نگر نگر


  وقت اشاعت: 1 دن پہلے 

منگل 22اگست کو ہندوستان کے سپریم کورٹ کے فیصلے کو دنیا بھر کے اخباروں اور ٹیلی ویژن پر پڑھا اور سنا گیا۔ دراصل خبر ہی ایسی تھی کہ مسلم اور غیر مسلم دونوں کے لئے یہ خبر دلچسپ اور اہم بن گئی۔ ایک تو یہ خبرطلاق کے حوالے سے تھی دوسرے مسلمانوں کے حوالے سے جس کی وجہ سے یہ خبر دنیا بھر میں لوگوں کے درمیان بحث کا موضوع بنی۔ یوں بھی آج کل کے ماحول میں مسلمانوں کے متعلق کوئی بھی خبر ہو اسے میڈیا بڑھا چڑھا کر لکھنا چاہتا ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 16 اگست 2017

جب انسان کوئی ایسا جرم کرتا ہے جس سے انسانیت کی روح کانپ جاتی ہے تو وہ اس مجرم کو اتنی سخت سزا دینے کا مطالبہ کرتا ہے جس سے ہمارے انسانی حقوق پر یقین کمزور پڑ جاتا ہے۔ اور تو اور ہم سعودی عرب جیسے ملک کی مثال دیتے ہوئے اس بات کی مانگ کرنے لگتے ہیں کہ ایسے وحشی انسان کا سر قلم کر دیا جائے یا اس کو سرِ عام کوڑے لگائے جائیں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 09 اگست 2017

اس سال تقسیمِ ہند کو 70سال مکمل ہو جائیں گے۔ 70 سال قبل چودہ اور پندرہ اگست کو پاکستان اورہندوستان کو آزادی ملی تھی۔ جس سے کئی لوگوں کو اپنے ملک سے در بدر ہونے کا صدمہ، اپنے رشتہ داروں کی جان گنوانے کا دُکھ، افسوس اور ذلّت  کا احساس ہوا تو وہیں کئی ایسے بھی لوگ ہیں جنہیں اپنے وطن کی آزادی پر ناز بھی ہوتا ہے اور وہ اپنے وطن کی آزادی کی خوشی میں خوب جشن بھی مناتے ہیں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 05 اگست 2017

گزشتہ دنوں پاکستان کے سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کی پاکستانی عدلیہ سے نا اہلی کے فیصلے کے شدیدردعمل میں اپنی آئینی اور جغرافیائی حدود سے تجاوز کرتے ہوئے متنازعہ ریاست جموں وکشمیر کے پاکستانی زیر انتظام حصوں گلگت بلتستان حفیظ الرحمان اور آزاد کشمیر کے وزر اعظم  راجہ فاروق حیدرخان نے اپنے سیاسی قائد (نوازشریف) سے اظہار محبت میں جوش وجذبات سے سرشار ہو کر پاکستانی عدلیہ اور سیاستدانوں پرتنقید کے نشتربرسائے۔ ان  میں بعض الفاظ اخلاقیات اور سیاست کی پکڑ میں آ گئے۔ دونوں حضرات خصوصاٌ راجہ فاروق حیدر خان کے عمران خان کی ذاتی زندگی ، طرز سیاست اور " نئے پاکستان" سے متعلقہ تنقیدی بیان میں ان الفاظ نے طوفان برپا کیاکہ  ‘مجھے سوچنا پڑے گا بحثیت کشمیری کہ میں کس ملک کے ساتھ اپنی قسمت کو جوڑوں ۔۔۔‘ بس اس کے بعد وہ اندھا دھند جوابی حملوں کی زد میں ہیں ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 02 اگست 2017

پچھلے کئی مہینے سے پوری دنیا میں ایک نعرہ ضرور سنا گیا۔ Go Nawaz Go گو نواز گو۔ اور یہ نعرہ سوشل میڈیا پر کافی مقبول ہوا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس نعرے کو مختلف ممالک کے الگ الگ لوگوں کے ذریعہ فلمایا گیا تھا۔ جس سے دیکھنے والوں میں دلچسپی اور بھی بڑھ جاتی تھی۔ افریقی، عربی اور یورپین لوگوں کے ذریعہ ’گو نواز گو ‘ کا نعرہ سوشل میڈیا پر دکھا جاتا جس سے دیکھنے والوں کو کافی مزہ آتا اور وہ اس کے ذریعہ ’گو نواز گو‘ کے مقصد سے بھی لوگ آگاہ ہوتے تھے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 27 جولائی 2017

