توہین مذہب، سیاست اور بے بسی کی علامت حکومت

  وقت اشاعت: 06 جنوری 2017 تحریر: سید مجاہد علی

بھارت میں جب سپریم کورٹ سیاست میں مذہب یا نسل و ذات برادری کی مداخلت کی روک تھام کے لئے حکم جاری کررہی تھی تو پاکستان میں ایک شخص کے خلاف محض اس لئے توہین مذہب کے الزام میں مقدمہ درج کیا جارہا تھا کہ اس نے ملک میں نافذ توہین مذہب کے قوانین کے غلط استعمال کے خلاف آواز اٹھائی ہے ۔ اس نے ان لوگوں سے اظہار ہمدردی بھی کیا ہے جو ان قوانین سے متاثر ہیں اور عدالتوں سے انصاف کے منتظر ہیں۔ پاکستانی عدالتیں توہین مذہب کے حساس معاملہ پر انصاف فراہم کرنے سے گھبراتی ہیں ، اس لئے ان معاملات پر فیصلہ صادر کرنے کی بجائے انہیں مؤخر کیا جاتا ہے ۔ غلط الزام اور جھوٹی گواہیوں کی بنیاد پر گرفتار لوگ برس ہا برس تک جیلوں میں سڑتے رہتے ہیں۔ لیکن اس صورت حال کے خلاف آواز اٹھانا منع ہے۔

دہشت گردی کے خلاف لڑنے والے ملک کے مٹھی بھر جاہل ملاؤں نے فوجی آمر ضیا ء الحق کے دور میں ہونے والی قانونی دست برد کے خلاف بات کرنے پر کفر کا فتویٰ اور موت کا پیغام ارزاں کرنے کا فیصلہ صادر کیا ہے۔ نہ حکومت ان کے خلاف بات کرسکتی ہے اور نہ اس کے اہلکار ان ملاؤں کی للکار کو نفرت کی پکار سمجھ کر اقدام کرنے کا حوصلہ کرتے ہیں۔ اس کے برعکس جب یہ ملا دھمکی آمیز انداز میں کوئی مطالبہ کرتے ہیں تو عام آدمی کے ساتھ فرعون بن کر سلوک کرنے والی پاکستانی پولیس تابعداری سے ایک ایسے الزام میں مقدمہ درج کرنے میں بھی ہچکچاہٹ یا شرم محسوس نہیں کرتی ، جو عائد ہوتے ہی کسی بھی ’صاحب ایمان‘ کو دیکھتے ہی گولی مارنے کا اذن مل جاتا ہے۔ ایسا ہی القا جنوری 2011 ممتاز قادری کو ہؤا تھا کہ اس نے سرکاری ہتھیار سے پنجاب کے گورنر سلمان تاثیرکو ہلاک کردیا۔ سپریم کورٹ نے اس مقدمہ کا فیصلہ سناتے ہوئے واضح کیا تھا کہ کسی قانون پر نکتہ چینی توہین مذہب نہیں ہو سکتی۔ لیکن لاہور کے تھانہ اسلام پورہ کے ایس ایچ او کو نہ تو یہ بات سمجھائی جا سکتی ہے اور نہ ہی اس پر توہین عدالت کا الزام عائد ہو سکتا ہے ۔ لیکن سلمان تاثیر کے بیٹے شان تاثیر کو ایک قانون کے غلط استعمال کے خلاف آواز اٹھانے پر توہین مذہب کے الزام کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کیوں کہ سنی تحریک کے ملاؤں نے اس کے ایک بیان کے خلاف ارتداد اور توہین مذہب کا فتویٰ جاری کیا ہے۔ تھانیدار اپنا ایمان بچائے گا یاملک کے قانون اور عدالتوں کے احکامات  پر توجہ دے گا۔

یہ ایک مضحکہ خیز صورت حال ہے۔ لیکن ملک میں مذہبی منافرت ، انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کرنے اور جیتنے کا اعلان کرنے والی حکومت کے سارے کار پرداز خاموش ہیں۔ انہیں بھی اپنے ایمان عزیز ہیں۔ وہ بھی جانتے ہیں کہ جب سلمان تاثیر کا خون، ناحق بہایا گیا تھا تو پیپلز پارٹی کے روشن خیال صدر، وزیر اعظم اور زعما مرحوم گورنر کے اہل خاندان سے نظریں چھپائے پھرتے تھے کہ کہیں کوئی ان کے ایمان پر ہی شک کا اظہار نہ کردے۔ ایک مظلوم کی موت مرنے والے کی نماز جنازہ پڑھانے کے لئے امام دستیاب نہیں تھا۔ اس دہشت گردی کو قبول کرنے والوں کا بھی دعویٰ تھا کہ وہ اس ملک سے مذہب کے نام پر خوں ریزی کا خاتمہ کردیں گے۔ آج کے حکمران بھی ایک پاکستانی شہری کو تحفظ فراہم کرنے سے قاصر ہیں کیوں کہ وہ جہالت کے پیامبر ملاؤں کا مقابلہ کرنے کی سکت نہیں رکھتے۔

