معزز صارفین ہماری ویب سائٹ اپ ڈیٹ ہو رہی ہے۔ اگر آپ کو ویب سائٹ دیکھنے میں دشواری پیش آرہی ہے تو ہمیں اپنی رائے سے آگاہ کریں شکریہ

آدابِ حکمرانی

  وقت اشاعت: 17 مارچ 2018 تحریر: مسعود مُنّور

کئی دہائیاں پہلے فارسی کی ایک کتاب پڑھی ۔ نام تھا " نصیحت الملوک" ۔ یہ حکمرانوں کو کی جانے والی نصیحتوں اور مشوروں پر مشتمل تھی ۔ چونکہ میں اُس وقت اپنی ذات تک کا بھی حکمران نہیں تھا ، اس لیے میں نے اُس کتاب کو بہشتی زیور کی طرح کا شاہی زیور سمجھا اور نظر انداز کردیا۔

پاکستان کی موجودہ سیاسی ابتری کے بارے میں ایک مضمون پڑھتے ہوئے نہ جانے کہاں سے نوشیرواں کی ایک حکایت نے یاد کے کسی بعید  گوشے سے آواز دی کہ ایک نصیحت تیرے پاس بھی ہے ، ارے ہاں ہے ، جو میں پاکستان کے حکمرانوں کو بھجوانا چاہتا ہوں لیکن پھر مجھ میں سے کسی آواز نے کہا کہ اپنی اوقات میں رہ اور یہ کہانی کاغذ کو سُنا دے ، کمپیوٹر سے کہہ دے یا پھر ہوا کے کان میں پھونک دے ۔ چنانچہ اپنے اندر کی آواز پر سرِ تسلیم خم کر کے میں نے ہوا کے کان میں وہ حکایت دوہرا دی ہے اور اب جو لوگ میری اس تحریر کو پڑھ رہے ہیں ، وہ میرے گواہ ٹھہریں گے:

حکایت
کہتے ہیں کہ ایک بار ایرانِ کبیر کا عادل حکمران نوشیروان شکار کو نکلا اور جنگل میں خیام نصب کر کے بارگاہ بنائی اور  شکا رکے لیے کمر بستہ ہوا ۔ اُس نے ایک آہو شکار کیا اور صاحبِ مطبخ کو حکم دیا کہ اسے بریاں کیا جائے ۔ صاحبِ مطبخ نے ہرن کو بریاں کرنے کے لیے جب مسالوں کی الماری کھولی تو نمک نہ پایا ۔ بادشاہ کو اطلاع کی گئی ۔ صاحبِ مطبخ کا سندیسہ سُن کر نوشیرواں نے اپنے مصاحب احد چیمہ کو نواحی بستی سے نمک لانے کا حکم دیا ۔ درباری احد چیمہ اس مہم پر روانہ ہوا اور اپنا گھوڑا سر پٹ دوڑاتا گیا اور  سرپٹ دوڑاتا نمک بدست شکار گاہ کو پلٹ آ یا اور بادشاہ سے بولا ، " لیجیے حضور! حکم کی تعمیل ہوئی۔"
نمک کا پیکٹ دیکھ کر بادشاہ نے استفسار کیا :  " کتنے میں لائے ؟" ۔ تو احد چیمہ نے ممیا کر کہا کہ حضور مُفت ملا ۔ یہ جواب سن کر نوشیرواں نے سرزنش کے لہجے میں کہا کہ جا اور نمک کی قیمت دے کر آ ۔ کیونکہ اگر آج بادشاہ نے رعایا کا نمک مُفت کھالیا تو کل کلاں تم احد چیمہ اور دوسرے درباری رعایا کی بوٹیاں تک  نوچ لیں گے اور ہڈیاں بھی چبا جائیں گے ۔

لیکن اس زمانے کے احد چیموں کو اگر اپنے بادشاہ کی مصاحبی کا منصب حاصل ہو تو  وہ عوام کا نمک تو کیا، پورا نمک دان بلکہ کھیوڑہ کی کان تک ہڑپ کرنے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں رہنے دیتے ۔ اب تو ان خوشامدیوں میں ایسے ایسے نگینے پائے جاتے ہیں جو اپنے حکمرانوں کی کاسہ لیسی میں زمین و آسمان کے قلابے تک ملا دیتے ہیں اور اُن کی شان میں " عہدِ حاضر کا عمر فاروق " جیسی کتابیں لکھ مارتے ہیں ۔ واضح رہے کہ کتاب لکھنا اور کتاب لکھ مارنا دو الگ الگ معاملات ہیں ۔ اس سیاسی عہد میں ، بلکہ احد میں جو چیمہ بھی ہے ایسے ایسے مصنفین ، ایسے ایسے سیاسی مُغبچے اور مُغبچیاں سینکڑوں کی تعداد میں دستیاب ہیں جو اونٹ کی لید کو بالِ ہُما ثابت کر سکتے ہیں ، میاں محمد نواز شریف کی موجودہ سیاسی زندگی کے ٹرائل  کا پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی سے موازنہ کر سکتے ہیں اور ایسی ایسی سیاسی شہزادیاں ہیں جو اپنی مماثلت خاتونِ ؑ جنت سے کرنے سے بھی گریز نہیں کرتیں ۔

