معزز صارفین ہماری ویب سائٹ اپ ڈیٹ ہو رہی ہے۔ اگر آپ کو ویب سائٹ دیکھنے میں دشواری پیش آرہی ہے تو ہمیں اپنی رائے سے آگاہ کریں شکریہ

عوام کی خدمت کے دعویدار

  وقت اشاعت: 10 فروری 2017 تحریر: سلطان حسین   پشاور

استاد نے شاگرد کے پیپرسے نظریں ہٹا کر اسے دیکھتے ہوئے حیرت سے کہا ''تعجب ہے تم نے گائے پر لفظ بہ لفظ وہی مضمون لکھا ہے جو دوسال قبل تمہارے بھائی نے لکھا تھا ؟'' شاگرد نے بڑی معصومیت سے جواب دیتے ہوئے کہا ''استاد جی میں نے بھی اسی گائے پر مضمون لکھا ہے جس گائے پر میرے بھائی نے مضمون لکھا تھا۔ ابھی وہ گائے زندہ ہے''۔

میں یہ تو نہیں کہوں گا کہ میں جو کالم لکھ رہا ہوں وہ بھی چار سال قبل اس شہر کے اہم مسئلہ پر لکھے گئے کالم کی طرح لفظ بہ لفظ وہی ہے تاہم یہ ضرور کہوں گا کہ چار سال قبل میں نے جس مسئلہ کا ذکر کیا تھا، آج بھی وہی مسلّہ اسی طرح جوں کا توں موجود ہے۔ کہتے ہیں کہ جہاں آبادی ہوتی ہے وہاں مسائل بھی ہوتے ہیں لیکن ان مسائل پر توجہ دینا اور اسے حل کرنا بھی حکومتوں ہی کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ بہتر حکمرانی کی ایک یہ بھی نشانی یہ بھی ہوتی ہے کہ حکومتیں عوام کی تکالیف کو سمجھتی ہیں اور انہیں حل کرنے کی حتی الوسع کوششیں کرتی ہیں۔  لیکن ہمارے ملک میں تو آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے مسائل سے آنکھیں چرانا آج کل کے حکام کی روایت بن چکی ہے۔   حکمران بھی اپنی کرسی مضبوط کرنے کے چکر میں مسائل کی طرف توجہ دیتے ہیں۔ حکام بھی ان ہی معاملات پرتوجہ دیتے ہیں، جہاں حکمرانوں کا ذاتی اور انتخابی مفاد وابستہ ہو۔ وہی کام ہوتے ہیں اور وہی مسائل حل ہوتے ہیں۔

شاید یہی وجہ ہےکہ  پشاور کے مسائل پر کوئی بھی توجہ نہیں دے رہا گزشتہ دو تین دہائیوں میں اس شہر کو حکمرانوں نے تقریباً کھنڈر بنا دیا تھا۔ اب اگر کچھ صورتحال بہتر ہوئی ہے تو مسائل وہی بلکہ اس سے بھی زیادہ بڑھ گئے ہیں۔ ایک اہم مسئلہ  پشاور میں  نکاسی آب کا  ہے۔ مسلسل عدم توجہ کے باعث اب اس مسئلے نے اتنی شدت اختیار کر لی ہے کہ بارش میں شہر سیلاب کا منظر پیش کرتا ہے۔ گزشتہ دنوں چار دن کی مسلسل بارشوں نے ایک بار پھر منتخب نمائندوں کے ترقیاتی منصوبوں اور بیوروکریسی کی توجہ کا پول کھول دیا۔ شہر کے عام علاقے تو رہے ایک طرف پوش علاقوں کی سڑکیں بھی سیلاب کا منظر پیش کررہی تھیں۔ کئی علاقوں میں نالوں کا گندا پانی گھروں میں گھس گیا۔ جس سے مکینوں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ مسائل آج کے نہیں گزشتہ تیس سالوں سے موجود ہیں۔ حکومتیں آتی ہیں، اس شہر کو پھولوں کا شہر بنانے کے دعوے کرتی ہیں اور انہی دعوؤں کے ہجوم  میں اپنی سیٹیں اور اپنی حکومت مضبوط کرنے کی کوششیں کرتی ہیں اور چلی جاتی ہیں۔ لیکن یہ مسائل اسی طرح موجود رہتے ہیں۔

