آپ کی شکایات

عوام کی عدالت بتوسط پوسٹ بکس کاروان ، اوسلو ، ناروے۔

ہم سمندر پار پاکستانیوں کو انصاف کون دے گا ؟ ایک سوال جس کا ہم جواب جاننا چاہتے ہیں کیونکہ یہ ہمارا حق ہے ۔ ہم دو بھائی ، پِسرانِ پیر شاہجہاں نوری مرحوم آف موہڑہ شریف ، مری ہمایوں پیرزادہ اور فاروق پیرزادہ بارِ دگر آپ سے مُخاطب ہیں ۔ ہم جن کا وجود پاکستان کی مٹی سے بنا ہے اپنے آباؤاجداد کی قبروں پر فاتحہ خوانی کے لیے جانا اور گاہے گاہے اپنے والدین اور بزرگوں کی قبروں کی زیارت کرنا اور اُن کے قرب و جوار میں اپنے آبائی گھر میں جا کر رہنا چاہتے ہیں ۔ لیکن اس وقت موہڑہ شریف کی گدی پر قابض پیر ہارون الرشید جو ہمارے چچا لگتے ہیں ، ہمیں اجازت نہیں دیتے کہ ہم اپنے بزرگوں کی قبروں کی زیارت بھی کر سکیں ۔

ہم اس سے پہلے بتا چکے ہیں کہ جب ہم اپنے والد کی زرخرید زمین کی حد بندی کے لیے موہڑہ شریف گئے تو ہم پر قاتلانہ حملہ کیا گیا جس کی رپورٹ متعلقہ تھانے میں در ج کروائی گئی یھی ۔ چوکہ پیر ہارون الرشید کے اثر و رسوخ کی وجہ سے معاملے کو دبا دیا گیا مگر ہم نے داد رسی کے لیے پاکستان کے اعلیٰ حکام کو اپنی عرض داشت کی کاپیاں ارسال کیں اور اس کی اطلاع ڈنمارک کے محکمہ خاجہ اور اسلام آباد میں ڈنمارک کے سفارت خانے کے توسط سے متعلقہ اداروں تک پہنچانے کی کوشش کی ہے۔ لیکن اگست 2011  کے وقوعے کا انصاف ہمیں آج تک نہیں ملا ۔

ہم نے جب داد رسی کے لیے نالش کی تو اُس وقت پاکستان میں وفاق میں پیپلز پارٹی کی حکومت تھی اور محترم یوسف رضا گیلانی وزیر اعظم تھے۔ چونکہ اُن کی اپنی وابستگی بھی ایک گدی سے تھی ، اس لیے ہمارا خیال تھا کہ وہ صورتِ حال کا جائزہ لے کر انصاف کا فوری حکم دیں گے مگر ایسا نہیں ہوا ۔ ہم کیا بتائیں کہ ہم نے کون کون سے دروازے پر دستک دی اور کس کس سے داد رسی میں مدد کے لیے ترلے اور منتیں کیں مگر ہماری کس نے نہیں سُنی ۔ اس موقعہ پر ہم چند نام ضرور گنوانا چاہتے ہیں جن تک ہم نے اپنی آواز پہنچائی مگر اب تک نہیں سنی گئی۔ وہ نام حسب ذیل ہیں ۔ 1 ۔ چیف جسٹس مسٹر جسٹس افتخار محمد چودھری 2 ۔ اُس وقت کی وزیرِ خراجہ حنا کھر ربانی 3 ۔ گورنر پنجاب جناب لطیف کھوسہ 4 ۔ میاں محمد نواز شریف صاحب 5 ۔ وزیر اعلیٰ میاں شہباز شریف صاحب 6 ۔ وزیرِ اوقاف حاجی احسان الدین قریشی جو اس وقت مسندِ وزارت پر فائز تھے ۔ 7 ۔ اس وقت ، علاقہ کے ڈپٹیٰ کمشنر جناب عامر علی احمد 8 ۔ انسپکٹر جنرل پولیس بنی امین خان 9۔  لیفٹیننٹ جنرل احمد شجاع پاشا جو اس وقت آئی ایس آئی کے سربراہ تھے۔

