نگر نگر


  وقت اشاعت: 5 دن پہلے 

  پاکستان میں سیاستدان ، دانشور ، علما اور میڈیا کے شعبدہ گر دن بھر انتہا پسندی کی مذمت کرتے ہیں اور اپنی امن کی خواہش کا اعادہ کرتے رہتے ہیں۔ وہ طالبان کی جارحانہ روش ، خود کش حملوں، عدم رواداری ، بے صبری اور تحمل و برداشت کی فقدان کی شکایت کرتے ہیں۔ عام لوگ بی بی سی کے ذریعے اپنے موقف کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ امن سے رہنا چاہتے ہیں۔ لگتا ہے سارا پاکستانی معاشرہ امن کا حامی ہے لیکن اس کی دسترس میں امن ہے ہی نہیں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 7 دن پہلے 

بدھ 17 مئی کو ناروے کے لوگ اپنا قومی دن منائیں گے۔ یہ دن 17 مئی 1814 کو اوسلو کے قریب واقع ایک قصبہ آئیڈسوول میں منظور کئے گئے آئین کی خوشی میں منایا جاتا ہے۔ اس وقت ناروے، سویڈن کے بادشاہ کے زیرتسلط تھا۔ لیکن ملک کی اشرافیہ اور دانشوروں نے خودمختاری حاصل کرنے کے لئے قانونی دستاویز یا آئین تیار کرنے کا فیصلہ کیا۔ یہ آئین 1814 میں تیار ہوا۔ اگرچہ اس آئین کی تیاری کے بعد سویڈن کے بادشاہ نے بعض محدود آزادیاں دینے کا فیصلہ کیا تھا تاہم ملک کو مکمل آزادی کے لئے مزید 94 برس انتظار کرنا پڑا۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 15 مئی 2017

مذہب کے نام پر مُلک بنانا اور پھر اُس میں مذہب کو مسخ کرکے اُس کے گوناگُوں بلکہ " ون سونّے "  ایڈیشن تیار کرکے رائج کرنا اور خُدا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر قتل کو روا سمجھنا بہت مشکل کام ہیں لیکن ہم نے اُنہیں بہت آسانی سے کر دکھایا ہے ۔ ہتھیلی پر سرسوں جمائی ہے اور گنجے سروں پر گندم کاشت کی ہے ۔ ہیں ناں ہم اس عہد کے معجز نُما لوگ ؟

مزید پڑھیں

loading...

  وقت اشاعت: 12 مئی 2017

نحمدہ و نُصّلی علی رسولہ الکریم ، امّا بعد!
کوئی صحیح الدماغ مسلمان دہشت گردی  کرتا ہے اور نہ سہتا ہے ۔ بالکل بھی نہیں کیونکہ دہشت گردی ایک شدید ذہنی بیماری ہے  جو مذہب کی غلط تفہیم کا سائیڈ ایفیکٹ ہے اور جس کا سرچشمہ غلط تبلیغ ہے مگر کچھ لوگ اِس ذہنی بیماری کو شفا اور جنّت کا گیٹ پاس سمجھتے ہیں ۔   عام لوگ اس بیماری میں مُبتلا لوگوں کی  شفا چاہتے ہیں  کیونکہ کوئی بھی نارمل آدمی بد امنی کی صورتِ حال میں نہیں رہنا چاہتا ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 10 مئی 2017

’’یہ مت کہو کہ ایک لاکھ ہندو اور ایک لاکھ مسلمان مرے ہیں۔ یہ کہو کہ دو لاکھ انسان مرے ہیں۔‘‘ یہ سطور ہیں سعادت حسن منٹو کے افسانہ ’’سہائے‘‘ کی ۔ایسی بات وہی لکھ سکتا ہے جو مذہبی حدود سے بالاتر ایک سچا انسان اور مہان فنکار ہو۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 08 مئی 2017

آج جو حب میں ہوا وہ پاکستان کے کسی بھی شہر میں کسی وقت وقوع پذیر ہو سکتا ہے۔ علاقے کے مولویوں کے بہکارے میں آئے ہوئے مشتعل ہجوم نے ایک تھانے پر دھاوا بول دیا کیونکہ پولیس ان کا یہ مطالبہ ماننے سے قاصر تھی کہ توہین مذہب کے الزام میں گرفتار ایک 35 سالہ ہندو تاجر کو ان کے حوالے کیا جائے تاکہ وہ خود اسے اس کے کئے کی سزا دے سکیں۔ یعنی اسے ہلاک کرکے اپنے غصے اور انتقام کی آگ بجھا سکیں۔ پولیس کی طرف سے بات چیت کے ذریعے ہجوم کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی گئی۔ خبروں کے مطابق سپرنٹنڈنٹ پولیس ضیا مندوخیل نے لوگوں کو بتایا کہ ملزم کو جیل منتقل کر دیا گیا ہے، وہ حوالات میں نہیں ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 08 مئی 2017

