نیب کی کہانی ملک کے چیف جسٹس کی زبانی

دو خبریں یکے بعد دیگرے موصول ہوئی ہیں۔ نیب کے چئیر مین جسٹس (ر) جاوید اقبال نے نیب لاہور کے دفتر کے مشورہ پر چوہدری برادران یعنی چوہدری شجاعت حسین اور چوہدری پرویز الہیٰ کے خلاف لاہور میں زمین کے لین دین کے بارے میں ایک ریفرنس ختم کرنے کی منظوری دی اور نیب کے پراسیکیوٹر نے فوری طور پر نیب عدالت سے رجوع کرتے ہوئے عدم ثبوت کی بنا پر ان دو معزز رہنماؤں کے خلاف کارروائی روکنے کی درخواست دائر کی ہے۔ دوسری خبر سپریم کورٹ میں نیب کی صورت حال اور ’نیک نیتی‘ پر چیف جسٹس ثاقب نثار کا تبصرہ ہے کہ ’کیا نیب کے سوا پاکستان میں سب چور ہیں‘؟۔ چیف جسٹس کو یہ بات اسلام آباد میں ایک ہسپتال کی تعمیر کے سلسلہ میں سپریم کورٹ کی ہدایت کے باوجود پیش رفت نہ ہونے پر کہنا پڑی۔ عدالت کو بتایا گیا تھا کہ نیب کے حکم پر اس منصوبہ کے لئے زمین فراہم کرنے کے کام میں پیش رفت نہیں ہوسکی ۔
سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کا یہ سوال بجا اور درست تھا کہ کیا نیب ملک کی اعلیٰ ترین عدالت سے بھی بالا ہے۔ یہ سوال کرنے کی نوبت یوں آئی کہ سپریم کورٹ نے سی ڈی اے کو اس ہسپتال کے منصوبہ کے لئے دو ہفتے کے اندر زمین الاٹ کرنے کا حکم دیا تھا۔ اس منصوبہ کی تکمیل کے لئے بحرین کی حکومت 10 ارب روپے فراہم کررہی ہے۔ تاہم نیب کو کیپیٹل ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کی طرف سے لین دین میں کچھ گڑ بڑ دکھائی دی جس کی وجہ سے اس معاملہ پر پیش رفت کو روک دیا گیا۔
اس معاملہ پر از خود نوٹس کی سماعت کے دوران جب یہ صورت حال چیف جسٹس کے علم میں لائی گئی تو انہیں کہنا پڑا کہ ’کیا نیب کے علاوہ سارا پاکستان چور ہے؟ کیا صرف نیب کے لوگ سچے اور پاک ہیں؟ ہم نیب کے لوگوں کے وارنٹ جاری کر دیں تو ان کی کیا عزت رہ جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک درخواست پر لوگوں کی پگڑیاں اچھالی جاتی ہیں۔ ممکن ہے چیئرمین نیب کا بطور سابق جج عدالت میں حاضری سے استشنیٰ ختم کر دیا جائے‘۔ چیف جسٹس نے نیب پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’ایک اسپتال بن رہا ہے۔ نیکی کا کام ہو رہا ہے لیکن نیب ٹانگ اڑا کر بدنامی کر دیتی ہے‘۔ انہوں نے سی ڈی اے حکام پر بھی برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ سی ڈی اے کے لئے عدالتی حکم اہم ہے یا نیب کی ہدایت زیادہ ضروری ہے۔ چیف جسٹس نے چیئرمین نیب اور پراسیکیوٹر جنرل کو چیمبر میں طلب کرتے ہوئے کہا کہ نیب کا تحقیقات کرنے کا کوئی معیار ہے یا نہیں۔ بحرین حکومت دس ارب روپے دینے کو ترس رہی ہے۔ چیئرمین نیب کو بتا دیں ممکن ہے ان کو عدالت میں حاضری سے جو استثنی حاصل ہے ، اسے واپس لے لیا جائے۔ سپریم کورٹ کے سابق ججز کو حاضری سے استثنی عدالت عظمی ٰ نے ہی عطا کیا ہے۔ وہ اسے واپس بھی لے سکتی ہے‘۔
