نگر نگر


  وقت اشاعت: 1 دن پہلے 

ہر شخص امن و امان کا خواہاں ہے اور غنڈہ گردی ، ظلم و زیادتی اور تشدد پسند نہیں کرتا۔ یہی وجہ ہے کہ جب کسی ریاست میں سکون و اطمینان غارت ہونے لگتا ہے تو ریاست کے باشندگان برسراقتدار حکومت کے خلاف نہ صرف اپنا احتجاج و مظاہرے کرتے ہیں بلکہ وقت آنے پر اس حکومت کو تبدیل کرنے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔ لیکن تصور کیجئے ایک ایسے مقام کی جہاں ایک حکومت سے تنگ آکر عوام دوسری حکومت کو اقتدار میں لائیں، اس کے باوجود آنے والی نئی حکومت اور اس کے ذمہ داران لا اینڈ آڈر کو کنٹرول نہ کرسکیں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 13 مئی 2017

بچپن کی یادیں انسان کی زندگی میں ایک اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ اس عمر میں اس کے دل و دماغ میں اپنے گھر، خاندان، عزیزو اقارب، ارد گرد کا ماحول، سکول، جھیل اور دریا، کھیت کھلیان یعنی ہر وہ چیز جس سے اس کا واسطہ پڑتا ہے ، اس کے بارے میں جاننے کا تجسس ہوتا ہے۔ زندگی کا یہ ایسا دور ہوتا ہے جس میں کئی قسم کے سوال بچوں کے معصوم دل ودماغ میں گردش کرتے ہیں۔ جب بھی اس کے سامنے کوئی ایسی بات ہوتی ہے جس سے وہ لاعلم ہوتا ہے وہ فورا اس کے بارے میں جاننے کے خواہشمند ہوتا ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 08 مئی 2017

بلقیس بانو اور نربھیا دو ایسی متاثرہ ہیں جن کے ساتھ دو الگ الگ مقامات پر بدسلوکی کی گئی۔ ان کی عفت و عصمت سے اجتماعی طور پر کھلواڑ کی گئی۔ اور ان کے ساتھ ہونے والے ظلم و زیادتی نے پورے ملک کو شرمسار کیا ہے۔ اس کے باوجود یہ دو واقعات پہلے نہیں ہیں اور نہ ہی آخری ہیں۔  یہ الگ بات ہے کہ ان واقعات نے میڈیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کروائی۔

مزید پڑھیں

loading...

  وقت اشاعت: 01 مئی 2017

یہ بات درست ہے کہ ہندوستانی مسلمانوں کے داخلی مسائل، خارجی مسائل سے کہیں زیادہ ہیں۔ اس کے باوجود عموماً ہر فرد کی زبان پر خارجی مسائل چھائے رہتے ہیں اور انہیں کے تعلق سے تبادلہ خیالات اور گفتگو ہوتی ہے ۔  ہم داخلی مسائل کو نظر انداز کرتے ہیں۔ نتیجہ میں یہ مسائل جب سرچڑھ کے بولتے ہیں تو ہم نہ اندرون خانہ اور نہ ہی بیرون خانہ جواب دینے کی حالت میں ہوتے ہیں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 25 اپریل 2017

پرسنل لاء پر عمل درآمد کا اختیار اورکامن سول کوڈ کی جانب پیش قدمی کی بات ہندوستان میں آزادی کے بعد ہی سے دہرائی جاتی رہی ہے۔ اس کے باوجود تکثیری ملک جس میں بے شمار مذاہب، ثقافتیں اور قبائل موجود ہیں نیز انہیں اپنے سماجی تانے بانے کو برقرار رکھنے اور مستحکم کرنے کی بات کہی گئی ہو، ممکن نہیں ہے کہ ایک ایسا کامن سول کوڈ بنایا جاسکے جس پر سب کی رضا مند ہوسکیں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 16 اپریل 2017

قومی کونسل برائے فروغ اردو کی چوتھی عالمی کانفرنس کاانعقاد بھی بڑے ہی شاندار پیمانے پر کیا گیا ۔  17 سے 19 مارچ کے دوران اردو کانفرنس کے  اجلاس منعقد ہوئے جن میں اٹھارہ ممالک کے نمائندہ ادیبوں اور افسانہ نگاروں نے شرکت کی ۔ اور  سامعین ان کے خیالات اور مقالات سے مستفیض ہوئے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 13 اپریل 2017

