معزز صارفین ہماری ویب سائٹ اپ ڈیٹ ہو رہی ہے۔ اگر آپ کو ویب سائٹ دیکھنے میں دشواری پیش آرہی ہے تو ہمیں اپنی رائے سے آگاہ کریں شکریہ

دوستوں سے گلہ گزاری

  وقت اشاعت: 07 اپریل 2018 تحریر: مسعود مُنّور

واں پہ رہتا ہوں جہاں برف پڑی ہوتی ہے
ہر گھڑی میری جُدائی کی گھڑی ہوتی ہے
ایک وکیل صاحب سے ، جو لندن میں رہتے ہیں ، میری الیکٹرانک قلمی دوستی ہے ۔ وہ صرف وکیل ہی نہیں ، کالم نگار بھی ہیں اور زندگی کے اداکار بھی ۔ وہ سیاسی پناہ کے طالبوں کو قانونی مدد فراہم کرتے ہیں اور اُن کو برطانیہ میں اقامتی ویزہ دلواتے ہیں ۔ میں نے اُن سے گزارش کی کہ کیا وہ مجھے پاکستان میں سیاسی پناہ دلا سکتے ہیں ، تو اُنہوں نے معذرت کرلی ۔ پاکستان میں صرف کرپشن پناہ دیتی ہے اور خود  موجودہ چیف جسٹس سے پناہ مانگتی ہے ۔

دو  تین برس پہلے میں نے ، اوسلو کے پاکستانی سفارت خانے کے توسط سے ، جب نادرا بی بی کی ایک برانچ یہاں قائم تھی ، اوریجن کارڈ کے لیے درخواست تیار کی اور جب وہ کاغذات قبول کرنے کی باری آئی تو بہت سے اعتراضات کی بوچھاڑ ہونے لگی ۔ پاکستان کے پرائمری سکول ، میٹرک  اور ایف اے کے سرٹیفکیٹ ، پنجاب یونی ورسٹی کی ڈگری ، روزنامہ آزاد لاہور میں بطور سب ایڈیٹر کام کرنے کا سرٹیفکیٹ ، جس پر حمید اختر مرحوم کے دستخط ہیں ، پی ٹی وی لاہور اور لاہور ریڈیو کے سٹیشن ڈائریکٹروں کی تحریری اسناد بھی درخواست کے ساتھ منسلک کی گئیں۔ لیکن کہا گیا کہ یونین کونسل کا سرٹیفکیٹ لاؤ ۔ عرض کیا کہ 1944 میں کوئی یونین کونسل نہیں تھی ۔ تب برطانوی ہندوستان تھا  اور میں یہاں اس پردیس میں بیٹھ کر سن چوالیس کا سفر نہیں کر سکتا کہ اُس وقت کے پیدائش و اموات کے رجسٹر کی نقل حاصل کر سکوں ۔ تب کہا گیا کہ والدین کی رہائش کا ایڈریس دو ۔ تو عرض کیا کہ وہ چنیوٹ میں حافظ دیوان قبرستان میں اپنی اپنی قبر میں ریتے ہیں ، اُن سے خود جا کر پوچھ لیجیے ۔ پھر کہا گیا کہ سگے بہن یا بھائی کا ایڈرس بتاؤ ۔ عرض کیا کہ دو بہنیں تھیں ، دونوں اب اس دنیا میں نہیں لیکن چچا ، ماموں تایا اور پھوپھی کی اولادیں ہیں  تو جواب ملا کہ وہ اوریجن کارڈ  کے اجرا کی بنیاد نہیں بن سکتے ۔

میں نے ایک صحافی دوست سے ، جو اب صحافت سے تو تائب ہو چکے ہیں ، مگر قلم ( اُنگلی نہیں ) کرنے سے باز نہیں آتے ، مشورہ مانگا تو  بولے مال خرچ کرو ۔ عرض کیا ، میں نہ تو رشوت دینے والوں میں سے ہوں اور نہ لینے والوں کو پسند کرتا ہوں ، تو وہ بولے ، " فیر بھائی جتھے ہیں ، اوتھے ہی رہو " ۔ چنانچہ میں نے اب پاکستان میں سیاسی پناہ کی خواہش ترک کر دی ہے کیونکہ میرا اوریجن آسمان میں ہے ۔ شاہد اسی لیے میں نے اپنے نشہ  سُخن میں کہا تھا:
زمین میرے لیے سیر گاہ ہے مسعود
میں شمس زاد ہوں نیلے گگن میں رہتا ہوں

اور نیلے گگن میں رہنے والوں کی کوئی نیشنلٹی نہیں ہوتی ۔ اس جیسے بیانات پر میرے ایک صحافی دوست نے جو میرے رفیقِ کار تھے ، مجھ پر عمر رسیدگی کے نتیجے کے طور پر مذہبی ہو جانے کا الزام لگا دیا ۔ نہیں بھائی ایسی کوئی بات نہیں ۔ مذہب تو قانون ہے ۔ سہ آتشہ قانون ۔ جو اللہ کے قانون ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قانون اور حاکمِ وقت کے قانون سے مل کر ایک تکون بناتا ہے ۔ یہ تکون انسانی معاشرتی زندگی کی بنیاد تکون ہے ۔ یہ فیثا غورث کی مثلث سے بھی زیادہ اہم اور  اساسی ہے ۔ لیکن ہم لوگ قانون سے ماورا لوگ ہیں ۔ جہاں قانون کی پابندی کی بات ہو وہاں ہمیں موت پڑتی ہے لیکن قانون سازی اور قانون کی تشریح و توجیہہ ہماری ذہنی عیاشی کے سامان  ہیں ۔

یہ وہ نشہ ہے جو وکیل کرتا ہے ، ملا کرتا ہے، سیاستدان کرتا ہے اور حکمرانوں کا پالتو دانشور کرتا ہے ۔ بالکل اُن شاعروں کی طرح جو جو اپنی غزلوں میں محبت کی تسبیح پڑھتے ہیں لیکن اُن کی ذاتی زندگیاں نفرتوں کا شاندار ارژنگ ہوتی ہیں ۔ اور میں بھی اُنہی میں سے ایک ہوں ۔
 

آپ کا تبصرہ

Donald Trump's policy towards Pakistan

Donald Trump's; the president of US war of tweets was a fierce attack on Pakistan, accusing the country of "lies and deceit" and making "fools" of US leaders. Trump decla

Read more

loading...