نظامِ مصائب کا شکار بچّے

  وقت اشاعت: 10 جنوری 2017 تحریر: مسعود مُنّور

اہلِ فکر و دانش کو مُژدہ ہو کہ اب سرکاری اعداد و شمار اور  اہلِ اقتدار کی مہیا کی ہوئی اطلاعات پر تنقید و  تردید کا باب بند ہونے والا ہے ۔ قلم اور زبانیں خریدے جانے کی افواہیں پھیلی ہوئی ہیں  اور حال ہی میں اسلام آباد میں ہونے والی اہلِ قلم کی " ضربِ قلم "  کانفرنس میں کچھ ایسے بوسیدہ اور کُہنہ بزرگ بھی دکھائی دیے جو عمر بھر حکمران گھرانوں کے دستر خوانوں کی ریزہ چینی کرتے رہے ہیں ، اور لفافوں کے عوض انسانیت کے دکھوں پر آنسو بہاتے رہے ہیں۔ مگر اپنے کشکول صورت چہرے دراز کیے  کانفرنس میں موجود تھے ۔

کسی شطونگڑے  نے میرے کان میں وسوسہ پھونکا کہ  اب ضربِ عضب کی جگہ چونسٹھ کروڑ کی لاگت سے یہ قلمی مورچہ تیار کیا گیا ہے جو حکمرانوں کے مفادات کی جنگ لڑے گا ۔ میں افواہوں پر کان نہیں دھرتا مگر نقل کفر ، کفر نباشد ، چنانچہ وہ سُخن گسترانہ  باتیں دوہرا دی ہیں جو مجھے سنائی گئی ہیں ۔ میں جانتا ہوں کہ سوشل میڈیا اور یو ٹیوب پر بہت کچھ من گھڑت ہوتا ہے بالکل اسی طرح جس طرح آف شور کمپنیوں کا شوشہ من گھڑت ہے ۔ ماسٹر گام نے مجھ سے پوچھا کہ وہاں کون سا مونہہ کتنے میں بند ہوا ہوگا اور  کون سا قلم کتنے میں بکا ہوگا تو میں نے اپنے یارِ جانی ماسٹر گام سے کہا کہ بھائی جس گاؤں نہیں جانا ، اُس گاؤں جانے والے  راستے کے نشیب و فراز پر سر کیوں کھپانا ۔ پھر یہ تو راز ہائے درونِ خانہ ہیں جن پر یہ مصرع صادق آتا ہے :
رموزِ مملکتِ خویش خسرواں دانند

چونکہ  اپنے اداروں کی کارکردگی سے منتظمین اور اُن کے گماشتے واقف ہوتے ہیں اس لیے میں نہیں جانتا کہ سال بھر میں منعقد ہونے والی اہلِ قلم کی کانفرنسوں اور مہینے بھر کے درجن درجن مشاعروں   کے انعقاد سے دہشت گردی کے خلاف جنگ کیسے لڑی جا سکتی ہے ۔
یہ مُلکِ خداداد جو اپنے وجود میں آنے کے ساتھ ہی نو بہ نو مصائب کے شکنجے میں جکڑا گیا تھا ، اپنی تاریخ کے ستر برسوں میں اپنے مصائب کو ستر ہزار بار ضرب دے چکا ہے ۔  اور اِس نظامِ مصائب کا سب سے بڑا شکار کم سن ،  غریب  اور منڈی کی جنس کی طرح فروخت ہوتے بچے ہیں ، جو تعلیمی سہولتوں سے محروم ہیں اور روٹی کے ٹُکڑے کے لیے ظالم قسم کے  پاکستانی خاندانوں کے ہاں جبری مشقت کی چکّی میں پِس رہے ہیں ۔ قسم وحدہ لاشریک کی ، مجھے محسوس ہوتا ہے کہ  وہ سارے مذہبی کارکن ، اور نام نہار علمائے دین عقل کے  اندھے ہیں،  جو اسلام کے دعویدار تو ہیں مگر اُنہیں  یہ یاد نہیں رہتا کہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے علم حاصل کرنا  تمام لڑکوں  اور لڑکیوں پر فرض قرار دیا ہے لیکن آج کا یہ غیر معیاری پاکستانی شہری اُن بچوں کو مشقت کی چکی میں پیستا اور  تشدد کے دوزخ میں جلاتا رہتا ہے ۔

