کمرشل ڈیموکریسی ۔۔۔ ایک منفرد سیاسی نظریہ

  وقت اشاعت: 14 2017 تحریر: مسعود مُنّور

دلوں کے حکمران میاں نواز شریف نے پچھلے دنوں اعلان کیا کہ وہ اب ایک نظریاتی آدمی بن چکے ہیں ۔ یار لوگوں نے سابق نا اہل وزیر اعظم کے اس بیان کو بغیر سمجھے سُنا ، مگر در خُو رِ اعتنا ہی نہیں سمجھا اور نہ ہی یہ جاننے کی کوشش کی کہ میاں نواز شریف کس نظریہ کی بات کر رہے ہیں ۔ حالانکہ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ میاں صاحب کے اس نظریاتی انکشاف کے بعد اُن کا ایک باقاعدہ نظریاتی انٹرویو کیا جاتا اور اس نظریے کو نہایت احتیاط سے حیطہ تحریر میں لا یا جاتا تاکہ علمِ سیاسیات کی کتابوں میں اس نئے جمہوری نظریے کو شامل کرکے شریف اکادمی ٗ سیاسیات کی اس علمی نظریاتی ایجاد کو عالمی سطح پر متعارف کروایا جاتا۔ مگر یہ میڈیا کے بقراطوں ، یونیورسٹیوں کے سقراطوں اور صحافت کے افلاطونوں کی نا اہلی ہے کہ انہوں نے اس نظریاتی انکشاف کو ٹریش بیگ میں ڈال دیا ۔ یہ بہت بڑی سیاسی بے ادبی ہے کہ علم کے ہیروں کو غیر ذمہ داری کے کوئلوں سے سیاہ کرکے بالائے طاق رکھ دیا جائے ۔

میاں نواز شریف کا یہ نیا سیاسی نظریہ کمرشل ڈیموکریسی کا نظریہ ہے ۔ کمرشل ڈیموکریسی کے نظریے کے مطابق عوام سے ووٹ یا تو گونا گوں سیاسی حربوں سے نکلوایا جاتا ہے یا خریدا جاتا ہے ۔ ووٹ کی خریداری کے لیے ہر قسم کے جھوٹے وعدے ، خوشحالی کے سبز باغات ، میڈیا ، سرکاری وسائل اور معاشرے کا بے لگام غُنڈہ عنصر بروئے کار لایا جاتا ہے جو ووٹ کے یقینی حصول کی ضمانت بنتا ہے ۔ نظریے کی رو سے ووٹ وہ طاقت ہے جو حکمرانوں کو من مانی کا بلینک چیک دیتی ہے کیونکہ ووٹ ہر ادارے سے بڑا ادارہ ہے جس کے پاس ویٹو پاور ہوتی ہے، جو دیگر اداروں کے فیصلوں کو کالعدم قرار دے سکتی ہے ۔ چنانچہ ووٹ ، خواہ وہ کسی بھی جائز یا ناجائز طریقے سے لیا گیا ہو ، اقتدارِ اعلیٰ کا لائسنس ہے اور وہ عدالتوں ، یونیورسٹیوں ، دفاعی تنظیموں از قسم فوج ، رینجرز اور ایف سی وغیرہ کے ہر فیصلے کو رد کرنے کا اختیار رکھتا ہے ۔ چنانچہ اس نظریے کا جگہ جگہ پرچار کرکے عوام اور اداروں کو ایجوکیٹ کیا جا رہا ہے کہ دیکھو، قانونی فیصلے سپریم کورٹ یا نیب عدالت نہیں کرتی بلکہ ووٹ کرتا ہے اور اس نظریے کی رو سے ووٹ کا ادارہ حکمرانوں کو اختیار دیتا ہے کہ وہ حکومت کے پانچ سال پورے کریں اور بار بار منتخب ہونے کا حق فائق رکھیں ۔ سبحان اللہ ۔

