شہر شہر


  وقت اشاعت: 15 مارچ 2017

گزشتہ دنوں پختون دہشت گرد ہیں، کے عنوان  سے میرے کالم کے حوالے سے میرے پنجاب کے ایک محترم بھائی عمراعظم نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اپنا ردعمل بھیجا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ آپ کی تحریر کو میں نے بڑے دکھ  اور تشویش کے جذبات کے ساتھ پڑھا ہے کاش ہم ایک دوسرے کے دست و گریباں ہو کر دشمن کو اس کی ناپاک سازشوں میں کامیاب ہونے کا موقع نہ دیں۔ میں پنجاب کا باسی ہوں ، میں جانتا ہوں کہ عام پنجابی اپنے ملک کے کسی بھی فرد سے لسانی یا علاقائی بنیاد پر نفرت یا برتری کا جذبہ ہر گز نہیں رکھتا۔ المیہ یہ ہے کہ ہم ایک انتہائی جذباتی قوم ہیں۔ اکثر جذبات کا اظہار پہلے کر دیتے ہیں۔ سوچتے اور حقائق کا جائزہ بعد میں لیتے ہیں ۔ یہی وہ خامی ہے جو ہمارے دشمنوں کو مہلک وار کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 06 مارچ 2017

ایک وقت تھا جب اڑن طشریوں کے نظر آنے کی بڑی باتیں ہوتی تھیں۔ اڑن طشریوں کا نظر آنا ایک انہونی سی بات لگتی تھی۔ اس وقت اسے خلائی مخلوق سے منسوب کیا جاتا تھا، جس کی وجہ سے اڑن طشریوں کے حوالے سے ایک خوف لوگوں میں پیدا کیا گیا۔ اب کئی جاکر یہ انکشاف ہوا کہ وہ تو  دنیا والوں کے اپنے ہی تیار کردہ آلات تھے۔ 

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 22 فروری 2017

ہر لفظ اپنے اندر ایک خاص معنی رکھتا ہے لیکن بعض الفاظ ایسے ہوتے ہیں جو کوزے میں دریا بند کرنے کے مترادف ہوتے ہیں۔ ایسے الفاظ کی تشریح کرنے کی ضرورت پیش نہیں آتی۔ اب آپ ناک کو ہی لے لیجیے اکثر آپ نے سنا ہوگا کہ یہ ہوگیا تو میری ناک کٹ جائے گی اگر وہ ہوگیا تو میری ناک کٹ جائے گی۔ بات بات پہ ناک کٹنے کا خطرہ رہتا ہے۔ ناک کٹتی ہے یا نہیں کٹتی لیکن اس شخص کو اپنی عزت خطرے میں ضرور نظر آتی ہے جو ناک کٹنے کی بات کرتا ہے اور جسے بچانے کے لیے وہ سب کچھ کرنے پر تل جاتا ہے۔

مزید پڑھیں

loading...

  وقت اشاعت: 10 فروری 2017
مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 21 جنوری 2017

وہ ایک بااختیار بادشاہ تھا۔ ملک کے پورے خزانے پر اس کا اختیار تھا لیکن اس کے باوجود خزانے سے وہ ایک پیسہ نہیں لے رہا تھا۔ اس کی گزر اوقات مال غنیمت پر ہوتی یا اپنے کسی کام کی اجرت پر گزارا کرتا۔  گھر میں تنگی ترشی رہتی جس کی وجہ سے ان کی بیوی کو ہر وقت  شکایت رہتی۔ ایک دن اس نے اپنے شوہر سے شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’مصر اور شام کا علاقہ آپ کے زیرنگین ہے اور گھر کا یہ عالم ہے کہ اس میں آسودگی کا نام و نشان تک نہیں۔‘‘ بادشاہ نے اپنی ملکہ کی بات تحمل سے سنی۔ جب ملکہ کی بات ختم ہوئی توجواب دیا ’’بیگم خزانہ رعایا کا ہے اور مجھے اس کی چوکیداری پر متعین کیا گیا ہے۔ میں اس خزانے کا مالک نہیں۔ اس کا نگران اور محافظ ہوں۔ کیا تم چاہتی ہو کہ میں تمہاری خوشی اور گھر کی آسودگی کے لیے خیانت اور بدیانتی کرکے اپنے لیے جہنم میں ٹھکانہ بنالوں؟‘‘

