نگر نگر


  وقت اشاعت: 11 جولائی 2017

لندن کی زمین دوز ٹرینوں پر ایک کالم نہ لکھنا ان روحوں کی سخت حق تلفی ہوگی جو عرصے سے ان تنگ و تاریک سرنگوں میں بسی ہیں جہاں لوگ باگ ہر روز صبح و شام دفتر و اسکول آتے جاتے کئی کئی سو میٹر گہرائی میں اتر کر ان کے ساتھ چھیڑ خوانی کر تے ہیں۔ ان روحوں میں یقینا کنگ ایڈورڈ پنچم اور کوئن میری کی  روحیں بھی ہوں گی۔ جن کے لگائے ہوئے درخت سے کل ہائیڈ پارک میں ملاقات بھی ہوئی۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 09 جولائی 2017

معروف دانشوروں نے سیاسی حکومت کے بارے بہت خوبصورت باتیں کہہ رکھی ہیں۔ آج بھی جدید ترین اور بڑی جمہوری طاقتوں میں ان کی روشن مثالیں موجود ہیں۔  اس تناظر میں جب ہم اپنی جمہوریت اور جمہوری اداروں پر نظر ڈالتے ہیں تو سر شرم سے جھک  جاتے ہیں اور لگتا  ہے کہ ہمیں قواعد و ضوابط اور اصولوں سے چڑ ہے اور ہم مادرپدر آزاد سوسائٹی چاہتے ہیں۔  جہاں طاقتور کمزور کو ہڑپ کرتا رہے، جہاں غریب اور عام لوگ سیاسی جلسوں میں کرسیاں اور قالین اٹھاتا رہے اور  سیاسی جوکروں کی جیت پر ڈھول کی ٹھاپ پر ناچتے رہیں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 02 جولائی 2017

دسویں جماعت  میں انگریزی کا ایک سبق تھا۔ جسے میری بہن رٹ رٹ کر یاد کر رہی تھی۔ اور اس کا جملہ بار بار دہرا کر، جانے کس قسم کے امتحان کی تیاری کر رہی تھی۔ جسٹ دین علی کیم ان ۔۔۔۔just than Ali   came in ۔ ہمارے گھر میں دو گروپ تھے۔ ایک رٹا لگانے والا گروپ۔ جس کا امتحان کی تیاری کا فارمولا تھا کہ رٹا فیکیشن اس دی بسٹ پر یریپرشن آف دی اگزا مینیشن۔ جبکہ دوسرا گروپ اس کے بالکل برعکس سمجھ کر پڑھنے اور پوانٹ نوٹ کرنے کو امتحان کی تیاری کے لیے کافی جانتا تھا۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 01 جولائی 2017

ہندوستان میں حالیہ ہونے والے یکے بعد دیگرے کئی مشترکہ بلادکار،  انتہائی شرمناک  ہو نے کے ساتھ ساتھ ہندوستان جیسی جمہوریت کے منہ پر طمانچہ بھی ہے۔ لیکن غور سے دیکھنے پر معلوم ہوتا ہے کہ ہندوستانی معاشرے کی جو تصویر ہندوستانی فلمیں پیش کر رہی ہیں، وہ اس بدفعلی اور جرم کی واردات سے مختلف نہیں۔ آئیے پہلے ہندوستانی فلمیں اور ان میں پیش کی جانے والی معاشرتی تصویر کا تجزیہ کرتے ہیں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 31 مئی 2017

کسی زمانے میں ہماری خالہ زاد بہن کے شوہر نامدار جرمنی تشریف لائے تھے۔ بات بہت پرانی ہے اس لیے کسی زمانے میں ہی کہنا درست ہے۔ تو جناب اس دور میں جب کہ موبائل فون تو دور کی بات ہے، خدا جھوٹ نہ بلوائے تو ہم نے فون بھی نہ دیکھا تھا۔ ہاں اس زمانے میں ڈھاکہ میں نیا نیا ٹی وی اسٹیشن ضرور کھلا تھا اور یہ بہت بڑی جدت و ترقی کا علامت سمجھا جاتا تھا۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 14 مئی 2017

