کنفیوژ ن کا بیانیہ

  وقت اشاعت: 12 اگست 2017 تحریر: مسعود مُنّور

پاکستان میں اسلام کے بہتر فرقے ہیں،  مُلکِ خداداد  کے بہتر ٹی وی چینل ہیں ، بے شمار سرکاری اور غیر سرکاری ریڈیو ہیں جن کی نشریات چوبیس گھنٹے جاری رہتی ہیں ۔ انگنت اخبارات ہیں ، بھانت بھانت کے جرائد ہیں  اور  مستزاد یہ کہ سوشل میڈیا  کے ہوم میڈ صحافیوں کا حدِ لوح و قلم تک جال  پھیلا ہوا ہے ۔

ایک سے ایک جغادری  قسم کے دانشور  پر وحی اُتر رہی ہے اور اہل و نا اہل وزراء کو غیب سے  الہامات ہو رہے ہیں اور پھر بھی جہالت کا یہ عالم ہے کہ پاکستان کے کسی وفاقی وزیر کو یہ پتہ نہیں کہ مرحب مسلمان تھا یا یہودی ۔ کسی وزیر کو سورہ ء اخلاص نہیں آتی اور کسی کو یہ پتہ  تک نہیں کہ  میر مرد تھا کہ عورت۔ اور میر کا ذیل کا شعر اُنہیں مخمصے میں ڈال دیتا ہے اور وہ سوچنے لگتے ہیں کہ یا تو میر الف کے بغیر میرا ہے یا میرا الف دار میر ۔  اور پھر وہ حیران ہو کر یہ شعر پڑھتے ہیں اور حیرت سے انگشت بدنداں رہ جاتے ہیں:
میرا کیا سادہ ہیں بیمار ہوئیں جس کے سبب
اُسی انگریز کو  انگریزی پڑھا  دیتی  ہیں

خیر یہ آخری جملہ اور اُس کی وضاحت غیر ضروری اور   سراسر  استہزائیہ تھی کیوں  کہ ایسی صورتِ حال پر اسستہزا واجب ہے ۔
ہم جہاں کے ہیں اور جہاں جہاں بھی  ہیں وہاں ہر شخص  کو ہر شخص سے نظریاتی دشمنی ہے ۔ اور اب جس عمر میں نواز شریف نظریاتی ہونے کا اعلان کر بیٹھے ہیں ، نظریات کو لوہے کا فریم لگ گیا ہے ۔ اور لوہے کے چنے قوم کا ناشتہ بن کر رہ گئے ہیں ۔ سیاسی منظر ایسا ہے  کہ کسی کو کسی پر اعتبار نہیں ۔ ہر طرف نفاق و انتشار کا دور دورہ  ہے اور اگر کہیں اتحاد دکھائی دیتا ہے تو اُن سیاسی اکابرین میں جو  کرپشن کے کاف پر متفق ہیں جبکہ کرپشن کے کاف اور انصاف کے الف میں لڑائی ہے ۔ اور جب لڑائی میں عورتیں بھی نقاب اُتار کر کود پڑیں تو پھر جس گھمسان کا رن پڑتا ہے ، وہ نوعیت کے اعتبار سے اپنی مثال آپ ہوتا ہے ۔

چنانچہ سیاست میں ریحام خان ، عائشہ احد ، عائشہ گلالئی ، شیریں مزاری اور مریم اورنگ زیب جیسی خواتین کے دم سے مینا بازار لگ گیا ہے اور اس پر  طُرہ مستقبل کی نامزد  وزیرِ اعظم مریم نواز صفدر کے ٹویٹ ہیں جن کا ایک ایک لفظ لوے کے سریے سے لکھا ہوا لگتا ہے ۔ جن کی  ایسی چوٹ پڑتی ہے کہ پڑھنے والے کی آنکھوں کی چیں بول جاتی ہے ۔ ڈاکٹر شاہد مسعود ہر روز اپنے پروگرام میں یہ اعلان بڑی لجاجت سے کرتے ہیں کہ مریم نواز اُن کی بہن ہیں جن کی اتالیق جگنو محسن ہیں ۔  اور شریف خاندان کی سیاست کا  طلسمی عصا اُنہی کے ہاتھ میں ہے ۔ وہ جو چاہتی ہیں وہ ہوتا ہے اور اس جی ٹی روڈ پر چہل قدمی کی ہدایت کار بھی وہی ہیں جس میں ایک نو سالہ بچہ پھول پھینکنے کی پاداش میں جاں بحق  ہوگیا۔ اسے کپتان صفدر جمہوریت کا پہلا شہید قرار دے رہے ہیں ۔ شاید یہ جملہ بھی اُن کی بیگم صاحبہ کا ہے جو اُن کے خصوصی حکم سے ہی بولا گیا ہے۔ ورنہ بے چارے صفدر کی کیا مجال کہ وہ رسی کو سانپ اور شلغم کو چانپ کہے ۔ کیونکہ :
جیسے رب کے رسول اُتارے گئے
بیویاں  ، شوہروں پہ اُتری ہیں

