نگر نگر


  وقت اشاعت: 08 اگست 2017

ہمارے میڈیا کے احباب اسے show of power کہتے ہیں، ہم بصد احترام ان سے اختلاف کرتے ہیں۔ ہم اسے show of papularity کہتے ہیں۔ پہلا فیصلہ یہ ہوا کہ نواز شریف بذریعہ جی ٹی روڈ اسلام آباد سے لاہور تشریف لے جائیں گے۔ یار لوگوں نے یہ سفر بذریعہ جی ٹی روڈ کو خطرناک گردانا اور فیصلہ بدل دیا گیا۔ لیکن پھر فیصلہ بدلا گیا اور اعلان ہوا کہ نواز شریف جی ٹی روڈ ہی سے لاہور جائیں گے۔ اسلام آباد اور لاہور کے درمیان ان کے بہت سے چاہنے والے چشم براہ ہوں گے ان پر پھول نچھاور کیے جائیں گے۔ ان کے خطاب کو خصوع و خشوع سے سنیں گے۔ دل و جان سے ان کے جلسوں میں شرکت کریں گے۔ ان کے حق میں نعرہ بازی کریں گے۔ اس لئے ہم اسے show of papularity کہتے ہیں۔ اسلام آباد سے لاہور تک جی ٹی روڈ دلہن کی طرح آراستہ کیا جائے گا۔ قد آور بینرز لگائے جائیں گے ہری جھنڈیاں جا بجا ہوا میں پھڑپھڑاتی دیکھی جائیں گی۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 07 مئی 2017
مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 10 اپریل 2017

کہاں میں رُکتا .......کہ سدرۃ المنتہی سے اونچا تو کچھ نہیں تھا!

چڑھائی مشکل تھی ...
آسماں گیر ہاتھ اونچے اُٹھے ہوئے
پاؤں آگے بڑھتے
لپکتے، رستوں کو ماپتے ، سیڑھی سیڑھی چڑھتے
بدن تموج میں ایسے حرکت پذیر
جیسے کہ تیرتا ہو!
 

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 10 اپریل 2017

تم کبھی بدلوگے بھی اس جسم سے باہر نکل کر؟
ایک پنجرے میں مقید
جسم کے ان آٹھ سوراخوں کے کشکولوں میں
اپنی کم بقا محرومیوں کی دکھشنا بھرتے ہوئے
تم آج بھی یہ چاہتے ہو
سارے کشکولوں کو بھر لو
 

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 03 اپریل 2017

’’غبار خاطر‘‘ کا اولین مکتوب یوں ہے
’’اے غائب از نظر کرشدی ہم نیشن دل
می بیخت عیاں و دعامی فرستمت
حکایات سے دل لبریز ہے مگر زباں درماندہ
فرست کو یارائے سخن نہیں‘‘
جب ایسی ہی کیفیت طاری ہو جائے تو حکایات سے دل خودبخود لبریز ہو جاتا ہے۔ پیام آیا کہ مدت سے غائب از نظر سہی۔ لیکن دل کے قریب تر ہو۔ اگرچہ یارائے سخن سے تشنہ ہیں۔ بہرحال ملاقات کا یارا کیا جائے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 31 2016
کیا ہم یہ بھول رہے ہیں کہ ہم نے کس عزم سے پاکستان کی صبح نو کا خیرمقدم کیا تھا؟ آنے والے دنوں کے لئے کیا کیا خواب دیکھے تھے غیر و اغیار کی صدیوں کی غلامی کا جوا بلآخر اتار پھینکا تھا اور عزم عالی شان کو جھک کر سلام کیا تھا۔ اُس وقت اس ملک کے بچے بچے کے دل میں نئی امنگیں، نئے ولولے کروٹیں لے رہے تھے۔ کیا آج ہم بھول رہے ہیں کہ ہم صرف اور صرف پاکستانی ہیں اور پاکستان اپنی ہمہ تن مہربانیوں، شفقتوں کے ساتھ ہمارا ہے۔ نہ جانے ہم آج کے دور کو دانستہ یا نادانستہ گردانتے ہیں
مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 24 ستمبر 2016