چیف جسٹس کو گلہ تھا کہ نیب نے عدالتی احکامات کی ہی تذلیل شروع کر دی ہے ۔ ’کیا صرف نیب کے لوگ سچے اور پاک ہیں۔ ہر معاملے میں نیب انکوائری شروع کر کے سسٹم روک دیتی ہے۔ کسی نے کسی بھی نیت سے درخواست دی ہو۔ نیب کارروائی شروع کر دیتی ہے۔ ہم نیب کے لوگوں کے وارنٹ جاری کر دیں تو ان کی کیا عزت رہ جائے گی‘۔ چیف جسٹس ثاقب نثار کی یہ برہمی درست اور جائز کہی جاسکتی ہے کیوں کہ انہیں منصف اعلیٰ کے منصب پر فائز ہونے کے باوجود یہ بتایا جاتا ہے کہ ان کے احکامات پر نیب کی مداخلت کی وجہ سے عمل نہیں ہو سکتا۔ اب چیف جسٹس کو فیصلہ کرنا تھا کہ وہ حاضر سروس اور ریٹائر ہوچکے چیف جسٹس کے اختیار کا باہم موازنہ کرتے ہوئے فیصلہ کریں کہ کون زیادہ بااختیار ہوسکتا ہے۔ چیف جسٹس چونکہ ملک میں قانون کو سمجھنے ، اس کی تشریح کرنے اور اپنی تشریح کو نافذ کرنے کا حکم دینے کے مجاز ہیں، اس لئے ان کا یہ انتباہ بھی مناسب تھا کہ اگر نیب کے حکام کے خلاف وارنٹ جاری کردیں تو ان کی کیا عزت رہ جائے گی۔
اس معاملہ کے دو پہلو قابل غور ہیں۔ ایک یہ کہ کیا چیف جسٹس جس منصب پر فائز ہیں ، وہاں قانون کے مطابق عقل کی روشنی میں فیصلے اور حکم جاری کئے جاسکتے ہیں یا جذبات کی رو میں بہہ کر ذاتی عزت او روقار کو داؤ پر لگا دیکھ کر کسی معاملہ کا تعین کیا جاسکتا ہے۔ دوسرا پہلو یہ ہے کہ اگر نیب کی طرف سے مختلف معاملات میں بے بنیاد مداخلت اور دخل اندازی خلاف قانون اور ناجائز ہے جس پر چیف جسٹس بھی مشتعل ہوکر سابق چیف جسٹس کی عدالت میں حاضری سے استثنیٰ پر نظر ثانی کی بات کرنے پر مجبور ہوگئے ، تو کیا ملک کی سپریم کورٹ کو صرف اس لئے نیب حکام کے وارنٹ جاری کرنے کا استحقاق حاصل ہوجاتا ہے کیوں کہ وہ سب سے بڑی عدالت ہے اور اس کے فیصلوں کے خلاف اپیل بھی اسی سے کی جاسکتی ہے۔ نظر ثانی کی ایسی اپیلوں کو مسترد کرنے کی درخشاں مثالیں بھی ہماری عدالتی تاریخ کا حصہ ہیں کیوں کہ ملک کے کسی بھی ادارے اور فرد کی طرح ملک کی اعلیٰ ترین عدالت اور اس کے معزز ججز بھی اپنی کسی غلطی کو سمجھنے یا تسلیم کرنے کی صلاحیت بے بہرہ ہیں۔
یہ صورت حال اسی لئے پیدا ہوتی ہے کیوں کہ سپریم کورٹ سمیت ملک کے دیگر اداروں میں قانون کی بجائے وقتی جذباتی کیفیت، مصلحت اور قومی ضرورت کی من چاہی تفہیم کے تحت فیصلے اور اقدام کرنے کی روایت راسخ کی گئی ہے۔ چیف جسٹس کا یہ شکوہ تو بجا ہو سکتا ہے کہ نیب کی ہدایت کو ان کے حکم پر کیوں کر فوقیت دی جاسکتی ہے لیکن کسی بھی ملک کے چیف جسٹس سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ ایسا اعتراض کرتے ہوئے جذبات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ریمارکس کے نام پر دھمکیاں دینے کی بجائے قانونی پوزیشن واضح کرنے کے لئے حکم جاری کرے۔
نیب کے اہلکاروں کی غلطی پر اس ادارے کے سربراہ کو رگیدنا اور یہ بتانا کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کس حد تک جانے کا اختیار رکھتے ہیں، درست اور سچ ہونے کے باوجود مناسب اور قانونی طریقہ نہیں ہو سکتا۔ تاہم ملک میں قانون اور انصاف کے حوالے سے جو صورت حال پیدا کی جاچکی ہے ، اس میں چیف جسٹس کا فرمایا ہؤا ہی حرف آخر ہوتا ہے اور ان سے قانون کی پیروی کرنے کا تقاضہ کرنے والا یہ امید رکھے کہ اسے توہین عدالت کا نوٹس دیتے ہوئے استفسار کیا جاسکتا ہے کہ ’کیوں نہ اس کے خلاف عدالت عظمیٰ کے ججوں کے فرمودات کو چیلنج کرنے کے الزام میں توہین عدالت کی کارروائی کا آغاز کیاجائے‘۔
