درخت پر ایک ہی پھل تھا

  وقت اشاعت: 21 2017 تحریر: سید مجاہد علی

اس درخت پر ایک ہی پھل تھا اور وہ سارے ضرورت مند۔
سارے اس درخت کے نیچے جمع تھے اور پھل کو حاصل کرنا چاہتے تھے۔
یہ پھل اب پک کر تیار ہو چکا ہے۔ بس ٹپک پڑے تو ہماری بھوک اور ضرورت پوری ہو۔
لیکن پھل پوری طرح جوبن پر آنے کا نام نہ لیتا تھا۔ اس دوران بہت سے منچلوں نے چاہا کہ اس بے مقصد انتظار کا قصہ تمام کیا جائے اور پھل کو گرا کر اس سے استفادہ کر لیا جائے۔
پھل کو بھی شاید امیدواروں کی اس بے صبری کا انتظار تھا۔ اسی لئے وہ بدستور ان کے صبر کا امتحان لینے پر مصر تھا۔

 

اس دوران درخت کے نیچے جمع بہت سے لوگوں میں سے ایک نے کہا کہ ہم پھل کا انتظار تو کر رہے ہیں اور اپنے اپنے طور پر اس پر جھپٹ پڑنے کے لئے بھی تیار بیٹھے ہیں۔ لیکن تم نے غور کیا کہ پھیل ایک ہے اور اس کے امیدوار بہت سے ہیں۔
” ہاں یہ تو ہے“
بہت سی آوازیں یوں نمودار ہوئیں گویا سرگوشی کر رہی ہوں۔ بعض لوگوں کی مایوسی اتنی شدید تھی کہ ان کا اقرار حلق سے باہر نکل کر کسی کی سماعت تک نہ پہنچ پایا۔
سب کے چہرے لٹک گئے تو اسی دانا نے تجویز دی کہ یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ ہم سب مل بانٹ کر اس پھل سے استفادہ کر لیں۔
” ہاں یہ بات درست ہے۔ اس طرح کوئی محروم بھی نہیں رہے گا اور سب کو حصہ بھی مل جائے گا۔“
” مگر پھل ایک ہے اور ہم اتنے سارے لوگ ہیں۔ اس ایک پھل سے ہم کیوں کر اپنی ضرورتیں پوری کر سکتے ہیں۔“ ایک مشکوک آواز نے مجمع کو اپنی طرف متوجہ کر لیا۔
” ہاں برخوردار یہ درست ہے کہ پھل ایک ہی ہے“ وہی دانا گویا ہؤا۔ ” اور یہ بھی درست ہے کہ ہم بہت سے ہیں اور اسے بانٹ لینے سے کسی کی بھی مکمل تشفی نہیں ہوگی لیکن کچھ نہ ہونے سے کم ہی سہی کچھ ہونا بہرصورت بہتر ہے“۔

شکوک پر قابو پا لیا گیا اور سب متفق ہو گئے کہ پھل کے پکتے ہی سب اسے آپس میں برابر تقسیم کر لیں گے۔
یہ طے کرکے وہ سو گئے۔
صبح اٹھے تو خدا کی قدرت دیکھ کر حیرت زدہ رہ گئے کہ پھل پک کر تیار ہو چکا تھا۔
ایک نے دوسرے کو اور دوسرے نے تیسرے کو پکارا اور وہ گلال چہروں سے اپنے اپنے دامن پھیلائے پھل کے ٹپکنے کا انتظار کرنے لگے۔
اتنے میں ایک شمشیر بکف شخص آگے بڑھا۔ اس نے کندھے سے چادر اتار کر درخت کے نیچے پھیلا دی اور سب سے کہا کہ وہ ذرا فاصلے پر ہو جائیں اور پھل کے گرنے کا انتظار کریں۔ سب نے نہایت سعادت مندی سے اس شخص کی بات مان لی۔ ابھی یہ انتظام مکمل ہو ہی رہا تھا کہ پھل کھٹاک سے چادر پر آن گرا۔ سب خوشی سے نہال ہو گئے اور پیشگی وعدہ کے باوجود غیر ارادی طور پر پھل کو اچکنے کے لئے لپکے۔ البتہ وہاں شمشیر بردار ایستادہ تھا۔ اس لئے سب ہی خجل اور شرمندہ ایک دوسرے کا منہ دیکھنے لگے۔

دانا نے کہا کہ بس اب وقت ہے کہ ہم بھی ان غلطیوں کو دہرانے سے گریز کریں جو دوسری قوموں کے لئے تباہی کا سبب بنی تھیں۔ اور آپس میں سرپھٹول کرنے کی بجائے پھل کو برابر تقسیم کر لیں۔
مگر یہ تقسیم کیسے ہو
اسے کون برابر حصوں میں بانٹے گا
یہ تو مشکل کام ہے
اس الجھن اور بے یقینی میں اسی شخص نے اپنی تلوار میان سے نکالی اور لہراتے ہوئے بولا: ” میں یہ کام کر سکتا ہوں۔ اگر آپ اجازت دیں تو ابھی پھل کو انصاف سے تقسیم کر دیتا ہوں“۔
اکثر نے تالیاں بجائیں۔ دانا خاموش ہو گیا۔ دو تین شخص مشکوک نظروں سے صورت حال کا جائزہ لینے اور اپنے مفادات کے تحفظ کے لئے صلاح مشورہ کرنے لگے اور ایک طرف کو علیحدہ گروپ کی شکل میں کھڑے ہو گئے۔

