نگر نگر


  وقت اشاعت: 3 دن پہلے 

وہ جو غالب نے کہا تھا کہ
قطرہ میں دجلہ دکھائی دے اور جز میں کل
کھیل لڑکوں کا  ہوا  دیدہ  بینا نہ ہوا
’’دیدہ بینا‘‘ جس کو عطا ہو جائے اس کیلئے دشواریاں ہی دشواریاں پیدا ہو جاتی ہیں۔  زندگی کے ہر موڑ پر دیدہ بینا جراحتوں کے سامان فراہم کرتا رہتا ہے۔ اصل معاملہ یہ ہے کہ زیست کی تہہ در تہہ معنویت کی تلاش بہت مہنگا سودا ثابت ہوتی ہے۔ ہر عہد میں وہ لوگ جن کو یہ نعمت عطا ہوتی ہے صلیب و دار کی منزلوں سے گزرتے رہتے ہیں ان کے پیرایہ اظہار میں وہ تیکھا پن ہوتا ہے کہ اسے ملمع سازوں، دنیا پرستوں اور جاہ پرستوں کی ظاہرداری برداشت ہی نہیں ہو سکتی۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 10 جنوری 2017

غالباً 1932 کا واقعہ ہے۔ ڈی اے وی کالج لاہور میں تاریخ کے استاد لالہ ابلاغ رائے نے ایک مقالہ شائع کیا۔ یہ مقالہ ہندوستان کے مشہور اخبار ٹربیون میں شائع ہوا اس میں انہوں نے اپنی تحقیقات پیش کرتے ہوئے یہ ثابت کیا کہ جنوبی امریکہ کی دریافت کرنے والے ایک ہندو مذہبی رہنما تھے جن کا نام ارجن دیو تھا اور یہ جو ملک ارجنٹینا ہے انہی ارجن دیو کے نام پر ہے اور جیسا کہ آپ جانتے ہیں ارجنٹینا جنوبی امریکہ کا ایک ساحلی ملک ہے ۔۔۔۔۔ لالہ ابلاغ رائے کا یہ مقالہ شائع ہوا تو مسلمانوں میں کھلبلی مچ گئی۔ یہ کھلبلی یہاں تک بڑھی کہ مسلمانوں کو یوں نظر آنے لگا جیسے ہندو ان سے بازی لے گئے۔ ان حالات میں مولانا ظفر علی خان اٹھے اور انہوں نے مسلمانوں کے جذبات کی تسکین کا سامان فراہم کیا۔ مولانا ظفر علی خان نے اپنے اخبار ’’زمیندار‘‘ میں ایک مضمون شائع کیا جس میں انہوں نے یہ ثابت کیا کہ جنوبی امریکہ کی دریافت ایک مسلم درویش حضرت شیخ چلی رحمتہ اللہ علیہ نے کی تھی۔ چنانچہ جنوبی امریکہ کا ایک ملک آج تک انہیں کے نام پر منسوب چلا آ رہا ہے۔ اس ملک کا نام ’چلی‘ ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 03 جنوری 2017

ہم نے گزشتہ ستر (70) سال میں عجیب عجیب دور دیکھے ہیں۔ وہ دور بھی دیکھا ہے جب اقتدار بہرہ تھا اور کسی کی بات سنتا ہی نہ تھا۔ وہ دور بھی آیا جس میں اقتدار کان تو رکھتا تھا مگر عقل و ہوش سے بے بہرہ تھا۔ پھر وہ حکمران بھی آئے جنہوں نے انسانوں کو ذلیل کرنے کا نام انسانی عظمت رکھ دیا اور اہل وطن کیلئے وہ قہر الٰہی بن گئے اور پھر وہ دور بھی آیا جس میں پاکستان کے اصل مسائل کا چرچا ہوا لیکن یہ سورج بھی زیادہ دیر تک چمک نہ سکا اور آج ہم ایک ایسے دور میں داخل ہو چکے ہیں جو سیاسی، سماجی، اقتصادی، صحافتی اور جمہوری آزادیوں کے اعتبار سے..... گزشتہ ہفتے کی ایک خبر کے مطابق پاکستان کے ایک سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’’پاکستان میں مجموعی قومی آمدنی کا صرف 2 فیصد تعلیم پر خرچ کیا جاتا ہے جو ایشیا میں سب سے کم ہے‘‘۔ ہمارے ملک کے مسائل میں سے تعلیم ایک بنیادی مسئلہ ہے جس کے ساتھ باقی کے مسائل بھی جڑے ہوئے ہیں جیسا کہ سیاسی، سماجی، اقتصادی، جمہوری اورصحافتی۔ آج کا کالم صحافت کے حوالے سے سپرد قلم کر رہا ہوں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 27 2016