نیب کی غیر قانونی اور سکہ شاہی قسم کی کارروائیوں پر چیف جسٹس کے تبصرے سے البتہ اس تصویر کا ایک تیسرا پہلو بھی سامنے آتا ہے۔ اس کا تعلق ملکی سیاسی کرداروں اور لیڈروں کے بارے میں نیب کے رویے اور طرز عمل سے ہے۔ جو لیڈر، اداروں کے معتوب قرار دیئے جاتے ہیں یا دعویٰ کرتے ہیں کہ نیب انہیں سیاسی وجوہ کی بنیاد پر تنگ کررہی ہے ، ان کے خلاف تحقیقات ہورہی ہیں، دھڑا دھڑ مقدمات قائم کرنے کے انتظامات کئے جارہے ہیں اور یکے بعد دیگرے سابق صاحبان اختیار کو گرفتار کرنے کے علاوہ انہیں سزائیں دلوائی جارہی ہیں۔ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر ، سابق وزیراعلی پنجاب اور ملک کی بڑی سیاسی جماعت مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف ہوں یا سابق وزیر سعد رفیق، نہ نیب کو انہیں گرفتار کرتے الجھن ہوتی ہے اور نہ نیب عدالتوں کو بار بار گرفتاری کی مدت میں توسیع کرتے ہوئے کسی پریشانی کا سامنا ہوتا ہے۔ نیب جج یہ استفسار نہیں کرتے کہ اگر دو چار یا چھے ہفتے میں تحقیقات مکمل نہیں ہو سکیں تو مزید عرصے تک ان لیڈروں کو قید میں رکھ کر پٹاری سے کون سا سانپ نکال لیا جائے گا؟
نیب عدالتیں چار دہائی پرانے مقدمات میں ’کافی و شافی‘ ثبوت ہونے کی بنیاد پر سابق وزیر اعظم کو طویل مدت کے لئے قید کرسکتی ہیں لیکن دوسری طرف نیب سن 2000 میں شروع کئے گئے ایک معاملہ میں سترہ سال کی طویل اور ’جاں گسل ‘ تحقیقات کے بعد چوہدری شجاعت حسین اور چوہدری پرویز الہیٰ کے خلاف مقدمہ ختم کرنے کی سفارش کرنے پر مجبور ہوجاتی ہے۔ کیوں کہ اس طویل مدت میں سرکاری خزانے کو نقصان پہنچانے کے ثبوت فراہم نہیں ہوسکے۔ نیب کے اس فیصلہ کو چیف جسٹس کے تازہ ارشادات اور انکشافات کی روشنی میں دیکھا جائے تو نیب کو سیاسی جزا و سزا کے لئے استعمال کرنے کے الزام سے کیسے اور کیوں کر انکار کیا جاسکتا ہے؟
نیب کے چئیر مین جسٹس (ر) جاوید اقبال کا ماضی ان کی مصلحت پسندی کا گواہ ہے۔ ملک میں حکومت تبدیل ہوتے ہی انہیں وزیراعظم عمران خان سے مل کر ان کے ایجنڈے کے مطابق بدعنوانی کے خلاف ہر حد تک جانے کا وعدہ و اعلان کرنا پڑا۔ وہ بار بار اس بات کو دہراتے ہیں کہ کرپشن کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے وہ کسی دباؤ کو قبول نہیں کریں گے۔ نیب ایک خود مختار ادارہ ہے لیکن اس کے قانون دان سربراہ کو اس ادارے کی خود مختاری کا کوئی احساس نہیں ہے اور وہ اسی لب و لہجہ میں گفتگو کرنا ضروری سمجھتا ہے جو اس وقت ملک کے سیاسی حکمرانوں کا ایجنڈا ہے۔ ایسے ادارے کو خود مختار قرار دینا خود کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے۔
وزیر اعظم عمران خان ضرور ملک لوٹنے والوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے مقصد میں دیانت دار ہوں گے۔ لیکن وہ جب تک موجودہ نیب اور ایف آئی جیسے اداروں پر انحصار کرتے رہیں گے اور ان کی جانبداری کو انصاف پسندی سمجھنے کی غلطی کرتے رہیں گے ، بدعنوانی کے خاتمے کا خواب پایہ تکمیل تک نہیں پہنچ سکتا۔ کیوں کہ احتساب کرنے والے اداروں کی جانبداری اور مصلحت پسندی سے بڑی کرپشن کا تصور بھی محال ہے۔

Comments:- User is solely responsible for his/her words