تبصرے تجزئیے

  • زیر بن، زبر نہ بن، متاں پیش پوی

    اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اجلاس ہوا۔ سیانے جانتے ہیں کہ کیوں ہوا، کیوں ہوتا ہے اور وہاں سے کس کے ہاتھ کیا آتا ہے۔ ہم جیسے تو یہ سوچ کر اور دیکھ کر ہی خوش ہو جاتے ہیں کہ دنیا بھر کے جھنڈوں کے درمیان ہمارا جھنڈا بھی لہرا رہا تھا اور زمانے بھر کے لیڈروں کے درمیان ہمارا وزیر اعظم [..]مزید پڑھیں

  • سیاسی محاذ آرائی سے باہر نکلنا ہوگا

    پاکستان کی سیاست کا بنیادی مسئلہ  محاذ آرائی اور ایک دوسرے پر بداعتمادی کا پہلو ہے۔ سیاست میں جب کوئی فریق ایک دوسرے کو قبول کرنے کی بجائے سیاسی تعصب، نفرت، بغاوت یا عدم برداشت، الزام ترشیوں منفی طرز عمل کا مظاہرہ کرے تو اس کا نتیجہ  محاذ آرائی اور انتشار کی سیاست کے تناظر [..]مزید پڑھیں

loading...
  • شعر دولخت اور کالم بے ربط کیسے ہوتے ہیں؟

    ہم نے اس دیار خوش رنگ میں ہر طرح کا موسم دیکھا، امید کی رت دیکھی۔ حبس کا عالم دیکھا، بہار کے آمد کی سندیسے سنے، خزاں کے ٹھہر جانے کی آزمائش سے گزرے۔ الحمدللہ، اس مٹی سے فراق کا خیال تک نہیں گزرا۔ پیر و مرشد پرویز مشرف کے جلوس بے اماں میں کچھ مدت کے لئے البتہ رخصت لی تھی۔ اس میں ظ [..]مزید پڑھیں

  • وزیراعظم کی تقریرکے بعد کیا ہوگا؟

    اقوام متحدہ میں وزیراعظم کی تقریرایک بڑاموضوع گفتگو ہے۔ کشمیری حلقوں میں کچھ لوگ سانس روکے بیٹھے ہیں۔ ایسا لگتا ہے لوگوں کی آخری امید اب اس تقریرسے بندھ چکی ہے۔ تقریر کے متن کے بارے میں کوئی اسرار نہیں ہے۔ سب جانتے ہیں کہ یہ ایک طاقت ور اور دلگداز خطاب ہوگا۔ اسرار البتہ اس خط [..]مزید پڑھیں

  • نیویارک میں عمران خان کا مشن کشمیر

    نیو یارک میں وزیراعظم عمران خان کا ’مشن کشمیر‘ جاری ہے اس کا نکتہ عروج وزیراعظم کا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب تھا جس پر آئندہ بات کریں گے۔ جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر ہر سال ستمبر میں میلہ لگتا ہے جس میں دنیا بھر کے سربراہان مملکت وحکومت اپنے ملکوں کی نمائن [..]مزید پڑھیں

  • دھرنے اور احتجاج نہیں معاشی پیش رفت کی ضرورت

    پاکستان میں تبدیلی کی علامت اور مدینہ کی فلاحی ریاست کے قائم کرنے کی دعوے دار  حکومت نے بجٹ منظور کیا تو مہنگائی بے روز گاری میں تیزی سے اضافہ ہوا جبکہ ڈالر کی قیمت تیزی سے گری۔کسی دائیں بازو کی جماعت نے اس معاشی گراوٹ پر احتجاج نہیں کیا بلکہ حکومت کے حامی اینکر، دانشوروں اور [..]مزید پڑھیں

  • ہم کیسا معاشرہ تشکیل دے رہے ہیں؟

    جیسا کرو گے ویسا بھروگے یا پھر جو بویا تھا وہی کاٹو گے،  ایسے بہت سارے محاورے ہماری سماعتوں میں گونجتے رہتے ہیں۔ بڑوں کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اپنے چھوٹوں کو سمجھائیں۔  ایک وقت تھا جھوٹ بولنا یا سننا تو دور کی بات تھی جھوٹ بطور لفظ سنائی نہیں دیتا تھا۔ آج جھوٹ سے بات شروع [..]مزید پڑھیں