معزز صارفین ہماری ویب سائٹ اپ ڈیٹ ہو رہی ہے۔ اگر آپ کو ویب سائٹ دیکھنے میں دشواری پیش آرہی ہے تو ہمیں اپنی رائے سے آگاہ کریں شکریہ

سیاستدان اور خربوزے

  وقت اشاعت: 09 فروری 2018 تحریر: مسعود مُنّور

خربوزہ ،  خربوزے کو دیکھ کر رنگ پکڑتا ہے حالانکہ خربوزوں کی آنکھیں نہیں ہوتیں اور سیاستدان سیاستدان کو دیکھ کر رنگ پکڑتا ہے اور بالکل خربوزہ لگتا ہے جس میں زور خر پر ہوتا ہے ۔ چونکہ سیاستدان کی آنکھیں ہوتی ہیں اس لیے وہ دیکھ بھال کر رنگ پکڑتا ہے اور کرپشن اور منی لانڈرنگ کی جادوگری کو ایک دوسرے کی دیکھا دیکھی جائز سمجھتا ہے ۔ آج ایم کیو ایم کے خربوزے کامران ٹیسوری کو ایک پریس کانفرنس میں یہ کہتے سنا کہ سیاست اور کرپشن لازم و ملزوم ہیں ۔

اگر سیاستدان ایسا سوچتے ہیں تو عوام بھی اُنہی کی کاپی کرتے ہیں اور اُنہی کی راہ پر چلتے ہیں اور ٹیسوری کے اس بیان کا مطلب یہ لیتے ہیں کہ سٹریٹ کرائم اور عوام لازم و ملزوم ہیں ، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ پاکستان وہ اسلامی جمہوری ملک ہے جہاں الفاظ کے حقیقی مفہوم میں اسلام ہے نہ جمہوریت ۔ یہ سب سیاستدانوں کے میڈیا سٹنٹ ہیں جن کے ذریعے یہ خربوزے یعنی سیاسی مکڑے ووٹوں کی کاغذی مکھیاں شکار کرتے ہیں۔ اور اُنہیں بنک سے کیش کرواتے ہیں ۔ چنانچہ سٹریٹ کرائم چائے خانوں میں چائے نوشی کی طرح کا مشغلہ بن گیا ہے ، جس کا دوسرا درجہ ڈاکہ زنی ہے اور تیسرا  درجہ وردی پہن کر سیاست دانوں کے مفاد کے لیے راؤ انوار اور عابد باکسر بننا ہے  اور قبضہ مافیا کی خدمت بجا لانا  اور پھر چھپ کر دوبئی چلے جانا ہے۔ شریفوں اور زرداریوں کے موجودہ پاکستان   میں رہزنی اوررسہ گیری ایک باقاعدہ پیشہ ہے جس کے کئی جدید نام ہیں جیسے آف شور کمپنی ، قطری خط اور لندن کے ہسپتال میں سیاسی بیماری وغیرہ ۔

یہ کام اعلیٰ سرکاری عہدوں پر بیٹھ کر قلم سے رقوم منتقل کریں یا لوگوں کے گھروں میں نقب لگا کرلُوٹ مار کریں ، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ، صرف کمزور اور غریب ہونے سے فرق پڑتا ہے کیونکہ کمزور  اور غریب آدمی کی زندگی جہنم ہوتی ہے ۔ اور وہ اس لیے کہ پاکستان کے نظریاتی اور ارضیاتی وجود میں کرپشن کے عفریت نے پنجے گاڑ رکھے ہیں اور ایک طویل عرصہ گزر جانے کے بعد بھی  اب تک یہ پتہ نہیں چلا کہ سیاست دانوں کی پروردہ ماڈل گرل ایان علی کو گرفتار کرنے والے کسٹم انسپکٹر کو کس نے قتل کیا تھا اور اُس کے بیوی بچے اب کس حال میں ہیں۔  پاکستان میں سیاسی قتل جب بھی ہوتا ہے ایک معمّا بن جاتا ہے اور پھر  وقت کے ساتھ طاقِ نسیاں کی زینت بن جاتا ہے۔ مثال کے طور پر چند ایک چیدہ نام گنوائے جا سکتے ہیں کہ لیاقت علی خان سے لے کر بے نظیر تک اور میر مرتضیٰ بھٹو سے لے کر نقیب اللہ محسود تک موت کے  ان گنت معمے ہیں جو حل نہیں ہو پا رہے ۔