اس قوم کو زندگی کے ہر میدان میں بھارت سے مقابلہ کرنا ہے۔ لیکن اگر بھارت ترقی کی طرف قدم بڑھاتا ہے اور اگر وہاں سے انسانیت کے احترام کا کوئی پیغام موصول ہوتا ہے ، تب ہمارا عقیدہ اور ’اسلامی حمیت‘ ہمارے قدم روک لیتی ہے۔ تب ہمارے ہاتھ میں فتویٰ ہوتا ہے، آنکھوں میں وحشت اور ہم انصاف، بھائی چارے اور رحم کی بات کرنے والے کو کیفر کردار تک پہنچانے پر آمادہ پیکار ہوتے ہیں۔ تو پھر خود سے مسلسل جھوٹ بولنے کی کیا ضرورت ہے۔ کیوں ہم انسانیت ، قانون اور رحم دلی اور عفو کی بات کرتے ہیں۔ اعلان کردیا جائے کہ اعلان شدہ مقدس لوگوں اور اعلامیوں کے خلاف بات موت کا حکم نامہ ہے۔

پاکستان کے توہین مذہب کے قوانین میں ضیا دور میں ہونے والی ترامیم پر دنیا بھر میں آواز اٹھائی جاتی ہے۔ انہیں انسانی حقوق کے خلاف اور ظالمانہ قرار دیا جاتا ہے۔ لیکن پاکستان کی پارلیمنٹ میں کوئی شخص اس میں ترمیم کی بات کرنے کا حوصلہ نہیں کرسکتا۔ لیکن ہمیں ملک میں جمہوریت کو رواج دینا ہے، آزادی رائے کو عام کرنا ہے اور سب شہریوں کو برابر حقوق دینے کا دعویٰ کرنا ہے۔

وقت آگیا ہے کہ ان غلط فہمیوں کو دور کردیا جائے۔ تاکہ مولویوں کو فتوے دینے اور لوگوں کو ہجوم بنا کر مارنے کی ضرورت محسوس نہ ہو۔ تاکہ جو کج فہم آزادی اظہار اور قانون کی حکمرانی کے غلط تصور کو درست مانتے ہوئے اپنے خیالات پیش کرنے کی غلطی کرتے ہیں ، وہ بھی زبانوں کو تالے لگالیں۔ اعلان ہوجائے کہ یہاں اذن زبان بندی ہے ورنہ خون بہایا جائے گا۔

بتا دیا جائے کہ توہین مذہب کے آمرانہ قوانین مقدس ہیں کیوں کہ ملک کے ملاؤں نے اپنی سیاسی مصلحتوں اور سیاستدانوں نے فطری کمزوری کی وجہ سے اس اصول کو عام کردیا ہے۔

کہہ دیا جائے کہ مذہب کے نام پر سیاست کرنے اور قوم کو دھوکہ دینے والے آمر ضیا ء الحق کو احترام نہ دینے والا بھی واجب القتل ہے کیوں کہ اس نے مذہب کے نام پر مارنے کا حق و اختیار ان ملاؤں کو دے دیا تھا جو صدیوں سے خیرات کی روٹیوں پر گزر بسر کرنے کے عادی تھے۔

اعلان ہو جائے کہ ملک کے سیاستدان صرف مقبول نعروں کے اسیر ہیں۔ یہ اختیار چاہتے ہیں لیکن وہ اختیار پروٹوکول اور مراعات کے حصول یا بد عنوانی کے حق تک محدود ہے۔ تبدیلی کا تقاضہ کرنے والا یا حق مانگنے والا معتوب ہوگا۔

یہ بھی واضح ہو جائے کہ مولوی، توہین مذہب کے قانون اور فوج کے علاوہ کون کون اس ملک میں مقدس گائے ہے، جس کے سامنے سے ہر عام و خاص کو سر جھکا کر گزرنا ہے۔

یہ اعلان نامہ جاری ہوجائے تو ملک میں امن قائم ہو سکتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ یہ امن قبرستان کے سناٹے جیسا ہوگا۔ موت کی خاموشی طاری ہوگی۔ کہ کوئی معاشرہ انصاف اور احترام کا دامن ہاتھ سے چھوڑ کر زندہ نہیں رہ سکتا۔
کہ بھارت سے مقابلہ تو ہم جیت ہی جائیں گے۔ دشمن تب ہی کسی سے لڑے گا اور جیتے گا اگر ہم ایک دوسرے کو جینے کا حق دیں گے۔ کامیابی کا یہ سنہری نسخہ ہر خاص و عام کو ازبر کروادیا جائے۔

سسک سسک کے مرنے کی بجائے مارنے اور مرنے کا اعلان عام کیا جائے۔

loading...
آپ کا تبصرہ

Islamic Council Norway Fails Muslims and the Society

By hiring Nikab-wearing Leyla Hasic, Islamic Council Norway has taken a clear stand in a controversial debate. Norwegian Muslims neither are represented nor served with t

Read more

loading...