نگر نگر


  وقت اشاعت: 14 مئی 2017

گزشتہ دو سالوں کے دوران یورپ سمیت جرمنی میں لاکھوں مہاجرین آباد ہوئے ہیں۔ ان مہاجرین کی آمد نے یورپ  کے  ممالک پر گہرے سیاسی ، معاشی، مذہبی اور سماجی اثرات مرتب کئے ہیں۔ بہت سے ممالک کے مابین سیاسی کشیدگی بھی پیدا ہوئی اور آپس کے تعلقات بھی متاثر ہوئے ہیں۔ بات اگر یہیں تک رہتی تو شاید مقامی لوگ زیادہ محسوس نہ کرتے۔ لیکن بد قسمتی سے یورپین ممالک کو مہاجرین کی آمد کو قبول کرنے کا نتیجہ دہشت گردی اور جنسی جرائم کی شکل میں بھگتنا پڑا ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 28 اپریل 2017

جرمنی کی چانسلرانجیلا میرکل ایک خاتون ہیں جو گزشتہ دس سال سے کامیابی سے جرمنی پر حکمرانی کر رہی ہیں۔ ان کا موجودہ دور اس سال ستمبر میں ختم ہو رہا ہے۔ تاہم اس مدت میں شام کے پناہ گزین قبول کرنے کے سوال پر انہیں شدید مخالفت کا سامنا رہا۔  شام سمیت دیگر ممالک کے تارکین وطن بارے  فراخ دلانہ پالیسی نے جرمنی کے اندر کی سیاست اور ماحول کو نہ صرف یکسر بدل ڈالا ہے بلکہ کڑی آزمائش سے بھی دوچار کردیا ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 26 اپریل 2017

گزشتہ دنوں سپریم کورٹ میں ایک کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس پاکستان نے عمران خان کو ، جو کہ عدالت ہی میں موجود تھے مخاطب کرتے ہوئے بہت سی نصیحتیں کیں۔ فاضل چیف جسٹس کی باتیں وہ سننے اور پڑھنے کے لائق ہیں۔ شاید عمل کرنے کے نہیں کیونکہ اگر ملک میں عمل کرنے کا رواج  ہوتا تو آج نوبت یہاں تک نہ پہنچتی ۔

مزید پڑھیں

loading...

  وقت اشاعت: 20 اپریل 2017

خیبر پختونخواہ کے شہر مردان کی عبدالولی خان یونیورسٹی میں تضحیک مذہب کے الزام میں مشتعل طلبا کے ہاتھوں قتل ہونے والے مشعل خان کے قتل نے ایک بار پاکستان کو دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ کی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔ اس واقعہ کو رونما ہوئے کافی دن ہو چکے ہیں اس دوران صوبائی حکومت کی طرف سے جو تفصیلات منظر عام پر آئیں ہیں ان کو پڑھ کر ا یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ ہر طرف جاہلیت ، جنونیت ، بربریت بڑھتی اور پھیلتی جا رہی ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 10 اپریل 2017

کسی زمانے میں ایک بادشاہ تھا جس نے جنگلی کتے پال رکھے تھے۔ اس کے وزیروں میں جب بھی کوئی وزیر غلطی کرتا تو بادشاہ اسے کتوں کے آگے پھنکوا دیتا اور پھر کتے دیکھتے ہی دیکھتے اس کی بوٹیاں نوچ نوچ کر اسے ماردیتے۔ ایک بار بادشاہ کے ایک خاص وزیر نے بادشاہ کو غلط مشورہ  دیا جو بادشاہ کو بالکل پسند نہیں آیا۔ اس نے فیصلہ سنا دیا کہ وزیر کو کتوں کے آگے پھینک دیا جائے۔ وزیر نے بادشاہ سے التجا کی کہ حضور میں نے دس سال تک آپ کی خدمت میں دن رات ایک کر دیئے ہیں اور اب محض ایک غلطی پر مجھے اس قدر سخت سزا دے رہے ہیں۔ آپ کا حکم سر آنکھوں پر لیکن میری بے لوث خدمت کے عوض مجھے آپ صرف دس دنوں کی مہلت دے دیں پھر بلاشبہ مجھے کتوں کے آگے ڈال دیں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 06 اپریل 2017

