شہر شہر


  وقت اشاعت: 4 دن پہلے 

می لارڈ ! ہمارے ساتھ پہلی مرتبہ تو ایسا نہیں ہوا۔ اور ہم جانتے ہیں کہ یہ کھیل آخری مرتبہ بھی نہیں دہرایا جا رہا۔ ہم نے جب سے ہوش سنبھالا ہم یہ سب کچھ خاموشی سے دیکھ رہے ہیں اور برداشت بھی کر رہے ہیں۔ یہ سانپ سیڑھی کا کھیل ہے می لارڈ ۔۔۔ اور ہم سب سے پہلے تو یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ سانپ سیڑھی کے اس کھیل میں ہم آپ سے انصاف لینے تو نہیں آئے۔ ہم آپ سے زہر کا تریاق لینے بھی نہیں آئے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 05 جولائی 2017

اپریل 1977میں ملک بھر میں ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف تحریک جاری تھی ۔ یہ تحریک اسی سال مارچ میں منعقد ہونے والے انتخابات میں مبینہ دھاند لیوں کے نتیجے میں شروع ہوئی اور دیکھتے ہی دیکھتے ملک کے طول و عرض میں پھیل گئی۔ پاکستان قومی اتحاد کے پاس اگرچہ عوامی قوت نہ ہونے کے برابر تھی ۔ انتخابی جلسوں کے دوران بھی وہ لوگوں کو متاثر نہیں کر سکے تھے لیکن اس تحریک کے لیے انہوں نے نظام مصطفی کے نفاذ کا نعرہ بلند کیا ۔ تحریک کو تحریکِ نظامِ مصطفی کا نام دیا گیا ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 02 جولائی 2017

احمد پورشرقیہ سے بہاولپور کی طرف آنے والی قومی شاہراہ پر پکی پل کے قریب عید سے ایک روز پہلے ہی عید کا سماں تھا۔ صبح سویرے ایک آئل ٹینکر سڑک پر الٹا اوراس میں موجود ہزاروں لیٹر پٹرول سڑک اور اس کے نشیب میں موجود کھیتوں میں بہنے لگا۔ اس پسماندہ علاقے میں تیل کی یہ دولت حیران کن بھی تھی اور علاقے کے لوگوں کے لیے خوشی کی خبر بھی ۔ سو سڑک کے قرب وجوار میں موجود بستیوں تک جب یہ اطلاع پہنچی کہ ہماری بستی کے قریب ہی تیل کی دولت ہماری منتظر ہے ، تو وہاں سے بچے ،عورتیں اور جوان بھاگم بھاگ یہ دولت سمیٹنے پہنچ گئے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 01 جولائی 2017

آخرکار بلاول بھٹو زرداری ملتان تشریف لے ہی آئے۔ مَیں سوچتا ہوں اگر وہ نہ بھی آتے تو کیا ہو جاتا۔ اگر وہ ہو کر واپس چلے گئے ہیں تو اس کا پیپلز پارٹی کو کیا فائدہ ہوا یعنی کھایا پیا کچھ نہیں گلاس توڑا بارہ آنے۔ ان کے آنے سے قبل تیاریاں یوں کی جا رہی تھیں جیسے پیپلز پارٹی جنوبی پنجاب میں انقلاب آ جائے گا۔ علاقے سے بہت سے بڑے نام پارٹی میں شامل ہوں گے۔ لیکن سوائے ایک بے ہنگم افطاری کے کچھ بھی نہ ہوا۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 27 جون 2017

یہ کالم میں 28 رمضان کی صبح بیٹھ کر تحریر کر رہا ہوں۔ پورا رمضان گزر گیا کہیں افطار کیا تو کسی نے سحری پر یاد کیا۔ اس برس کچھ احباب نے گھروں پر افطاری کا اہتمام کیا۔ یوں لگتا ہے اب رمضان المبارک کی اصل خوش اس افطاری میں پنہاں ہے۔ جہاں ہر شام مختلف انواع و اقسام کے کھانے دسترخوان پر سجے ہوتے ہیں۔ ماضی میں افطاریوں کے ساتھ پندرہ رمضان کے بعد احباب کی جانب سے عیدکارڈز کی آمد کا سلسلہ بھی شروع ہو جاتا تھا۔ جن دنوں عیدکارڈز ارسال کرنے کی روایت پورے جوبن پر ہوا کرتی تھی تب ہمارے پاس عید کارڈز سو سے زیادہ آیا کرتے تھے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 25 جون 2017

