تیسرے درجے کے مُسافر

  وقت اشاعت: 05 جنوری 2018 تحریر: مسعود مُنّور

کسی فلسفی کا قول ہے :
"عالی ظرف لوگ آئیڈیاز اور تخیلات پر تبادلہ خیال کرتے ہیں ، اوسط فکری استعداد کے حامل لوگ واقعات کو زیرِ بحث لاتے ہیں اور خطِ عقل و ہوش سے نیچے زندگی بسر کرنے والے لوگ افراد اور شخصیات پر جملے کستے اور ریمارکس دیتے ہیں اور مدح و ذم کے دائروں میں گردش کرتے رہتے ہیں " ۔
لیکن اس طرح کے علمی بیانیے ہماری روز مرہ زندگی کے حقائق نہیں ہیں  بلکہ ہم رٹّو طوطوں کی طرح آسمانی آیات کی نقلیں اُتارے رہتے ہیں اور اسے اپنی دینی ذمہ داری سمجھتے ہیں ۔  محولہ بالا قول پر غور و خوض کرتے مجھے پچاس کی دہائی کا پاکستان یاد آگیا جس میں پاکستان ویسٹرن ریل چلتی تھی اور ریل کے ڈبے انگریز کی بنائی ہوئی  درجہ بندی کے مطابق فسٹ کلاس ، انٹر کلاس اور تھرڈ کلاس  یعنی تیسرے درجے میں تقسیم تھے ۔

درجوں کی اس گنتی میں مجھے گمان گزرا کہ زندگی بھی تو ایک ریل ہے جس کے مسافر ہم سب ہیں اور یہ ریل چھکا چھک ہمیں ترقی امن اور خوشحالی کی منزل کی طرف لیے جا رہی ہے جس کے انت پر موت ہے جو ہر ایک کے انفرادی احتساب کا پڑاؤ ہے ۔ زندگی کی اس ریل میں سب سے زیادہ کھچا کھچا بھرا تیسرا درجہ ہے جس میں ایک دوسرے کے لتے لیتے ، ایک دوسرے پر الزامات اچھالتے ، بہتان تراشتے اور ایک دوسرے کا مضحکہ اُڑاتے لوگ ہیں جو عدالتوں کے باہر ، ٹی وی ٹاک شوز اور پریس کانفرنسوں میں ہر جگہ اپنی تیسرے درجے کی ذہنیت کا اظہار کرتے ہیں۔ کیونکہ وہ شخصیات اور افراد کو زیرِ بحث لاتے ہیں اور انسانوں کی تذلیل اور انسانیت کی توہین کرتے ہیں اور یہ  آج کے ہمارے سیاسی منظرنامے کا حکمران بیانیہ ہے ۔ یہ بٹی ہوئی شخصیت کے لوگ ہیں جو رہتے کرپشن کی دلدل میں ہیں اور باتیں آسمان کے ستاروں اور اعلیٰ مثالیوں کی کرتے ہیں ۔ بات محبت کی کرتے ہیں مگر نفرتیں بانتتے ہیں ۔ بات عجز و انکسار کی کرتے ہیں مگر اپنی اکڑی ہوئی گردنوں میں خفیف سا خم بھی نہیں آنے دیتے ۔

