نگر نگر


  وقت اشاعت: 2 دن پہلے 

عجیب معاملہ ہے صاحب۔
ایک وزیر اعظم ہے۔ ملک کے سیاہ و سپید کا ما لک۔ دعویٰ اس کو یہ ہے کہ منتخب ہے۔ عوام نے ووٹ دیئے ہیں ۔ ووٹ دینے والوں پر احترام اس کا قانوناٌ فرض ہے۔
یقیناٌ ہوگا ۔ ایسا ہی ہوگا۔ کس کی مجال  کہ انکار کرے۔
یہ الگ بات کے ووٹ دینے والوں کی اکثریت شاید یہ نہیں جانتی کہ ووٹ ہوتا کیا ہے۔ جو وڈیرے نے کہہ دیا ، وہی ووٹ ہے۔ اب کس کی مجال کہ سرتابی کرے اور چھتر کھائے۔ اگر ایسے کسی کمی کمین کے سر میں ریزہ بھر دماغ بھی ہو تو وہ  چھتر کی بجائےالیکشن کے دن یک طرفہ سواری کا مزہ لینے ، قیمہ نان اور بوڑھی بھینس کا قورمہ کھانے کو ہی ترجیح دے گا۔ 

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 5 دن پہلے 

سپریم کورٹ آف پاکستان نے اسلام آباد کے ایک ایڈیشنل سیشن جج کے ہاں ملازمت کے دوران تشدد اورظلم کا نشانہ بننے والی بچی کو پاکستان سویٹ ہومز کے حوالے کرنے کا حکم دیا ہے تاکہ بچی چند روز خوشگوار ماحول میں رہ کر بیان دینے کے قابل ہو سکے۔ عدالت عظمیٰ از خود نوٹس کے ذریعے اس معاملہ کی سماعت کررہی ہے۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے اسلام آباد کے ڈی آئی جی کاشف اسلم کو کسی قسم کا اثر قبول کئے بغیر اس معاملہ کی مکمل تحقیقات کرنے اور اگلی سماعت پر تفصیلی رپورٹ عدالت کے سامنے پیش کرنے حکم بھی دیا ہے۔ سماعت کے دوران طیبہ کے والد نے عدالت کو بتایا کہ اس نے جس اسٹام پر انگوٹھا ثبت کیا تھا، اسے اس کے مندرجات کے بارے میں کوئی علم نہیں تھا۔ اس سے کہا گیا تھا اگر اس نے انگوٹھا نہ لگایا تو اسے بچی نہیں ملے گی۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 5 دن پہلے 

نرس دوڑتی ہوئی آئی ۔۔۔ ند یم ندیم وہ چوتنتیس نمبر کمرے والا مریض بہت غصے میں ہے اور سب کو گالیاں دے رہا ہے۔ مجھے ڈر ہے کہ وہ کہیں نرسوں پہ حملہ ہی نہ کر دے۔ پلیز ذرا آنا۔ میں  نے کہا کہ وہ کسی کو نہیں مار سکتا  وہ بے چارہ تو چل پھر نہیں سکتا کسی کو کیا مارے گا۔  لیکن میں پھر بھی آتا ہوں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 5 دن پہلے 

یہ کوئی چنگیز خان کے حملے کے بعد کا منظر نامہ نہیں ہے ۔ یہ اکسویں صدی میں ایک مہذب جمہوری ملک کی سیاسی تاریخ ہے:
گلی گلی بوری بند لاشیں ، سرِ راہ ٹارگٹ کلنگ ، اغوا برائے تاوان ، سیاسی کارکنوں ، صحافیوں اور اہلِ قلم کا اچانک غائب ہوجانا اور پھر اچانک کسی دن مسخ شدہ لاش کا برآمد ہونا،  ایک ایسے ملک کا روز مرہ ہے جہاں پارلیمانی جمہوریت ہے۔ جہاں سیاسی جماعتیں  اسمبلیوں میں مچھلی مارکیٹوں کا سا سماں پیش کرتی ہیں  اور ایک دوسری کے خلاف دشمنوں کی طرح محاذ آرائی کرتی ہیں۔ جہاں دہشت گردی کو مذہبی جہاد کے نام پر کھلی چھٹی ہے ۔ اُف ، یہ سارا بیان کتنا تکلیف دہ ہے ۔ ان خُوں آشام واقعات و حالات کو سپردِ قلم کرتے ہوئے مجھے شرم آ رہی ہے کہ کیا مہذب جمہوری ریاستیں ایسی ہوتی ہیں ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 7 دن پہلے 

میں 35 سال سے مختلف اخبارات کے کالم پڑھ رہا ہوں اور کبھی کبھار کوئی کتاب ہاتھ لگ جائے تو وہ بھی پڑھ لیتا ہوں۔ اس کے علاوہ پاکستانی ڈرامے دیکھنے کا شوق ہوتا تھا اور کبھی کبھار کوئی فلم بھی دیکھ لیتے تھے۔  البتہ زمانہ طالب علمی میں نصاب کی کتابوں سے کافی پرہیز کرتا رہا ہوں تبھی تو آج یہ حال ہے کہ دل کی بات کہنا آتی ہے نہ لکھنا۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 10 جنوری 2017

