ہتھیلی پر سرسوں جمائی ہے اور گنجے سروں پر گندم کاشت کی ہے ۔ ہیں ناں ہم اس عہد کے معجز نُما لوگ ؟

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 08 مئی 2017

آج جو حب میں ہوا وہ پاکستان کے کسی بھی شہر میں کسی وقت وقوع پذیر ہو سکتا ہے۔ علاقے کے مولویوں کے بہکارے میں آئے ہوئے مشتعل ہجوم نے ایک تھانے پر دھاوا بول دیا کیونکہ پولیس ان کا یہ مطالبہ ماننے سے قاصر تھی کہ توہین مذہب کے الزام میں گرفتار ایک 35 سالہ ہندو تاجر کو ان کے حوالے کیا جائے تاکہ وہ خود اسے اس کے کئے کی سزا دے سکیں۔ یعنی اسے ہلاک کرکے اپنے غصے اور انتقام کی آگ بجھا سکیں۔ پولیس کی طرف سے بات چیت کے ذریعے ہجوم کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی گئی۔ خبروں کے مطابق سپرنٹنڈنٹ پولیس ضیا مندوخیل نے لوگوں کو بتایا کہ ملزم کو جیل منتقل کر دیا گیا ہے، وہ حوالات میں نہیں ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 08 مئی 2017

آدم و حوّا زاد ایک سایئکو سومیٹک مخلوق ہے ۔  اس کا نفسی خلل ، ذہنی پریشر یا داخلی تصادم  اُس کے قویٰ اور ظاہر ی وجود پر اپنا اثر مرتب کرتا ہے  اور اُس کا گوشت پوست کا ڈھانچہ اُس کی باطنی کشمکش کی تصویر بن کر رہ جاتا ہے ۔ اس سلسلے میں قرآن نے واضح کیا کہ :
" یعرفون المجرمون بسیمٰھم  فیوخذ بالنواصی والاقدام " سورہ الرحمٰن ۔ آیت اکتالیس

مزید پڑھیں

loading...

  وقت اشاعت: 29 اپریل 2017

فیلڈ مارشل ایوب خان نے اپنے دور اقتدار میں بنیادی جمہوریتوں کا نظام متعارف کروایا تھا ، جس میں ایک الیکٹورل کالج کے ذریعے صدارتی انتخاب ہوتا تھا  ۔ یہ الیکٹورل کالج بنیادی جمہوریت کے ان ارکان پر مشتمل ہوتا تھا جنہیں پنچایت ، میونسپل کمیٹی اور میونسپل کارپوریشن کی سطح پر عام ووٹر چنتا تھا ۔ ان لوگوں تک حکومتی  رسائی نسبتاً  سہل تھی ۔ ان بی ڈی ممبروں کو خریدنا  بھی آسان تھا اور  متاثر کرنا بھی ۔ چنانچہ جمہوریت کے نام پر فردِ واحد کی حکمرانی کا یہ کامیاب ترین نسخہ تھا کہ جمہوریت کا  سانپ بھی مر جائے اور آمریت کی لاٹھی بھی نہ ٹُوٹے ۔ یہ نظام بالواسطہ جمہوریت کا نظام کہلاتا تھا لیکن اسی نظام میں اگر تلا سازش کیس  چلا اور مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی بنیاد پڑی کیونکہ یہ نظام جمہوریت کے نام پر بد ترین شخصی آمریت کا نظام تھا ۔  اور بالآخر یہ اپنی موت مرگیا ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 23 اپریل 2017

تین روز پہلے  ویژن فورم کے سربراہ قبلہ ارشد بٹ کی طرف سے اطلاع ملی کہ اوسلو میں مشال خان کے قتل پر مجلسِ عزا ہوگی ۔ اور کل یارِ ہم مشرب  حضرت نثار بھگت نے فون پر اس کی تفصیل بتائی ۔ یعنی جو قتل مردان کی عبد الولی خان یونی ورسٹی میں ہوا ہے اُس کا سوگ چار دانگِ عالم میں ہو رہا ہے ۔ سو جن دوستوں نے اس سفاکانہ قتل کی مذمت کا بیڑا اُٹھایا ہے ، وہ جانتے ہیں کہ صرف پاکستانی معاشرہ ہی نہیں  ، پورا عالمِ اسلام قتل و غارت گری اور  سفاکی و بربریت کے دوزخ میں جل رہا ہے ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 16 اپریل 2017

یہ پوسکے یعنی ایسٹر کے دن ہیں ۔ اہلِ کلیسا اپنی روایت کے مطابق  شہادتِ عیسیٰ علیہ السلام  کی یاد میں اپنی مذہبی رسوم ادا کر رہے ہیں ۔ کتابوں کی دکانوں اور لائبریریوں میں ایسٹر کے انڈوں  کے بارے میں کتابوں اور جرائم کی کہانیوں کا چرچا ہے ۔ ہمارے یہاں ناروے میں پوسکے کریم یعنی ایسٹر  کے دنوں میں جرائم کی کہانیوں  کا مطالعہ ایک روایت بن چکا ہے ۔ میں نے کبھی کسی نارویجن بھائی ، بہن یا دوست سے یہ نہیں پوچھا کہ ایسٹر اور جرم کا کیا تعلق ہے ، کیونکہ عیسیٰ علیہ السلام کو مصلوب کرنے والوں  نے جو جرم کیا ، اُس کو پیشِ نظر رکھوں تو  ایسٹر کا تہوار مجھے جرائم کے خلاف احتجاج کا تہوار لگتا ہے ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 15 اپریل 2017

