نگر نگر


  وقت اشاعت: 5 دن پہلے 

میرے دوستوں کا حلقہ انتہائی محدود تھا۔ میں نے گورنمنٹ کالج سٹوڈنٹس یونین کی سیکرٹری شپ کے لیے اپنی انتخابی مہم شروع کی تو کسی نے بھی اسے سنجیدگی سے نہیں لیا۔ سب یہ سوچ رہے تھےکہ میں کسی مرحلے پر کنارہ کش ہو جاؤں گا۔ پاپا کوالیکشن میں حصہ لینے کا بتایا تو انہیں نے سختی سے یہ ارادہ ترک کرنے کا مشورہ دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سے میری پڑھائی میں بہت حرج ہوگا ۔ انہیں یہ بھی تشویش تھی کہ ملکی سیاست اور سیاسی جماعتوں کے تعلیمی درسگاہوں میں بڑھتے ہوئے اثرات کے باعث میں کسی جھمیلے میں نہ الجھ جاؤں۔ لیکن میں اپنی ضد پہ اڑا رہا۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 5 دن پہلے 

اس خبر کو پڑھ کر مجھے بڑی حیرانی ہوئی اور آپ کو بھی حیرانی ہوگی کہ جہیز کے لالچ میں کس طرح سے بے گناہ عورتوں کو مارا جا رہا ہے اورکس طرح بے قصور مرد بھی اپنی جان دے رہے ہیں ۔عام طور پر یہی سنا جاتا ہے کہ بیچاری عورتوں پر کافی ظلم ہوا ہے یا کمزور عورتوں پر مرد ظلم کر تے ہیں ۔ یوں توبیٹی، بہن، بیوی ، بھابھی اور کبھی کبھی ماں کے متعلق ایسی دکھ بھری باتیں اور کہانیاں سننے کو ملتی ہیں جس سے کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ پھر ذہن میں ایک ہی بات آتی ہے کہ مرد کی ذات کافی حیوان صفت ہے جو عورتوں پر ظلم کرتا ہے اور ایسے مرد کو سخت سے سخت سزا ملنی چاہئے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 07 فروری 2017

مانچسٹر میں یہ میرا پہلا ہفتہ تھا۔ برٹش کونسل کی نمائیندہ ٹریسا ہین مَر کا دیا ہوا خط اور بینک ڈرافٹ لے کر میں یونیورسٹی کیفے ٹیریا کے بالمقابل واقع نیٹ ویسٹ بینک کی عمارت میں داخل ہوا اور قطار میں شامل ہو گیا۔ ڈرافٹ 800 پاؤنڈ کا تھا جس میں خوش آمدید، فوری ضرورت، گرم کپڑوں اور کتابوں کے الاؤنس شامل تھے۔ اس کے بعد ایک سال تک مجھے چار سو آٹھ پاؤنڈ ماہانہ ملنا تھے۔

مزید پڑھیں

loading...

  وقت اشاعت: 01 فروری 2017

صدیوں سے انسان ذات پات کی بے معنی اور بے مقصد روایت کی زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے۔ دنیا جب سے قائم ہوئی ہے انسان قبائیلوں اور چھوٹے چھوٹے گروہ میں بٹا رہا ہے۔ اس کے علاوہ امیری اور غریبی کے فرق نے انسان کو اس کے کام اور غربت کی وجہ سے کہیں جولاہا بنا دیا تو کہیں چمار۔ شاید  ان ہی وجوہات کی بناپر ذات پات کی ابتدا ہوئی تھی۔ اس کے علاوہ مذہبی نقطہ نگاہ سے بھی ذات پات کو ایک اہم مقام ملا ہوا ہے۔ مثلاً ہندو دھرم میں ذات پات کو ایک خاص اہمیت حاصل ہے۔ لیکن کئی ممالک میں اسلام  کے ماننے والوں نے بھی ذات پات کی روایت کو برقرار رکھا ہے۔ جس کا مذہبی بنا پر کوئی ثبوت نہیں ملتا ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 25 جنوری 2017

جمعہ20 جنوری کی شام دفتر سے فارغ ہو کر میں جب گھر کی طرف روانہ ہوا تو گھڑی پر نظر پڑتے ہی پریشان ہوگیا ۔ گھڑی میں پانچ بج چکے تھے اور بی بی سی ریڈیو پر حلف بردار ی کی خبریں واشنگٹن سے براہ راست  نشر ہورہی تھی۔ میں نے تیز رفتار ی سے گاڑی دوڑائی تا کہ میں بھی ٹیلی ویژن پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حلف برداری کو دیکھ سکوں۔ ویسے اس تقریب کو دیکھنے کے لئے میرے علاوہ لاکھوں لوگوں نے ٹیلی ویژن اور ریڈیو آن کر رکھا تھا۔ گھر پہنچ کر ٹیلی ویژن چلایا اور امریکہ کے متنازعہ اورمنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حلف برداری کی تقریب کو مختصر طور پر دیکھا۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 19 جنوری 2017