اور اب فلک سے صدائیں آ رہی ہیں کہ  بیگم کلثوم نواز  بنیں گی نواز شریف ۔ اور وہ نواز شریف کی جگہ وزارتِ عظمیٰ  کی مسند پر بیٹھیں گی کیونکہ اقتدار کو شریف خاندان میں رہنا ہے اور رہے گا ۔ اللہ کرے ایسا ہی ہو اگرچہ امکانات واضح اور روشن نہیں ہیں ۔ اور میرے جیسے کم فہم لوگ جو اب عمر کے اُس حصے میں جس میں  عقل داڑھ نکال دی جاتی ہے یا نکل گئی ہوتی ہے ، اس ساری صورتِ حال کو سمجھنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں کہ  آخر نواز شریف سڑکوں پہ کیوں خوار ہو رہے ہیں۔ اور لوگوں کو سپریم کورٹ کے خلاف بغاوت پہ کیوں اُکسا رہے ہیں ۔ دونوں طرف کے دانشور ، حمایتی ، خُدائی فوجدار اور  خواہ مخواہ کے وکیل پوری  قوم کو عدالت کے کٹہرے میں کھڑا کئے طرح طرح کے فیصلے سنا رہے ہیں ۔ ایک عذاب کی صورت ہے جو اس قوم پر  رب کی طرف سے آئی ہوئی ہے ۔ اسی کنفیوژن میں مجھے رب کی آواز سنائی دیتی ہے کیونکہ رب ہی ہے جو علم و دانش کی روشنی سے کنفیوژن کو واضح  تفہیم میں بدلتا  ہے :
" کوئی مصیبت کسی ملک پر یا تم پر نہیں پڑتی ، اس سے پہلے کہ وہ واقع ہو ، ایک کتاب میں لکھی ہوئی ہوتی ہے اور اللہ کے لیے یہ معمولی بات ہے " سورۃ  الحدید ۔ ۲۲

اور اتنی سی معمولی بات  سابق وزیر اعظم نواز شریف کی سمجھ میں نہیں آرہی ہے حالاں کہ یہ لاٹھی اللہ ہی  کی  ہے اور  بلند آواز بھی ۔ اور اس سوال  کا جواب بھی اللہ  ہی کے پاس ہے کہ نواز شریف نے بیٹے کی کمپنی سے تنخواہ نہ لینے کے علاوہ  کیا کیا ہے ۔ شاید نا اہلی کے بعد کنفیوژن کا  ہر  بیانیہ جو پُر پیچ  ہوتا ہے، سمجھ میں نہیں آتا ۔ میری دعا ہے کہ اللہ  سیاسی دانشوروں کی عقل پر پڑے پتھر ہٹا دے تاکہ وہ کنفیوژن کے بوجھ سے رہائی پا سکیں اور  قوم کو دانیال ، طلال، حنیف عباسی ، رانا ثنا اللہ  ، عابد شیر علی ، آصف کرمانی  اور مریم اورنگ زیب کی بری  اور فضول تقریروں سے بچائے ۔ 
 

آپ کا تبصرہ

Praise and prayers for the great people of Turkey

One year ago, this day, the people of Turkey set an example by defending their elected government and President Recep Tayyip Erdogan against military rebels.

Read more

loading...