زور سے تالیاں بجیں تو میں چونکا

کسی نے کہا کہ یہ تالیاں تو تمہارا مذاق اڑاتی ہیں۔ وہ سارے تم پر ہنستے ہیں اور تمہاری سادہ لوحی ، ایمان پرستی اور عقیدے کا ٹھٹھہ اڑاتے ہیں۔ میں نے حیرت سے یہ باتیں سنیں اور سوچا کہ آخر وہ کیوں ایسا کریں گے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 09 اپریل 2017

پاکستان میں وزیراعظم کی طرف سے اقلیتی عقیدہ کے لوگوں کو تحفظ فراہم کرنے کے وعدہ کی اس سے زیادہ توہین اور کیا ہو سکتی ہے کہ ایک ہفتہ کے دوران دو احمدی شہریوں کو نشانہ باندھ کر قتل کردیا گیا۔ حملہ کی ذمہ داری قبول کرنے والوں کا کہنا ہے کہ  یہ لوگ  احمدی عقائد کو پھیلاتے تھے، اس لئے انہیں مار دیا گیا ہے۔ یہ قتل  ملک میں اقلیتی عقائد رکھنے والوں کے خوف و ہراس میں اضافہ کریں گے اور یہ بات واضح ہو جائے گی کہ حکومت اپنے دعوؤں اور وعدوں اور فوج انتہا پسندوں کے خلاف شروع کئے گئے متعدد آپریشنز کے باوجود ان عناصر کا قلع قمع کرنے میں ناکام ہے جو ملک میں اقلیتی مذاہب کا جینا دوبھر کرنے کا قصد کئے ہوئے ہیں۔ دنیا کا کوئی مہذب ملک اس صورتحال کو قبول نہیں کر سکتا۔ اکثر معاشروں میں اقلیتوں کے بارے میں تعصبات کا اظہار ہوتا ہے اور ان کے عقائد یا رویوں کے بارے میں مباحث بھی سامنے آتے ہیں لیکن کوئی ملک کسی گروہ یا فرد کو قانون ہاتھ میں لینے اور اقلیتوں کے خلاف نفرت پھیلانے اور ان کے خلاف تشدد استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 09 اپریل 2017

موجودہ پاکستان غیر موثر اور کرپٹ اداروں پر مشتمل ایک پینل ہے جو پچھلے ستر سال میں بطور قوم اپنی ساکھ نہیں بنا سکا ۔ یہ بات لکھتے ہوئے میں عجیب ذہنی اذیت سے گزر رہا ہوں مگر کہے بغیر رہ بھی نہیں سکتا۔ کیونکہ کرپشن اور نا اہلیت کے اس اندھیرے میں کوئی تو ماچس رگڑے اور تیلی جلائے ۔ میں جانتا ہوں کہ میری اس تیلی جلانے کا کوئی نوٹس تک نہ لے گا ۔ اور جس معاشرے میں کسی بات یا معاملے کو دفن کرنے کے لیے مٹّی پاؤ کا فارمولا موجود ہو وہاں نوٹس لینے کا مطلب ہی فوت ہو جاتا ہے ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 01 اپریل 2017

فوج پاکستان میں کبھی براہِ راست اور کبھی بالواسطہ ہمیشہ ہی بر سرِ اقتدار رہی ہے  اور اس کا آغاز سن اُنیس سو اٹھاون کے اکتوبر میں ہوا جب جنرل محمد ایوب خان نے ملک میں مارشل لاء نافذ کیا اور اُس وقت کے غیر فوجی حکمرانوں کو ، جو بر سرِ اقتدار تھے ، معزول کرکے ایبڈو کے قانون کے تحت  ایک مخصوص مدت کے لیے سیاست میں اُن کی شرکت پر پابندی لگا دی ۔ اُن کے خلاف دلیل یہی تھی کہ وہ کُرپٹ ہیں ۔ چانچہ وہ نا اہل قرار دیئے گئے اور یہ پہلی غیر رسمی فوجی عدالت کا فیصلہ تھا ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 26 مارچ 2017