ذات پات کا ذکر ہو تو ہندوستان کا ذکر ہونا لازمی ہے۔ اس کی کئی وجوہات ہیں۔ ایک تو ذات پات کا ہندو مذہب سے منسلک ہونا اور دوسرا کام کے طریقہ کارکو ذات پات سے جوڑنا۔ لیکن بھید بھاؤ کو لفظوں میں ’ جرم ‘ کہنے کے باوجود آئے دن ایسی خبریں دیکھنے کو ملتی ہیں جن سے  اندازہ ہوتا ہے کہ آج بھی انسان ذات پات کے  منحوس چکر میں پھنسا ہوا ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 20 جولائی 2017

پندرہ جولائی کو بزمِ ادب برلن نے شامِ افسانہ کی محفل کا اہتمام کیا جس میں دنیا کے کئی نامور افسانہ نگاروں نے شرکت کی۔ مجھے اس تقریب کی صدارت کرنے کا موقع دیا گیا۔ یوں تو برلن میرا پہلا سفر تھا لیکن برلن کو دیکھنے کا شوق برسوں سے تھا۔  کیوں کہ  برلن دنیا کا ایک تاریخی شہر ہے جس سے ہم اور آپ انکار نہیں کر سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 12 جولائی 2017

سوموار کو برطانیہ کے لوگوں کو یہ جان کر بڑی خوشی ہوئی کہ برطانیہ کے معروف (Lake District) لیک ڈسٹرکٹ کو (UNESCO) نے عالمی ثقافتی ورثہ کی حیثیت دینے کافیصلہ کیا ہے۔  اس خبر کو بی بی سی ٹیلی ویژن پر فخریہ طور پر دکھایا گیا اور زیادہ تر اخباروں میں بھی اس خبر پر خوشی کا اظہار کیا گیا۔ ظاہر سی بات ہے لیک ڈسٹرکٹ کو عا لمی ثقافتی ورثہ کی حیثیت ملنے کے بعد یہاں سیّاحوں کی آمد  بڑھ جائے گی۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 27 جون 2017

کئی مہینے سے اس خبر سے  ہندوستانی مسلمان پریشان ہیں اور انتظامیہ کان بند کئے گؤ رکھشا کی انتہا پسندی کوروکنے میں ناکام ہے۔ صوبائی اور مرکزی حکومت بھی ’گؤ رکھشک‘ کے ناپاک ارادوں سے خوش ہیں اور اس معاملے پر وہ چپ سادھے ہوئے ہے۔ اب تو یہ شرمناک خبر ہندوستانی سرحد پار کرکے برطانیہ کے اخباروں میں شائع ہورہی ہے اور اسے ٹیلی ویژن پر بھی دکھایا جارہا ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 18 جون 2017

14 جون کی رات 12:54 پر شمالی کینزنگٹن علاقے کی گرین فل ٹاور میں آگ لگنے سے لگ بھگ ساٹھ لوگوں کی جان چلی گئی۔ 74 لوگوں کی حالت نازک ہے جنہیں لندن کے مختلف ہسپتالوں میں داخل کیا گیا ہے۔ جبکہ 70سے زیادہ لوگ لاپتہ ہیں۔ اس حادثے کی خبر کو برطانیہ سمیت دنیا کے تمام ملکوں میں نشریات کیا گیا اور لندن میں اس خبر کا ردّعمل کا فی جارحانہ رہا ۔ کہا جا رہا ہے دوسری جنگِ عظیم کے بعد ایسا پہلی بار دیکھنے کو ملا جب اتنے بڑے پیمانے پر کسی عمارت میں آگ لگی ہے۔

مزید پڑھیں

Praise and prayers for the great people of Turkey

One year ago, this day, the people of Turkey set an example by defending their elected government and President Recep Tayyip Erdogan against military rebels.

Read more

loading...