نگر نگر


  وقت اشاعت: 2 دن پہلے 

دسمبر کا مہینہ ویسے تو دنیا کے بیشتر حصے پر اندھیروں کے مہینے کے طور پر مشہور ہے۔ لیکن پاکستانیوں کے لیے دسمبر کا مہینہ انتہائی بھیانک خواب کی مانند  ہے۔ دسمبر نے ہم سے بہت کچھ چھینا ہے اور ہمیں ایسے گہرے زخم دیئے ہیں جو شاید کبھی بھر نہیں سکیں گے۔ جب بھی دسمبر آتا ہے ہمارے زخم پھر سے تازہ ہو جاتے ہیں۔ ویسے تو دسمبر کا  پورا مہینہ ہی ہمارے لیے بھاری ہے۔ ابھی پہلی دسمبر کو جشن میلادالنبی کے دن بھی پشاور میں دہشتگردی میں 12 افراد جاں بحق ہوئے ہیں لیکن میں آج اس اپنی تاریخ کے2 بدترین سانحات  کے حوالے سے بات کرنا چاہتا ہوں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 3 دن پہلے 

ہٹلر کا سٹار وزیر گوئبلز زندہ ہوتا تو پاکستانی انجینئرڈ میڈیا کے اینکروں، سیاسی مبصروں،  دفاعی تجزیہ نگاروں اور صحافیوں کے سامنے دونوں ھاتھ باندھ کر اپنی بے عقلی کا اعتراف کرتا اور شاگردی اختیار کرنے کی مودبانہ استدعا کرتا۔ مسلسل دروغ گوئی، ایک جھوٹ کے بعد دوسرا جھوٹ۔ حقائق پر کنفیوژن کی سموگ پھیلا کر عوام سے سچائی کو دور رکھنے کے لئے ہر قسم کے جائز اور ناجائز حربے آزمائے جا رہے ہیں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 4 دن پہلے 

پاکستان سمیت دنیا بھر میں انسانی حقوق کا دن منایا جا رہا ہے ۔ یہ خبر میں نے پاکستان ٹی کے چینل 92 پر دیکھی جہاں ایک خاتون رپورٹر بے چارے پاکستانیوں سے پوچھ رہی تھی کہ آج انسانی حقوق کا عالمی دن ہے ، اس سلسلے میں اپ کیا کہتے ہیں ۔ اس پر ایک نوعمر خاتون نے کہا کہ کون انسان ؟ اور پھر وہ اپنی راہ چلتی بنی اور رپورٹر بغلوں سے کیمرا جھانکنے لگیں ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 05 2017

عمران خان نے فیض آباد دھرنے کے خاتم پر شکرانے کے دو نفل ادا کئے اور پھر ملٹری ملا گٹھ جوڑ کے وکیل صفائی کا فرض ادا کرنے نکلے پڑے۔   کپتان حکومت پر چڑھ دوڑے اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت صدیقی کو بڑی ڈھٹائی سے تنقید کا نشانہ بنانا شروع کر دیا۔ کپتان کی ایمانداری کے کیا کہنے کہ سینکڑوں سیکوریٹی اہلکاروں کو شدید زخمی کرنے، اغوا کرنے اور کروڑوں روپوں کی پبلک پراپرٹی جلانے اور تباہ کرنے والوں کے خلاف منہ کھولنا مناسب نہ سمجھا۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 03 2017

اب جب کہ میری زندگی کے کُہن سال شیشم کے پتّے زرد اور شاخیں حرارتِ غریزی سے محروم ہوتی چلی جا رہی ہیں ، میں اکثر بُخار ،کھانسی اور اعصابی تشنج میں لپٹا اپنے شب و روز کا احتساب کرتا رہتا ہوں  کہ آخر وہ کون سی کرپشن تھی جو میں نے اپنی زندگی میں کی ، کون سی منی لانڈرنگ تھی جس کے ذریعے میں نے ناروے کے بنکوں میں مالی اثاثے جمع کیے جو میری آمدنی سے زیادہ ہیں ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 27 2017

