نگر نگر


  وقت اشاعت: 1 دن پہلے 

دنیا بہت تیزی سے بدل رہی ہے۔ دنیا کے سیاسی اکھاڑے میں  سرعت سے دوست دشمن تبدیل ہوکر نئے گٹھ جوڑ تیار ہو رہے ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ ہرارے میں غیر جانب دار ملکوں کی کانفرنس میں ہندوستان دنیا کے کمزور ملکوں کی زبان ہوا کرتا تھا۔ مگرآج وہی ہندوستان امریکہ کی گود میں کھیل رہا ہے۔ اور پاکستان جو امریکہ کا سچا پکا حواری تھا۔ کسی نئے اتحاد کی تلاش میں سرگرداں ہے۔ دنیا کو ہو کیا گیا ہے۔ یا دوسرے لفظوں میں یہ سوال کرنا زیادہ درست ہے کہ دنیا کے باسیوں کو خوف کیا ہے۔ کیوں نہرو اور اندرا کی کانگریس کو ووٹ دینے والے ایک اقلیتی چھوٹی سی سیاسی پارٹی کے ہاتھ مضبوط کر رہے ہیں۔ کہ سکیولر ہندوستان آج مذہبی انتہا پسندی کو سیاسی راستہ اور ترقی کا زینہ سمجھ کر آگے بڑھ رہا ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 6 دن پہلے 

2013 میں ملالہ یوسف زئی کو یورپین پارلیمنٹ کا اعلیٰ ترین ایوارڈ سخارف پرائز دینے والے اسپیکر یورپی پارلیمان مارٹن شلس اگلے اتوار24 ستمبر انجیلا میرکل کے مدمقابل جرمنی کی چانسلرشپ کے امیدوار ہیں۔ اس بار نہ صرف جرمنی بلکہ یورپ کے سیاسی ماہرین و تجزیہ نگاربھی ایک دلچسپ اور سخت مقابلے کی توقع کر رہے ہیں ۔ مارٹن شلس یورپ کی سیاست کے ایک انتہائی متحرک اور فعال سیاست دان ہیں۔ گیارہ برس تک وہ اپنے شہر کے مئیر بھی رہے ہیں اور کم عمر مئیر کا اعزاز بھی ان کے پاس ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 7 دن پہلے 

تب ہماری زبان توتلی تھی اور درست طریقے سے مولوی بول ہی نہ سکتا تھا۔ اور اس کے بجائے مولی صاحب ہی بولتا تھا۔ اس وقت ہمیں یہ سمجھ نہیں آتی تھی کہ مولی میم پر پیش کے ساتھ اور مولی میم پر زبر کے ساتھ میں کیا فرق ہے۔ البتہ کھانے کے اور پڑھانے کے اور  کے مابین فرق کا  ضرور علم تھا۔  بچپن میں جب مولی صاحب سے پڑھتا تھا تو امی نے کئی بار ڈانٹا۔  بیٹا مولی صاحب نہیں مولوی صاحب درست ہے۔ البتہ تب مولوی صاحب درست  بھی ہوا کرتے تھے۔ اب نہیں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 07 ستمبر 2017

تب قربانی کا مطلب سنت ابراہیمی کا ادا کرنا ہوتا تھا اور اسے اس کے شایان شان ادا کیا جاتا تھا، اسے حکم الہی کا بجا لانا جان کر۔ شکر گذاری کے ساتھ۔ یہ نہیں تھا کہ محلے میں سب سے صحت مند اور قیمتی جانور روز قربانی تک ہمارے گیٹ کے سامنے بندھا ہو۔ اور قربانی کے روز اور کئی دن تک خون  اور چھیچھڑے محلے کے سب سے بڑے جانور کے ذبح ہونے کی کہانی تو سنارہے ہوں۔  اور گوشت ہنٹر بیف کی تیاری کے مرکز کو بھجوا دیا گیا ہو۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 15 اگست 2017