حیرت اس بات کی ہے کہ اس تھرڈ کلاس کے ڈبے میں بیٹھے کسی عالم کو بھی یہ بات یاد نہیں رہتی کہ اللہ نے اپنی زمین پر اکڑ اکڑ کر چلنے سے منع کیا ہے ۔ یہ لوگ بیانیے اور اقرار باللسان کی حد تک صادق و امین ہیں مگر اپنی اصل حقیقت میں اس بیانیے کی ضد ہیں ۔ پاکستان کے دانشور ہوں یا عالم ، سیاستدان ہوں یا عسکری نابغے ، سرکاری افسر ہوں یا وکیل اگرچہ اُن کے پاس فسٹ اور انٹر کلاس کے ٹکٹ ہوتے ہیں مگر وہ اپنے طرزِ عمل میں تیسرے درجے کے ذہنی مسافر ہیں اور اس وقت یہ سیاسی جانور اور اُن کے میڈیا قوال جو قوالی گا رہے ہیں وہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ وہ تھرڈ کلاس کے لوگ ہیں جو فسٹ کلاس میں بیٹھے ہوئے ہیں ۔
یہ درجہ بندی قرآن سے ماخوذ ہے ۔ کتاب اللہ میں انسانوں کے نفسیاتی طور پر  تین گروپ بتائے گئے ہیں کہ ایک گروہ جو اول درجے کا ہے نفسِ مطمئنہ کے زمرے میں آتا ہے ۔ دوسرا انٹر کلاس کا درجہ ہے جو نفسِ لوامہ سے مملو ہے اور تیسرا نفسِ امارہ کا درجہ ہے جو تھرڈ کلاس لوگوں کا ہے جو افراد اور شخصیات کو زیرِ بحث لاتے اور کیڑے نکالتے رہتے ہیں ۔ اور ان میں سے بد ترین گروہ پیٹھ پیچھے برائی کرنے والوں کا ہے جو مردہ بھائی کا گوشت کھاتے ہیں ۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے لیے خنزیر حرام اور مردہ بھائی کا گوشت حلال ہے ۔ لیکن اس کے با وجود پاکستان کے ادبی اور علمی حلقوں میں وہ لوگ بھی موجود رہے ہیں جو سچ مُچ اعلیٰ ظرف لوگ تھے ۔

ایک دفعہ کا ذکر ہے اور علی وجدان گواہی دیں گے کہ ناصر کاظمی مرحوم چند احباب کے ساتھ کراچی تشریف لے جا رہے تھے۔ تیز رو نامی ایکسپریس جب لاہور کے پلیٹ فارم میں داخل ہوئی تو اس میں ائر کنڈیشند ڈبّے بھی تھے ۔ غالباً علی وجدان نے کہا کہ ناصر بھائی ! ہم کبھی اس ڈبے میں بھی سفر کرسکیں گے۔ تو ناصر کاظمی مرحوم نے کہا کہ کیوں بھائی ! کیا اللہ تعالیٰ نے امام حسین علیہ السلام کو مدینے سے کربلا کا سفر ائر کنڈیشند کوچ میں کروایاتھا ۔  علی اصغر کو کوکا کولا پلوایا تھا ۔ یہ تھا  ایک عالی ظرف انسان کا بیان جس کی مالی استطاعت میں تیسرے درجے کا ٹکٹ تھا مگر  وہ اپنے نظامِ اخلاق میں اول درجے کا مسافر تھا  ۔ وہ تھڑے کے دانشوروں سے ہمیشہ دور رہا ۔ وہ کسی کی غیبت تک نہیں سنتا تھا ۔ ایک شام مال کی چہل ہزار قدمی کے دوران کسی شریکِ سفر نے کہا کہ " ناصر بھائی ! پتہ ہے آج ٹی ہاؤس میں کیا ہوا  "  تو ناصر یہ سن کر چلتے چلتے رُک گئے اور ایک ایک لفظ پر زور دے کر بولے کہ ہم نے طے کر رکھا ہے کہ جہاں کی بات ہوگی اُسے وہیں چھوڑ کر چلے آئیں گے ۔ اُسے کندھوں پر اُٹھا کر اُس کی پریڈ نہیں کروائیں گے لیکن اب ادبی اور صحافتی کج بحثی ، دشنام طرازی اور پین کی سری  اتنی عام ہو گئی ہے کہ اب اسے  اس عہد کے سماجی بیانیے کے طور پر قبول کر لیا گیا ہے۔

اور کل ڈاکٹر شاہد مسعود پر لکھا گیا ایک کالم پڑھ کر اندزہ ہوا کہ کہ پاکستان میں صحافت ہر  اخلاقی قاعدے اور ضابطے سے آزاد ہے اور اب وہ لوگ موجود نہیں جن کی ذات انجمن ہوتی تھی بلکہ اب تو ہر طرف چھوٹے چھوٹے گروہ ہیں جو ایک دوسرے کے خلاف صف آرا ہیں اور پورا معاشرہ  ان گروہی سلطانوں کی لسانی  دہشت گردی کے دوزخ کا ایندھن بنا ہوا ہے ۔ 
 

آپ کا تبصرہ

Donald Trump's policy towards Pakistan

Donald Trump's; the president of US war of tweets was a fierce attack on Pakistan, accusing the country of "lies and deceit" and making "fools" of US leaders. Trump decla

Read more

loading...