تلوار بردار نے اس خاموشی کو اقرار کا نام دیا اور ایک ہی وار میں نہایت مہارت سے پھل کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا۔ سب اس کی چابکدستی پر حیران تھے اور خوش بھی کہ اب انہیں بھی ان کا حصہ مل جائے گا۔ تھوڑا ہی سہی لیکن نہ ہونے سے تو بہتر ہے۔
دانا کی آنکھیں حیرت سے پھیلی تھیں اور ایک کونے میں کھڑے سیانے نوشتہ دیوار جان چکے تھے۔ انہوں نے اپنی حکمت عملی تیار کرلی تھی۔ وہ جانتے تھے کہ ان کے پاس تلوار نہیں ہے لیکن انہیں مان تھا کہ وہ عقل و تدبر میں دوسروں سے برتر ہیں اس لئے ان کی حق تلفی نہیں ہو سکتی۔

تالیاں بجاتا اور خوشی سے چلاتا ہجوم آخر بولا کہ یہ تو دو ہی ٹکڑے ہیں۔ ہم تو بہت لوگ ہیں۔ اب اس پھل کےبرابر ٹکڑے کر دو تاکہ ہم سب کو ہمارا حصہ مل جائے۔
شمشیر بردار نے اپنی تلوار زمین میں گاڑ دی اور پھل کا نصف حصہ اٹھا لیا اور بولا: ” ہاں تم جیسے چاہو اسے تقسیم کرلو۔ تلوار سے تو اس کے مزید حصے نہیں ہو سکتے“۔

یہ کہہ کر وہ آدھا پھل اٹھائے تلوار میان میں سمیٹتا وہاں سے رفو چکر ہونے کی تیاری کرنے لگا۔
سب حیرت سے اس کا مونہہ دیکھنے لگے۔ کسی نے حوصلہ کرکے پوچھا: ” میاں جاتے کہاں ہو۔ پھل کو تو برابر تقسیم ہونا تھا۔ تم تو آدھا لئے جاتے ہو“۔
” ہاں میں نے کب انکار کیا۔ یہ آدھا پھل تو میری محنت کا عوضانہ ہے۔ میں نے تمہاری مشکل حل کر دی ہے۔ اب تم جانو اور تمہارا کام “۔  شمشیر بردار نے آخری فیصلہ سنایا اور آرام سے اپنی چادر درخت سے ذرا پرے زمین پر ڈال کر مزے سے اپنی ” محنت “ سے حاصل کئے ہوئے پھل کے آدھے حصے سے لطف اندوز ہونے لگا۔

دونوں سیانے آگے بڑھے اور ہجوم کو پرے ہٹاتے ہوئے بولے: ” تم نے غلط فیصلہ کرکے آدھا پھل گنوا دیا۔ اب ایک طرف ہو جاﺅ، ہم باقی پھل کی حفاظت کریں گے۔
دانا نے اندازہ کر لیا کہ پھل میں مقدور بھر حصہ لینے کا یہی ایک موقع ہے۔
اس نے خود سے کہا : ” انصاف اور برابری کی بات کی تو یہ موقع بھی ہاتھ سے نکل جائے گا “۔  وہ جھپٹ کر سیانوں کے ساتھ ہو لیا اور ان تینوں نے نصف پھل کو اپنی تحویل میں لے لیا۔
لوگ ان کے مونہہ تاکتے رہے آخر مایوس ہو کر ان کے چہرے لٹکنے لگے۔ انہیں اندازہ ہو گیا تھا کہ ان کی کسی غلطی کی وجہ سے خدا ان سے ناراض ہو گئے ہیں اور یہ محرومی اسی بات کی سزا ہے۔

خزاں بیتی۔ موسم بہار میں کونپلیں کھلنے لگیں تو اس درخت کے پتے بھی ہرے ہونے لگے۔
بہار جوبن پر تھی۔ درخت پتوں سے بھر چکا تھا۔ سب کو یقین تھا کہ جلد ہی قیمتی پھل کے آثار دکھائی دیں گے۔
بعض کا تو خیال تھا کہ اب انہیں اپنے صبر کا انعام ملنے والا ہے اور درخت پر اتنے پھل آئیں گے کہ سب کو ان کا حصہ مل سکے گا۔

گزرتی بہار میں بھی جب درخت پر پھل نمودار ہونے کے امکانات دکھائی نہ دئیے تو سب نے مل کر خداﺅں سے اپنے گناہوں کی معافی مانگی۔
ان میں دانا ، سیانے اور شمشیر بردار سب ہی شامل تھے۔
مگر درخت پھل سے محروم رہا۔

دعاﺅں کا شور اور لوگوں کی آہ و بکا بڑھی تو درخت سے نہ رہا گیا۔
وہ پکارا: ” تم انصاف نہ کر سکے۔ تم مل کر پھل سے استفادہ نہ کر سکے۔ تم نے ایک دوسرے کو دھوکہ دیا۔ تمہاری بدنیتی کی وجہ سے قدرت نے میری کوکھ بانجھ کر دی ہے“۔

سنتے ہیں اس بستی میں اب بھی کہرام بپا ہے۔
درخت پر ہر بہار میں پتے آتے ہیں۔ پھل نہیں آتا۔
یہ وہی درخت تھا جس پر کبھی صرف ایک پھل آیا کرتا تھا۔ 

(یہ تحریر دو برس قبل کاروان میں شائع کی گئی تھی۔ وطن عزیز میں جو حالات درپیش ہیں، ان کی روشنی میں اسے ایک بار پھر پڑھا جاسکتا ہے)

آپ کا تبصرہ

Growing dangers of Islamist radicalism on Pakistani politics

Mr Arshad Butt is an insightful observer of the political events in Pakistan. Even though the hallmark of Pakistani political developments and shabby deals defy any commo

Read more

loading...