سیاسی مفادات کی جنگ

  وقت اشاعت: 24 ستمبر 2017 تحریر: مسعود مُنّور

" سیاسی مُخالفین کو تہس نہس کرنے کے بجائے اُن کے لیے بہتر نظم و ضبط اور صحت مند اختلاف کے مواقع پیدا کرنے چاہئیں " ۔ درویش خانقاہی
ہم برِ صغیر کے مسلمان بُلھے شاہ کے فلسفے کے پیرو ہیں اور نہیں جانتے کہ ہم کون ہیں اور کیا ہیں : مسجدوں کے مومنین ہیں یا کفر کی روایت پر قائم ہیں ۔ حُسین علیہ السسلام کے گھرانے کے حامی ہیں یا یزید کی جمہوریت کے ہم نوا ۔  چونکہ کربلا کے معرکے میں لوگوں کی اکثریت یزید کے ساتھ تھی اور حُسین علیہ السلام کا گھرانہ اپنی مُختصر جمعیت کے ساتھ  بظاہر ایک موہوم سی اقلیت میں تھا ، اِس لیے اکثریت یزید ابنِ معاویہ کا ووٹ بنک تھی ۔ جی ہاں ، ہاتھ پر بیعت ووٹ کی ابتدائی صورت تھی جس کے آثار قدیم یونان کی شہری ریاستوں میں بھی موجود تھے ۔  لیکن یزید نے اپنے ووٹوں کی کثرت کے باوجود ، حُسین علیہ السلام کی مختصر سی جمعیت کا سامنا کرنے کے بجائے اُسے تہس نہس کرنا ہی مناسب جانا اور کمزور اور بُزدل  لوگ ایسا ہی کیا کرتے ہیں ۔

حُسین  اور یزید مذہبی تاریخ کے استعارے ہیں ۔ حسین حق و صداقت کا استعارہ ہے اور یزید سیاسی چیرہ دستی اور جبری جمہوریت کا ۔ اور ہمارے سرمایہ داروں ، جاگیرداروں ، بڑے تاجروں اور عسکری شہزادوں نے اسی یزیدی روایت کی بنیاد پر ایک استحصالی نظام نافذ کیا ہوا ہے ، جسے وہ جمہوریت کا نام دیتے ہیں ۔ جمہوریت کی یہ عمارت سیاسی جماعتوں کے ستونوں پر کھڑی ہیں ، جو ووٹوں کی اینٹوں سے تعمیر کی گئی ہے ۔
جیسا کہ میں آغاز میں عرض کر چکا ہوں ، ووٹ بیعت کی جدید صورت ہے ۔ ووٹ حکمران کو مروجہ قانون کی پابندی کے عوض اپنی جان و مال کی حفاظت کی ذمہ داری سونپنے کا عہد نامہ یا کنٹریکٹ ہے ۔ جان و مال کی حفاظت ایک بلیغ اصطلاح ہے جس کا مطلب شہری کی بنیادی ضرورتیں پوری کرنا ہے جو روزگار، سکونت ، تعلیم ، طبی سہولتوں اور اظہار کی آزادی سے مشروط ہے ۔ یعنی حاکم وقت کے مروجہ قوانین کی اطاعت کی جائے ۔

یہ مروجہ قوانین  عوام کے منتخب نمائندوں پر مشتمل شوریٰ وضع کرتی ہے،  چنانچہ یہ بالواسطہ طور پر عوام کے اپنے بنائے ہوئے قوانین ہوتے ہیں جن کے تحت معاشرتی قدریں وضع ہوتی ہیں  اور اُن قوانین کی پابندی فرض ہے ۔ قانون کی پابندی کے ضمن میں عوام کا رول ماڈل حکمران طبقہ ہوتا ہے جو قانون کی پابندی کا افضل نمونہ بن کر دکھاتا  ہے تاکہ عوام اُس کی تقلید کرے اور معاشرہ قانون کے پاؤں پہن کر چلے تاکہ نقصِ امن کی صورتِ حال پیدا نہ ہو ۔ یہ ووٹ کے دوطرفہ احترام کی بنیاد ہے ۔