اس نظریے کے مطابق ووٹ ، ووٹر کے ہاتھ سے بیلٹ بکس میں اُتر جانے کے بعد حکمرانوں کی ملکیت بن جاتا ہے ۔ چنانچہ بیلٹ بکس میں داخل ہونے کے بعد ووٹر سے ووٹ کا کوئی رشتہ نہیں رہ جاتا کیونکہ وہ حکمرانوں کا ہوچکا ہوتا ہے ۔ اللہ اللہ خیر سلّا ۔ اب یہ حکمران کی صوابدید ہے کہ وہ ووٹ کو جس طرح چاہے استعمال کرے ۔ ووٹ سے قانون شکنی کرے ، دھاندلی کرے ، کرپشن کرے یا منی لانڈرنگ کرے ۔ اقربا پروری کرے ۔ کابینہ میں غیر ضروری وزیروں کی فوج بھرتی کرکے اپنی پراپیگنڈہ مشینری کو ناقابلِ تسخیر بنائے ، ملکی اداروں کو اپنے ذاتی کاروباری ادارے بنائے یا کاروباری اداروں کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرے ۔ یہ سب اُس ووٹ کی طاقت ہے جو بیلٹ بکس میں محفوظ ہے اور حکمران کے لیے پانچ سالہ من مانی کا اجازت نامہ ہے ۔

لیکن اس وقت کچھ ادارے ووٹ کا احترام روا نہیں رکھ رہے جس میں سر فہرست سپریم کورٹ ہے جو قانون کی لاٹھی لیے سابق وزیر اعظم کے در پے ہے اور اس حقیقت کو نظر انداز کر رہی ہے کہ ووٹ کا ویٹو ہر ادارے کے فیصلے کو مسترد کر سکتا ہے ۔ لیکن چونکہ میاں صاحب کا یہ نظریہ پاکستان کی فرسودہ نظریاتی روایت میں تازہ ہوا کا جھونکا ہے ، اس لیے بہت سے سیاسی مجاوروں کی سمجھ میں ہی نہیں آتا کہ اس نظریے کی وقعت اور قدرو قیمت ہے کیا ۔ اور پھر ووٹر یہ بات بھول جاتا ہے کہ وہ اپنا ووٹ حکمرانوں کے سپرد کر چکا ہے اور اب اس کا اپنے ووٹ پر نہ کوئی حق ہے اور نہ ہی اختیار ۔ چنانچہ اگر وہ مسائل میں گھرا ہوا ہے تو یہ اُس کا اپنا چوائس ہے ۔ مگر حزبِ اختلاف کی جماعتیں اپنی باری کے انتظار میں حکمرانوں کے خلاف شور مچاتی رہتی ہیں حالانکہ یہ خُدا کے اختیار میں ہے کہ وہ جس کو چاہے ووٹ دلوائے اور جسے چاہے ووٹ سے محروم کرکے دھرنوں کا چلہ کاٹنے پر متعین کرے ۔ لیکن حزبِ اختلاف کے مومن اور لبرل یہ بات نہیں سمجھتے اور وہ بہادر شاہ ظفر اور قائد اعظم کے پیدا کیے ہوئے مسائل کو بھی نون لیگ کے گلے میں ڈال دیتے ہیں ۔

ووٹ میں بڑی طاقت ہے ۔ ووٹ سیاسی بہروپیوں کو اسمبلی کے ممبر کی نوکری دلواتا ہے جس میں بھاری تنخواہ کے علاوہ قسم قسم کے الاؤنس ملتے ہیں جب کہ عیاشی اور چودھراہٹ جھونگے میں ملتی ہے ۔ ہر رکن اسمبلی کو ترقیاتی کاموں کے لیے ایک دو کروڑ کی ٹِپ بھی ملتی ہے جس کو وہ جیسے چاہے استعمال کرے ۔ مستزاد یہ کہ ووٹ ان سیاسی بونوں کو معاشرے کے وہ باون گزے بنا دیتا ہے جو ہر ملکی قانون سے بالاتر ہوتے ہیں ۔ وہ چاہیں تو پولیس کے سپاہی کو سرِ راہے پیٹ دیں ، جج کو جیب میں ڈال لیں، کسی رہائشی پلاٹ یا مزروعہ اراضی پر قبضہ کر لیں ، کسی غریب کی بیٹی کو اُٹھا لیں یا مذہب کی حسب منشا توجیہہ کرکے کسی بھی نظریاتی مُخالف کو قابلِ گردن زدنی قرار دلوا دیں ۔

