شیخی نگر کا سردار

  وقت اشاعت: 02 جون 2017 تحریر: سید مجاہد علی

یوں تو اسے خواب نگری کہنا چاہئے تھا کیونکہ اس بستی کے سارے باشندے خوابوں میں زندگی بسر کرتے تھے۔ مگر نہ جانے یہ حاسدوں کے پروپیگنڈے کا اثر تھا یا کسی احمقانہ طرز عمل کا نتیجہ کہ سب اس جگہ کو شیخی نگر کہنے لگے تھے اور وہاں کے باشندوں کے بارے میں شیخ چلی کا لفظ استعمال کیا جاتا تھا۔

چونکہ اردو کی علمی لغت میں شیخ چلی کا مفہوم فرضی بے وقوف درج ہے ، اس لئے ہمیں بھی یہ حق نہیں پہنچتا کہ اس بستی کے لوگوں کو حقیقی احمق قرار دیں۔ یوں بھی ڈینگیں مارنے اور فرضی قصے سنانے والے کردار کہانیوں میں ہی اچھے لگتے ہیں تاکہ بڑے ان سے محظوظ ہوں اور بچے سبق سیکھنے کی کوشش کریں۔ کیونکہ ترقی کے نئے دور میں روایتیں اور عادتیں بدلنے لگی ہیں۔ اب لوگ خود وہ نہیں کرتے جو دوسروں کو کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔

مگر ہم شیخی نگر کا ذکر کر رہے تھے اور آپ کو وہاں کے سردار کا قصہ سنانا چاہتے تھے۔
یوں تو اس بستی کا ہر شہری یگانہ روزگار تھا اور اپنی مثال آپ کہا جا سکتا تھا کہ ہر شخص اپنی خوبیوں ، اوصاف اور مزاج کی وجہ سے ایک ایسی خواب نگری سجانے کا ماہر تھا جس کا حقیقت میں وجود نہ ملتا تھا۔
اس لئے دنیا بھر کے لوگ اس نگری کا رخ کرتے۔ چند روز یا ہفتے وہاں گزارتے اور اپنے گھروں کو واپس جا کر ان قصوں کو خوب مصالحہ لگا کر سناتے۔ ان میں سے کئی قصہ گو تو اس تجارت میں بے حد خوشحال اور دولتمند ہو چکے تھے۔

نوآموز لکھنے والوں کے لئے اس بستی کا دورہ یوں ہی تھا گویا وہ سونے کی کان میں پہنچ گئے ہوں۔ جہاں قیمتی دھات کے انبار تھے اور وہ جتنا چاہے سمیٹ سکتے تھے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ان لکھاری سیاحوں کو کسی خاص تردد کی ضرورت بھی نہ پڑتی تھی۔ بستی میں جہاز سے اترتے ہی ایسے کرداروں سے ان کا آمنا سامنا ہوجاتا جو بجائے خود ایک دلچسپ ، قابل فروخت بلکہ بعض صورتوں میں باعث عبرت کہانی کا پورا باب یا کتاب ہوتے۔
شروع میں بعض لوگ اس بستی میں آ کر اس غلط فہمی کا شکار بھی ہو گئے کہ جو باتیں وہ سنتے ہیں ، ان کا شاید کبھی حقیقت سے تعلق رہا ہوگا۔ ممکن ہے کہ پٹے سے سامان اٹھا کر ٹرالی پر رکھنے والے پورٹر کے دادا اپنے وقت میں ایسے  گھنے اور وسیع باغات کے مالک ہوں کہ انسان ایک طرف سے داخل ہو تو آدھی زندگی واپسی کا راستہ کھوجنے میں ہی صرف کر دے۔
ایک صاحب کے نانا کے جنگلات اور جاگیر اتنی وسیع ہو سکتی تھی کہ جوان آدمی گھوڑے پر سوار ہو کر اگر ان کی سیر کو نکلتا تو دوسرے  کنارے تک پہنچتے پہنچتے اس کے سر کے بال سفید ہو چکے ہوتے۔

 دھیرے دھیرے باہر کی دنیا والوں نے یہ سمجھنا شروع کر دیا کہ ان قصوں پر یقین کرنے سے ذہنی پرداخت متاثر ہو سکتی ہے۔ اس لئے جو لوگ بھی شیخی نگر کا رخ کرتے انہیں خاص طور سے ان خطرات سے آگاہ کیا جاتا۔
جاﺅ، دیکھو ، سنو اور واپس آ جاﺅ۔ یہ ساری باتیں لطف لینے اور قصے سنانے کے لئے ہیں۔ جو بھی ان پر اعتبار کرے گا وہ بھی گویا پتھر کا ہو جائے گا۔
مفہوم اس وارننگ کا یہ تھا کہ عقل سے ہاتھ دھو بیٹھے گا اور دیوانہ کہلائے گا۔