یہ ہماری بد قسمتی ہے کہ ہم دجل و فریب کے  ایسے عہد میں جی رہے ہیں  جس میں زندگی کا ہر شعبہ شو بزنس کے عارضے  میں مبتلا ہے۔ مذہب سے لے کر ادب تک ، صحافت سے لے کر سیاست تک سب کے سب شو بزنس کے مارے ہوئے ہیں ۔ اور اسی پر بس نہیں ، بلکہ تعلیم بھی سندوں اور ڈگریوں کی پُڑیوں میں بکتی ہے ۔ مطلوبہ رقم دیجیے اور ماسٹر سے لے کر پی ایچ ڈی تک کی ڈگری گھر بیٹھے لیجیے ۔ یہ عہد ایسے لوگوں کی وجہ سے جھوٹے ولیوں اور خطیبوں کا عہد بن کر رہ گیا ہے جن کے پاس ہر سیاہ کو سفید کرنے کا ہُنر ہے ۔ ہر مذہبی تنظیم کے صنم خانے میں انا کے بُت نصب ہیں جن کی پوجا ہوتی ہے اور میں اپنے اس بیان پر اقبال کی گواہی بھی لایا ہوں :
شہری ہو ۔ دیہاتی ہو ، مُسلمان ہے سادہ
مانندِ بُتاں ،  پُجتے ہیں ،  کعبے کے برہمن

جس طرح کے حالات کے ہم قیدی ہیں ، اُن میں حکومت ، کاروبارِ ریاست ، اتحاد ، قانون ، نظم و ضبط اور ایمان کے تصورات نابود ہو جاتے ہیں اور تب پولیس کا  ہر تھانہ قانون فروشی کا ڈپو بن جاتا ہے ۔ جہاں حسبِ ضرورت قانون کے گرما گرم سموسے ملتے ہیں جنہیں کھا کر مجرم کا جرم زائل ہوجاتا ہے اور مجرم دودھ کا دھلا قرار پاتا ہے ۔آپ مطلوبہ رقم ادا کیجیے اور قاتل سے لے کر دہشت گرد تک چھڑوا لیجیے اور اگر آپ کے پاس پولیس کا بل ادا کرنے کے لیے رقم نہیں تو پھر آپ نقیب اللہ ہیں اور کوئی بے رحم اور ظالم راؤ انوار آپ کو  جعلی پولیس مقابلے کا نوالہ بنا دے گا  اور خود اس طرح رو پوش اور غائب ہو جائے گا  جیسے گدھے کے سر سے سینگ ۔ لیکن اس عہد میں تو گدھوں نے بھی حالات کو بھانپ کر سینگ لگوا لیے ہیں اور یا تو  وہ جون پور کے قاضی کی طرح اعلیٰ عہدے پر فائز ہیں یا قانون ساز اسمبلیوں میں بیٹھے شرم و حیا کا سوت کات رہے ہیں ۔ اور جب انہیں چھیڑا جائے تو اتنی بھیانک آواز میں ڈھینچوں راگ گاتے ہیں کہ الامان ۔ کان پھٹے پڑتے ہیں ۔ یہی وہ صورتِ حال تھی جس نے اقبال کو جمہوریت کے بارے میں یہ بیان رقم کرنا پڑا کہ :
گریز از طرزِ جمہوری غُلامے پُختی کارے شو
کہ از مغزِ دو صد خر ، فکرِ انسانی نمی آید
( دیکھیے سیاست دانوں کو خر میں نے نہیں ، اقبال نے کہا ہے، میں بری الذمہ ہوں ) ۔

لیکن اب اسی قماش کے بارہ چودہ سو گدھے ملک کی باگ ڈور سنبھالے ہوئے ہیں اور میڈیا کے ذریعے اپنے ترقیاتی کاموں کی پبلی سٹی کرتے رہتے ہیں اور وہ اس وہم میں مبتلا ہیں کہ خرکار قبیلے کا یہ عہدِ خرافات ہمیشہ قائم و دائم رہے گا ۔ وما علینا الالبلاغ
 

آپ کا تبصرہ

Donald Trump's policy towards Pakistan

Donald Trump's; the president of US war of tweets was a fierce attack on Pakistan, accusing the country of "lies and deceit" and making "fools" of US leaders. Trump decla

Read more

loading...