معزز صارفین ہماری ویب سائٹ اپ ڈیٹ ہو رہی ہے۔ اگر آپ کو ویب سائٹ دیکھنے میں دشواری پیش آرہی ہے تو ہمیں اپنی رائے سے آگاہ کریں شکریہ

بلوچ موسیقی کا قدیم آلہ سروز

  وقت اشاعت: 31 جولائی 2017 تحریر: غلام یاسین بزنجو   کوئٹہ

انسان کو قدیمی زمانے سے اپنی ثقافت کے ساتھ اپنی زبان میں موسیقی پسند ہے ۔ انسان نے شروع سے اپنی زندگی کو خوشگوار بنانے کی کوشش میں چیزیں ایجاد کی ہیں ۔ اسی طرح روح کو خوشگواربنانے  کے لئے میوزیکل آلات ایجاد کرنا شروع کیا ۔ دنیا میں آج بھی بلوچ قوم کو اپنی ثقافت کا امین سمجھا جاتا ہے ۔ چونکہ بلوچ قوم نے روز اول سے اپنی ثقافت اور کلچر سے محبت کی۔ سمندر پار کرکے اپنے ثقافتی ورثے کو زندہ کرکے پوری دنیا کو حیران کردیا ۔                                              

سروز بلوچ ثقافت کا ایک ایسا دیرینہ آلہ ہے، جس کی تاریخ انتہائی پرانی بتائی جاتی ہے ۔ سروز جو کہ چنال اور شیشم کے درختوں کی لکڑیاں تراشنے کے مراحل سے گزار کر تیار کی جاتی ہے ۔ معروف سروزی عیسل معیار داودی نے سروز کے حوالے سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سروز کا بجانا جتنا مشکل ہے ، اتنا ہی سروز بنانا بھی مشکل ہے ۔ ان کے مطابق سروز کو تراش کر تیار کرنے کے بعد بارہ سے سترہ تار لگائے جاتے ہیں۔  تاروں کو باندھ  کر  شاگ کے درخت کی لکڑی کو  گھوڑے کے بالوں کی مدد سے تیار کیا جاتا ہے۔ انہی کی مدد ہی سے سروز بجنا شروع کرتا ہے ۔ 

سروز کی آواز انتہائی سریلی اور دلکش ہوتی ہے ۔ تاہم آج تک کسی نے سروز کی اصل تاریخ نہیں بتائی ہے ۔ یہی کہا جاتا ہے کہ سروز کی تاریخ صدیوں سال پرانی ہے ۔ عیسل معیار داودی نے یہ بھی بتایا کہ سروز شہتوت کی درختوں سے بھی تیار کی جاتی ہے ۔ تاہم ان کے مطابق سروز کی آواز کو سریلی اور معیاری بنانے میں لکڑیوں کا عمل دخل زیادہ ہے ۔ واضح رہے کہ سروز کی آواز بینجو سے مختلف ہے ۔ بلوچستان میں سروز بجانے والوں کی تعداد خاصی محدود ہوتی جارہی ہے ۔ لوگ  سروز کی آواز سننے کے لئے انتہائی بے چین ہوتے ہیں مگر سروز بجانے والے استاد کم ہوتے جارہے ہیں ۔ خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ کہیں بلوچ قومی ثقافت میں سروز معدوم ہوکر کھو نہ جائے ۔ اس سلسلے میں عیسل معیاد داودی کا کہنا ہے کہ بلوچ نوجوان نسل چونکہ آسودہ پسند اور باآسانی سے چیزوں کو حاصل کرنے کی قائل ہوتی جا رہی ہے ، اس لئے سروز  نوجوان نسل کے لئے مشکل سازوں میں سے ایک ہے ۔

اس حوالے سے پسنی کے بینجو ماسٹر فیض نے کہا کہ اس نے سروز بجانے کی کافی کوشش کی ہے مگر کامیابی حاصل نہیں ہوئی ۔  پرانے زمانے میں بلوچ شعرا نے سروز کے ساتھ اپنے اشعار گاکر شہرت حاصل کی تھی ۔  اب بھی بلوچی زبان کے گلوکار اپنی گیتوں سروز کی ساز پرانے دھنوں کے ساتھ گاتے رہتے ہیں ۔ مگر افسوس ناک امر یہ ہے کہ سروز آج اس طرح دکھائی نہیں دیتی جس طرح بلوچ قوم اپنے اس قومی ثقافتی ورثے کے بارے میں فکر مند ہیں۔   بلوچستان کا ساحلی شہر پسنی  شاعروں ادیبوں اور بلوچی موسیقاروں کا مرکز سمجھا جاتا ہے  لیکن یہاں آج ایک بھی اچھا  سروز نواز نہیں ہے ۔ اس لئے اندیشہ ہے کہ کہیں سروز کا فن غائب اور اس کے فنکار ناپید نہ ہوجائیں ۔

عیسل معیار داودی نے افسوس کرتے ہوئے بتایا کہ ماضی کے سروز فن سے منسلک لوگوں میں پھلان داوٴد ، زباد کولواہی ،  نوکو سروزی کافی مشہور فنکار بتائے جاتے ہیں ۔ مگر ان لوگوں کی رحلت کے بعد آج یہ فن یعنی سروز  لاوارث ہے ۔                                        


 

آپ کا تبصرہ

Donald Trump's policy towards Pakistan

Donald Trump's; the president of US war of tweets was a fierce attack on Pakistan, accusing the country of "lies and deceit" and making "fools" of US leaders. Trump decla

Read more

loading...