مصطفی کمال کی زندگی کسی منجدھار سے کم نہ تھی ۔ ان کی والدہ کی آرزو تھی کہ وہ مدرسے کی تعلیم حاصل کریں چنانچہ دھوم دھام سے ان کی رسمِ مکتب منائی گئی اور انہیں مدرسے میں داخل کر دیا گیا۔ مگر چند دن ہی مدرسے کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد وہ اپنے والد کی حمایت سے ایک جدید طرز کے اسکول میں تعلیم حاصل کرنے لگے۔ بدقسمتی سے 7 سال کی عمر میں والد کے انتقال کے بعد انہیں اپنے ماموں کے پاس رہنا پڑا اور یوں دو سال تک ان کی تعلیم التوا  کا شکاررہی پھر ان کی ایک چچی نے انہیں اپنے زیرِ عاطفت میں لے لیا اور وہ سلونکیی کے ایک اسکول میں جانے لگے اور ساتھ ساتھ چچا کی مویشیوں کو بھی چرانے لگے۔ یہاں بھی ان کی بدقسمتی آڑے آئی ایک ماسٹر نے ان کی بے تحاشہ پٹائی کی اور وہ اپنی پیٹھ پر لگے خون آلود نشانات دیکھ کر ایک بار پھر اسکول سے بھاگ کھڑے ہوئے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 01 اپریل 2017

پانامہ کینال کا نام تو مفتی محمد تقی عثمانی کے شہرہ آفاق سفرنامے جہانِ دیدہ میں بہت پہلے سنا تھا۔ مفتی صاحب نے خوبصورت انداز میں پانامہ کا جغرافیہ اور یہاں واقع عالمی شہرت کی حامل کینال کی تفصیلات بیان کی ہیں۔ پانامہ کو یہاں اگر مختصر الفاظ میں سمجھا جائے تو یہ ایک غریب ملک ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے ایک مصنوعی نہر سے نوازا اور آج اسی نہر سے ا س ملک کے باسی بے انتہا فائدہ اٹھارہے ہیں۔ روزانہ کئی بڑے بڑے جہاز سامان سے لے یہاں سے گزرتے ہیں اور وہاں کی حکومت ان سے اپنا ٹیکس وصول کرتی ہے ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 29 مارچ 2017

موجودہ حکومت کی آئینی مدت کا آخری سال شروع ہو چکا ہے اور اس کا آغاز انتہائی ڈرامائی اور سنسنی خیز خبروں اور فیصلوں سے ہوا ہے۔ گزشتہ چار سالوں میں پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرین کے صدر آصف علی زرداری معمول کی سیاست کرتے رہے ہیں۔ اس دوران بلاول بھٹو کبھی کبھی ایسے بیان دیا کرتے تھے جس کی وجہ سے مسلم لیگ (ن) کے چھوٹے چھوٹے شیر بھی دھاڑ لیا کرتے تھے۔ لیکن اچانک ہی سیاست کے سمندر میں کچھ ایسی ہلچل مچی ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ انتخابات کا زمانہ آگیا ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 27 مارچ 2017

صحافت کو اگر اس کے تمام تر اخلاقی اور صحافتی سنہری ضابطوں اور اصولوں کے ساتھ اپنایا جائے تو اس سے قوموں کی بہترین ذہنی نشو و نما کی جا سکتی ہے۔ اور یہ شعبہ ایک انتہائی فعال کردار ادا کرکے نوجوان نسل کو دورحاضر کے تقاضوں کے مطابق معلومات فراہم کرکے ایک مہذب مقام دلوا سکتا ہے۔ اگر صحافت کے مفہوم کو سمجھا جائے تو اس کا مطلب عوام کو باخبر کرنا ہے لیکن آج کل انہیں گمراہ کیا جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صحافت کو بہت زیادہ تنقید کا سامنا ہے اس کی بنیادی وجہ اس شعبے کا شتر بے مہار جیسا کردار ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 24 مارچ 2017

23 مارچ 1971 ڈھاکہ میں وہ آخری سرکاری طور پر منایا جانے والا یوم پاکستان تھا جو موجودہ بنگلہ دیش اور سابقہ مشرقی پاکستان میں منایا گیا ۔
لیکن 1971 میں اس دن صرف ڈھاکہ میں ہی یہ تقریب منعقد ہو سکی چونکہ مشرقی پاکستان تو 3 مارچ 1971 سے ہی بنگلہ دیش قرار دیا جاچکا تھا۔ یہ اور بات ہے کہ 16 دسمبر کو افواج پاکستان کے ہتھیار ڈالنے کے بعد سرکاری طور پر اس کا باقاعدہ اعلان کیا گیا۔  بنگلہ دیش کے ‘بابائے قوم‘ تو خیر کافی بعد میں پاکستانی جیل سے رہا ہوکر بنگلہ دیش پہنچے اور مسند صدارت پر براجمان ہو سکے۔

مزید پڑھیں

Islamic Council Norway Fails Muslims and the Society

By hiring Nikab-wearing Leyla Hasic, Islamic Council Norway has taken a clear stand in a controversial debate. Norwegian Muslims neither are represented nor served with t

Read more

loading...