نگر نگر


  وقت اشاعت: 13 فروری 2017

یہ بات بارہا کہی جا چکی ہے کہ ہندوستان میں بیشتر ایسے مقامات ہیں جہاں مسلمان اور سماج کے کمزور طبقات کے ووٹ حد درجہ اہمیت رکھتے ہیں۔ اس کے باوجود آغاز ہی سے مسلمانوں کی ایک بڑی کمزوری یہ ہے کہ وہ کسی بھی الیکشن میں اپنے مطالبات، حقائق پر نہیں رکھتے۔ حقائق سے مراد مخصوص علاقہ اور مقام پر جن مسائل سے وہ دوچار ہیں، سیاسی جماعتیں اور ان کے نمائندوں کے ذریعہ انجام دی جانے والی سرگرمی اور نتائج کے اعدادوشمار، ریاستی اسکیمیوں اور ان سے مستفید ہونے والے افراد کا تقابل اور قانون نے جو خصوصی و عمومی اختیارات فراہم کیے ہیں، انہیں اِن منتخب نمائندوں نےکس طرح نظر انداز کیا ، وغیرہ۔ ان کی بنیاد پر فراہم کیے جانے والے حقائق ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 07 فروری 2017

ہندوستان کی سیاست بڑی دلچسپ ہے۔ یہاں کے باشندے بھی سیاست میں خوب دلچسپی رکھتے ہیں۔ چھوٹا ہو یا بڑا ، پڑھا لکھا ہو یا اَن پڑھ، آفس میں کام کرنے والا ہو یا کھیت کھلیان میں ، چائے کی دکان پر بیٹھے لو گ ہوں یا بسوں اور ٹرینوں میں سفر کرتے مسافر، کوئی بھی مقام ہو اور کسی بھی عمر کا فرد، انتخابات کے دوران ہر شخص سیاست پر گفت و شنید اوربحث و مباحثہ کرتا نظر آئے گا۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 30 جنوری 2017

حکومت ہند کی وزارت داخلہ کے مطابق 2011 سے اکتوبر2015 تک 3365 فرقہ وارانہ واقعات رونما ہوئے ۔ یہ فرقہ وارانہ واقعات فی ماہ اوسطاً 58 درج کیے گئے ہیں۔ نیز ان فرقہ وارانہ فسادات کا 85% فیصد حصہ ملک کی آٹھ ریاستوں سے تعلق رکھتا ہے۔ ان میں بہار، گجرات، کرناٹک، کیرلہ، مدھیہ پردیش، مہاراشٹر، راجستھان اور اترپردیش ہیں۔ بقیہ 21ریاستوں میں15% فیصد فرقہ وارانہ واقعات رونما ہوئے ہیں۔ سال 2012میں اترپردیش کی حکومت کی باگ دوڑ ملک کے سب سے کم عمر، نوجوان وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو نے سنبھالی اور اسی سال کے دوران اترپردیش میں 118فرقہ وارانہ واقعات رونما ہوئے۔

مزید پڑھیں

loading...

  وقت اشاعت: 23 جنوری 2017

ہندوستان میں ریاستی سطح پرآبادی کے تناسب میں سب سے زیادہ جموں و کشمیر میں 68.31% مسلمان آباد ہیں۔ اس کے برعکس ریاستی سطح ہی پر سب سے کم میزورم میں 1.35% مسلمان رہتے ہیں۔ آسام ، مغربی بنگال اور کیرلہ میں 25% سے زائد مسلمان موجود ہیں۔ مسلمان آبادی کے لحاظ سے  15سے20 فیصد والی ریاستیں بہار اور اترپردیش ہیں۔  جن ریاستوں میں مسلمان 10سے15فیصد کے لگ بھگ رہتے ہیں اُن میں جھارکھنڈ، اتراکھنڈ، کرناٹک، دہلی اور مہاراشٹر شمار کیے جاتے ہیں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 20 جنوری 2017

