معزز صارفین ہماری ویب سائٹ اپ ڈیٹ ہو رہی ہے۔ اگر آپ کو ویب سائٹ دیکھنے میں دشواری پیش آرہی ہے تو ہمیں اپنی رائے سے آگاہ کریں شکریہ

زبردستوں کے نام ایک خط

  وقت اشاعت: 04 جنوری 2018 تحریر: سید مجاہد علی

یہ مراسلہ پاکستان کے مظلوم ، بے بس اور ستم رسیدہ عام شہری کی طرف سے طالبان اور ان کے نام نہاد باپوں، چچاؤں ، سرپرستوں ، ہمدردوں اور خیر خواہوں کے نام ہے۔
طالبان اور اس ملک میں بے کس اور مجبور لوگوں پر موت مسلط کرنے والے دیگر گروہ اور ان کے وحشیانہ اور دہشت گردانہ حملوں کا جواز دینے والے اور ان کی طرف سے وضاحت کرنے والے اور معذرت خواہی کرنے والے بھی خود کو مکتوب الیہہ سمجھیں۔

یوں تو آپ جانتے ہوں گے کہ یہ خط لکھنے کی ضرورت کیوں پیش آئی ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ تو یہ ہے کہ آپ میں سے کسی سے بھی دوبدو بات نہیں ہو سکتی۔ آپ ہمیشہ اپنے خونخوار محافظوں اور ان کے خوفناک اور خطرناک ہتھیاروں کی اوٹ میں محفوظ رہتے ہیں۔ اس کے باوجود اگر کوشش کرکے کسی طرح آپ تک دسترس حاصل کرلی جائے تو اس مملکت خداداد کا یہ مجبور محض شہری آپ کے منہ پر بات کرنے کا حوصلہ نہیں کر سکتا۔
ایک تو آپ جبہ و دستار سے مزین اعزاز و احترام کی جس مسند پر فروکش ہیں اس کے سامنے صرف جی حضوری ہی کارآمد اور قابل قبول ہے۔ آپ کہیں گے کہ بے دھڑک سوال کرو لیکن آپ کے چہار اطراف تنی ہوئی توپ نما بندوقیں یہ حکم صادر کر رہی ہوتی ہیں کہ صرف وہ سوال کیا جائے جو صاحب مسند کو قبول اور منظور ہو۔ یا جس کا مقصود سوال نہیں خوشامد اور چاپلوسی ہو۔

اب ایسا کوئی سوال اس ناچیز کے پاس تو نہیں ہے۔ میرا سوال تو صرف اپنی اور اپنے عزیزوں کی زندگی کی حفاظت کے حوالے سے ہے۔ اور یہ استفسار کرنے کے لئے ہے کہ حضور والا ہم نے کون سی خطا کی ہے کہ آپ کے تربیت یافتہ یہ شیطان صفت طالبان اور دیگر ہمہ قسم ظالمان کسی نہ کسی بہانے ہماری جان کو آئے رہتے ہیں۔
یہ آسان مگر مشکل سوال کرنے کے لئے اس بے بصر اور بے بضاعت کو اس خط کا سہارا لینا پڑا ہے۔ وجہ اس کی،  ناچیز کا ایک ذاتی تجربہ بھی ہے جس کی وجہ سے میرا سر پھٹ گیا اور ٹانگ توڑ دی گئی تھی اور اس کے نتیجے میں اس بے بس کو ایک ماہ اسپتال اور تین ماہ گھر میں نظر بند رہنا پڑا تھا۔
ان زخموں کے علاوہ وہ پھٹکار علیحدہ تھی جو مجھے اپنی ماں ، بہن ، بیوی اور بچوں سے یکساں طور پر سننا پڑی تھی۔ جب میں نے ان سے پوچھا کہ میں نے کیا غلط کیا تو جواب کی بجائے مجھے اب تک مزید لعن طعن سننے کو ملتی ہے۔

مجھے تو یوں لگتا ہے کہ میرے سارے گھر والے بھی آپ ہی لوگوں کے پیروکار ہیں۔ بات بے بات الزام تراشی اور سوال کرنے پر پھٹکار۔ بس فرق صرف یہ ہے کہ گھر والے برا بھلا کہہ کر خاموش ہو جاتے ہیں اور اس شرط پر گھر میں رہنے اور کھانے کی سہولت ملتی ہے کہ میں اس قسم کی بے سروپا باتیں کرنا بند کر دوں گا۔
تو میں نے سوچا کہ یہ مراسلہ لکھنا مناسب ہوگا۔ یہ ایک مہذب اور شائستہ طریقہ ہے۔ خاص طور سے لکھنے والے کے لئے کہ وہ اس وقت پڑھنے والے کے سامنے موجود نہیں ہوتا ، جب خط کا مضمون سامنے ہوگا۔ اس طرح وہ اس عتاب اور غیض و غضب سے محفوظ رہے گا جو بصورت دیگر اس پر نازل ہو سکتا ہے۔ ہے تو جملہ معترضہ مگر کہے بنا رہا بھی نہیں جاتا کہ جس شائستگی کا ذکر میں نے اوپر کیا ہے، اس کا آپ کے ہاں رواج مفقود ہے۔