اور ستم ظریفی کی بات یہ ہے کہ دن رات انصاف کی دہائی دینے والے دانشور ، وکیل ، مُلا اور میڈیا مداری بے انصافی اور ظُلم کی دلدل میں گردن تک دھنسے ہیں مگر اُن کا میڈیا شو جاری ہے جس میں وہ انصاف ، مساوات، انسانی حقوق اور ناموسِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کے تحفظ کے نعرے لگاتے ہیں حالانکہ ستر برس گزر جانے کے بعد بھی یہ بانجھ نعرے عملی اقدامات کی فصل نہیں دے سکے ۔ پاکستانی سیاست دانوں کی ایک دوسرے پر الزام تراشی دیکھ کر مجھے سکول کی کلاس یاد آتی ہے کہ جب استاد یا استانی کسی طالبہ یا طالبعلم کو کسی غلط روی یا غیر نصابی سرگرمی پر ٹوکیں تو بچے فوراً دوسروں کی طرف اشارہ کر کے کہتے کہ وہ بھی تو یہی کر رہے ہیں ۔ اس طرح اپنی غلط روی کا وہ جواز فراہم کرتے ہیں کہ جب ایک بچہ کام سے جی چراتا ہے تو دوسرا کیوں نہیں ایسا کر سکتا۔

ہمارے سیاستدان بھی اسی قسم کے بچے ہیں جو دوسرے کو الزام دے کر اپنی کرپشن اور اپنی منی لانڈرنگ کا قانونی جواز حاصل کرنا چاہتے ہیں تاکہ وہ خود کو بری الذمہ محسوس کر سکیں ۔ گویا اُن کا ذہن بچپن کی نا پُختہ کاری سے نکل کر علم و فکر کی بلوغت اور سنجیدگی تک نہیں پہنچا ۔ اور اس بات کی تصدیق آج کامران ٹیسوری نے یہ کہہ کر کردی  ہے کہ سیاست اور کرپشن لازم و ملزوم ہیں یعنی کرپشن سیاست ہے اور سیاست کرپشن ۔ اور اس جرم میں لیڈر اور کارکن ، قلمکار اور قاری ، پیر اور مرید ، امام اور مقتدی ، سول اور عسکری سب ایک ہی فضا میں سانس لیتے ہیں مگر وہ نہیں جانتے کہ اُن کی زندگی خُدا کی عدالت اور احتساب کی کچہری ہے جبکہ عوام کی عدالت کا تھیٹر تو عدالتِ عظمیٰ کے سامنے قانونی جواب دہی سے بھاگنے کا بھونڈا بہانہ ہے۔ مگر وہ ان حیلوں بہانوں کو سیاست کہتے ہیں اور ملک کا میڈیا ، صحافی اور دانشور چند ایک کو چھوڑ کر ان بھگوڑوں کے حاشیہ بردار ہیں اور قلم اور کیمرے سے لیس ان کے محافظ بنے ہوئے ہیں ۔ اور کرپشن کے کیچڑ میں لتھڑے سیاسی تاجروں کو اقبال ، سر سید اور محمد علی جناح بنانے پر تُلے ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا شیر کی کھال کسی لوہے کے گدھے کو شیر بنا سکتی ہے۔

اور یہ ایک ایسی صورتِ حال ہے جس میں ملک کئی حوالوں سے ایک گونہ خانہ جنگی میں مبتلا ہے ۔ یہ ایک ایسی سیاسی ، اقتصادی اور نظریاتی خانہ جنگی ہے جس میں کوئی فریق بھی حق پر نہیں ۔  ایک ایسی خانہ جنگی ہے جس میں سب ایک دوسرے کے خلاف صف آرا ہیں ۔ اس جنگ میں حق و باطل ، صحیح اور غلط، انصاف اور نا انصافی اور  جائز و ناجائز کے تصورات کا کہیں اطلاق نہیں ہو رہا  ہوتا۔ اور کوئی مشترکہ مرکزی قوت موجود نہیں ہوتی جو آئین کی بالا دستی کی ضمانت دے سکے ۔ قانون کی حکمرانی مفقود  ہوتی ہے اور جہاں قانون نافذ العمل نہ ہو وہاں کوئی نا انصافی پر اعتراض نہیں کرتا ۔ طاقت اور دغا بازی خانہ جنگی کے نمایاں خدو خال ہوتے ہیں اور اس خانہ جنگی میں سبھی ہارتے ہیں جیتتا کوئی نہیں ۔ اور یہ ہے ہمارا مقدر ۔ ۔ ۔
 

آپ کا تبصرہ

Donald Trump's policy towards Pakistan

Donald Trump's; the president of US war of tweets was a fierce attack on Pakistan, accusing the country of "lies and deceit" and making "fools" of US leaders. Trump decla

Read more

loading...