لیجئے ! ایک نئی تحقیق سامنے آئی ہے۔
جو مرد تیس سال سے پہلے ہی گنجے پن کا شکار ہو جاتے ہیں ان کو عارضہ قلب ہونے کا زیادہ خطرہ ہوتا ہے۔ یہ بات برطانوی پریس کی ایک رپورٹ میں کہی گئی ہے۔ لندن کے اخبار انڈیپینڈنٹ کی ایک حالیہ اشاعت میں اس نئی رپورٹ کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ جلد کے امراض کے ماہرین کی تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ تیس برس کی عمر سے پہلے بالوں کے گرنے اور بعد کی عمر میں دل کا دورہ اور انجائنا کا آپس میں گہرا اور واضح تعلق ہے۔ دوسرے لوگوں کے مقابلے میں جلد گنجے ہونے والے افراد کے دل کی شریانوں میں رکاوٹ کا زیادہ خطرہ رہتا ہے۔ ان ماہرین کے خیال میں اس تعلق کا سبب مردوں کے ہارمون کا بڑھنا ہو سکتا ہے اور یہ کہ مردوں کے ہارمون بالوں کو متاثر کر سکتے ہیں۔ اس سے بال چھوٹے اور کمزور ہوتے جاتے ہیں اور پھر گنجا پن غالب آ جاتا ہے۔ نئی تحقیق بتاتی ہے کہ انہی ہارمون کے بڑھنے سے ہائی بلڈ پریشر اور ہائی کولیسٹرول بھی ہو جاتا ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 20 2016
ڈنمارک سے خبر آئی ہے کہ ڈنمارک ہی کے ایک سپوت ڈاکٹر Lanay Westergard نے اپنے ساتھی سائنس دانوں کے ساتھ مل کر آئن سٹائن کی تھیوری Condensation کی مدد سے سورج کی روشنی کی رفتار کو کم کرنے میں کامیابی حاصل کر لی ہے۔ ڈاکٹر لینی Lanay نے اپنی اس تھیوری کا نام بھارتی سائنسدان شنیدرناتھ بوس اور آئن سٹائن کے نام پر رکھا ہے۔ ان دونوں سائنس دانوں نے اپنے مطالعے کے بنیاد پر کہا تھا کہ سورج کی روشنی کی رفتار کو کم کیا جا سکتا ہے اور یہ بات طے ہے کہ ابھی دنیا میں روشنی کی رفتار سے زیادہ رفتار کسی چیز کی نہیں ہے۔ سائنس دانوں نے ایک خاص پروسس Process کے ذریعہ روشنی کی رفتار 71 کلومیٹر فی گھنٹہ کر دی ہے (یہ پروسس ابھی عام آدمی کی سمجھ میں نہیں آئے گا اس کیلئے ایک علیحدہ کالم درکار ہے)
مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 06 2016

فلسطینی رہنما یاسر عرفات کو ہم سے جدا ہوئے بہت سے برس ہو گئے ہیں۔ گزشتہ دنوں اس عظیم رہنما کی برسی کے موقع پر اسرائیلی فوج نے غزہ میں فائرنگ کر کے 2 فلسطینی بچوں کو موت کی وادی میں دھکیل دیا۔ اسی روز راکٹ حملے میں ایک فلسطینی ڈاکٹر اور ایک سیاسی کارکن زخمی ہو گئے۔ یاسر عرفات کی برسی پر فلسطینی صدر محمود عباس نے ان کے مزار پر کمپلیکس کا سنگ بنیاد رکھتے ہوئے کہا تھا ’’ہم اس دن کا شدت سے انتظار کر رہے ہیں جب بیت المقدس فلسطین کا دارالحکومت بنے گا اور یاسر عرفات کی وصیت کے مطابق انہیں بیت المقدس میں سپرد خاک کیا جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ یہ مزار عارضی بنیادوں پر تعمیر کیا جائے گا۔‘‘