پیشتر اس کے کہ میں حرفِ مدعا زبان پر لاؤں یہ بتانا ضروری ہے کہ وہ کون سا دلخراش سانحہ تھا جس کی وجہ سے میرا سر اینٹ سے اور ٹانگ ایک ایسے عصے کے وار سے توڑ دی گئی تھی جو حضرت موسیٰ کے بعد شاید اب مساجد کے طلبہ اور سیاسی جماعتوں کے پرجوش کارکنوں کے ہاتھ میں پہنچا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ موسیٰ اس عصا سے بہتری اور چشم کشائی کا کام لیتے تھے جبکہ آج کے پرجوش کارندے کام تو کھولنے اور توڑنے کا ہی لیتے ہیں لیکن ان کے عصے کی زد پر کسی کا سر ، ٹانگ یا کمر ہوتی ہے۔
معاف کیجئے گا بات ذرا طویل ہوتی جا رہی ہے مگر یہ بھی آپ ہی کا فیض ہے۔ گلی محلوں کی مسجدوں اور مدرسوں میں آپ کے چیلے چانٹوں کی طول طویل باتیں سن سن کر میں بھی مختصر طریقے سے صاف بات کرنے کا ڈھنگ فراموش کر چکا ہوں۔

خیر یہ تو آپ جانتے ہی ہیں۔ مگر مجھے اس بات کا بھی احساس ہے کہ آپ خود خواہ پوری پوری رات بے مقصد خطاب فرمائیں مگر دوسروں کی بات سننے میں آپ کو بہت زحمت ہوتی ہے۔ آپ کا خمیر کسی ایسی مٹی سے اٹھا ہے جس کے سبب آپ باقی سب کو خود سے حقیر اور کمتر جانتے ہیں۔ اس لئے آپ کو لگتا ہے کہ آپ کے ہوتے ہوئے کوئی دوسرا کیوں کر اور کیا بات کر سکتا ہے۔
میں خوش ہوں کہ میں اس خط کے ذریعے آپ سے مخاطب ہوں وگرنہ اب تک آپ نہیں تو آپ کے سحر زدہ شاگرد میرا منہ توڑ چکے ہوتے۔
دیکھیں بری عادتیں کس حد تک راسخ ہو جاتی ہیں۔ میں بتانا چاہ رہا ہوں کہ آپ سے منسلک ایک مولوی صاحب کے چوکیداروں نے صرف ایک سوال پوچھنے پر میرا وہ حشر کیا تھا کہ مجھے تین ماہ صاحبِ فراش رہنا پڑا۔ وہ سوال بھی کوئی خاص نہیں تھا۔ دراصل وہ ایک عاجزانہ درخواست تھی۔

میں نے نماز کے بعد مولوی صاحب سے صرف اتنا عرض کیا تھا کہ لاؤڈ اسپیکر کی آواز محلے میں بیماروں اور علیل لوگوں کے لئے تکلیف اور پریشانی کا سبب بنتی ہے۔ اس لئے کیا یہ ممکن ہے کہ اذان کے علاوہ ایسا ساؤنڈ سسٹم لگا لیا جائے جس کے ذریعے آواز صرف مسجد کے احاطے میں موجود لوگوں تک ہی پہنچے۔
مجھے اس بات پر کوئی اعتراض نہ ہوتا اگر مولوی صاحب اس گزارش کے جواب میں انکار کر دیتے یا دلیل سے بتا دیتے کہ یہ فعلِ سخت کیوں کر اسلام کی سرفرازی اور دین کی سربلندی کے لئے اہمیت رکھتا ہے۔ اس کے برعکس اس بزرگ نے مجھے گھور کر دیکھا اور صرف اتنا فرمایا کہ نہ جانے کہاں کہاں سے لوگ کفر بکنے چلے آتے ہیں۔

مولوی صاحب کے فتوے کی دیر تھی کہ ان کے ارد گرد کھڑے محافظوں نے میری وہ شکست و ریخت کی کہ اسپتال کے بستر پر جا کر ہی میری آنکھ کھل سکی تھی۔ لیکن یہ ساری تفصیل آپ جان کر کیا کریں گے۔۔ کاش میں نے آپ کے تربیت یافتہ علمائے عظام کی باتوں کو اتنے غور سے نہ سنا ہوتا تو آج میں سیدھی سادی بات آسانی سے آپ کی خدمت میں پیش کر چکا ہوتا۔
دراصل اس طوالت کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ مدعا زبان یا برسرِ قلم آتے ہوئے زبان اور قلم دونوں ہی بہکنے لگتے ہیں۔

