چہرہ بہ چہرہ روبرو

  وقت اشاعت: 03 2017 تحریر: مسعود مُنّور

اب جب کہ میری زندگی کے کُہن سال شیشم کے پتّے زرد اور شاخیں حرارتِ غریزی سے محروم ہوتی چلی جا رہی ہیں ، میں اکثر بُخار ،کھانسی اور اعصابی تشنج میں لپٹا اپنے شب و روز کا احتساب کرتا رہتا ہوں  کہ آخر وہ کون سی کرپشن تھی جو میں نے اپنی زندگی میں کی ، کون سی منی لانڈرنگ تھی جس کے ذریعے میں نے ناروے کے بنکوں میں مالی اثاثے جمع کیے جو میری آمدنی سے زیادہ ہیں ۔

دیسی آدمی دیس میں ہوں یا پردیس میں اُن کے وہ فکری اور سماجی رویے کبھی نہیں بدلتے جو وہ اپنے گھروں کے آنگنوں ، مسجدوں کے  خطبوں اور  کوچہ و بازار کی معاشرت سے سیکھ کر آئے ہیں ۔ ہمارے رشتے بالعموم مطلب اور مفاد کے ہوتے ہیں ، جس سے کوئی مفاد وابستہ نہ ہو ،  خواہ وہ حقیقی بھائی اور سگّا رشتے دار ہی کیوں نہ ہو ، اُس کو ہم اپنی زندگی کے فیس بُک اکاؤنٹ سے ڈیلیٹ کر دیتے ہیں ۔ میں گزشتہ ہفتے اپنے حجرے میں اپنی ذات کا طواف کر رہا تھا کہ اچانک اختر چودھری صاحب کا ٹیکسٹ میسیج موصول ہوا کہ وہ جمعرات کی شام کو درامن میں ہوں گے اور وہ ایک شام مجھے اپنی ملاقات کا اعزاز دینا چاہتے ہیں ۔

میں بُخار ، درد اور کھانسی کے شدید زلزلے کے باوجود خوش ہوا کہ چلو کسی نے تو مجھے یاد کیا اور در خورِ اعتنا سمجھا ۔ ہر چند کہ سماجی رشتے بشری ضرورت ہیں مگر میں اُلوہی رشتوں پر زیادہ انحصار کرتا ہوں اور اپنے رب کے طواف میں رہتا ہوں ۔ شہ رگ کی دہلیز پر بیٹھا "می رقصم" کا ورد کرتا رہتا ہوں ۔
سہ پہر تین بجے درامن لائبریری کی تیسری منزل کے داخلی دروازے پر اختر چودھری میرے منتظر تھے ۔ وہ ان دنوں برگن کے نواح میں کسی بستی میں رہتے ہیں ، جس کا نام مجھے یاد نہیں رہا  ۔ میں اپنی صحت کے تمام تر مسائل نظر انداز کرکے اُن سے ملا تھا اور ہم درامن کے ایک دیسی ریستوران میں جا بیٹھے ، جہان دو گھنٹے تک بڑی دل چسپ گفتگو رہی جس کا احاطہ ایک کالم میں ممکن نہیں البتہ مشتے از خروارے کے مصداق وہ باتیں رقم کروں گا جو یاد رہ گئیں ۔

موضوعِ گفتگو تھا پاکستان ، اُس کی معاشرت اور مروجہ اخلاقی قدریں ۔ ہم لوگ جو پاکستان سے دور ناروے میں رہتے ہیں اور قانونی اعتبار سے نارویجین شہری ہیں ، اپنی آبائی معاشرت کو بہتر اور خوشحال سمت میں پیش رفت کرتے دیکھنا چاہتے ہیں ۔ لیکن ہمارے یہاں تارکینِ وطن کے معاشرتی تاروپود پر جن مالی قوتوں کی آمریّت نافذ ہے وہ اپنی خواہشاتِ نفس اور اپنی انا کے مطالبات کو پاکستانیت سے تعبیر کرتی ہے ۔ چنانچہ جن لوگوں نے شراب و کباب بیچ کر محلات تعمیر کر لیے ہیں وہ ہمارے مائی باپ بنے ہوئے ہیں ۔ جس طرح حلقہ این اے 120 میں لذیذ طعام کے عوض ووٹ بکتا ہے بالکل اُسی طرح یہاں تارکینِ وطن کی منڈی میں انسان بکتا ہے ۔ آدمی کی قیمت اس کی جیب طے کرتی ہے اور دہقانی پنجاب کی ڈیرہ داریاں یہاں بھی انسانی قیمت لگاتی ہیں ۔ چودھری اختر کا کہنا تھا کہ ہم ناروے  جیسے مُلک میں جہاں قانون کی حکمرانی ہے ، اپنے اور مقامی آبادی کے درمیان وسیع تر باہمی تعلقات کا پُل تعمیر نہیں کر سکے ۔ اگر چہ ہماری نئی نسل نے مقامی اور تارکینِ وطن آبادی کے درمیان فاصلوں کو بہت کم کیا ہے لیکن ابھی وہ مثالی معاشرت وجود میں نہیں آئی جہاں لوگ نسلی اور مذہبی تفاوت کے پُل کو عبور کرکے ایک مخلوط معاشرت کے مشترکہ ایونیو میں ایک ساتھ شیر و شکر ہوں جس سے معاشرتی ڈھانچہ مزید مستحکم ہے۔ لیکن ہماری روایت یہ ہے کہ ہم تھوڑے کو بہت جانتے ہیں اور خط کو تار سمجھتے ہیں اور یہ بات سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے کہ اس ملک میں ہماری پر امن بقائے باہمی کا راز باہمی یگانکت اور شہری مساوات میں ہے ۔ چنانچہ یہ ضروری ہے کہ ہم نارویجین عیسائیوں، اشتراکیوں،  انسانیت پرستوں اور  دیگر مذہبی مکاتیبِ فکر کا بلا تعصب احترام روا رکھیں ۔