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 29 2016

دنیا بھر میں جہاں ہر سال عورتوں کے حوالے سے عالمی یوم خواتین منایا جاتا ہے وہاں اسی دنیا میں بچوں کی مزدوری کیخلاف عالمی دن بھی منایا جاتا ہے مگر اس کا کیا کیجئے کہ مسلم دنیا میں بالخصوص انہی دونوں ’’ہستیوں‘‘ کو ظلم و ستم کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں اس وقت 35 لاکھ بچے جبری مشقت یا بچہ مزدوری کا نشانہ یا شکار ہو رہے ہیں۔ پاکستان میں 5 سے 14 سال کے 83 فیصد بچے اور نابالغ بچہ مزدوری (چائلڈ لیبر فورس) کا حصہ ہیں اور یہ تلخ حقیقت ہے کہ بچہ مزدوری میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے۔ بچوں کی یہ جبری مشقت صرف پاکستان تک ہی محدود نہیں بلکہ پوری دنیا میں یہ لعنت پھیل رہی ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 16 2016
مزاحمت کسی نہ کسی سطح پر ضروری ہے، وہ مزاحمت عمل سے بھی ہو سکتی ہے اور وہ مزاحمت محض خیال یا عقیدے سے بھی ہو سکتی ہے۔ یہ آدمی کے عزم و حوصلہ پر منحصر ہے، اگر ظلم کوئی شخص بہت آسانی سے اور بہت خاموشی سے، آسانی نہ کہتے بلکہ خاموشی سے سہہ لیتا ہے تو وہ خود بھی ظالم ہے، وہ ظلم کا حصّہ بن جاتا ہے، لوگ ظلم کر رہے ہیں اور بعض ظلم سہہ رہے ہیں تو جو ظلم سہہ رہے ہیں وہ بھی ایک مرحلے پر اتنے ہی قابل مذمت ہو سکتے ہیں جتنے ظلم کرنے والے…اس لئے ظلم اگر آپ سہہ رہے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ آپ ظلم کو پنپنے کا موقع دے رہے ہیں۔ میں نے کسی موقع پر کہا تھا:
بہت کچھ دوستو بسمل کے چپ رہنے سے ہوتا ہے
فقط اک خنجر دست جفا سے کچھ نہیں ہوتا
مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 09 2016

فرانس کے صدر فرانسیوز ہالیندلے نے اپنے ایک خطاب میں کہا ہے کہ اگر یورپ میں جلد ہی بڑی تبدیلی نہ آئی تو مؤرخ کو دنیا کی تاریخ یورپ کے بغیر ہی لکھنی پڑے گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر یورپ متحد رہتا ہے  تب ہی وہ طاقتور رہے گا۔ اگر فرانس اور جرمنی اکھڑے اکھڑے اور الگ الگ رہے تو یورپ بھی کمزور رہے گا۔ دنیا یورپ کا انتظار نہیں کرے گی۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 01 2016

 گزشتہ دنوں اٹلی کے دارالحکومت روم میں اقوام متحدہ کی عالمی خوراک کانفرنس نے ’’اعلان خوراک‘‘ کرتے ہوئے بتایا ہے کہ 2020 تک دنیا بھر میں بھوکوں کی تعداد میں پچاس فیصد تک کمی کر دی جائے گی۔ دنیا کے ایک ارب افراد کو بھوک سے بچانے کیلئے موثر پروگرام ترتیب دیا جائے گا، خوراک کی پیداوار میں اضافے کیلئے خصوصی مہم چلائی جائے گی اور دنیا بھر میں کسانوں کو اناج کی کاشت کیلئے ترغیبات دی جائیں گی۔ اس موقع پر ممبر ملکوں اور عالمی اداروں کی جانب سے عالمی خوراک پروگرام کو کامیاب بنانے کیلئے ساڑھے چھ ارب ڈالر کے فنڈز کی فراہمی کے وعدے کئے گئے۔ اسلامی ترقیاتی بینک نے اپنے بیت المال سے ڈیڑھ ارب، ورلڈ بینک نے اپنے خزانے سے ایک ارب بیس کروڑ اور افریقی ترقیاتی بینک نے اپنے جھولے سے ایک ارب ڈالر فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ امریکی وزیرخوراک اور ای یو کے سیکریٹری نے اس موقع پر کہا ہے کہ امریکہ دنیا سے بھوک کے خاتمے کیلئے اپنا ’’کردار‘‘ ادا کرنے کو تیار ہے۔

مزید پڑھیں

Threat is from inside

Army Chief General Raheel Sharif assured the nation that country’s borders are secure and the army is aware of threats and intrigues of the enemies. Speaking at an even

Read more