ایک بار پھر پوری قوم یوم قرار داد پاکستان منانے کی تیاری کررہی ہے۔ یہ دن اس روز کی یاد میں منایا جاتا ہے جب آج سے 77 برس قبل لاہور میں مسلم لیگ کی قیادت میں ایک قرار داد منظور کی گئی جو بالآخر قیام پاکستان پر منتج ہوئی۔ اس سوال پر تاریخ دان مباحث کرتے رہیں گے کہ کیا ہندوستان میں مسلمانوں کے لئے علیحدہ ملک کے قیام کے لئے 23مارچ 1940 کو منظور کردہ قرار داد کے بعد جد و جہد کا آغاز ہؤا یا اس مطالبے کی بنیاد یہ قرار داد منظور ہونے سے بہت پہلے رکھ دی گئی تھی۔ اسی طرح یہ سوال بھی زیر بحث رہے گا کہ کیا پاکستان ایک اسلامی ریاست بنانے کے لئے معرض وجود میں آیا تھا اور اس صورت میں بانیان پاکستان کے ذہن میں نئی ریاست کا کیا خاکہ موجود تھا۔ یا ان کا مقصد ایک ایسی علیحدہ ریاست کا قیام تھا جہاں مسلمان ، ہندو اکثریت کے خوف سے آزاد ہوکر اپنی دینی اور ثقافتی سرگرمیوں پر عمل کرسکتے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 26 مارچ 2017

ان دنوں میڈیا  میں ،  خواہ سوشل ہو یا اینٹی سوشل  دو  چٹھیوں کا تذکرہ ہے ۔ ایک وہ جسے ایک قطری شہزادے نے وزیر اعظم  نواز شریف کے  بچوں کی املاک کو جائز وراثت ثابت کرنے کے ضمن میں  لکھا ، جسے پاکستان کی عدالتِ عظمیٰ میں پیش کیا گیا ۔ دوسرا خط سابق بعد ازاں نا اہل وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کا ہے جو اُنہوں نے امریکیوں کو ویزے جاری کرنے کے لیے لکھا تھا ، جو اب متنازعہ بن گیا ہے ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 19 مارچ 2017

یہ ستتر سال پہلے کا وہ قصّہ ہے جو نئی نسل کو تو کیا ، اس عہد کے بیشتر سیاسی خُداؤں پر بھی پوری طرح آشکار نہیں ۔ میرے جیسے لوگ جو عمر میں پاکستان سے بھی دو چاربرس بڑے ہیں ، محض سنی سنائی اور رپورٹ کی ہوئی باتوں پر ایمان رکھتے ہیں ۔ ماقبلِ تقسیمِ ہند کی مخلوط مذہبی سوسائٹی میں  جس کسی کے ماں باپ ، محلے کے مولوی ، میونسپل کمیٹی کے  داروغہ  نے کہہ دیا یا مولوی ظفر علی خان کے اخبار نے لکھ دیا وہ مسلمان سچ تھا اور جو کچھ  کسی دوسری سیاسی یا مذہبی جماعت کی طرف سے آیا ہو وہ نا قابلِ قبول اور مبنی بر دروغ  قرار پایا ۔ روایتی معاشروں کی یہی ریت رہی ہے اور اب بھی ہے کہ مخالفین کو مت سنو خواہ وہ عقل کی بات ہی کیوں نہ کہ رہے ہوں کیونکہ سچ ہر زمانے میں اپنا اپنا رہا ہے اور آج بھی ہے ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 14 مارچ 2017

تحریر اور ردِ تحریر ، ابلاغ اور ردِ ابلاغ اور مدح  و ذم ،  سب کے سب جدید معاشرتی اور  صحافتی لوازمات ہیں ۔ کالموں کا پیٹ بھرنے کے لیے ناگزیر ہیں  کیونکہ نقار خانے کے  طوطیوں  کا منصب یہی ہے کہ وہ اپنے اپنے لہجے میں ٹیں ٹیں کرتے رہیں ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 13 مارچ 2017

وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے دہشت گردی کے خلاف بیانیہ تبدیل کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے ۔ لاہور میں جامعہ نعیمیہ میں ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا ہے کہ اب دہشت گردوں سے نمٹنے کے لئے فتوے کافی نہیں ہوں گے بلکہ ان بنیادی تصورات کے برعکس اسلام کا حقیقی پیغام سامنے لانے کی ضرورت ہے، جو اس گمراہ کن پیغام کو غلط قرار دے کہ اسلام اور عقیدے کے نام پر قتل و غارتگری  درست طریقہ کا ر ہے۔ اسی نظریہ نے مسلمانوں میں افتراق پیدا کیا ہے اور اسی کی وجہ سے بعض گروہ اسلام کے علمبرادار بن کر پہلے مسلمانوں کے خلاف تکفیریت کے فتوے جاری کرتے رہے ہیں اور پھر انہیں قتل کرنے کا سلسلہ شروع کردیا گیا۔ اس طریقہ کو بدلنے کے لئے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ وزیر اعظم کی ان باتوں سے سو فیصد اتفاق کرتے ہوئے یہ سوال کرنے کی ضرورت ہے کہ پاکستان میں یہ کام کیسے اور کون سرانجام دے گا۔

مزید پڑھیں

Islamic Council Norway Fails Muslims and the Society

By hiring Nikab-wearing Leyla Hasic, Islamic Council Norway has taken a clear stand in a controversial debate. Norwegian Muslims neither are represented nor served with t

Read more

loading...