میں عام طور پر سیاسی موضوعات پر کم ہی لکھتا ہوں۔ میں وطن عزیز کے سماجی مسائل کو اپنا موضوع بناتا ہوں ۔ میرے خیال میں نچلی سطح کے مسائل پر بات کرنا اور لکھنا زیادہ ضروری ہے کیونکہ پاکستان کے پسے ہوئے طبقات کا کوئی پرسان حال نہیں ہے اور ان کے مسائل سے بالائی طبقات کا کوئی سروکار نہیں ہے۔  تاہ سیاسی موضوع بھی اہم ہے کیوں کہ اس کا عوام کی صورت حال سے بھی تعلق ہوتا ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 26 2017

‘ فرشتوں ‘  کو مبارک ہو۔ جادو کی چھڑی نے کیا کمال دکھایا کہ دیکھتے ہی دیکھتے کمال ہنرمندی اورمنصوبہ بندی کے ساتھ  ایک فرقہ پرست مذہبی گروہ کو ایک موثراورطاقتورسیاسی قوت میں ڈھالنے کا  ‘مقد س مشن‘ بڑی کامیابی سے سرانجام دے دیا۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 25 2017

پاکستان ایک انتہائی نازک سیاسی ، معاشرتی اور مذہبی انارکی کی صورتحال سے دوچار ہے اور ایسا لگتا ہے کہ پاکستان کی نظریاتی اساس کو سنگین خطرات لاحق ہیں ۔ یوں بھی ما بعدِ سقوطِ ڈھاکہ کا پاکستان وہ پاکستان نہیں جسے قائدِ اعظم نے پاکستان کی سیاسی ، عسکری اور مذہبی قیادت کے سپرد کیا تھا ۔ قائدِ اعظم انتہائی کسمپرسی کی حالت میں اس دنیا سے رُخصت ہوئے اور اپنے پیچھے کسمپرسی میں مبتلا قوم کو چھوڑ گئے جو آج بھی اپنی تشکیل ، استحکام  اور بقا کی جنگ لڑ رہی ہے ۔ ہم نے دیکھا کہ مذہبی سیاست کی بنیاد پر کسی ملک کی تشکیل آسان کام نہ تھا لیکن خدا کی مہربانی اور تائیدِ غیبی سے دنیا کے نقشے پر ایک ملک ابھرا جو پچھلے ستر برس سے جلتے بجھتے بلب کی مثال بنا ہوا ہے ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 21 2017

پاکستان ایک ہفت حرفی مظہر ہے جس میں تیسرا کاف فی الوقت  کرپشن کا ہے ، جسے سر پر تان کر دو قومی نظریے کا قافلہ انتشار کا شکار ہے ، جس کی صفیں تِتّر بِتّر ہیں اور جس کو بیڈ گورننس کی اُستانی ہمیشہ یہ پٹّی پڑھاتی رہی ہے کہ جمہوریت حکمران خاندانوں کی خوش حالی ، مالداری ، زر اندوزی اور ماورائے قانون طرزِ سیاست کا نام ہے ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 21 2017

ہر سال کی طرح اس سال بھی ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں کرسمس کی تیاریاں شروع ہو چکی ہیں۔  رنگ برنگی روشنیاں لگا کر مارکیٹیں بازار اور سڑکیں سجائی جا رہی ہیں۔ مارکیٹوں میں دوکاندار، گاہکوں کو متوجہ کرنے کے لیے نت نئے طریقے ڈونڈھتے ہیں۔ اس ہفتے شہر بھر میں بڑی بڑی کمپنیوں نے" بلیک فرائڈے"  کے نام سے لوٹ سیل کے اشتہارات لگائے ہوئے ہیں۔ اور کئی کمپنیوں نے پورے ہفتے کو " بلیک فرائڈے "  قرار دے کر گاہکوں کی توجہ حاصل کی ہے۔

مزید پڑھیں

Growing dangers of Islamist radicalism on Pakistani politics

Mr Arshad Butt is an insightful observer of the political events in Pakistan. Even though the hallmark of Pakistani political developments and shabby deals defy any commo

Read more

loading...