ان سب دروازوں پر دستک کو پانچ برس گزر گئے ہیں مگر کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگی اور ہم بدستور انصاف کے لیے آسمان کی طرف دیکھتے رہتے ہیں ۔ جو کچھ ہم پر اپنے گاؤں موہڑہ شریف میں خود اپنے چچا اور اُس کے بیٹوں کے ہاتھوں بیتی اُس کی یاد ہمارے لیے سوہانِ روح بنی ہوئی ہے ۔ ہم نے ان تمام حضرات سے گزارش کی تھی کہ اگر ہماری شنوائی نہ ہوئی تو ہم انصاف کی بین الاقوامی عدالت سے رجوع پر مجبور ہوں گے ۔

ہم کارواں کے توسط سے ایک بار پھر اپنی درخواست کی تجدید کر رہے ہیں کہ ہمیں انصاف دلایا جائے کیونکہ ہم اول و آخر پاکستانی ہیں اور پاکستان میں آزادی سے جانا اور وہاں حسب منشا قیام کرنا ہمارا بنیادی شہری حق ہے مگر ہم سے وہ حق چھین لیا گیا ہے اور ہم اپنی آبائی گاؤں سے دور پناہ گاہوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔ ہم نہیں جانتے کہ ہمیں انصاف کیسے ملے گا ؟ کون سا پاکستانی ادارہ ہماری دا د رسی کرے گا ؟ والسلام

صاحب زادہ ہمایوں پیر زادہ،  صاحب زادہ فاروق پیر زادہ

مزید پڑھیں   وقت اشاعت: 09 ستمبر 2016

انصاف کی راہ تکتے دو بھائی
 
(سمندر پار پاکستانیوں کی وزارت - بذریعہ : لیٹر بکس - کاروان - اوسلو)