ہم ایک تماشا گاہ میں رہتے ہیں اوراس تماشاگاہ کو اسلامی جمہوریہ پاکستان کہتے ہیں۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم تماشائی ہونے کے باوجود تماشائی نہیں ہیں۔ تماشائی بھی دراصل تماشا دکھانے والے خود ہیں۔ ہمیں گمان ہے کہ ہم یہاں تماشہ دیکھنے کے لیے آئے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہمیں اس تماشا گاہ میں تماشا بننے کے لیے دھکیلا گیا۔ تماشا بھی ایسا کہ جس میں ہرمداری اپنے اپنے فن کا بھرپور مظاہرہ کررہاہے۔ کوئی ہاتھ چھوڑ کر سائیکل چلاتا ہے۔ تو کوئی بندوق چلائے بغیر گولی مارنے کے ہنر سے واقف ہے۔ شاہ دولا کے بہت سے چوہوں نے اپنے سروں پر دستاریں سجارکھی ہیں۔ کچھ غلام اپنی حکمرانی کاتماشہ دکھا رہے ہیں اور حکمران خادموں کا روپ دھارکر رعایا کا تماشہ دیکھنے میں مصروف ہیں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 21 جون 2017

کرکٹ سے ہماری دلچسپی ختم ہوچکی تھی۔ شدید غصہ تھا اور جھنجھلاہٹ تھی۔ ہم نے نیوز چینلز کی طرح سپورٹس چینل بھی دیکھنا چھوڑ دیئے تھے۔ کوئی میچ ہوتا توہمیں یہ دلچسپی ہی نہیں رہی تھی کہ کون جیتے گا اور کون ہارے گا۔ ہماری یہ دلچسپی ایک دن میں ختم نہیں ہوئی تھی۔ اس غصے اور جھنجھلاہٹ اور عدم دلچسپی کے پیچھے بہت سے عوامل کارفرما تھے۔ کھیل جب جوئے میں تبدیل ہوااور کھلاڑیوں اور جواریوں کا نام ایک ساتھ لیا جا نے لگا ۔ میچ فکسنگ معمول بن گئی اور میچ سے ایک دن پہلے ہی بچوں کوبھی معلوم ہونے لگا کہ نتیجہ کس کے حق میں آئے گا تو بہت سے لوگوں کی اس کھیل سے دلچسپی ختم ہو گئی ۔ بکیوں نے اس خوبصورت کھیل کو ایسا برباد کیا کہ میچ دیکھنا وقت کا ضیاع لگنے گا۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 18 جون 2017

اور آخرکار وہ لمحہ آگیا جب ملک کا منتخب وزیراعظم جے آئی ٹی(مشترکہ تحقیقاتی ٹیم) کے روبرو پیش ہوگیا۔ یہ کوئی عدالت نہیں تھی، ایک تفتیشی ٹیم تھی جسے میڈیا نے عدالت بنارکھا تھا اور وزیراعظم کی پیشی کو غیرمعمولی اہمیت دی جارہی تھی۔ ہمارے ہاں مقتدر شخصیات کا کسی تفتیشی ٹیم کے سامنے پیش ہونا بہرحال غیرمعمولی ہی ہے کہ وطن عزیز میں کوئی ایسی روایت بھی تو موجودنہیں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 07 جون 2017

ملتان میں رہ کر گرمی کا شکوہ کرنا کوئی مناسب معلوم نہیں ہوتا۔ جس شہر کی پہچان ہی گردوگرما ہواور اس کے بعد گورستان کا تذکرہ ہو وہاں کے باسیوں کو گرمی پر حیرت بھی نہیں ہونی چاہیے اوراس کی حدت و شدت پر کسی قسم کی پریشانی بھی لاحق نہیں ہونی چاہیے۔ لیکن اس کا کیا کریں کہ آج کل شہر میں گرمی کے سوا کوئی سرگرمی ہی نہیں۔ صبح سے شام تک ہم سب کمروں میں دبکے رہتے ہیں اور باربار اپنے موبائل فون پر درجہ حرارت معلوم کرکے آہیں بھرتے ہیں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 30 مئی 2017

انیس برس قبل 28 مئی 1998 کو چاغی کے مقام پر ایٹمی دھماکوں کے بعد ہمارا شمار دنیا کی ایٹمی طاقتوں میں ہونے لگا۔ پوری قوم نعرے لگاتی اور بھنگڑے ڈالتی ہوئی سڑکوں پر نکل آئی۔ ہمیں بتایا گیا کہ ہم اب ناقابلِ تسخیر ہو گئے ہیں۔ ہماری جانب آنکھ اٹھانے کی جرات تو خیر دشمن نے پہلے بھی کبھی نہ کی تھی بس یہی ہوا تھا کہ وہ ہمارے ایک حصے پر قابض ہونے کے بعد ہمارے 90 ہزار فوجیوں کو قیدی بنانے میں کامیاب ہو گیا تھا ۔ لیکن یہ اس وقت کی بات تھی جب ہم ایٹمی طاقت نہیں تھے۔

مزید پڑھیں

Praise and prayers for the great people of Turkey

One year ago, this day, the people of Turkey set an example by defending their elected government and President Recep Tayyip Erdogan against military rebels.

Read more

loading...