تبصرے تجزئیے

  • ڈیل کی خبریں اور مولانا کا دھرنا

    عمران خان رطب اللسان ہیں کہ پابند سلاسل میاں نواز شریف، آصف زرداری سمیت کسی کے ساتھ کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ چند روز قبل بھی وزیراعظم نے اپنے اس عزم مصمم کا دو ٹوک اظہار کیا تھا۔  ان کے مطابق ملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ احتساب کا عمل سیاسی مداخلت سے پاک ہے۔ دوسری طرف اپوزیشن ک [..]مزید پڑھیں

  • کیا عبایہ ایک مذہبی مسئلہ ہے؟

    لشکری میدان میں اتر چکے۔ طبلِ جنگ بج رہا ہے۔ تلواریں بے نیام ہو چکیں۔ اس بار معرکہ اس پر برپا ہے کہ عبایہ بالجبر پہنایا جا سکتا ہے یا نہیں؟ دیکھیے میدان کس کے ہاتھ رہتا ہے۔ ایسا منظرنامہ کب تشکیل پاتا ہے؟ نقطہ نظر کا اختلاف معیوب نہیں بلکہ مطلوب ہے۔ اسی سے انسان کا سماجی ارتقا [..]مزید پڑھیں

  • آئی ایم ایف کی خوش گمانی کی خیر ہو

    پاکستان کی معیشت درست سمت کی طرف گامزن ہے۔ اصلاحات کا عمل جاری ہے اور مشکل فیصلے لئے جا رہے ہیں۔ ایک سال تک بہتری کے آثار نظر آنا شروع ہو جائیں گے۔ آئی ایم ایف کے وفد کی پاکستان کے دورے کے بعد میڈیا ٹاک اور اعلامیے کا خلاصہ کچھ ان الفاظ میں سامنے آیا۔ آئی ایم ایف کی خوش گمانی کی [..]مزید پڑھیں

loading...
  • کشمیرپر پاکستانی مؤقف کی پسپائی

    وزیر اعظم عمران خان کا یہ بیان پاکستان کی طرف سے مقبوضہ کشمیر میں ہندوستان سے آزادی کی مسلح جدوجہد سے مکمل لاتعلقی کے اعلان کے طور پر دیکھا جا رہا ہے کہ جس میں انہوں نے یہ کہا ہے کہ پاکستان سے مقبوضہ کشمیر جاکر لڑنے والا پاکستان اور کشمیریوں دونوں کا دشمن ہوگا۔ جس کو جواز بنا کر [..]مزید پڑھیں

  • ملتان کے ہندو: اپنے دیس کے اجنبی

    پانچ ہزار سال سے آباد دنیا کے قدیم ترین شہروں میں شمار ہونے والے شہر ملتان میں یوں تو مختلف اقلیتیں آباد ہیں لیکن ماضی کے حوالے سے ملتان کی بنیادی پہچان ہندو مت کو قرار دیا جاتا ہے۔ ہزاروں سال قبل ملتان ہندوﺅں کا مرکز ہوتا تھا اور مؤرخین کے مطابق یہاں ہندوﺅں کا سب سے بڑا میلہ [..]مزید پڑھیں

  • تعلیم اور والدین دوہرے شکنجے میں

    ہمیں شکایات موصول ہو رہی ہیں، والدین احتجاج کر رہے ہیں کہ  مختلف جگہوں  پر سپریم کورٹ کے حکم کے باوجود  فیسوں میں زیادہ تناسب سے اضافہ کیا گیا ہے۔  میں ایسے اسکولوں کو تنبیہ کرتا ہوں کہ  فیصلے کی خلاف ورزی کی صورت میں حکومت سخت ایکشن لے گی۔ ہمیں یہ  شکایات بھی  م [..]مزید پڑھیں

  • غم نہ داری بز بخر۔۔۔

    محاورہ ہے ”غم نہ داری بز بخر‘‘۔ اگر آپ کو کوئی غم نہ ہو تو ایک بکری خرید لو۔ پھر آپ کی زندگی میں غم ہی غم اور دکھ ہی دکھ رہ جائیں گے۔ پریم چند نے اسی عنوان سے افسانہ بھی لکھا ہے۔ ایک صاحب نہایت آرام اور سکون کے ساتھ زندگی گزار رہے تھے۔ انہیں کوئی غم اور کوئی دکھ نہیں ت [..]مزید پڑھیں

  • حکمرانی کا طرز فکر بدلنا ہوگا

    پاکستان میں حکمرانی کا نظام ہمیشہ سے سوالیہ نشان کے طور پر موجود ہے۔ سول حکمرانی ہو یا فوجی حکمرانی کے ادوار سب نظاموں میں حکمران لوگوں کی  توقعات اور خواہشات  پر پورا نہیں اتر سکے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ حکومت کسی کی بھی ہو لوگ  نظام حکومت سے ہمیشہ ہی نالاں نظر آتے ہیں۔  اس ک [..]مزید پڑھیں

  • طاہر القادری: روحانی پیشوائی سے سیاسی پسپائی تک

    نصف صدی پہلے وہ پنجاب کے ایک پیش پا افتادہ شہر جھنگ سے نکلا تھا۔ درس نظامی مکمل کرکے اس نے اپنے والد کی دیرینہ خواہش پوری کر دی تھی۔ اب اپنے خوابوں کی جوت جگائے، یہ نگر نگر کی ریت چھاننے لگا۔ پھر ایک روز قسمت اچانک سے اس پر مہربان ہو گئی۔ لاہور شہر کے لوہے کے تاجر میاں محمد شریف [..]مزید پڑھیں