ان دنوں احمدیوں پر حکمرانوں کی خصوصی توجہ ہے ۔ کبھی داماد شریف قومی اسمبلی میں کھڑے ہو کر اُن پر مشقِ ستم کرتے ہیں اور اُن کے شہری حقوق سلب کرنے کی تجاویز پیش کرتے ہیں اور کبھی پنجاب کے وزیرِ قانون احمدیوں کے زخموں پر مرہم رکھنے کی کوشش میں خود ہی وجہِ نزاع بن جاتے ہیں ۔ لیکن اس سے دل چسپ بات یہ ہے کہ پنجاب حکومت کی پولیس اور سرکاری وکیل ایک دوسرے کے ساتھ ایک گھاٹ پر رشوت نہیں کھا سکتے ۔ نیب عدالت میں مسٹر ایند مسز کیپٹن صفدر کی پیشی کے موقع پر جو تماشا ہوا وہ ہمارے مہذب ہونے کی کی معقول ترین گواہی ہے ۔ ایسے لگتا ہے یہ ادارے ، سارے کے سارے ایڈہاک بنیادوں پر کام کر رہے ہیں ۔ لگتا ہے کسی بھی اِدارے کے پاؤں پاکستان کی نظریاتی مٹی میں نہیں بلکہ یہ سب کے سب کمرشل ڈیموکریسی کے قیدی ہیں ۔

دن بھر ٹی وی کی کھڑکی کھول کر پاکستان کے آنگن میں جھانکو تو لگتا ہے کہ یہ وہ ریاست ہے جہاں تشدد ور لا قانونیت کی حکمرانی ہے اوراس تشدد اور لاقانونیت کا دوسرا نام کمرشل ڈیموکریسی ہے ۔ لیکن حکمران طبقے کی ہر جگہ ، ہر صوبے اور ہر سیاسی جماعت کے پرچم تلے چاندی ہے ۔ ابھی آج ہی کی خبر ہے کہ پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت نے اپنے وزیروں کی تنخواہوں میں اس قدر اضافہ کیا ہے کہ اگر کوئی غریب اور بے روزگار پاکستانی اس رقم کو یک مشت دیکھے تو دہشت سے مر جائے ۔ روٹی ، کپڑا اور مکان کا نعرہ لگانے والی پیپلز پارٹی اپنے حکمران گروہ کی حد تک اس اصول پر صدقِ دل سے قائم ہے اور وزیروں کی تنخواہوں میں اس ہوشربا اضافے کی خبر سے ذوالفقار علی بھٹو کی روح کو کتنی تسکین ملی ہوگی جو کہتے تھے کہ انہیں عوام سے عشق ہے۔ لیکن اُن کے برعکس سائیں زارداری اور اُن کے بے دام سیاسی غلام شاہ مراد کو اپنی پارٹی اور اس کے وزیروں ، مشیروں اور اراکینِ اسمبلی سے عشق ہے ۔ لیکن کچھ بھی ہو عشق تو ہے نا ۔

عشق عامیوں سے ہو یا خواص سے، عشق ہوتا ہے۔ اور پھر یہ خواص بھی تو پاکستانی ہیں ، جن کی مبالغہ آمیز خوشحالی پاکستان کی خوش حالی ہے ۔ مجھے تو اس بات سے خوشی ہوتی ہے کہ لندن اور دوبئی میں شریف خاندان کی املاک پاکستانیوں ہی کی ہیں ۔ گویا پاکستان کی ہیں اور یہ پاکستان جاتی امرا سے لندن تک براستہ دوبئی کمرشل ڈیموکریسی کا جیتا جاگتا ثبوت ہے ۔ دلوں کے حکمران میاں نواز شریف زندہ باد !

آپ کا تبصرہ

Praise and prayers for the great people of Turkey

One year ago, this day, the people of Turkey set an example by defending their elected government and President Recep Tayyip Erdogan against military rebels.

Read more

loading...