گزشتہ دو سالوں کے دوران یورپ سمیت جرمنی میں لاکھوں مہاجرین آباد ہوئے ہیں۔ ان مہاجرین کی آمد نے یورپ  کے  ممالک پر گہرے سیاسی ، معاشی، مذہبی اور سماجی اثرات مرتب کئے ہیں۔ بہت سے ممالک کے مابین سیاسی کشیدگی بھی پیدا ہوئی اور آپس کے تعلقات بھی متاثر ہوئے ہیں۔ بات اگر یہیں تک رہتی تو شاید مقامی لوگ زیادہ محسوس نہ کرتے۔ لیکن بد قسمتی سے یورپین ممالک کو مہاجرین کی آمد کو قبول کرنے کا نتیجہ دہشت گردی اور جنسی جرائم کی شکل میں بھگتنا پڑا ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 28 اپریل 2017

جرمنی کی چانسلرانجیلا میرکل ایک خاتون ہیں جو گزشتہ دس سال سے کامیابی سے جرمنی پر حکمرانی کر رہی ہیں۔ ان کا موجودہ دور اس سال ستمبر میں ختم ہو رہا ہے۔ تاہم اس مدت میں شام کے پناہ گزین قبول کرنے کے سوال پر انہیں شدید مخالفت کا سامنا رہا۔  شام سمیت دیگر ممالک کے تارکین وطن بارے  فراخ دلانہ پالیسی نے جرمنی کے اندر کی سیاست اور ماحول کو نہ صرف یکسر بدل ڈالا ہے بلکہ کڑی آزمائش سے بھی دوچار کردیا ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 26 اپریل 2017

گزشتہ دنوں سپریم کورٹ میں ایک کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس پاکستان نے عمران خان کو ، جو کہ عدالت ہی میں موجود تھے مخاطب کرتے ہوئے بہت سی نصیحتیں کیں۔ فاضل چیف جسٹس کی باتیں وہ سننے اور پڑھنے کے لائق ہیں۔ شاید عمل کرنے کے نہیں کیونکہ اگر ملک میں عمل کرنے کا رواج  ہوتا تو آج نوبت یہاں تک نہ پہنچتی ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 20 اپریل 2017

خیبر پختونخواہ کے شہر مردان کی عبدالولی خان یونیورسٹی میں تضحیک مذہب کے الزام میں مشتعل طلبا کے ہاتھوں قتل ہونے والے مشعل خان کے قتل نے ایک بار پاکستان کو دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ کی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔ اس واقعہ کو رونما ہوئے کافی دن ہو چکے ہیں اس دوران صوبائی حکومت کی طرف سے جو تفصیلات منظر عام پر آئیں ہیں ان کو پڑھ کر ا یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ ہر طرف جاہلیت ، جنونیت ، بربریت بڑھتی اور پھیلتی جا رہی ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 10 اپریل 2017

کسی زمانے میں ایک بادشاہ تھا جس نے جنگلی کتے پال رکھے تھے۔ اس کے وزیروں میں جب بھی کوئی وزیر غلطی کرتا تو بادشاہ اسے کتوں کے آگے پھنکوا دیتا اور پھر کتے دیکھتے ہی دیکھتے اس کی بوٹیاں نوچ نوچ کر اسے ماردیتے۔ ایک بار بادشاہ کے ایک خاص وزیر نے بادشاہ کو غلط مشورہ  دیا جو بادشاہ کو بالکل پسند نہیں آیا۔ اس نے فیصلہ سنا دیا کہ وزیر کو کتوں کے آگے پھینک دیا جائے۔ وزیر نے بادشاہ سے التجا کی کہ حضور میں نے دس سال تک آپ کی خدمت میں دن رات ایک کر دیئے ہیں اور اب محض ایک غلطی پر مجھے اس قدر سخت سزا دے رہے ہیں۔ آپ کا حکم سر آنکھوں پر لیکن میری بے لوث خدمت کے عوض مجھے آپ صرف دس دنوں کی مہلت دے دیں پھر بلاشبہ مجھے کتوں کے آگے ڈال دیں۔

مزید پڑھیں

Praise and prayers for the great people of Turkey

One year ago, this day, the people of Turkey set an example by defending their elected government and President Recep Tayyip Erdogan against military rebels.

Read more

loading...