معاف کیجئے گا آپ لوگوں نے خوف اور دہشت کی ایسی فضا پیدا کر دی ہے کہ مجھے صرف یہ کہنے میں بھی خوف محسوس ہو رہا ہے کہ برائے مہربانی میری جان بخش دیں اور اپنے بمباروں اور خود کش حملہ آوروں یا ٹارگٹ کلرز سے کہہ دیں کہ وہ میری جان نہ لیں۔
وجہ اس گزارش کی یہ ہے کہ میری جان لینے سے آپ اپنے ارفع مقاصد میں کامیاب نہیں ہو سکیں گے۔ یہ کہتے ہوئے میں یہ گمان کرنے کی جرات کر رہا ہوں کہ آپ بلا مقصد خوں ریزی نہیں چاہتے بلکہ چند ارفع و اعلیٰ مقاصد کے لئے حکومت اور دنیا کی بڑی طاقتوں کو زیر کرنے کے لئے جہاد فی سبیل اللہ کے لئے عزم پیرا ہوئے ہیں۔

مگر حضور آپ کے اس نیک مقصد میں اور میرے جیسے بے بس و بے توقیر لوگ چیونٹی کی طرح مسلے جا رہے ہیں۔ مانا کہ آپ حکومت کو امریکی غلامی سے نجات دلانے کے مشن پر گامزن ہیں مگر اس کی تکمیل کے لئے میری گردن کو تو بخش دیجئے۔ بس اپنے شاگردان عظام سے یہ کہہ دیجئے کہ مجھ جیسے عام آدمی کے ووٹ دینے سے فرق نہیں پڑتا۔ شور مچانے ، احتجاج کرنے ، دھرنا دینے ، نعرے لگانے یا جلوس نکالنے سے حکومتیں نہیں ہلتیں تو میری لاش کسی کا کیا بگاڑ لے گی۔

آپ آخر کیوں جیتے جاگتے انسانوں کو لاشیں اور ہنستی مسکراتی بستیوں کو قبرستان بنانے پر تلے ہوئے ہیں۔
اگر آپ کو میری بہبود مطلوب ہے تو یقین جانئے کہ مرنے کے بعد جس چیز کا فائدہ مجھے ہو سکتا ہے وہ میرا عمل ہے، آپ کے قتل کرنے سے مجھے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ البتہ میرے بیوی بچے اور متوسلین ضرور آپ کو بددعائیں دیں گے۔
مانا کہ بد دعا آپ جیسے بد طنیتوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔
لیکن غور تو کیجئے کہ ہو سکتا ہے کہ مجھے مارے بغیر ہی آپ کا کام چل جائے اس طرح میں مرنے سے اور آپ زحمت سے بچ جائیں۔
اگر نہیں تو لیجئے یہ جان حاضر ہے کہ یوں بھی زندگی تہمت ہی تو ہے۔

یہ تو آپ سمجھ ہی گئے ہوں گے کہ مجھے یہ خط آپ کو لکھنے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی ہے۔ کیوں کہ جن لوگوں نے حقِ حکمرانی لیتے ہوئے ہماری حفاظت کرنے کی ذمہ داری قبول کی تھی ، وہ اسے پورا کرنے میں ناکام ہیں۔
بلکہ آپ کے دستِ شفقت سے فیضیاب ہونے والے بہت سے زورآور بھی اب ہماری حفاظت کی ذمہ داری پر مامور ہیں۔ وہ تنخواہ سرکاری خزانے سے لیتے ہیں لیکن حقِ نمک آپ کا ادا کرتے ہیں۔
یہ تو آپ سے زیادہ کون جانتا ہوگا کہ بلّی کو دودھ کی رکھوالی پر بٹھانے کا نتیجہ کیا نکل سکتا ہے۔

تو بس یہی التجا ہے کہ میں ایک بے کس اور مجبور شہری اور مجھ سے بھی  زیادہ کمزور اور بےبس میرے لواحقین آپ کا کچھ بگاڑ نہیں سکتے۔ تو پھر آپ کیوں ہمیں اپنا دشمن قرار دے کر موت مسلط کرنے کے درپے ہیں۔
یہ نکتہ اتنا باریک بھی نہیں ہے کہ آپ کے ذی حشم دماغ میں سما نہ سکے۔

بس اللہ کے بعد آپ سے امان چاہتا ہوں۔ گو کہ آپ کے بہت سے وکیل آپ کی صورت میں نازل آفت کو اللہ کا عذاب قرار دیتے ہیں۔ لیکن اس عاجز و بے کس کے علم میں ہے کہ اللہ نے ابلیس کو بھی بے پناہ طاقت اور آذادی دی ہے۔
اللہ کی مخلوق پر عذاب اتارنے والا پروردگار نہیں ہو سکتا۔ وہ یقیناٌ شیطان ہی ہوگا۔ اور فی الوقت اس شیطان کی روح آپ جیسوں میں حلول کرچکی ہے۔
اس لئے یہ مکتوب لکھنا ضروری تھا کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(یہ کالم پہلی بار جنوری 2015 میں شائع ہؤا تھا تاہم حالات کے تسلسل کے باعث اس کی مکرر اشاعت بھی درست سمجھی گئی)

آپ کا تبصرہ

Donald Trump's policy towards Pakistan

Donald Trump's; the president of US war of tweets was a fierce attack on Pakistan, accusing the country of "lies and deceit" and making "fools" of US leaders. Trump decla

Read more

loading...