 پاکستان آج کل سوالات کا برساتی جنگل (Tropical Forest) بنا ہوا ہے۔ پاکستان اس وقت اندرونی اور بیرونی خلفشار میں بری طرح گھرا ہوا ہے۔ ہمارے مشرقی اور مغربی دونوں ہمسائے گِدھوں کی طرح اس سرزمین پر نظریں جمائے بیٹھے ہیں۔ انڈیا کی بات تو بڑی حد تک سمجھ میں آ سکتی ہے جس کے محرک وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ لیکن افغانستان کے پینترے بدلنا سمجھ سے بعید ہے۔ اس پر ہمیں ایک پرانی کہانی یاد آ رہی ہے۔ راوی کہتا ہے کہ روس اور چین میں جنگ بھڑک اٹھی۔ جنگ کے پہلے دن چین کے ایک ملین سپاہی ہار مان گئے اور جنگی قیدی بنائے گئے۔ جنگ کے دوسرے دن چین کے دو ملین سپاہی ہار مان گئے اور جنگی قیدی بن گئے۔ جنگ کے تیسرے دن چین روس کو فون کر کے پوچھتا ہے کہ ’’تم کب ہتھیار ڈالو گے؟‘‘

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 04 جولائی 2016

پانامہ لیکس نے 2کام کیے۔ ایک تو یہ کہ جب یہ خبر منظر عام پر آئی تو بہت سے ابرو بلند ہوئے۔ بہت سے چہروں پر پراسرار مسکراہٹیں رینگنے لگیں۔ بہت سے دل ڈوب گئے۔ میڈیا نے اپنے قلم سیاہی میں ڈبو دیئے۔ ٹی وی اینکرز زیرلب مسکراہٹوں کے ساتھ نئی خبر کے ساتھ نمودار ہوئے۔ پاکستان ہی نہیں بلکہ دنیا کے طول و عرض میں غیر مستحکم احساسات نمودار ہونے لگے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 03 جولائی 2016

امریکہ، بعض نام نہاد مسلم تنظیموں کے ذریعہ کئے جانے والے کچھ ناخوشگوار سانحات ، صدارتی انتخاب اور ریپبلکن صدارتی امیدوار ڈونالڈ ٹرمپ کے امریکی مسلمانوں کے خلاف دئے گئے طرح طرح کے اوٹ پٹانگ نفرت انگیز بیانات سے سرخیوں میں ہے ۔ گرچہ امریکی صدر باراک اوباما نے امریکہ کے مسلمانوں کو ماہ رمضان کی مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ کسی کو بھی مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے کا حق حاصل نہیں ہے ۔ باراک اوباما نے مزید کہا کہ مسلمانوں کی واضح اکثریت پُرامن، محنتی اور محب وطن ہے ۔ہم امریکی ایک ہی کنبہ ہیں ۔ جبکہ اکثر امریکی غلط طور پر اسلام اور دہشت گردی کو ایک ساتھ نتھی کرتے ہیں ۔
 

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 26 جون 2016

سوال یہ ہے کہ ہم کون ہیں؟ ہمارا تعلق انسانی معاشرے میں کس سے متعلق ہے۔ جدید تر علوم ہماری رہنمائی جینیات (Gene) اور ڈی این اے (DNA) سے کرتے ہیں اور اس کے بعد تاویلات کا بحربے کراں وجود میں آ جاتا ہے۔  ان تاویلات کا مطالعہ کریں یا نہ کریں ہمارا وجود ان تاویلات سے بہت پہلے معرض وجود میں آ چکا تھا، ہم اسی طرح دیکھتے اور سنتے اور سانس لیتے تھے۔ لیکن Gene یا DNA کا ذکر ہماری فراست سے عنقا تھا۔ نہ جانے ہم تب مطمئن تھے یا اب خوش ہیں؟

مزید پڑھیں

Praise and prayers for the great people of Turkey

One year ago, this day, the people of Turkey set an example by defending their elected government and President Recep Tayyip Erdogan against military rebels.

Read more

loading...