معزز صارفین ہماری ویب سائٹ اپ ڈیٹ ہو رہی ہے۔ اگر آپ کو ویب سائٹ دیکھنے میں دشواری پیش آرہی ہے تو ہمیں اپنی رائے سے آگاہ کریں شکریہ

نائن الیون کے بعد اب ایٹ الیون

  وقت اشاعت: 13 2016 تحریر: سلطان حسین   پشاور

پوری دنیا جس طرح نائن الیون کے واقعے سے سکتے ہیں آگئی تھی، سولہ سال بعد ایک بار پھر ایٹ الیون سے دنیا سکتے میں آگئی ہے۔ امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ کی غیر متوقع کامیابی نے امریکہ سمیت پوری دنیا کے میڈیا اور اس کے ماہرین کی رائے اورتجزیہ نگاروں کے تجزئیے غلط ثابت کردئیے ۔

اپنے من پسند یا اسے نام نہاد تجزئیے کہہ لیں، کے درست ثابت نہ ہونے پر اب یہ سب دانتوں میں انگلی دبائے حیرت اور تعجب میں مبتلا ہیں۔  ان خوش کن تجزیوں کے درست ثابت نہ ہونے پر امریکیوں کے تو آنسو تک نکل آئے جبکہ امریکہ کے اتحادیوں کے علاوہ اسلامی دنیا اس غیر متوقع نتائج سے اگر ایک طرف پریشان ہے تو دوسری طرف وہ خوف میں بھی مبتلا ہے۔ امریکہ میں تو کسی کو یقین ہی نہیں تھا کہ ٹرمپ  کامیاب ہوں گے۔ اسی لیے کچھ مشہور شخصیات نے تو جوش میں یہاں تک کہہ دیا تھا کہ اگر ٹرمپ صدر بن گئے تو وہ امریکہ چھوڑ کر کینیڈا منتقل ہو جائیں گے۔ ان میں مشہور سیریز بریکنگ بیڈ کے اداکار برائن کرینسٹ، چیلسی ہینڈلر، معروف مصنف اسٹیفن کنگ، مشہور اداکار، لکھاری اور کامیڈین کیگن مائیکل ، اداکارہ و ہدایت کارہ لینا ڈنہیم اورگلوکار نی یو بھی شامل ہیں۔ فی الحال ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ شخصیات امریکہ چھوڑ جائیں گی یا نہیں۔ یہ تواگلے چند دنوں میں پتہ چلے گا۔ لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ ٹرمپ کی کامیابی کے اعلان کے بعد صرف چند گھنٹوں میں ہی امریکیوں نے کینیڈا جانے کے لیے پرتولنے شروع کردئیے اور  کینیڈا کی امیگریشن ویب سائٹ پراپنی رجسٹریشن کروانا شروع کر دی۔

اس  ویب سائٹ پر رجسٹریشن کی بھرمار نے سے کینیڈا کی امیگریشن ویب سائٹ ہی کریش ہوگئی۔ جبکہ نیوزی لینڈ کی ویب سائٹ پر رش کہیں زیادہ بڑھ گیا، منگل کی رات کو ہی جیسے جیسے امریکی صدارتی انتخابات کے نتائج سامنے آتے گئے، کینیڈا کی امیگریشن ویب سائٹ پر رش بڑھتا چلا گیا۔ یہاں تک کہ ٹریفک کے بوجھ سے کئی مرتبہ ویب سائٹ بند ہوگئی۔ دوسری جانب نیوزی لینڈ کے امیگریشن حکام کا کہنا ہے کہ رہائش اور تعلیم کے ویزوں پر کام کرنے والی سرکاری ویب سائٹ یوزی لینڈ ناو پر اب تک 1593 نئے افراد امریکہ سے رجسٹر ہوئے ہیں جو عام رجسٹریشنز سے پچاس گنا زیادہ ہیں۔ صدارتی انتخابات سے پہلے کئی مشہور امریکی شخصیات نے ازراہ مذاق کہا تھا کہ اگر ٹرمپ جیتے تو وہ کینیڈا منتقل ہو جائیں گے،  اب لگتا ہے کہ امریکیوں نے اس مذاق کو کافی سنجیدہ لے لیا ہے۔

