تبدیلی نہیں آئے گی

  وقت اشاعت: 18 جون 2017 تحریر: مسعود مُنّور

پاکستان میں کامیاب بزنس مین بننے کے لیے اقتدار میں ہونا ضروری ہے یا پھر بطور سیاستدان اتنا موثر ہونا لازمی ہے جتنے مولانا فضل الرحمان، تاکہ شیر کے مونہہ سے اپنے حصے کا نوالہ چھینا جا سکے ۔ رزق یقیناً خُدا تعالیٰ کی طرف سے ہے لیکن اُس کی تقسیم کا ذمہ اور اختیار انسانوں کو دیا گیا ہے۔  اور انسان چاہیں تو خُدا کے اُتارے ہوئے رزق کو ، اُس کی عطا اور امانت سمجھ کر اُس کی رضا  کے لیے اور شریعت کے قانون کے مطابق خرچ کریں یا اسراف کرنے والوں کی طرح اللہ کے عطا کردہ رزق کو اپنے اللوں تللوں کی مد میں گل چھرے اُڑا کر حرام میں گنوا دیں ۔

اور یہ رزق کی نا منصفانہ تقسیم کا شاخسانہ ہی ہے جس کی بنا پر پاکستان کے موجودہ حُکمران آزمائش میں مبتلا ہیں  اور جیسا کہ صدر ممنون حسین نے ایک بار عجب مجذوبانہ انداز میں کہا تھا کہ پانامہ خُدا کی لاٹھی ہے مگر یہ لاٹھی بے آواز نہیں بلکہ انتہائی پُر شور ہے ۔ اس لاٹھی کی ضربیں اتنی کلیمانہ اور شدید ہیں کہ حکمرانوں کی پیٹھیں لال ہو ہو کر نیلی پڑ گئی ہیں اور اُن کی چیخیں اُن کے لے پالکوں کے مونہہ سے اتنی شدت سے سنائی دیتی ہیں کہ پاکستان کے بہتر ٹی وی چینل اُن کی آہ و فغاں سے معمور ہو جاتے ہیں ۔ واہ مولا تیرے رنگ!

ستر برس کی تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان کے سارے سرکاری  ادارے کاروباری رہے ہیں اور ہیں اور سب کے سب ناجائز قانونی اقدامات کے تپِ محرقہ میں مبتلا رہے ہیں اور یہ بیماری  ایک حکومت سے دوسری تک چھوت چھات کے سے میکینزم سے منتقل ہوتی چلی آتی رہی ہے۔ اور یہ ادارے جو اپنی ماں قوم  کے بیٹے بیٹیاں ہیں ، قوم سے کھلواڑ کرتے چلے آرہے ہیں۔ اور اب یہ کھلواڑ ایک مستحکم جمہوری روایت بن چکا ہے ۔ قوم جو ان داروں کی سگی ماں ہے ، اِن سے پچھلے ستر برس کا حساب مانگتی رہتی ہے مگر وہ سارے کے سارے ماں کی چیخ و پکار نہیں سُنتے اور اپنی ماں کی اشیرواد کے بغیر اپنی اپنی تجوریوں میں کرپشن کے مکھانے جمع کرتے اور بھرتے رہتے ہیں  ۔ یہی وجہ ہے کہ کوئی ایک ادارہ بھی آئین ، ملک کے مروجہ قانون اور شریعت کے اصولوں سے مخلص نہیں ہے ۔ جس کے جو جی میں آئے کرتا ہے ۔ وردیاں اور عہدے سونے کے انڈے دینے والی مُرغیاں ہیں جن کے سونے سے اِن اداروں میں کرسیوں پر براجمان  سانپوں کے لیے دودھ مہیا ہوتا ہے ۔ سونے کا دودھ ۔

افسوس تو اِس بات کا ہے کہ ان سیاسی رہنماؤں میں ایک بھی ایسا نہیں جو عنانِ اقتدار کو عوام کی امانت اور سیاست کو عبادت سمجھتا ہو ۔ شریف خاندان کے لیے زرداری خاندان کی طرح کاروبار اور سیاست دو نہیں ایک ہی ہیں ۔ وہ سیاست کے ذریعے کاروبار کرتے ہیں اور کاروبار کے ذریعے سیاست اور اِن کے درمیان فرق نہیں کرتے ۔ گزشتہ روز سپریم کورٹ کی مقرر کردہ جے آئی ٹی میں پیشی کے بعد پنجاب کے وزیرِ اعلیٰ نے سیاست دان کے بجائے آشفتہ سر شاعر  بن کر مٹّی کے وہ قرض اتارنے کا بلند بانگ دعویٰ کیا جو واجب بھی نہیں تھے ۔ کون سے قرض صاحب ۔ آپ سے تو  پنجاب کے غریب بچوں کی تعلیمی  کفالت اور بیماروں کے لیےطبی سہولتوں کا قرض ادا نہیں ہوا ۔ آپ کس قرض کی ادائیگی کی بات کرتے ہیں ۔ آپ نے ایک شاعرانہ تعلی کو سیاسی بنانے کی بھونڈی کوشش کی ہے اور مجھے اپنے شاعر دوست  کے لیے ہمدردی محسوس ہوئی جس کا شعر پرچی پر لکھ کر آپ  کی مٹھی میں تھما دیا گیا تھا ۔ شاید یہ پرچی اُس شاعر نما افسر نے لکھی تھی جو اُس قافلے میں شامل تھا جو وزیرِ اعلیٰ موصوف کی ہمت بندھانے کے لیے اُن کے ساتھ جوڈیشل اکیڈمی کی عمارت تک ساتھ گیا تھا ۔