ہم اب دو بھائی ہیں شہزادہ ہمایوں پیرزادہ مقیم ناروے اور شہزادہ فاروق پیرزادہ مقیم ڈنمارک اور ہمارے تیسرے بھائی ۲۰۰۱ میں راہی ء ملکِ عدم ہو چکے ہیں ، جن کا مزار موہڑہ شریف مری میں واقع ہے ۔
ہمارے جدِ اعلیٰ حضرت خواجہ پیر محمد قاسم دربارِ عالیہ موہڑہ شریف مری میں مشرف بہ مزار ہیں ۔ ہمارے والد کا نام پیر شاہ جہاں نوری ہے جو مذکورہ بالا گدی کے ورثاء میں سے ایک تھے ۔ ہم تینوں بھائی پچھلے چالیس برس سے یورپ میں مقیم رہے ہیں اور ہر سال باقاعدگی سے وطن عزیز کی زیارت کے لیے جاتے رہے ہیں ، جہاں ہم موہڑہ شریف میں اپنے جدِ اعلیٰ کی لحد مبارک پر حاضری دیتے رہے ہیں ۔
اس وقت موہڑہ شریف کی گدی پر ہمارے ہی خاندان کے ایک صاحب پیر ہارون الرشید براجمان ہیں جو ہم تینوں بھائیوں سے یوسف کے بھائیوں والا سلوک کرتے رہے ہیں ۔وہ اتنے سنگدل اور دنیا دار ہیں کہ اُنہوں نے دو بار ہم بھائیوں کو صفحہ ء ہستی سے مٹانے کی کوشش کی ہے ۔ اس سلسلے میں ہم نے قانونی چارہ جوئی کے علاوہ اُس وقت کے پاکستانی وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو ایک عریضہ بھی ارسال کیا تھا جس میں اُن سے شکایت کی گئی تھی کہ پاکستان کے انتظامی، قانونی اور عدالتی نظام سے ہمیں انصاف نہیں مل رہا ۔ یوسف رضا گیلانی وزارتِ عظمیٰ سے محروم ہو گئے ، راجہ اشرف آئے اور اب نواز لیگ کی حکومت ہے مگر ہم تا حال انصاف کے لیے سرگرداں ہیں ۔
ہمارے ممدوح پیر ہارون الرشید کا مطمحِ نظر اور نصب العین نہ صرف اپنے عزیزو اقربا کو بلکہ اپنی مملکتِ فقر کی رعایا کو عذاب دینا ہے ۔یہ شخص بظاہر ایک خُدا پرست صوفی   ہے مگر بباطن ایک عیار اور سنگدل تاجر ہے جس نے درگاہ شریف میں اپنے خون کے رشتوں تک کا داخلہ بند کر رکھا ہے ۔تا آنکہ وہ  ہم دونوں بھائیوں کو اس امر کی اجازت تک نہیں ،  کہ ہم اپنے جدِ اعلیٰ کی قبر پر فاتحہ خوانی بھی کر سکیں ۔ظُلم کی انتہا یہ ہے کہ پیر صاحب موصوف نے ہمارے والد کے بنائے ہوئے مکان پر بھی غیر قانونی قبضہ کر رکھا ہے ۔
۲۰۰۱ میں جب ہمارے بڑے بھائی شہزادہ کیکائوس پیرزادہ کا انتقال ہوا تو ہم اُن کا تابوت لے کر تدفین کے لیے موہڑہ شریف گئے تو پیر ہارون الرشید کے دو بھتیجوں منو چہر اور بزرجمہر نے ، جو اس کے عم زاد جمشید بخت کیانی کے بیٹے ہیں ، ہمارے بھائی کےموہڑہ شریف میں دفن ہونے کی سخت مخالفت کی حالانکہ قبرستان ہم سب کا مشترکہ تھا ۔دوسری بار ۲۰۱۱ میں ہمیں ہماری بڑی بہن کی تدفین کا مرحلہ درپیش تھا ، لیکن قزاقی اور سفاکی کی انتہا دیکھیے کہ  ہماری بہن کا قیمتی کفن پیر صاحب کے کارندوں نے ایمبولینس کو راستے میں رکوا کر اُتروالیا جبکہ ہم موہڑہ شریف میں میت کی آمد کا انتظار کر رہے تھے ۔جب میت پہنچی تو اس کی حالت دیکھ کر ہم دل مسوس کر رہ گئے ۔ ہمارے پاس وہ الفاظ نہیں کہ ہم اُس شرمناک واقعے کو دوہرا بھی سکیں ۔ ناچار ہمیں ایک لُٹی پُٹی میت کو مٹی کے حوالے کرنا پڑا ۔
چونکہ ہمارے خاندان کے سارے مرحومین کی قبریں وہاں ہیں جن کی دیکھ بھال کے لیے ہمیں وہاں جانا ہوتا ہے ، اس لیے ہم نے اپنے والد کے مملوکہ نو کنال اور ایک مرلے کے پلاٹ پر مکان تعمیر کرنا چاہا ۔ یہ پلاٹ ہماری موروثی ملکیت ہے ۔ ملکیت کی قانونی دستاویزات ہمارے پاس ہیں ۔ یہ پلاٹ سب کی مشترکہ ملکیت نہیں ہے جب کہ مشترکہ ملکیت میں تین کنال کا ایک قطع ہے جس میں قبرستان واقع ہے ۔ پیر ہارون الرشید نے اس قبرستان میں واقع آبائی قبروں کو مسمار کردیا اور اُس اراضی پر قبضہ کر لیا اور تین مرلے چھوڑ کر باقی ساری زمیں کو اپنی خواتین کے مزارات کے لیے وقف کر دیا ۔ ہم نے متعلقہ تحصیلدار سے رابطہ کیا تو اس نے زمین کی حد بندی کے لیے عملہ بھیجنے کا حکم جاری کر دیا ۔ لیکن عملے کے لوگ پیر ہارون الرشید سے ملاقات کے بعد بدل گئے اور اُن کے سربراہ نے ہمیں مشورہ دیا کہ اگر جان کی امان چاہتے ہو تو یہاں سے نکل لو ۔ اگر قبرستان جانے کا قصد ہو تو اپنی حفاضت کے لیے باڈی گارڈ ساتھ رکھو ، کیونکہ پیر ہارون الرشید تم دونوں بھائیوں کو اپنی پیری کی سلطنت کے لیے خطرہ سمجھتا ہے اور وہ اپنے پالتو مصاحبین کے ذریعے جن کی تعداد پچیس تک ہے ، ہم پر قاتلانہ حملہ بھی کروا سکتا ہے ۔
چالیس دن بعد ہم اپنی بہن کے چالیسویں کے سلسلے میں دوبارہ موہڑہ شریف پہنچے اور حفظِ ما تقدم کے طور پر علاقے کے پولیس افسر کو اپنی آمد کی اطلاع دی ۔ موہڑہ شریف میں ہمیں قدم قدم پر اسلحہ بردار نظر آئے جن کی نگاہیں قہر آلود تھیں ۔ وہ سب اس لیے کھڑے تھے تاکہ تحصیل کا عملہ قبرستان کی حد بندی نہ کر سکے ۔ ہمیں ایک ریٹائرڈ پولیس افسر ، جو پیر ہارون کا مصاحبِ خاص ہے ، زبردستی اپنے ساتھ پیر ہارون کے سامنے لے گیا جہاں تحصیل کا عملہ موجود تھا  ۔ دستاویز ات میں ردو بدل کی جا چکی تھی اور پیر صاحب نے ہماری نجی موروثی زمین پر اپنا مکان بنانے کا منصوبہ تیار کر رکھا تھا ، یہ ایک پیرِ طریقت کی ذوی القربیٰ کی تفسیر تھی کہ اپنے عزیز و اقارب سے سب کچھ چھین لو ۔
چنانچہ ہم بے نیل و مرام لاہور واپس لوٹ آئے ۔ اس دوران پیر صاحب کا کاغذات کی کاپیاں فراہم کرنے کا وعدہ جب پورا نہ ہوا تو ہم نے اُن سے رابطہ کیا اور موہڑہ شریف گئے جہاں ہماری مڈ بھیڑ ریتائرڈ پولیس افسر شاہ محمد سے ہوئی ۔ ہم نے دیکھا کہ پیر ہارون کے بیٹے اور اُن کے کزن منو چہر اور بزرجمہر گاڑیوں میں بیٹھ کر کہیں جا رہے ہیں ۔ ہم فاتحہ خوانی کے لیے قبرستان جانا چاہ رہے تھے تو اس اثنا میں شاہ محمد نے ہمارے لیے سوفٹ ڈرنک آرڈر کیے ۔ ہم دونوں بھائیوں نے اسے نیک نیتی سمجھ کر ازراہِ میزبان نوازی وہ ڈرنک پی تو لیے مگر ہمارے ہاتھوں کے طوطے اُڑ گئے ۔ہم حواس باختہ ہو گئے اور ہمیں کسی بات کا ہوش نہ رہا ۔ ہم نشے میں چور ہو چکے تھے۔ ہمیں اسی حالت میں پیر ہارون کے سامنے پیش کیا گیاجس نے نہایت غلیظ گالیوں سے ہماری تواضع کی ۔ ہم اس صورتِ حال سے نکلنے کی راہ ڈھونڈ رہے تھے کہ پیر ہارون کے اشارے پر چالیس کے لگ بھگ لوگ ہم پر پل پڑے ۔ ہم گویا لہو میں نہا گئے اور پیر ہارون چپکے سے وہاں سے نو دو گیا رہ ہو گئے ۔ ہم بمشکل تمام ان غنڈوں کے چنگل سے نکل کر گاڑی تک واپس پہنچے اور لاہور کی راہ لی ۔   وہ دن آج کا دن ہم انصاف کی راہ تک رہے ہیں کہ کب ہمیں ہماری آبائی زمین واپس ملے اور ہمارے عزیزوں کی قبریں جو اغوا کر لی گئی ہیں ، واپس ملیں اور ہم ان تک بہرِ فاتحہ خوانی رسائی پا سکیں ۔
( حفظ ما قدم کے طور پر ہمارے ایڈریس مخفی رہیں تو ہماری حفاظت کے لیے بہتر ہوگا ) ۔
 