امریکی انتخابات پر بڑی طاقتوں کے علاوہ پوری دنیا کی نظر بھی ہوتی ہے۔ کیونکہ ان انتخابات سے امریکہ کے اتحادی ، بڑی عالمی قوتیں اور پوری دنیا متاثر ہوتی ہے۔ اسی لیے بعض ممالک امریکی صدراتی امیدواروں کوسپورٹ بھی کرتے ہیں اور انہیں فنڈ بھی دیتے ہیں۔ تاکہ منتخب ہونے کی صورت میں وہ اپنے ہمددر اور ڈونر ممالک کا خیال رکھیں۔ جہاں تک امریکہ کے اتحادیوں کا تعلق ہے تو وہ بھی ابھی تک اس صدمے سے باہر نہیں نکلے۔ خود کو مہذب اور ترقی یافتہ اور خواتین کو برابری کی بنیاد پر حقوق دینے کا دعویٰ کرنے والی امریکی قوم نے ان انتخابات میں کم از کم اپنی رجعت پسندی بھی  ثابت کردی اور ایک عورت کی حکمرانی کوواضح طور پر مسترد کردیا۔ ان انتخابات میں ٹرمپ نے ایک نیا کارڈ کھیلا اور وہ کارڈ نئی نسل کا تھا۔ ٹرمپ نے وہ مسائل اٹھائے جس پر امریکہ کی نئی نسل کا اپنا ایک نقطہ نظر ہے۔ نئی نسل ڈیموکرٹیک کے آٹھ سالہ دور سے مایوس ہوچکی تھی۔  انہیں اس سے غرض نہیں کہ ان کا ملک دنیا میں کیا کررہا ہے بلکہ وہ ملک میں جاری مسائل کا حل چاہتے ہیں۔ وہ اگر تارکین وطن کی بڑھتی ہوئی آبادی سے خوفزدہ تھے اور ان کے امریکہ پر چھاجانے کے خوف میں مبتلا تھے تو بے روزگاری اور روز بروز بدتر ہوتی ہوئی معاشی حالات سے بھی پریشان تھے۔ ٹرمپ نے نئی نسل کی اس پریشانی  کو کامیابی سے کیش کروایا ہے۔ اس کے علاوہ ٹرمپ نے میڈیا کو بھی بڑی کامیابی سے استعمال کیا ۔ اوباما سے سیاہ فاموں کو بہت سی توقعات تھیں۔ وہ امریکہ کے پہلے سیاہ فام صدر تھے۔ ان کی کامیابی کے لیے سیاہ فاموں نے بڑی مہم چلائی تھی۔  یوں بھاری بھر کم ہاتھی کے مقابلے میں گدھا کامیاب ہوگیا۔

امریکی انتخابات سے دو باتیں سامنے آتی ہیں ایک تو یہ کہ امریکہ کی نئی نسل اپنے مسائل کا حل چاہتے ہے۔ اس کے علاوہ  ان میں  شدت پسندی بھی پیدا ہورہی ہے۔ اگر نئی نسل کو ساتھ لے کر چلا جائے تو بہت کچھ ممکن ہو سکتا ہے جس طرح پاکستان میں عمران خان  نئی نسل کے نمائندئے بن چکے ہیں۔ بالکل اسی طرح ستر سالہ ٹرمپ بھی بڑی عمر کے ہوتے ہوئے بھی نوجوانوں کے دل کی آواز بن گئے۔ اس سے ایک یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ نئی نسل کے سامنے عمر کی کوئی اہمیت نہیں۔ وہ صرف اپنے خوابوں کی تعبیر چاہتے ہیں۔ یہ بات پاکستانی سیاستدانوں کے لیے بھی ایک سبق ہے۔ امریکی انتخابات میں ٹرمپ کامیاب تو ہوگئے لیکن صدارت کی کرسی پر بیٹھنے کے لیے انہیں ابھی کچھ انتظار کرنا پڑے گا۔ وہ اگلے سال جنوری کی20 تاریخ کو ہی حلف اٹھاسکیں گے۔ جس کے بعد ہی وہ وائٹ ہاوس میں رہنے کے خواب کی تعبیر پائیں گے۔

حلف اٹھانے تک انہیں مختلف امور کے بارے میں بریفنگ دی جائے گی۔ صدارت کی کرسی پر بیٹھنے کے بعد وہ کیا پالیسی اپناتے ہیں اور دنیا کو کس طرح اپنے ساتھ لے کر چلتے ہیں، اس کے بارے میں اس وقت تک صرف اندازے ہی لگائے جاسکتے ہیں۔ تاہم ایک بات طے ہے کہ امریکہ میں پالیسیاں ادارے بناتے ہیں، شخصیات نہیں۔ اور منتخب صدر کو بھی ان پر چلنا پڑتا ہے۔ البتہ نیا صدر ان میں اپنے نظریات کے مطابق کچھ تبدیلیاں ضرور کر سکتا ہے۔  اب ٹرمپ اس میں کیا تبدیلیاں کرتے ہیں یہ تو ان کے وائٹ ہاؤس میں آنے کے بعد ہی پتہ چلے گا۔ کیونکہ انتخابات میں لگائے جانے والے جذباتی نعروں اور حقیقی پالیسیوں میں بڑا فرق ہوتا ہے۔

ہمیں دنیا کے ساتھ  پاکستان کے بارے میں بھی ان کی تبدیلیوں کا انتظار کرنا پڑے گا۔ کسی خوش فہمی یا خوف میں مبتلا ہونے کی بجائے حقیقت کا ادراک کرکے پہلے سے ہی خود کواس کے لیے تیار کرناہوگا۔ اس حوالے سے اپنی پالیسیاں مرتب کرنی ہوں گی۔ بلکہ  اس حوالے سے اب تک پالیسیاں مرتب ہو جانی چاہئیں تھیں کیونکہ ہیلری منتخب ہوتی یا  اب ٹرمپ منتخب ہوگئے، دونوں سے پاکستان کو کوئی بڑی امیدیں نہیں تھیں۔

نائن الیون کے  بعد اب ایٹ الیون کے دنیاپر اور پاکستان پر اورخود امریکہ پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں اس کی گرہیں، اگلے سال بیس جنوری کے بعد ہی آہستہ آہستہ کھلیں گی۔

آپ کا تبصرہ

Donald Trump's policy towards Pakistan

Donald Trump's; the president of US war of tweets was a fierce attack on Pakistan, accusing the country of "lies and deceit" and making "fools" of US leaders. Trump decla

Read more

loading...