اختر کہہ رہے تھے کہ ہمیں ایسے اداروں کی حمایت ، مدد اور پذیرائی کرنی چاہیے جو مشترکہ انسانی قدروں کو فروغ دیتے ہوں ۔ جس طرح ناروے میں قانون کی حکمرانی ہے ، اُسی طرح ہمیں اپنی  روزمرہ زندگی میں قانون کی بالادستی کا راستہ اختیار کرنا چاہیے اور ہمیں اپنی موروثی اور آبائی تہذیب کو ناریجین تہذیبی اقدار  سے اس طرح ہم آہنگ کرنا چاہیے کہ ہم انسانی سطح پر ایک دوسرے سے کھرے اور گہرے قومی رشتے میں منسلک ہو سکیں ۔ یہاں ایک قانونی مساوات قائم ہے جہاں مجھ پینشنر کو بھی اسی حساب اور معیار کی پنشن ملتی ہے جتنی مقامی نارویجن کو ملتی ہے ۔ میں جانتا ہوں  کہ تمام مقامی نارویجین ایک ہی طرح کی  فکری اور اخلاقی دولت سے مالا مال نہیں ہوتے ۔ ان میں نسل پرستی کے نمائندے بھی ہو سکتے ہیں مگر اس طرح کے تعصبات ہم میں بھی ہیں کہ ہم نے خود کو چودھری اور کمّی ، گجراتی اور غیر گجراتی ، اور مقامی و مہاجر کے خانوں میں بانٹ رکھا ہے ۔

میری مسلسل کھانسی کی وجہ سے کھانا ایک ناخوشگوار تجربہ لگ رہا تھا ۔ کھانے کے حوالے سے بات حلال گوشت کی طرف چل نکلی تو میں نے عرض کیا کہ دوسرے اہلِ کتاب کا کھانا مسلمانوں پر اور مسلمانوں کا کھانا اہلِ کتاب کے لیے حلال ہے ۔ تاہم خنزیر کے گوشت پر پابندی ہے البتہ جو لوگ فاقوں سے مجبور ہوں اُن کو خنزیر خوری کی شدید ضرورت کے تحت اجازت ہے ۔ یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ ناروے میں حلال گوشت شرطیہ  دستیاب ہے جب کہ پاکستان میں گدھے ، کُتّے ، کوے ، چیلیں ، مردار  اور خنزیر تک کھلائے جا رہے ہیں ۔ پاکستان میں خطِ غربت سے نیچے زندگی بسر کرنے والے کروڑوں  لوگ جانوروں کی سی زندگی بسر کر رہے ہیں اور تین کروڑ سے زائد تعلیم سے محروم  بچے پاکستانی مسلمان کی بے حسی ، سنگ دلی اور حکمرانوں کی بیڈ گورنینس کا چیختا چِلّاتا ثبوت ہیں ۔ ہر روز ایسی خوفناک خبریں آتی ہیں جنہیں سُن کر بہت دکھ ہوتا ہے ۔ ابھی آج ہی جلال پور بھٹیاں کی ایک خاتون نے غربت سے تنگ آ کر اپنے تین کم سن بچوں کو نہر میں پھینک کر موت کے حوالے کردیا اور پھر اپنا گلا کاٹنے کی کوشش کی ۔ کیا یہ تصویر رحمت اللعالین کے عشاق کے معاشرے کی ہو سکتی ہے۔

باتوں باتوں میں بُخاری شریف کی اُس حدیث کا ذکر آیا جس میں حضرے عائشہ رضی اللہ تعالیٰ سے روایت ہے کہ آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے استفسار کیا کہ لوگ گوشت لاتے ہیں کہ مگر ہمیں پتہ نہیں ہوتا کہ اُس پر تکبیر کہی گئی تھی یا نہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تکبیر کہہ کر کھا لیا کرو ۔ چودھری اختر کا اصرار تھا کہ وہ اس حدیث کو خود پڑھنا چاہتے ہیں تو میں اُنہیں اپنے حُجرے کی لائبریری میں لے گیا اور بخاری شریف کھول کو اُن کو پیش کردی کہ  لیجیے تصدیق فرما لیجیے۔

اختر چودھری جو بائیں بازو کی سیاسی جماعت ایس وے کے رہنما ہیں اور نارویجین پارلیمان کے ڈپٹی سپیکر رہے ہیں ، زندگی کے مسائل پر گہری  ناقدانہ نظر رکھتےہیں اور بال کی کھال نکالنے میں اُنہیں یدِ طولیٰ حاصل ہے ۔ ایک مدت کے بعد اُن سے مل کر لگا:
اے دوست ! کسی ہمدمِ دیرینہ کا ملنا
بہتر ہے ملاقاتِ مسیحا و خضر سے
 

آپ کا تبصرہ

Growing dangers of Islamist radicalism on Pakistani politics

Mr Arshad Butt is an insightful observer of the political events in Pakistan. Even though the hallmark of Pakistani political developments and shabby deals defy any commo

Read more

loading...