اہلِ فکر و دانش کو مُژدہ ہو کہ اب سرکاری اعداد و شمار اور  اہلِ اقتدار کی مہیا کی ہوئی اطلاعات پر تنقید و  تردید کا باب بند ہونے والا ہے ۔ قلم اور زبانیں خریدے جانے کی افواہیں پھیلی ہوئی ہیں  اور حال ہی میں اسلام آباد میں ہونے والی اہلِ قلم کی " ضربِ قلم "  کانفرنس میں کچھ ایسے بوسیدہ اور کُہنہ بزرگ بھی دکھائی دیے جو عمر بھر حکمران گھرانوں کے دستر خوانوں کی ریزہ چینی کرتے رہے ہیں ، اور لفافوں کے عوض انسانیت کے دکھوں پر آنسو بہاتے رہے ہیں۔ مگر اپنے کشکول صورت چہرے دراز کیے  کانفرنس میں موجود تھے ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 06 جنوری 2017

بھارت میں جب سپریم کورٹ سیاست میں مذہب یا نسل و ذات برادری کی مداخلت کی روک تھام کے لئے حکم جاری کررہی تھی تو پاکستان میں ایک شخص کے خلاف محض اس لئے توہین مذہب کے الزام میں مقدمہ درج کیا جارہا تھا کہ اس نے ملک میں نافذ توہین مذہب کے قوانین کے غلط استعمال کے خلاف آواز اٹھائی ہے ۔ اس نے ان لوگوں سے اظہار ہمدردی بھی کیا ہے جو ان قوانین سے متاثر ہیں اور عدالتوں سے انصاف کے منتظر ہیں۔ پاکستانی عدالتیں توہین مذہب کے حساس معاملہ پر انصاف فراہم کرنے سے گھبراتی ہیں ، اس لئے ان معاملات پر فیصلہ صادر کرنے کی بجائے انہیں مؤخر کیا جاتا ہے ۔ غلط الزام اور جھوٹی گواہیوں کی بنیاد پر گرفتار لوگ برس ہا برس تک جیلوں میں سڑتے رہتے ہیں۔ لیکن اس صورت حال کے خلاف آواز اٹھانا منع ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 04 جنوری 2017

میں آج طویل مدت کے بعد  لکھنے لگا ہوں۔ میری یہ غیرحاضری بلاوجہ نہ تھی۔ بلکہ میں کالم لکھنے سے بھی ضروری کام میں مصروف رہا ہوں۔ عام طور پر لکھنے والے حضرات نہ تو کسی عملی کام میں حصہ لیتے ہیں اور نہ ہی اپنے اہل و عیال کو زیادہ وقت دیتے ہیں۔ لیکن میرا معاملہ ذرا مختلف ہے اور میں اپنے گھر والوں  خصوصی طور پر اپنی والدہ صاحبہ کو وقت دیتا ہوں۔ گھر کے کام کاج کرتا ہوں اور ساتھ ساتھ سماجی معاملات میں بھی حصہ لیتا ہوں۔ جہاں کسی کو ضرورت ہو اس کی مدد کی بھی پوری کوشش کرتا ہوں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 02 جنوری 2017

‘ووٹ میں طاقت ہے اوراتفاق میں برکت ہے‘۔ یہ راقم کے الفاظ نہیں بلکہ ایک ابھرتے ہوئے نارویجن پاکستانی سیاستدان کے ہیں کہ جو اوسلوکی سٹی پارلیمنٹ کے رکن ہیں اوراوسلوکے علاقے گرورود کی ضلع کونسل کے چیئرمین بھی۔ ڈاکٹرمبشربنارس نے ان خیالات کا اظہاربرطانیہ سے ناروے آئے ہوئے مہمان چوہدری احسان الحق کے اعزاز میں اپنی طرف سے دیئے گئے عشائیہ کے موقع پر کیا۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 31 2016

مجھے کے آئی اے کی طرف سے ایک خط موصول ہوا ہے جس میں  لکھا ہے کہ بہت سے عیسائی خاندان مشرقِ وسطیٰ سے اس لیے ہجرت کر رہے ہیں کہ وہاں اُن کا جینا دوبھر کر دیا گیا ہے ۔ ایک تصویر میں ایک جلا ہوا گرجا گھر دکھایا گیا ہے ۔ ان مہاجرین میں سے کچھ ناروے بھی آئے ہیں جن کی آباد کاری کا  کام جاری ہے ۔  کے آئی اے ایک تنظیم کا نام ہے جس کا نارویجن نام کچھ یوں ہے :
Krsiten Interkulturelt Arbeid

مزید پڑھیں

Threat is from inside

Army Chief General Raheel Sharif assured the nation that country’s borders are secure and the army is aware of threats and intrigues of the enemies. Speaking at an even

Read more