معزز صارفین ہماری ویب سائٹ اپ ڈیٹ ہو رہی ہے۔ اگر آپ کو ویب سائٹ دیکھنے میں دشواری پیش آرہی ہے تو ہمیں اپنی رائے سے آگاہ کریں شکریہ

دھرنا کلچر کی روایت

  وقت اشاعت: 18 فروری 2018 تحریر: مسعود مُنّور

دھرنا عوامی دباؤ کی علامت ہے اور پچھلے چند سالوں سے یہ روایت پاکستان کی سیاسی جماعتوں کے منظم مظاہروں میں بڑی سرعت اور تواتر سے دوہرائی جا رہی ہے ۔ اِن دھرنوں میں ڈاکٹر طاہر القادری  کا دھرنا ، تحریکِ انصاف کے عمران خان کا دھرنا اور تحریکِ لبیک یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم) دھرنا قابلِ ذکر ہیں جنہیں سیاسی دھرنوں کے طور پر تاریخ میں بطور حوالہ پیش کیا جاتا رہے گا۔ لیکن اس وقت میں جس دھرنے کی بات کر رہا ہوں وہ محسود قبیلے کے پشتونوں کا دھرنا ہے جو ریاستی دہشت گردی کے خلاف دیا جا رہا ہے ۔

عوامی دباؤ کی تحریکیں ما قبلِ بنگلہ دیش کے زمانے سے چل رہی ہیں جب نیشنل عوامی پارٹی کے لیڈر مولانا عبد الحمید خان بھاشانی نے اردو کے لُغوی ذخیرے میں دو الفاظ سیاسی حوالے سے داخل کیے جن میں ایک جلاؤ اور دوسرا گھیراؤ تھا ۔ ان دو الفاظ نے شاعری میں بھی مداخلت کی اور میرے دوست صدیق افغانی مرحوم نے غزل کہی جس کا مطلع مجھے آج بھی یاد ہے :
وہ ستم گر ہے تو اُس کا سخت گھیراؤ کریں
اُس کے شیشے کے مکاں پر مل کے پتھراؤ کریں

اب جلاؤ اور گھیراؤ کا زمانہ تو نہیں لیکن سڑکیں اب بھی بلاک ہوتی ہیں ، جن پر ٹائروں کو آگ لگائی جاتی ہے، راستے بند کیے جاتے ہیں اور پولیس پر پتھراؤ ہوتا ہے ۔ یہ وہ آخری حربہ ہے جسے سیاسی اور مذہبی جماعتیں دوہراتی ہیں تاکہ وہ اپنے سیاسی اور مذہبی مطالبات منوا سکیں ۔ عوام کی طرف سے یہ انتہائی ردِ عمل اُس وقت  آتا ہے جب اُن کی رائے یعنی ووٹ کی توہین ہو رہی ہو ۔ یعنی ووٹ لینے والے ووٹ کی حُرمت کا پاس نہ کرتے ہوئے عوام کو اُن کے حقوق نہ دے رہے ہوں ۔ عام آدمی کی مشکلات کا مداوا نہ ہو رہا ہو  جسے سیاستدان اور صحافی ڈلیور نہ کر سکنا کہتے ہیں ۔ لیکن حکمرانوں کے فکری دائرے میں ووٹ کی توہین کی ایک اپنی تعریف ہے کہ وہ اس کی آڑ میں احتساب سے بچنا چاہتے ہیں اور وہ مینڈیٹ کو کرپشن اور منی لانڈرنگ کا لائسنس گردانتے ہیں ۔ اور اِس پر ستم ظریفی یہ کہ وہ  اِس لائسنس کی آڑ میں ہر جُرم کو روا سمجھتے ہیں اور پولیس کو اپنا ذاتی ملازم سمجھتے ہیں جس سے قانون کی بالادستی مفقود ہو جاتی ہے ۔ اور اسی قسم کے ایک بہادر بچے راؤ انوار نے محسود قبیلے کے ایک خوبصورت نوجوان نقیب اللہ کا شکار کھیلا اور لاش کے اوپر سے پھلانگ کر گدھے کے سر سے سینگوں کی طرح غائب ہو گئے ۔

نقیب اللہ جنوبی وزیرستان کا ایک چھبیس سالہ نوجوان تھا جس کے خاندان کے افراد " راہِ نجات" نامی فوجی کارروائی کے دوران مہاجر ہو کر اپنے آبائی گھر سے محروم ہو گئے تھے۔ اس اتھل پتھل میں نقیب اللہ نقلِ مکانی کرکے کراچی آ گئے جہاں وہ مزدوری کرنے لگے ۔ نقیب اللہ ایک خوبرو اور خوش پوش نوجوان تھے جن کے فیس بُک پر مداحوں کی تعداد چھبیس ہزار کے لگ بھگ تھی ۔ وہ ماڈل بننا چاہتے تھے لیکن 13 جنوری کو اُنہیں ایس ایس پی ملیر راؤ انوار نے ایک جعلی پولیس مقابلے میں ہلاک کر دیا ۔  اُس کے بعد جو ہوا وہ سب کو معلوم ہے لیکن اِس کا نمایاں پہلو یہ ہے کہ اس قتل کے خلاف محسود قبیلے کے پشتونوں نے کراچی میں انصاف طلبی کے لیے دھرنا دے رکھا ہے ۔ اس سانحے کا تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ اس قتل کے خلاف پشتون سراپا غیض  و غضب ہیں اور نقیب اللہ کے کراچی والے گھر میں ایک تعزیتی کیمپ قائم ہے جہاں اُن سب مقتولین کے لواحقین بھی شریک ہیں جنہیں راؤ انوار نے مختلف اوقات میں ، مختلف مقامات پر جعلی پولیس مقابلوں میں ہلاک کیا تھا ۔ ایک اخباری رپورٹ کے مطابق زرداری صاحب کا ممدوح یہ بہادر بچہ چار سو چوالیس افراد کو قتل کر چکا ہے ۔

یہ خبریں بھی گردش میں ہیں  کہ مختلف علاقوں کے پشتون جو  فاٹا ، خیبر پختونخواہ اور بلوچستان میں مقیم ہیں، لانگ مارچ  کرکے اسلام آباد پریس کلب کے سامنے مظاہرے کے حق میں ہیں تاکہ اس قتل پر انصاف کی دہائی دی جا سکے ۔ اُن کا مطالبہ ہے کہ راؤ انوار کو گرفتار کرکے قرارِ واقعی سزا دی جائے لیکن راؤ انوار سلیمانی ٹوپی پہن کر ہر شخص کی نظروں سے اوجھل ہیں اور پولیس سمیت سارے اداروں کی نظریں اُنہیں تلاش کرنے سے معذور ہیں ۔

اس سانحے کا سب سے سنگین پہلو یہ ہے کہ اس ماورائے عدالت قتل نے اُن پشتونوں کو جو 2001 سے ریاستی جبر کا شکار ہیں ، ایک ایسا صدمہ پہنچایا ہے جس نے اُن کی نیندیں اُڑا دی ہیں ، جسے پاکستانی حکمرانوں اور فوجی اداروں کو سنجیدگی سے لینا چاہیے اور اُس کے مطالبات کا شافی جواب دینا چاہیے ورنہ ۔۔۔ ورنہ کیا ؟
ورنہ خُدا خیر کرے ۔
 

آپ کا تبصرہ

Donald Trump's policy towards Pakistan

Donald Trump's; the president of US war of tweets was a fierce attack on Pakistan, accusing the country of "lies and deceit" and making "fools" of US leaders. Trump decla

Read more

loading...