یوں تو پوری دنیا میں سیاسی، سماجی اور معاشی سوچ میں تیزی سے اتاراور چڑھاؤ دیکھا جارہا ہے۔ لیکن پچھلے کچھ سالوں سے پوری دنیا کی سیاست میں ایک بھونچال سا آیا ہوا ہے اور جو تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہا۔ کہیں ایسے لوگ لیڈر چنے جارہے ہیں جو اپنی مفاد اور بنیاد پرستی کے لئے مقبول ہیں تو کہیں دھاندلی کے لئے بدنام ہیں۔ اگر دیکھا جائے تو براہ راست یا بالواسطہ طور پر ان لیڈروں کو ان کے ملک کے لوگ ہی منتخب کر رہے ہیں یا پھر وہ لوگوں کی جذبات سے کھیل کر انہیں بیوقوف بنا رہے ہیں۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ الزام کسے دیا جائے۔ ان لوگوں کو جو ایک سرپھرے انسان کو اپنا لیڈر چن رہے ہیں یا ملک کے اس سسٹم کو کہ  لوگ جس میں مجبور ہیں۔ اس صورت حال نے  آج دنیا بھر میں پریشانی اور خوف کا ماحول پیدا کیا ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 12 جنوری 2017

ذہنی خرابی اور دماغی صحت وغیرہ ایسے امراض ہیں جن کی گرفت میں آنے کے بعد انسان اپنے آپ میں پریشان اور دوسروں سے الگ تھلگ ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ بہت سارے لوگ اس مرض کو سمجھنے سے قاصر ہوتے ہیں جس سے وہ مزید پریشانیوں میں الجھ جاتے ہیں۔ اس لئے متعدد معاشروں میں اسے  سماجی برائی قرار دیا جاتا ہے۔ یوں اس مرض کا شکار لوگوں کے لئے  زندگی یا تو عذاب بن جاتی ہے یا وہ تنگ آکرخود کشی کرلیتے ہیں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 05 جنوری 2017

2016  کئی معنوں میں ایک پریشان کن اور مایوس کن سال کہا جارہا ہے۔ اور 2017 کی آمد پر لوگوں میں ایک امید کی کرن بھی جاگی ہے۔ اگر دیکھا جائے تو 2016 میں پوری دنیا میں کئی ایسے حادثات اور واقعات ہوئے ہیں جس کے اثرات سے ہر آدمی کہیں نہ کہیں دوچار ہوا ہے۔ مثلاً برطانیہ کے لوگوں کا ریفرینڈم میں یورپ سے باہر ہونے کا فیصلہ، شام کی خانہ جنگی اور باغیوں کی شکست، ڈوناڈ ٹرمپ کا امریکی صدر کا الیکشن جیتنا،  روس اور امریکہ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، پاناما پیپرز کے انکشافات، ترکی میں فوجی بغاوت کی کوشش، ہندوستان میں نوٹ بندی، عظیم باکسر محمد علی کا انتقال، کیوبا کے انقلابی لیڈر فیدل کاسترو کی موت ، ملکہ برطانیہ کی 90 ویں سالگر ہ وغیرہ۔ 2016  کافی اہم خبریں لے کر آیا تھا۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 30 2016

کرسمس کے موقع پربرطانیہ میں دو روز کی چھٹّیاں ملتی ہیں۔ ان سے فائدہ اٹھا کر زیادہ تر لوگ سیر و تفریح کے لئے دوسرے ممالک چلے جاتے ہیں۔ پچھلے دنوں میں نے بھی اس کا فائدہ اٹھا کر چار دنوں کے لئے چھٹّی گزارنے کی غرض سے( Amsterdam) ایمسٹرڈیم چلا گیا۔ یوں بھی ایمسٹرڈیم جانے کے لئے میں کچھ ہفتے سے کافی پر جوش تھا کیونکہ لندن کی تیز رفتار اور مصروف زندگی سے راحت پانے کے لئے اس سے بہتر اور کوئی راستہ نہیں تھا۔ ویسے بھی انگریز اور یورپ کے دیگر ممالک کے لوگ چھٹّیاں گزارنے اور دنیا کے مختلف مقام پر جانے کے لئے ہمیشہ پر جوش ہوتے ہیں۔ یہ لوگ اپنی چھٹّیوں کے ذریعہ دوسرے ملکوں کی ثقافت کو جاننے کے شوقین ہوتے ہیں۔ اس کے علاو ہ وہاں کی آب و ہوا اور کھانے پینے کا بھی کافی لطف لیتے ہیں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 22 2016

انتظار حسین نے ٹی ہاؤس کے ساتھ ناصر کاظمی کے قریبی تعلق کا تذکرہ بہت خوبی کے ساتھ اپنی یادوں کی کتاب ’چراغوں کا دھواں‘ میں کردیا ہے۔ لیکن پاک ٹی ہاؤس کے ساتھ انہوں نے بھی پورا انصاف نہیں کیا۔ بلکہ ان کی کتاب پڑھنے کے بعد جب میں نے اس جانب توجہ دلائی کہ آپ نے سراج صاحب کا ذکر نہیں کیا تو ذرا سا جِز بز ہوکے انہوں نے کہا کہ کس کس کا ذکر کرتا میں آخر؟

مزید پڑھیں

Threat is from inside

Army Chief General Raheel Sharif assured the nation that country’s borders are secure and the army is aware of threats and intrigues of the enemies. Speaking at an even

Read more

loading...