پاکستان کی 70 ویں سالگرہ پر عالم یہ ہے کہ منتخب وزیر اعظم کی معزولی پر قوم کے جذبات ملے جلے ہیں۔  جن کی پہنچ فیس بک تک ہے ان کی آواز سنو تو لگتا ہے کہ یہ ایک مستحسن اقدام ہے مگر ایسے میں سڑک پر نکلے ان چاردنوں سے ہم رکاب ہجوم کو نظر انداز کرنا بھی درست نہیں۔ کیا ایک شخص پر فرد جرم عائد کر دینے سے احتساب کا عمل مکمل ہوگیا۔ کیا ستر سالہ تاریخی گناہوں کا کفارہ فرد واحد کی معزولی سے ادا ہو جائے گا۔ نہیں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 10 اگست 2017

کراچی کی چوڑی چکلی سڑکیں۔ شہری موٹر وے کی موجودگی میں ٹریفک کے اژدہام کو دیکھ کر آسانی سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے اس عفریت کے جنم لینے میں کہیں نہ کہیں جینیاتی خرابی ۔۔۔۔ اس طرح سے وقوع پذیر ہوچکی ہے کہ اس کا سدھرنا مشکل ہی نہیں نا ممکن ہے۔۔۔۔۔۔ 

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 04 اگست 2017

پاکستان 1947میں معرض وجود میں آیا۔ پہلا متفقہ آئین 1973میں بنا یعنی کہ آزادی کے  26 سال بعد قوم کو باقاعدہ آئین دیا گیا دوسری طرف بھارت میں آئین جنوری 1949ہی میں تیار کر لیا گیا تھا اور برطانیہ کی بالا دستی کا طوق اتار پھینکا گیا تھا۔ جب کہ پاکستان میں ایسا نہ ہو سکا۔ اس کے پس پردہ سازشوں کی عجیب و غریب داستانیں موجود ہیں۔ وہ سب کہانیاں اتنی ہی پراسرار بھی ہیں جتنی کہ شرمناک۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 02 اگست 2017

3اپریل2016 کو جب پہلی بار پاناما کی لاء فرم موزیک فونیسیکا کی دستاویزات کی پہلی قسط جاری کی گئی تو اس وقت کسی کے وہم و گمان میں بھی یہ بات نہ تھی کہ ایک سال اور تین ماہ بعد یہ پیپرز پاکستان کی سیاست کا نقشہ ہی بدل ڈالیں گے۔ اور تیسری بار پاکستان کے وزیراعظم بننے کا منفرد اعزاز رکھنے والے وزیراعظم ذلت و رسوائی  سمیٹتے ہوئے سپریم کورٹ کی طرف سے متفقہ طور پر تاحیات نااہل قرار ہو جائیں گے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 11 جولائی 2017

لندن کی زمین دوز ٹرینوں پر ایک کالم نہ لکھنا ان روحوں کی سخت حق تلفی ہوگی جو عرصے سے ان تنگ و تاریک سرنگوں میں بسی ہیں جہاں لوگ باگ ہر روز صبح و شام دفتر و اسکول آتے جاتے کئی کئی سو میٹر گہرائی میں اتر کر ان کے ساتھ چھیڑ خوانی کر تے ہیں۔ ان روحوں میں یقینا کنگ ایڈورڈ پنچم اور کوئن میری کی  روحیں بھی ہوں گی۔ جن کے لگائے ہوئے درخت سے کل ہائیڈ پارک میں ملاقات بھی ہوئی۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 09 جولائی 2017

معروف دانشوروں نے سیاسی حکومت کے بارے بہت خوبصورت باتیں کہہ رکھی ہیں۔ آج بھی جدید ترین اور بڑی جمہوری طاقتوں میں ان کی روشن مثالیں موجود ہیں۔  اس تناظر میں جب ہم اپنی جمہوریت اور جمہوری اداروں پر نظر ڈالتے ہیں تو سر شرم سے جھک  جاتے ہیں اور لگتا  ہے کہ ہمیں قواعد و ضوابط اور اصولوں سے چڑ ہے اور ہم مادرپدر آزاد سوسائٹی چاہتے ہیں۔  جہاں طاقتور کمزور کو ہڑپ کرتا رہے، جہاں غریب اور عام لوگ سیاسی جلسوں میں کرسیاں اور قالین اٹھاتا رہے اور  سیاسی جوکروں کی جیت پر ڈھول کی ٹھاپ پر ناچتے رہیں۔

مزید پڑھیں

Praise and prayers for the great people of Turkey

One year ago, this day, the people of Turkey set an example by defending their elected government and President Recep Tayyip Erdogan against military rebels.

Read more

loading...