ایسٹبلِشمنٹ

  وقت اشاعت: 6 دن پہلے  تحریر: مسعود مُنّور

خاتونِ خانہ پاکستانی ٹی وی پر  شور مچاتے مہذب لوگوں کی گفتگو سُن رہی تھی کہ اچانک  زور سے چیخی اور بولی ، " ایہہ اوتر جانڑیں ایسٹیبلشمنٹ کونڑ اے؟"
میں نے کتاب سے نظریں ہٹائے بغیر کہہ دیا ، " ایسٹیبلشمینٹ تو آپ خود ہیں  اور مجھ سے اپنے بارے میں پوچھ رہی ہیں ۔ یہ کچن ، یہ کھانے کی میز اور یہ گھریلو بیٹھک جسے ناروے میں سٹوا کہتے ہیں ، آپ کے دم قدم سے آباد ہے ، یہاں آپ کا حکم چلتا ہے ۔ آپ اس گھر کی آئینی حکمران ہیں اور آپ کی سہیلیاں اور وہ رشتہ دار خواتین ، جن سے آپ کی گاڑھی چھنتی ہے اور جن کے مشورے سے لباس ، وضع قطع اور تزئین و آرائش کے فیصلے ہوتے ہیں ، وہ سب ملا کر  ایسٹیبلشمنٹ ہیں۔
 "مگر میں پاکستان کے بارے میں پوچھ رہی ہیں" ۔ مکمل اُستانیانہ انداز میں کہا گیا ۔
 "اوہ اچھا ، وہ چُڑیل ، وہ امریکن بندریا ، وہ برطانوی پھپھے کُٹنی ۔ ارے وہ ایک جادو گرنی ہے جس نے پاکستان کے حکمران طبقے کو اپنا دیوانہ بنا رکھا ہے اور وہ اُن سے وہ کام کرواتی ہے  جو اُن کی بیویاں  نہیں کروا سکتیں "۔

خاتون نے شک و شُبے کی بُکل مار کر مجھے دیکھا اور کچن کی راہ لی ۔ اُن کے جاتے ہی  ٹی وی سکرین کو آزادی ملی تو میں نے چینل بدل دیا کہ کون ان باتونی کووں کی کائیں کائیں سُنے اور پھر کتاب میں ناک ڈبونے کی کوشش کی تو ایسٹبلشمنٹ سر چڑھ کر بولنے لگی ۔ ایسٹیبلشمنٹ ۔ کیسا کنکھجورے جیسا لفظ ہے ۔ کسی کے مونہہ سے یہ زہریلا لفظ سنو تو لگتا ہے کان پر ہزار پایہ رینگ رہا ہے ۔ لیکن پتہ نہیں چلتا یہ لفظ کس ادارے ، یا تنظیم کے بارے میں بولا جاتا ہے ۔

ایک زمانے میں جب کلیسا یعنی انگریزی گرجا گھروں کی اتھارٹی کی حد کا تعین کیا جانے لگا تو اس لفظ نے اصطلاحی صورت اختیار کرلی ۔ اگر انگریزی اردو لُغت میں جھانکیں تو ایس ٹیبلش منٹ کے یہ معنی دکھائی دیتے ہیں ۔
" تاسیس ، تشکیل ، نفاذ کا عمل ، کاروباری ادارہ ، کاروبار کا مرکز یا ٹھکانہ ، مکان ، اقامت گاہ ، کسی تنظیم کا عملہ اور سامان ، کسی مقصد کے لیے قائم کوئی مستقل ادارہ ، کلیسائی تنظیم جو قانون کے ماتحت قائم ہو ۔ ہیئیتِ حاکمہ یا منتظمہ ۔ انتظامیہ خصوصاً جو کسی تبدیلی یا اصطلاح میں مانع ہو ۔ کوئی با اثر  یا برسرِ اقتدار گروہ یا تنظیم ۔

اور اس لفظ نے ادبی حلقوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لیا اور لٹریری ایسٹیبلشمنٹ کی ترکیب ایجاد ہوئی جو ذی اثر حلقوں پر مشتمل ہوئی ۔ یعنی حفیظ جالندھری ، قدرت اللہ شہاب اور رائٹرز گلڈ کو ہم ادبی ایسٹیبلشمنٹ کہہ سکتے ہیں ۔ یا پھر انجمن ترقی پسند مصنفین یا حلقہ ہائے اربابِ ذوق ادبی ایسٹیبلشمنٹ کی مثالیں ہیں جو لسانی اور ادبی دنیا کی حکمران ہیں اور ان میں باثر افراد مثلاً صوفی تبسم ، فیض احمد فیض ، ندیم قاسمی ، سید سجاد ظہیر ، سبطِ حسن اور جمیل جالبی کی رائے مل کر ادبی ایسٹیبلشمنٹ کہی جا سکتی ہے ۔