مگر شیخی نگر کے باسیوں کو اس کی پرواہ نہیں تھی کہ لوگ ان کے بارے میں کیا کہتے ہیں اور بستی سے باہر ان کی حالت پر کیسے قہقہے لگائے جاتے ہیں۔ ان کو یقین تھا کہ یہ سب لوگ ان سے جلتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ اگر ماضی کی بلندیوں کو یاد کرتے ہوئے وہ خود بھی اس راستے پر چل پڑے تو باقی دنیا کتنی پیچھے رہ جائے گی۔
یہ سوچتے ہوئے وہ اپنی کامیابیوں کے نشے میں سرشار ، اپنے بارے میں سہانے خواب دیکھتے، آنے والوں کو ترس کھانے والی نظروں سے گھورتے ، اس وقت کا انتظار کرنے لگتے جب سب کچھ تبدیل ہو جائے گا اور پوری دنیا ان کے سامنے ہیچ ہوگی۔
ایسے ہی وقت میں جبکہ ان کی کامیابی ، خوشحالی اور ترقی کے خلاف سازشیں کرنے والے انہیں ناکام بنانے کے گھناﺅنے منصوبے بنا رہے تھے کہ دشمنوں کی صفوں سے ان کے ارادوں کا پتہ لے کر وہ شخص نمودار ہؤا۔

دیکھتے ہی دیکھتے اس نے بستی والوں کے سامنے ان کے خوابوں کو عملی شکل دینا شروع کر دی۔ اس نے بتایا کہ ایک سازش کے تحت اس بستی کی بھیانک اور منفی تصویر دنیا کو دکھائی جاتی ہے۔ درحقیقت یہ بستی جنت نشان ہے۔ اس کے لوگ باصلاحیت ہیں اور اس کی زمینوں میں سونا اگلنے کی صلاحیت ہے۔
پھر دیکھتے ہی دیکھتے وہ خوابناک دنیا مجسم صورت میں اس نگری کے شہروں اور قصبوں میں ابھرنے لگی۔
 
وہ شخص روز ایک نیا اعلان کرتا اور ایک نئی منزل طے کرتے ہوئے لوگوں کو یقین دلاتا کہ دیکھو اگر دشمنوں  کی سازشوں کو سمجھ لو تو سکون ، اطمینان اور ترقی کی کون کون سی منازل اس سرزمین کا انتظار کر رہی ہیں۔
یہ سب خواب نہیں تھا۔
یہ سب کچھ صرف باتیں بھی نہیں تھیں۔
یہ ٹھوس بلند عمارتیں تھیں۔ ان میں نصب جدید آلات و مشینری تھی۔
ان عمارتوں میں صاف ستھرے کپڑوں میں ملبوس ان کی ہی بستی کے لوگ تھے۔
آج ان کی کل میری باری ہے
یہ خوشحالی کسی ایک گھر، ایک محلے یا کسی خاص خاندان تک محدود نہیں رہے گی
اس شخص نے اعلان کر دیا تھا کہ یہ ثمرات ہر گھر ہر شہری تک پہنچیں گے۔

بستی کے سارے لوگ بہت خوش تھے
وہ دیوانگی کی حد تک اس شخص سے پیار کرتے تھے۔
یہ شخص ان خوابوں کو سچ بنا رہا تھا جو ان لوگوں نے اپنی کمزوریوں کو چھپانے کے لئے گھڑ لئے تھے اور پھر یہ سہانی باتیں کہانیوں کی صورت سنا کر وہ دنیا والوں کو ” بے وقوف “ بنانے کا ہنر سیکھ گئے تھے۔
مگر اب جو نمودار ہو رہا تھا وہ کسی کہانی کا کردار نہیں تھا۔
وہ تو سچ تھا کہ مجسم سامنے ظاہر ہو رہا تھا۔

شیخی نگر کے سب لوگ اس دیوتا نما شخص کو سردار کہنے اور ماننے لگے۔
مگر ہر اچھے خواب کی طرح یہ خواب بھی جلد ہی منتشر ہونے والا تھا۔
اس روز بستی جاگی تو ان کا سردار مطعون ٹھہرایا جا رہا تھا۔
بتایا جا رہا تھا کہ جو دیدہ زیب نقشہ اس نے سجایا تھا وہ تو سراب تھا۔ گمرہی تھی۔ جھوٹ تھا اور فریب تھا۔

فریب تھا؟
نہ یہ کیسے ہو سکتا ہے۔   ہم اندھے تو نہیں ہیں۔ ہم نے یہ سب خود اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔
یہ سہولتیں ، مراعات اور ترقی کے زینے پر تیزی سے اٹھتے قدم۔
ہمارے بدخواہ ہماری ترقی اور خوشحالی کو برداشت نہیں کر سکے۔
یہ سازش ہے۔
ہمارے سردار کو کسی گھناﺅنی سازش میں پھنسایا گیا ہے۔ مگر ہم سب اس کے ساتھ ہیں۔
سردار ضرور سرخرو ہوگا۔

وہ ہمارے خوابوں کو سچ کرنے والا ہنر مند اور ہمارے سحر آلود بیان کو حقیقت میں ڈھالنے والا سامری ہے۔
شیخی نگر کے باسی بہت اداس تھے
 مگر انہیں یقین تھا کہ ان کا فنکار سردار ضرور واپس آئے گا۔
 تاکہ ان کے سارے جھوٹ سچ میں بدل جائیں

حقیقت سے فرار کا یہ سفر اب بھی اس مایوس بستی کی خصوصیت ہے۔
لوگ ان کی کاہلی اور گمرہی پر ہنستے ہیں اور وہ پورے یقین سے اس تمسخر کو سازش سمجھتے ہیں۔

(یہ مضمون جون 2015 میں پہلی بار کاروان میں شائع ہؤا تھا)

 

آپ کا تبصرہ

Growing dangers of Islamist radicalism on Pakistani politics

Mr Arshad Butt is an insightful observer of the political events in Pakistan. Even though the hallmark of Pakistani political developments and shabby deals defy any commo

Read more

loading...