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 13 2016

پوری دنیا جس طرح نائن الیون کے واقعے سے سکتے ہیں آگئی تھی، سولہ سال بعد ایک بار پھر ایٹ الیون سے دنیا سکتے میں آگئی ہے۔ امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ کی غیر متوقع کامیابی نے امریکہ سمیت پوری دنیا کے میڈیا اور اس کے ماہرین کی رائے اورتجزیہ نگاروں کے تجزئیے غلط ثابت کردئیے ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 10 2016

اردو کا ایک محاورہ ہے ''اونٹ رے اونٹ تیری کون سی کل سیدھی '' یہ محاوہ بھی اسی لیے بنایا گیا ہے کہ اونٹ کی کوئی کل واقعی سیدھی نہیں لیکن چونکہ  اونٹ کوصحرائی جہاز کہتے ہیں، اس لیے یہ بڑا کارآمد جانور ہے۔ لیکن پاکستان میں اونٹ سے بیکار محکمہ نے  لوگوں کی زندگی اجیرن بنا رکھی ہے اسی لیے اس محکمے کے لیے اونٹ جیسے کارآمد جانور کا محاورہ استعمال کیا جارہا ہے۔ اونٹ کی تو اگرچہ  کوئی کل سیدھی نہیں مگر یہ انسانوں کے کام ضرور آتا ہے جبکہ واپڈا کی بھی کوئی کل سیدھی نہیں لیکن یہ انسانوں کے کام آنا تو دور کی بات ہے انہیں اذیت پہنچا کر سکون محسوس کرتا ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 06 2016

امریکہ کا صدراتی انتخاب دو دن بعد ہونے والا ہے۔  صدرات کے لیے ہیلری کلنٹن یا ڈونلڈٹرمپ میں سے ایک کو منتخب کیا جائے گا۔ دونوں ا میدواروں کی ساری توجہ اب ریاست فلوریڈا پر ہے جو اس کا صدارتی انتخابی مہم میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ آٹھ نومبر کو ہونے والے صدارتی انتخاب کے لیے اب تک تین کروڑ 30 لاکھ افراد  ووٹنگ سے پہلے ہی اپنا حق رائے دہی استعمال کر چکے ہیں۔ رائے عامہ کے جائزوں سے معلوم ہوتا ہے کہ ہیلری کلنٹن کو برتری تو حاصل ہے لیکن ان کے اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان فرق کم ہوتا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 26 2016

کہتے ہیں کہ عمران خان قومی ہیرو ہیں۔ انہوں نے دنیا میں ملک و قوم کا نام روشن کیا۔ پاکستان کے لیے پہلا ورلڈ کپ حاصل کرنے کا اعزاز بھی حاصل کیا۔ بقول عمران خان کے کہ یہ ورلڈ کپ ان کے شوکت خانم کینسر ہسپتال کی تکمیل کا مقصد حاصل کرنے کے لیے بھی ضروری تھا۔ سو انہوں نے اس کی تکمیل بھی کرکے دکھا دی۔ صرف یہی نہیں کراچی اور پشاور میں بھی اس منصوبے کا ارادہ کیا اور اس پر کام بھی شروع کر دیا جو قوم کی ایک بڑی خدمت ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 08 2016

کہتے ہیں ایک گاؤں میں ایک اجنبی شخص آیا اور اعلان کروایا کہ وہ گاؤں والوں سے ایک بندر دس روپے میں خریدے گا۔ اس گاؤں کے ارگرد بہت زیادہ بندر تھے۔ دیہاتی بہت خوش ہوئے انہوں نے بندر پکڑنے شروع کر دئیے۔ اس آدمی نے ایک ہزار بندر دس دس روپے میں خریدے۔ اب گاؤں میں بندروں کی تعداد کافی کم ہوچکی تھی۔ چند ایک بندر ہی باقی تھے جنہیں پکڑنا دشوار ہوگیا تھا۔

مزید پڑھیں

Threat is from inside

Army Chief General Raheel Sharif assured the nation that country’s borders are secure and the army is aware of threats and intrigues of the enemies. Speaking at an even

Read more

loading...