یہ صورتِ حال نئی نہیں ہے ۔ یہ لگ بھگ پندرہ بیس برس پہلے  کی بات ہوگی کہ جنگ لندن فورم میں اُس وقت کے پنجاب کے محکمہ ء تعلیم کے سیکریٹری صفدر محمود صاحب مہمان تھے  اور میں بھی سامعین میں موجود تھا ۔ اُن کے ارشادات سُن کر ضبطِ سُخن کر نہ سکا  ۔ عرض کیا کہ طلبِ علم فرض ہے اور فرض کا تارک اسلامی فقہ کی رو سے فاسق و فاجر ہوتا ہے ۔  ان معصوم بچوں کو نا خواندگی کے فسق و فجور میں مبتلا رکھنے والے نظام کو کب احساس ہوگا اور کب ہوش آئے گا کہ  وہ پاکستان کی نئی نسل کے ان غریب بچوں کو ان کے بنیادی حقوق فراہم کریں اور اُن کے ضمن میں اپنی انتظامی ، دینی ، سماجی اور انسانی ذمہ داریاں پوری کریں  اور اُنہیں زیورِ تعلیم سے آراستہ کریں؟ سوال اپنی جگہ اپنا سا مونہہ لے کر رہ گیا کیونکہ ایک صوبائی سیکریٹری کے عہدے پر فائز آدمی کی بساط اور اوقات کہاں کہ وہ اس مسئلے کو حل کر سکے ۔ ہم جس نظام کے پروردہ ہیں وہاں صرف قانون بنائے جاتے ہیں، اُن پر عمل درامد کیا یا کروایا نہیں جاتا ، کیونکہ یہی وہ صورتِ حال ہے جس میں حکمرانوں کی آف شور کمپنیوں کی بقا کا راز پنہاں ہے ۔

دراصل میں نے اب تک بین السطور  طیبہ کیس کی ہی بات کی ہے  کہ ایک غریب پاکستانی بچی ، پاکستان کی بیٹی ، قائدِ اعظم کی معنوی بیٹی ، پاکستان کی عدلیہ کے ایک رُکن ، ایک جج  کے گھر میں جبری خدمت پر مامور ہے۔ کہانی کے مختلف سرے اُس غریب کے نصیب کے ستاروں کو الگ الگ انداز میں بیان کرتے ہیں ۔ کوئی کہتا ہے کہ وہ چند ہزار روپوں کے عوض بھیڑ بکری کی طرح فروخت کی گئی تھی ۔ اور پھر بنیادی انسانی حقوق سے محروم یہ بچی در در کی ٹھوکریں کھاتی ایک درد بھری کہانی کا عنوان بن گئی ۔ حالانکہ ایک جج کے مرتبے کے حامل شخص کے گھر میں تو اس کو وہی حیثیت حاصل ہونی چاہیے تھی جو اس عمر کی بچی کا  جائز قانونی ، سماجی اور انسانی حق ہے ۔ اُسے  گھر کا ایک فرد سمجھا جانا چاہیے تھا ۔ اُس کی باقاعدہ  تعلیم و تربیت ہونی چاہیے تھی۔  لیکن بھیڑیا صفت لوگوں نے اسے عبرت کی خوف ناک مثال بنا کر یہ ثابت کیا کہ انصاف ایک پاکستانی جج کی نجی زندگی میں بھی موجود نہیں ہے، بلکہ اُس کی خانگی زندگی بے انصافی کی بد ترین مثال ہے ۔

مجھے ساٹھ کی دہائی کے لاہور کا سماجی منظر نامہ یاد آ رہا ہے ۔ آٹھ سے دس سال کی عمر کے بچے جن کی سکول جانے کی عمر ہے ، جوتوں کی پالش کے اڈے جمائے ، زمین پر بیتھے پالش کر رہے ہیں، چائے خانوں کے جھوٹے برتن دھو رہے ہیں ، مستریوں کی ورکشاپ میں ہیلپر بنے ہوئے ہیں اور تو اور جسم فروشی کی آگ میں جل رہے ہیں مگر اُن  کو دیکھ کر کسی آنکھ میں آنسو نہیں آتا ۔ کسی عالمِ دین کو شریعت کے قوانین یاد نہیں آتے ۔ کسی انسانی حقوق کی تنظیم کے سر پر جوں نہیں رینگتی ۔ وہ سب اندھوں کی طرح انہیں شاہراہوں پر عبرت کی تصویر وں کو  دیکھ کر بھی نہیں دیکھتے  ۔ وہ سب حال مست ہیں ۔ وہ سب اپنی اپنی انا کے بُت اُٹھائے اپنا اپنا راستہ ناپ رہے ہیں اور پچھلے چالیس پنتالیس برس میں طفل کُشی کی یہ روایت  پھل پھول  کر عفریت بن چکی  ہے مگر کسی کو کیا ؟

سب اپنے اپنے نظریات کے خوانچے لگائے انسانیت کے درد کی دوا بیچ رہے ہیں مگر ان بچوں کی حالتِ زار بدستور جوں کی توں  ہے ۔ ایسا نفسا نفسی کی کیفیت میں ہوتا ہے  اور نفسانسفی ہے کیا ؟ یہ جہالت ، لاقانونیت اور بے حسی کی ناجائز اولاد ہے جس کا مداوا قانون سازی  نہیں ، راست اقدامات ہیں جس کی توفیق حکمرانوں اور معاشرے کے ٹھیکیداروں کو ہے نہیں۔ 
 
 

آپ کا تبصرہ

Praise and prayers for the great people of Turkey

One year ago, this day, the people of Turkey set an example by defending their elected government and President Recep Tayyip Erdogan against military rebels.

Read more

loading...