نگر نگر


  وقت اشاعت: 11 جنوری 2017

سال رواں کے دوران ہالینڈ، فرانس اور جرمنی میں پارلیمانی انتخابات ہونے والے ہیں۔ امکان ہے کہ اٹلی میں بھی انتخابات ہوں گے ۔  ماہرین ابھی سے کہہ رہے ہیں کہ ان انتخابات میں جو کوئی بھی  اقتدار سنبھالتا ہے ایک بات یقینی ہے کہ  یورپ کا  سیاسی جغرافیہ بدل جائے گا۔ ان انتخابات کے یورپ کے مستقبل پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ اس کے لیے یورپ میں پھیلتی ہوئی قومیت پرستی اور یورپی یونین کے متحدہ ڈھانچے کی مخالف تحریکیں  بھر پور کردار ادا کریں گی ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 09 جنوری 2017

ہالینڈ میں ملک کی مقبول انتہائی دائیں بازو کی فریڈم پارٹی ملک بھر میں مساجد اور قرآن پر پابندی لگا دینا چاہتی ہے ۔ پارٹی کے رہنما  گیرٹ وائلڈرز کا کہنا ہےکہ   اسلام کے خلاف لڑا جانا چاہیے ۔ ہالینڈ میں اس سال مارچ میں پارلیمانی  انتخابات ہوں گے۔ فریڈم پارٹی کے رہنما نے اعلان کیا ہے کہ  کامیابی کی صورت میں وہ ملک بھر میں تمام اسلامی علامات کو ختم کریں گے اور مساجد و قرآن پر پانبدی لگا دیں گے ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 03 جنوری 2017

یورپی یونین کی اعلیٰ قیادت کوشش کر رہی ہے کہ اگر شام کی حکومت  باغی گروہوں شریک اقتدار کرلے۔ اِس کے بدلے میں یورپی یونین صدربشار الاسد کی حکومت کو مالی امداد دینے پر تیار ہوگی۔  یورپی یونین کے امور خارجہ کی کمشنر فیڈیریکا موغرینی نے اس سلسلے میں گزشتہ دنوں  ایران، سعودی عرب، ترکی، لبنان، مصر، اُردن، قطر اور جنگ ذدہ شام کے دورے کئے ہیں ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 17 2016

یورپی ممالک میں مسلمانوں کی اصل تعداد کتنی ہے۔ اس بارے میں کئی تخمینے لگائے جاتے ہیں اور کئی ملکوں میں مسلمانوں کی تعداد کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہوئے انہیں مقامی آبادی کے لیے ایک ’’ ممکنہ خطرہ‘‘ سمجھا جاتا ہے۔ جب کہ صورتِ حال اِس کے بالکل برعکس ہے ۔ یورپی ملکوں میں مسلمانوں کی اصل تعداد  اُس سے کہیں کم ہے جو تعداد سیاستدان اور  مسلمان مخالف شدت پسند تحریکیں اور گروپس بتاتے ہیں ۔ ڈنمارک میں بھی یہی صورتِ حال ہے ۔ یہ بات چالیس  یورپی ملکوں میں مسلمانوں کی تعداد کے حوالے سے کیے گئے’’برطانوی رائے ریسرچ انسٹی ٹیوٹ،  اپسوس موری ‘‘ کے  ایک جامع سروے میں بتائی گئی ہے ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 13 2016

ڈنمارک میں کئی بڑی کمپنیوں، کاروباری اداروں  ایک  بنک نے آن  لائن شائع ہونے والے ایک اخبار  Den Kort Avis کو دئے جانے والے اشتہارات بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔  ان اداروں کا کہنا ہے کہ یہ اخبار ڈنمارک میں تارکین وطن، مسلمانوں اور اسلام کے متعلق نفرت انگیز  خبریں  اور تبصرے شائع کرتا ہے۔ اس لئے فوری طور پر  اخبار کو  اشتہارات نہ دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ان اداروں میں  نورڈیا بنک، ٹیلیفون کمپنی ٹیلیا،  فرنیچر کی عالمی شہرت یافتہ کمپنی اِیکیا اور  فضائی سفری کمپنی سپیس کے علاوہ بیس پچیس  کے قریب دوسری کمپنیاں بھی شامل ہیں ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 12 2016

ڈنمارک میں بے وطن مہاجرین  کو ڈینش شہریت دنے سے متعلقہ معاملات کو نمٹانے  کے لیے ڈینش پیپلز پارٹی ناروے کے طریقہ کار کو اپنانا چاہتی ہے۔  یہ پارٹی غیر ملکیوں اور خاص کر مسلمانوں کے خلاف معاندانہ و متصبانہ رویہ رکھتی ہے۔ 

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 12 2016

سویڈن کا نام سنتے ہی کئی دوسری باتوں کے علاوہ ادب کے لیے نوبل انعام سامنے آ جاتا ہے جو ہر سال کسی ایسے ادیب و شاعر کو دیا جاتا ہے جس کی کوئی ایک تصنیف اپنے آپ میں ایسا شاہکار ہو کہ اس کی کوئی نظیر نہ ہو ۔ سویڈن میں ادب کو جو اہمیت دی جاتی ہے وہ بھی اپنی مثال آپ ہے ۔ بچوں کے لیے ادب سویڈش سماج میں بہت زیادہ اہمیت رکھتا ہے اور ملک میں شائع ہونیوالی کتابوں میں سے ہر دسویں کتاب بچوں کے لیے ہوتی ہے ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 15 2016

ڈنمارک میں مسلمانوں ، مہاجرین اور پناہ گزینوں  کے خلاف نفرت انگیز مہم کا سلسلہ جاری ہے۔  سیاستدانوں سمیت ملک کے بیشتر بڑے اخبارات و دیگر الیکٹرانک و سوشل میڈیا اس قسم کی متصبانہ بیان بازی اور الزام تراشیوں میں مصروف ہے۔ یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ ڈینش سماج میں  تمام برائیوں کی جڑ یہی غیر یورپی تارکین وطن ہی ہیں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 12 2016

امریکی صدارتی انتخاب  میں ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی کو جمہوریت کی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔ لیکن جمہوریت کی اس کامیابی  پر امریکہ میں اور دنیا کے دیگر ممالک میں تحفظات کا اظہار بھی سامنے آئے ہیں۔   ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی نے نہ صرف امریکہ کو دو دھڑوں میں تقسیم کر دیا  ہےبلکہ اس تقسیم کا اثر یورپ پر بھی پڑا ہے۔ یورپ میں ڈونلڈ ٹرمپ کے انتہا پسندانہ نظریات اور  مسلمانوں کے خلاف اقدامات  کی حمایت کرنے والے یورپی رہنما بڑی گرمجوشی سے انہیں مبارکباد کے پیغامات بھیج رہے ہیں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 03 2016

ڈنمارک میں پاکستانیوں کے ایک دیرینہ مطالبے کو پورا کرنے کے لیے پاکستان کی حکومت نے انہیں دوہری شہریت رکھنے کی اجازت دینے کے لیے ٹھوس اقدام لیے ہیں۔ آثار بتاتے ہیں کہ اب وہ وقت دور نہیں جب ڈینش شہریت رکھنے والے کم و بیش پچیس ہزار پاکستانی ڈینش شہریت کے ساتھ ساتھ اپنے آبائی وطن پاکستان کی شہریت بھی رکھ سکیں گے ۔

مزید پڑھیں

Threat is from inside

Army Chief General Raheel Sharif assured the nation that country’s borders are secure and the army is aware of threats and intrigues of the enemies. Speaking at an even

Read more