آدم و حوّا زاد ایک سایئکو سومیٹک مخلوق ہے ۔  اس کا نفسی خلل ، ذہنی پریشر یا داخلی تصادم  اُس کے قویٰ اور ظاہر ی وجود پر اپنا اثر مرتب کرتا ہے  اور اُس کا گوشت پوست کا ڈھانچہ اُس کی باطنی کشمکش کی تصویر بن کر رہ جاتا ہے ۔ اس سلسلے میں قرآن نے واضح کیا کہ :
" یعرفون المجرمون بسیمٰھم  فیوخذ بالنواصی والاقدام " سورہ الرحمٰن ۔ آیت اکتالیس

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 29 اپریل 2017

فیلڈ مارشل ایوب خان نے اپنے دور اقتدار میں بنیادی جمہوریتوں کا نظام متعارف کروایا تھا ، جس میں ایک الیکٹورل کالج کے ذریعے صدارتی انتخاب ہوتا تھا  ۔ یہ الیکٹورل کالج بنیادی جمہوریت کے ان ارکان پر مشتمل ہوتا تھا جنہیں پنچایت ، میونسپل کمیٹی اور میونسپل کارپوریشن کی سطح پر عام ووٹر چنتا تھا ۔ ان لوگوں تک حکومتی  رسائی نسبتاً  سہل تھی ۔ ان بی ڈی ممبروں کو خریدنا  بھی آسان تھا اور  متاثر کرنا بھی ۔ چنانچہ جمہوریت کے نام پر فردِ واحد کی حکمرانی کا یہ کامیاب ترین نسخہ تھا کہ جمہوریت کا  سانپ بھی مر جائے اور آمریت کی لاٹھی بھی نہ ٹُوٹے ۔ یہ نظام بالواسطہ جمہوریت کا نظام کہلاتا تھا لیکن اسی نظام میں اگر تلا سازش کیس  چلا اور مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی بنیاد پڑی کیونکہ یہ نظام جمہوریت کے نام پر بد ترین شخصی آمریت کا نظام تھا ۔  اور بالآخر یہ اپنی موت مرگیا ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 29 اپریل 2017

میں جنرل حمید گل کی سیاست اور بے شمار اقدامات پہ تنقید کرتا رہا ہوں۔ آج بھی کرتا ہوں۔ میری رائے میں جنرل صاحب  کے بہت سے  اقدامات  سے پاکستان کو بہت نقصان ہوا۔  لیکن میں ان کی ایک بات کو ہمیشہ سراہتا رہاہوں۔  وہ یہ کہ جنرل صاحب ببانگ دہل کہتے رہے کہ انہوں نے آئی جے آئی بنائی۔  اور فخر سے اس کی وجہ بھی بتاتے رہے۔ لیکن جب ان سے پوچھا جاتا کہ وہ اس میں ملوث اور آدمیوں کے نام بتائیں تو وہ یہی کہتے کہ وہ اس کی مزید تفصیلات صرف عدالت میں بتائیں گے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 23 اپریل 2017

تین روز پہلے  ویژن فورم کے سربراہ قبلہ ارشد بٹ کی طرف سے اطلاع ملی کہ اوسلو میں مشال خان کے قتل پر مجلسِ عزا ہوگی ۔ اور کل یارِ ہم مشرب  حضرت نثار بھگت نے فون پر اس کی تفصیل بتائی ۔ یعنی جو قتل مردان کی عبد الولی خان یونی ورسٹی میں ہوا ہے اُس کا سوگ چار دانگِ عالم میں ہو رہا ہے ۔ سو جن دوستوں نے اس سفاکانہ قتل کی مذمت کا بیڑا اُٹھایا ہے ، وہ جانتے ہیں کہ صرف پاکستانی معاشرہ ہی نہیں  ، پورا عالمِ اسلام قتل و غارت گری اور  سفاکی و بربریت کے دوزخ میں جل رہا ہے ۔

مزید پڑھیں

Islamic Council Norway Fails Muslims and the Society

By hiring Nikab-wearing Leyla Hasic, Islamic Council Norway has taken a clear stand in a controversial debate. Norwegian Muslims neither are represented nor served with t

Read more

loading...