پنجاب کے شریف وزیرِ اعلیٰ کو سیاست میں شعروں کے استعمال کا فن آتا ہے اور گانا بھی جانتے ہیں ۔ وہ جب چاہیں ، حبیب جالب کی طرز میں بغاوت کے گیت گائیں اور جب چاہیں افتخار عارف کی زبان سے اپنی صفائی پیش کریں ۔ اُن سے کوئی یہ نہیں پوچھتا کہ جالب  کے نظریات سے آپ کا کیا تعلق واسطہ۔ وہ تو آپ کے سیاسی مورثِ اعلیٰ حضرت ضیاء الحق طیارہ بُرد کے بڑے سخت نکتہ چیں تھے ۔ کبھی اُن کی وہ نظمیں بھی گا کر عوام کو سنائی ہوتیں جو جالب کی زبان مین ضیا کی روح کے لیے ایصالِ ثواب کا باعث بنتیں ۔ بھلا میں کس نظم کی بات کر رہا ہوں۔  یاد دلا دیتا ہوں:
صر صر کو صبا ، ظُلمت کو ضیا ، بندے کو خُدا کیا لکھنا

لیکن اس عہدِ منافقت میں قلم فروشوں کی ایک ایسی کھیپ تیار ہو گئی ہے جو صر صر کو صبا تو کیا جنّت کی خوشبودار ہوا تک لکھنے کو تیار ہے ۔ پاکستان چونکہ سیاسی تاجروں کے رحم و کرم پر ہے اس لیے یہاں ہر چیز ، ہر معاملہ اور ہر خدمت بکاؤ ہے ۔ چنانچہ مذہب ، نظریات ، وکالت ، عدالت ، علم و دانش ، آرٹ ، اور سائینس سے لے کر کرکٹ تک ہر شے منڈی کی جنس ہے ۔ اور اس کاروباری عیاری کا سیاسی معجزہ یہ ہے کہ قوم کے بیت المال پر پلو ، قوم کی انکھوں میں دھول جھونکو اور شاعری کرو ۔ یہ سب کچھ حکمرانوں کی تجارتی پالیسی کا حصہ ہے اور ناگزیر حصّہ ہے۔ کیونکہ اب اقتدار اور کاروبار کے درمیان کوئی خطِ امتیاز باقی نہیں رہا۔ اور برِ صغیر کے مسلمان جو جغرافیائی طور پر تین قومی شناختوں میں تقسیم ہیں اور مابعدِ سقوطِ ڈھاکہ کے پاکستان میں چھ قومیتوں میں بٹے ہیں ، مسلمان حکمرانوں کی بے بصیرتی کا ماتم کرتے رہتے ہیں۔ اور اُن کا تین ٹُکڑوں میں بٹا ملی وجود وہ نوحہ ہے جسے کوئی شہباز شریف نہیں پڑھے گا کیونکہ وہ اور اُس کے ہمنوا جانتے ہیں کہ آج کا دہشت گردی کے زخم کھاتا اور خون کے آنسو روتا پاکستان ، حکمرانوں کی ستر سالہ حکمرانی کا ثمر ہے۔ اور آنے والی نسل کا پاکستان آج کی پانامہ پالیسی کا حاصل ہوگا۔

حکمران اپنے اعمال سے جس پاکستان کا نقشہ بنا رہے ہیں وہ عوم کا پاکستان نہیں ہے ، بلکہ اُن کا اپنا کاروباری کارٹل ہے ۔ جو صرف اور صرف  شریف حکمرانوں کا  ہے اور اُن کے کاروباری مفادات کے لیے ہے یا اُن کے کاسہ لیسوں ، نمک خواروں اور کفش برداروں کے لیے ۔
پاکستان زندہ باد !
 

آپ کا تبصرہ

Praise and prayers for the great people of Turkey

One year ago, this day, the people of Turkey set an example by defending their elected government and President Recep Tayyip Erdogan against military rebels.

Read more

loading...