انگلستان میں چرچ کی قانونی حیثیت کے ضمن میں بھی اس لفظ کا اطلاق ہوتا رہا ہے مگر کیا ایسٹیبلشمنٹ کی کوئی واضح تعریف متعین کی جاسکتی ہے؟
نہیں صاحب ، میں نہ پاکستانی میڈیا کا دانشور ہوں نہ حکمرانوں کا زر خرید قلمدان ، میں اس قابل نہیں ہوں مگر اپنے طور پر بات کو سمجھنے میں کوئی مضائقہ نہیں ۔ چنانچہ عرض کرتا ہوں کہ :
ایسٹیبلشمنٹ ، معاشرے کے وہ با اثر گروہ یا طبقات ہیں جن کے پاس نجی یا آئینی اتھارٹی  یا اختیار ہوتا ہے جس کو بروئے کار لا کر وہ سرکاری ملازمتوں ، مذہبی اداروں اور اُن کے منتظمین یعنی ملاؤں اور مسلح افواج کے کور کمانڈروں کی رائے پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ لیکن بسا اوقات ایسٹیبلشمنٹ کے یہ اجزائے ترکیبی ایک دوسرے سے متصادم اور متضاد سمتوں میں فکری اور عملی اقدات کردیتے ہیں ۔ با ایں ہمہ حتمی اقدام کا فیصلہ وہ افراد کرتے ہیں جن کے مفادات یکساں اور سانجھے ہوتے ہیں ۔ اس طرح مختلف اداروں کے چنیدہ افراد مل کر ایسٹیبلشمنٹ کا رول ادا کرتے ہیں جیسے جنرل ضیا الحق نے شریف فیملی کو جو سول جزو تھی ، اپنی فوجی ایسٹیبلشمنٹ میں شریک کیا ۔

ضیا الحق  نے ایسٹیبلشمنٹ کو ماورائے آئین قرار دیا اور کہا تھا کہ آئین کاغذ کے ٹُکڑے ہیں ، جنہیں پھاڑ کر نئے کاغذ کالے کیے جا سکتے ہیں اور  سول سیاستدان دم ہلانے والے کُتّے ہیں جو ہڈی اور بوٹی پر دم ہلاتے ہوئے آتے ہیں۔ اور جنرل ضیا کے اس بیان کے پسِ پردہ جو غیرملکی طاقتیں تھیں وہ بھی اس وقت کی حکمران ایسٹیبلشمنٹ کا جزو لاینفک تھیں ۔ بریں بنا ایسٹیبلشمنٹ شراکت داری کا سودا ہے جو ملا اور میجر سے لے کر افسر شاہی بشمول عدلیہ کے درمیان تشکیل پا سکتی ہے ۔ چونکہ مختلف اداروں کے بااثر اشخاص کے باہمی مفادات ، ریاست کے اجتماعی مفادات کے بر عکس ہوتے ہیں اس لیے وہ اس کو خفیہ رکھنے کو ترجیح دیتے ہیں ۔ یہ لوگ جو ایسٹیبلشمنٹ کا سٹرکچر یا ڈھانچہ بناتے ہیں ، اپنی تمام تر  کارروائی  قانون سے بالاتر اور ماورا ہو کر کرتے ہیں ۔ چنانچہ اُن کے اثر و رسوخ کی بنا پر مجرم پھانسی کے تختے سے اور قاتل اور خائن جیل کی سلاخوں کے پیچھے سے نکل کر اقتدار کے شریک ہو جاتے ہیں ۔

ایسٹیبلشمنٹ میں گلوبل معاشرت اور بڑی طاقتوں کے مفادات بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں ۔ وہ بھٹو کو پھانسی پر لٹکا سکتے ہیں اور جنرل مشرف کو ہسپتال سے بحفاظت تمام دوبئی برآمد کر سکتے ہیں ۔ ان ساری باتوں کو پیشِ نظر رکھا جائے تو ایسٹیبلشمنٹ حکومت کے کارخانے کا بجلی گھر ہے جو اپنی مخفی طاقت سے کاروبارِ ریاست چلاتی ہے مگر  اس کی کوئی جائے وقوع یا مستقل قیام گاہ نہیں ہوتی بلکہ یہ ایک چھلاوہ ہے جو دکھائی تو نہیں دیتا مگر شیطان کی طرح ہر جگہ موجود ہے اور  اس کا خوف معاشرے پر طاری رہتا ہے کیونکہ یہ کسی وقت کسی بھی سمت میں وار کر سکتا ہے ۔
 

آپ کا تبصرہ

Praise and prayers for the great people of Turkey

One year ago, this day, the people of Turkey set an example by defending their elected government and President Recep Tayyip Erdogan against military rebels.

Read more

loading...