تبصرے تجزئیے

  • خبردار! ضمیر کی آنکھ آپ کو دیکھ رہی ہے

    لکھنے والوں میں ایک دوسرے سے ان کہا تعلق ہوتا ہے۔ کوئی بھلے اپنے پندار میں تسلیم نہیں کرے لیکن لکھنے والوں کو ایک دوسرے کی تحریر سے رہنمائی ملتی ہے۔ کہیں اپنی کسی رائے کی تصدیق ہونے سے حوصلہ بڑھتا ہے تو کہیں کسی اختلافی رائے سے نئے زاویے روشن ہوتے ہیں۔  کسی تحریر سے بات کہنے [..]مزید پڑھیں

  • حالات کی سنگینی سے لاتعلق حکمران

    پرانے قرضوں کے جرم پر تحریک انصاف کے راہنما ہر وقت شور مچاتے رہتے ہیں جبکہ وہ نئے قرضوں کے حصول پر جشن مناتے ہیں۔ اور عوام کو یہ خوشخبریاں دیتے ہیں کہ ان کی حکومت پر عالمی مالیاتی اداروں اور اسلامی برادر ممالک کا اعتماد ہے۔ لہذا اسی لیے انہیں قرضے دیئے جا رہے ہیں۔  مہنگائی ک [..]مزید پڑھیں

loading...
  • علی سردار جعفری کا وصیّت نامہ

    آج علی سردار جعفری صاحب کے انتقال کو انیس برس گزر گئے ہیں۔ ادب میں ان کے نام اور ان کے کام کے حوالے سے انہیں یاد کرنے والے بہت کچھ لکھ رہے ہیں اور آگے بھی لکھتے رہیں گے۔ میں آج صرف ان کی روز مرہ زندگی کے حوالے سے مختصراً اپنی یادداشت کو سمیٹنے کی کوشش کروں گی۔ میں انیس سو چوراسی [..]مزید پڑھیں

  • سٹاپ پریس: ہیرالڈ کی یاد میں

    انگریزی جریدے ہیرالڈ نے جولائی کے مہینے میں اپنی بندش کا اعلان کیا تو گویا انگریزی صحافت کے ایک پورے عہد کا اختتام ہوگیا۔ایک ایسا جریدہ جس نے پاکستان میں تحقیقاتی صحافت کو ایک نئی جہت دی۔ جس نے تجزیاتی رپورٹوں میں ایک نیا معیار قائم کیا اور اصولوں پر سمجھوتہ کیے بغیر اس شان و ش [..]مزید پڑھیں

  • افغان بحران کا حل

    اس وقت  دنیا  کے علاہ خطہ کے ممالک کی توجہ کا مرکز افغانستان  کا بحران اور اس  کا حل ہے۔ نئے سیاسی امکانات افغان بحران کے تناظر میں پیدا ہورہے ہیں۔ ان امکانات نے  دنیاکو ایک نئی امید دی ہے۔ کیونکہ افغان بحران کا حل محض افغانستان کے داخلی معاملات تک محدود نہیں بلکہ&n [..]مزید پڑھیں

  • کیا ہتھکڑی غلط ہتھکنڈا ہے؟

    آج کل ہتھکڑی کے غلط استعمال پر شور ہے۔ احتجاج ہو رہا ہے۔ مگر ایک ہتھکڑی کا کیا رونا۔ یہاں قدم قدم پر دیکھی، ان دیکھی ہتھکڑیاں اور بیڑیاں ہیں۔ جہاں پورا سماج طرح طرح کی ہتھکڑیوں میں جکڑا ہو۔ جہاں قدم قدم پر ظلم و نا انصافی کی داستانیں ہوں۔ وہاں کسی ایک آدھ شخص کو ہتھکڑی لگ جانے [..]مزید پڑھیں

  • جمہوریت پسند دوستوں سے چند گزارشات

    ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حالیہ برسوں میں ملکی سیاست میں غیر ذمہ دارانہ لب و لہجے اور ذاتیات کی حد تک اترنے والی دشمنی نما مخالفت کا جو چلن شروع ہوا ہے اس نے صرف ایک گروہ ہی کو متاثر نہیں کیا بلکہ قوم کا اجتماعی مزاج اب اپنے سیاسی مخالفین کے لئے ’چول‘ (استغفراللہ) اور ’لفافہ&l [..]مزید پڑھیں

  • جو نہ بولے جے شری رام۔ ۔ ۔

    اس وقت شمالی بھارت میں بہار اور یوپی سے راجستھان تک جو گیت سوشل میڈیا پر وائرل ہے، وہ کوئی بالی وڈ گانا نہیں بلکہ نوجوان لڑکے لڑکیوں کے ایک نجی بینڈ کا گیت ہے: بھگوا دھاری سب پے بھاری، چلے ہیں اپنا سینہ تان جو نہ بولے جے شری رام، بھیجو اس کو قبرستان جتنے بھی ہیں رام ورودھی، ان [..]مزید پڑھیں