بلدیاتی ادارے قائم ہوئے اور عوامی نمائندگی کے دعویدار بیٹھے۔  عوام کے مسائل حل کرنے کے دعوے کئے لیکن عوام کے مسائل تو حل نہ ہوئے البتہ ان کے اپنے کئی ''مسائل'' حل ضرور ہوگئے ۔ بلدیاتی اداروں اور ان میں بیٹھے عوامی نمائندوں کی غفلت اور لا پرواہی کی وجہ سے ہی اس شہر کے مسائل بڑھتے رہے۔ ان مسائل میں شہر کے نکاسی آب کے مسلّے نے شدت اختیار کرلی۔ اب حالت یہ ہے کہ اس وقت شہر میں نکاسی آب کے تقریباً تمام بڑے نالے بند ہو چکے ہیں اور بارش کے دنوں میں پانی کی نکاسی نہ ہونے سے پورا شہر جل تھل بنا رہتا ہے۔ کمیشن کے لئے بعض علاقوں میں نئے نالے تو تعمیر ہو رہے ہیں جبکہ پرانے نالوں کی طرف توجہ ہی نہیں دی جا رہی۔ اگر یہ کہا جائے کہ حکام کو اس شہر کے نکاسی آب کے سسٹم کا ہی علم نہیں ہے تو بے جا نہ ہوگا۔ اکثر پرانے نالے تجاوزات کی زد میں آچکے ہیں۔ کئی پلازے اور کئی نالوں پر گھر بن گئے۔ کئی گھروں کے درمیان نالوں کو گھیر لیا گیا اور ان نالوں کی صفائی کیلئے کوئی گزر گاہ ہی نہیں چھوڑی گئی۔ بعض مقامات پر دکانوں کے فٹ پاتھوں کے نیچے اسے بند کر دیا گیا جس کی وجہ سے پورے شہر کے نکاسی آب کا سسٹم ہی درہم برہم ہو چکا ہے۔ ان مسائل سے اس شہر کے باسی بری طرح متاثر ہورہے ہیں۔ لیکن حکمرانوں کو فکر ہے اور نہ ہی منتخب عوامی نمائندے اس طرف توجہ دینے کی ضرورت محسوس کرتے ہیں۔

بیوروکریسی ''خپلہ خاورہ خپل اختیار ہے '' کی پالیسی پر عمل کررہی ہے کیونکہ ان سے تو کوئی پوچھنے والا ہی نہیں ہے۔ اس لئے پشاور کے باسی مصیبت میں مبتلا ہیں اور لگتا یہی ہے کہ وہ اس مصیبت اور پریشانی کو برداشت کرتے رہیں گے تاوقتیکہ اس شہر کا کوئی نیک اور ایماندار بیوروکریٹ کو یہ اختیار نہ مل جائے یا اس شہر کا کوئی حقیقی نمائندہ منتخب ہو کر سامنے نہ آجائے۔ ویسے تو سب ہی عوامی نمائندے دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ عوام  کے غم میں گھلتے جارہے ہیں لیکن ان کا یہ غم صرف انتخابات کے دنوں تک ہی محدود رہتا ہے یا پھر جب وہ کرسی سے اترتے ہیں تو ان کا کرسی کا نشہ اتر جاتا ہے۔ پھر  انہیں بے چارے  عوام یاد آ جاتے ہیں۔ وہ عوامی مسائل حل کرنے کی یقین دہانیاں کرانے لگتے رہتے ہیں۔ لیکن جیسے ہی وہ دوبارہ منتخب ہوتے ہیں نہ تو پھر انہیں وہ مسائل یاد نہیں رہتے۔ پھر یہ لیڈر عوام سے ملنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کرتے ۔ ایسے میں عوام کے مسائل کے حل کروانے کے لیے صرف دعا ہی کی جا سکتی ہے ۔

آپ کا تبصرہ

Donald Trump's policy towards Pakistan

Donald Trump's; the president of US war of tweets was a fierce attack on Pakistan, accusing the country of "lies and deceit" and making "fools" of US leaders. Trump decla

Read more

loading...