اتر پردیش سیاسی اعتبار سے ملک کی سب سے اہم ریاست ہے اور اسی وجہ سے یہاں کا انتخاب ہندوستانی سیاست میں اہمیت کا حامل ہے۔ یہاں کے عوام نہ صرف ریاست کی قسمت کا فیصلہ کرتے ہیں بلکہ بھارت کی قسمت کا بھی فیصلہ کرتے ہیں۔ بلکہ یہ کہا جا ئے تو بے جا نہ ہوگا کہ جس نے یوپی کو جیت لیا اس نے پورے ملک پر قبضہ کر لیا۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 16 جنوری 2017

یہ حقیقت ہے کہ ہندوستان کے ہر انتخاب میں مسلمانوں کا ووٹ حد درجہ اہمیت رکھنے کی وجہ سے موضوع بحث بنتا ہے۔ ملک کی تمام چھوٹی و بڑی سیاسی جماعتیں مسلمانوں کے ووٹ حاصل کرنے کی مختلف انداز سے سعی و جہد کرتی ہیں۔ مسلمانوں کا ووٹ جس پارٹی یا امید وار کو ملنے کی امید ہو جائے ،اس کی کامیابی تقریباً طے ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 09 جنوری 2017

4 جنوری 2017 الیکشن کمیشن آف انڈیا نے ملک کی پانچ ریاستوں میں اسمبلی الیکشن کروانے کا اعلان کیا۔ لیکن اس اعلان سے قبل ہی ان پانچ ریاستوں میں اسمبلی الیکشن کی تیاریوں میں تمام ہی سیاسی پارٹیاں مصروف ہو چکی تھیں۔ ان پانچ ریاستوں میں جن دو ریاستوں کا الیکشن ملک اور اہل ملک کے لیے اہم حیثیت رکھتا ہے، ان میں اول الذکر ریاست اترپردیش ہے، پھر  پنجا ب کا نمبر آتا ہے۔ پانچ ریاستوں میں  690 اسمبلی حلقوں میں یہ انتخاب عمل میں آنا ہے جس میں 16کروڑ ووٹرس حصہ لیں گے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 02 جنوری 2017

ہندوستانی مسلمانوں کی اب تک کی سب سے بڑی ناکامی یہ ہے کہ ملکی سطح پر مسلمانوں کی کوئی نمایاں لیڈر شپ نہیں ہے۔ کہا جاتا ہے کہ تقسیم ہند کے وقت مسلمانوں کا سوچنے سمجھنے والا دماغ ہجرت کر گیا۔ برخلاف اس کے ہم سمجھتے ہیں کہ وطن عزیز میں آج بھی مسلمانوں کے لیڈر اور لیڈر شپ موجود ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 26 2016

سترہویں صدی عیسوی میں یورپ کے سیاسی مفکرین یا تو استبداد (despotism) ظلم و جبر کے حامی تھے یا دستوری حکومت کے علمبردار اور شہریوں کے حقوق کے تحفظ کے حامی۔ بوداں اور ہابس کا شمار استبداد کے حامیوں میں تھا اور لاک دستوری حکومت کا حامی تھا۔ روسو عوامی اقتدار اعلیٰ کا مبلغ تھا اور مانتسکیو فرد کی آزدی کا۔ سترہویں صدی کے آخری سہ ماہی میں فرانس میں ایک زبردست سیاسی انقلاب برپا ہوا جس نے یورپ کے سیاسی نظام کی بنیادیں ہلا کے رکھ دیں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 20 2016

سیاسی نظریہ یا سیاسی فلسفہ انسان اور انسانی معاشرے کے لیے خیر اور صلح نظام کے اصولوں کے مطالعے سے عبارت ہے۔ انسان محض زندہ رہنے کے لیے ہی زندہ نہیں رہتا بلکہ وہ اچھی زندگی بسرکرنے کا خواہاں ہوتا ہے۔ یہ اس کی فطرت کا خاصہ ہے کہ وہ ہمیشہ اپنے وجود اور اپنے اعمال کا جواز تلاش کرتا ہے۔

مزید پڑھیں

Threat is from inside

Army Chief General Raheel Sharif assured the nation that country’s borders are secure and the army is aware of threats and intrigues of the enemies. Speaking at an even

Read more

loading...