ہندوستان اور اس کے عوام کی ہمہ جہت ترقی و ارتقا میں معاشی استحکام جزولاینفک کی حیثیت رکھتا ہے۔ لیکن اگر معاشی استحکام اپنی پالیسی کی روشنی میں کسی مخصوص گروہ پر توجہ دے اور کچھ پر متوجہ نہ ہوتو نہ ملک ہمہ جہت ترقی کر سکتا ہے اور نہ ہی ملک کے باشندے ملک کے ارتقا میں کارآمد ثابت ہو سکتے ہیں۔ برخلاف اس کے ایک گروہ قلیل دولت کے حصول میں بہت آگے بڑھ جائے گا تو دوسرا معاشی طور پر کمزور سے کمزور تر ہوتا چلا جائے گا۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 07 اپریل 2017

ہندوستان چونکہ تکثیری معاشرہ ہے لہذا آئین میں اس بات کا لحاظ رکھا گیا ہے کہ وطن عزیز کی اس خوبی کو برقرار رکھا جائے۔ نیزمختلف ثقافتیں نہ صرف اپنی شناخت باقی رکھیں بلکہ انہیں پروان چڑھنے اور مستحکم ہونے کے مواقع بھی پرسکون حالات میں میسر آئیں۔ دراصل یہی وہ نکتہ ہے جس کی بنا پر ملک میں بے شمار نظریات ،عقائد و مذاہب کے ماننے والے طویل عرصہ سے مل جل کر رہتے آئے ہیں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 25 مارچ 2017

جواہر لعل نہرو یونیورسٹی ، نئی دہلی کے ہندوستانی زبانوں کے مرکز، اسکول آف لینگویجز، لٹریچر اینڈ کلچر اسٹڈیز  میں مہاراشٹر صوبہ کے کھام گاؤں ضلع بلڈانہ میں مقیم ڈاکٹر محمد راغب  دیشمکھ (صدر شعبۂ اردو ) جی ایس سائنس ، آرٹس اینڈ کامرس پی جی کالج کھام گاؤں ضلع بلڈانہ (ودربھ) امراؤتی یونیورسٹی امراؤتی ، ڈاکٹر محمد عاقب  (صدر شعبۂ اردو ) شریمتی کیشر بائی لاہوٹی آرٹس اینڈ کامرس پی جی کالج امراؤتی ضلع امراؤتی ، امراؤتی یونیورسٹی امراؤتی، اور مسٹر پانڈے مقیم امریکہ (اردو زبان کے سچے عاشق اور شیدائی) کا شعبۂ اردو میں پرتپاک استقبال کیا گیا۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 20 مارچ 2017

انسان کی فطرت ہے کہ وہ اپنے مستقبل کے لیے بڑا فکر مند رہتا ہے ۔ ہروقت وہ اس خیال میں مبتلا رہتا ہے کہ آنے والے وقت میں وہ کسی بھی قسم کی پریشانی میں مبتلا نہ ہو۔ اس کے لیے  وہ خود بھی فکر مندرہتا ہے اور متعلقین کو بھی اس جانب ابھارتا ہے۔ انسان کی یہ فکر مندی لائق تحسین ہے ۔ اس کے باوجود وہ نہیں جانتا ہے کہ آنے والا کل، آج ہی پر منحصر ہے۔ یعنی وہ آج جن سرگرمیوں میں مصروف عمل ہے یہی سرگرمیاں کل اس کو یا تو کامیاب بنائیں گی یا پھر ناکامی سے دوچار کریں گی۔ لیکن انسان کی عملی زندگی میں غفلت ، سرد مہری، لاپرواہی اور بے توجہی کو ترک نہیں کر پاتا۔ 

مزید پڑھیں

Islamic Council Norway Fails Muslims and the Society

By hiring Nikab-wearing Leyla Hasic, Islamic Council Norway has taken a clear stand in a controversial debate. Norwegian Muslims neither are represented nor served with t

Read more

loading...