مزید پڑھیں   وقت اشاعت: 17 اگست 2016

Pakistan main kab tak haqumat firqa wareat pglylati rhyy GI haqumst aam awam ko apny mqasad ka hssul bna rahe hy much to sharam kar lo Allaha tala ny agar ya mukam dia hy to is ka hisab b dyna hy yad rakho ya masum awam jin ko gajar muli ki tarha kata<

مزید پڑھیں   وقت اشاعت: 20 مئی 2016

Bewajah ki bekar ki baatoh SE parej karna chayeh Pakistani team aur member ko aisa nahi hai k India m afridi ka craz nahi hai afridi world famous batsman hai aur uneh india m bhi kafi pasand karte hai log woh ache all rounder hai aur duniya yeh baat ja

مزید پڑھیں   وقت اشاعت: 11 اپریل 2016

we are the pakistani community is much worried here because the pakistani embassy here in lisbon not doing the extnction of hand made passports and not even going to start making computerised passports.i will be very very thankfull to you if you help t

مزید پڑھیں   وقت اشاعت: 08 جنوری 2016

افغانیوں پاکستان سے نکل جانے کے لئے قانونی کارروائی کی ضرورت ہے۔

مزید پڑھیں   وقت اشاعت: 27 2015

Praise and prayers for the great people of Turkey

One year ago, this day, the people of Turkey set an example by defending their elected government and President Recep Tayyip Erdogan against military rebels.

Read more

loading...