لیکن پاکستان کے حکمرانوں نے جس جس طرح سے ووٹ کی توہین کی ہے اور جس جس طرح سے عوام کے حقوق غصب کیے ہیں ، اُس کی مثال جمہوریت کی تاریخ میں نہیں ملتی ۔ دکھ کی بات تو یہ ہے کہ حکمرانوں نے ووٹ کو کرپشن اور منی لانڈرنگ کا لائسنس سمجھا ہوا ہے اور جب اُن کے حقِ کرپشن و منی لانڈرنگ کو چیلنج کیا جائے تو  وہ اسے ووٹ کے تقدس کی پامالی قرار دے کو شور مچانا شروع کر دیتے ہیں اور واویلا کرتے ہیں ۔ حالانکہ حکمرانوں کی ساری جنگ مفادات کی جنگ ہے جسے وہ جمہوریت کہتے ہیں ۔ اس جمہوریت میں عوام  کی بنیادی ضرورتوں کو مکمل طور پر نظر انداز کرکے حکمران اپنے گرد اپنے حاشیہ برداروں ، کاسہ لیسوں اور خوشامدیوں کی بھیڑ جمع کرلیتے ہیں جو تنخواہ دار ہوتے ہیں اور جن کا کام حکمران کو  ہمیشہ مطمئن رکھنا ہے۔ تاکہ اُن کے لفافے لگے رہیں اور اس طرح ایک فرضی جمہوریت وجود میں آ جاتی ہے جس کا تعلق عوام کے بجائے خوشامدیوں سے ہوتا ہے ۔

صابن کے بلبوں کی سی  یہ جمہوریت ، جمہوریت کے نظام پر بد ترین استزا ہے ، جس میں حکمران عوام کو اُن کی بنیادی ضرورتوں سے محروم کرکے ، ملکی وسائل کو اپنی ذاتی معیشت سنوارنے کے لیے استعمال کرتے ہیں اور حاصل زر سے اپنی فرعونیت کے محل دنیا کے مختلف ملکوں میں تعمیر کرتے چلے جاتے ہیں ۔ اُن کے طرزِ حکمرانی سے یہ بات پایہ  ثبوت کو پہنچتی ہے کہ وہ در حقیقت پاکستانی نہیں ہیں بلکہ یہ اُن غیر ملکی سرمایہ کاروں کی طرح ہیں جو  پاکستانیوں کا بھیس بدل کر  اقتدار پر قبضہ کرتے ہیں۔ اور پھر عوام کا استحصال شروع کر دیتے ہیں ۔ یہ ایک شیطانی پہیہ ہے جو مسلسل گھومتا رہتا ہے اور اس استحصالی طبقے نے ملک میں اپنی غاصبانہ کاروائیوں کا نام جمہوریت رکھ چھوڑا ہے اور ووٹ کو ڈاکہ زنی اور لُوٹ مار کا  قانونی اجازت نامہ سمجھتے ہیں ۔

لیکن بد قسمتی سے پانامہ لیکس کے بعد رونما ہونے والے واقعات ، دھرنوں ، احتجاج کے تابڑ توڑ سلسلوں اور ماڈل ٹاؤن جسیے خونیں سانحے جیسے حادثات نے نام نہاد جمہوریت کا اصلی چہرا  بے نقاب کردیا ہے ۔ اور صاف دکھائی دے رہا ہے کہ ملک میں سیاسی جماعتیں بشمول مذہبی فرقہ جات ایک دوسرے کے جانی دشمن ہیں اور ایک دوسرے کو تہس نہس کرنے پر تُلے ہوئے ہیں ۔
کیا جمہوریتیں ایسی ہوتی  ہیں۔
 

آپ کا تبصرہ

Growing dangers of Islamist radicalism on Pakistani politics

Mr Arshad Butt is an insightful observer of the political events in Pakistan. Even though the hallmark of Pakistani political developments and shabby deals defy any commo

Read more

loading...