شہر شہر


  وقت اشاعت: 1 دن پہلے 

اللہ تبارک و تعالی جل جلالہ وعم نوالہ کا ارشاد عالی ہے ےَااَیُّھَا الَّذِےْنَ آمَنُوْ کُتِبَ عَلَےْکُمُ الصِّےَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِےْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ۔ اے ایمان والو تم پر روزے فرض کر دیے گئے ہیں جیسے کہ تم سے پہلی امتوں پر فرض تھے ۔ حضور اکرم ﷺ کا ارشاد عالی ہے کہ اسلام کے پانچ بنیادی ارکان ہیں ایمان ، نماز ، زکوۃ ، روزہ ، حج ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 14 مئی 2017

اقتدار کا کھیل ہمیشہ سے موت کا کھیل بھی رہاہے۔ یہ روایت ازل سے جاری ہے اوراس کھیل پر کبھی کھلاڑیوں نے بھی کوئی اعتراض نہیں کیا۔ اورکھلاڑی بھلا کسی کھیل پر کیوں کر اعتراض کرسکتے ہیں کہ انہیں تو کھیل ہمیشہ لطف دیتا ہے۔ خواہ وہ اقتدار کا کھیل ہو یا موت کا۔ وطن عزیز میں یہ دونوں کھیل ہمیشہ سے کھیلے جارہے ہیں۔ کھلاڑی البتہ تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 09 مئی 2017

اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ حم والکتاب المبین انا انزالناہ فی لیلۃ مبارکۃانا کنا منذرین۔ فیھا یفرق کل امر حکیم صدق اللہ مولانا العظیم ۔ ترجمہ۔ اس روشن کتاب ( قراٰن پاک ) کی قسم ہم نے اس کومبارک رات میں نازل فرمایا بے شک ہم صحیح راستہ دکھانے والے ہیں ۔ اسی رات میں تمام حکمت الہیہ کے فیصلے کیے جا تے ہیں۔

مزید پڑھیں

loading...

  وقت اشاعت: 03 مئی 2017

فضول سی بحث ہے آزادئ صحافت کی۔ اس معاشرے میں جو ممکن ہی نہیں ہم اس کے خواب دیکھتے ہیں اور اس لئے دیکھتے ہیں کہ ابھی تک ہمارے خواب دیکھنے پر پابندی نہیں۔ لیکن یہ بھی تو بے معنی سی بات ہے۔ حقیقت بہت تلخ ہے، ہم وہ بد قسمت ہیں کہ جن سے ان کے خواب بھی چھینے جا چکے ہیں۔ خواب نیند سے مشروط ہوتے ہیں خواب آور گولیوں سے نہیں۔ گالی اور گولی کے کھیل نے ہمیں خواب آور گولیوں کا اسیر کر دیا اور نتیجہ یہ نکلا کہ ہم اپنے خوابوں سے محروم ہوگئے۔ اور ان خوابوں میں آزادئ صحافت کا خواب بھی شامل ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 25 اپریل 2017

افسوس یا خوشی تو اسے ہوتی ہے، جس نے اپنی زندگی میں کسی بھی قسم کی اچھی یا بُری توقعات وابستہ کی ہوتی ہیں۔ ہمارا شمار تو اس طبقے میں ہوتا ہے کہ جہاں لوگوں کو اب کسی اچھی یا بُری خبر کی کوئی توقع ہی نہیں ہوتی۔ بس یہ بہت سی منفی خبریں اور حادثات یا کوئی اکا دکا خوشی اچانک ہماری زندگیوں میں وارد ہوتی ہے اور ہم پر کوئی منفی یا مثبت اثر مرتب کیے بغیر گزرجاتی ہے۔ گویا ہم اور ہم جیسے بہت سے لوگ اب ایسے فول پروف نظام میں داخل ہوچکے ہیں کہ جہاں ہمیں آگ کی تپش محسوس ہوتی ہے اور نہ ہی ٹھنڈی ہوا فرحت بخشتی ہے۔ المیہ یہ بھی ہوا کہ دکھوں کی بہتات کے نتیجے میں ہم نے مسلسل آزردگی اپنے بدن پر اوڑھ لی اور ایسے میں کبھی خوشی کا کوئی بھولا بھٹکا لمحہ ہمیں میسر آ بھی جائے تو ہم اس سے لطف کشید نہیں کرتے ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 04 اپریل 2017

راتیں تو خیر سیاہ ہوتی ہی ہیں لیکن راتوں کی سیاہی کوختم کرنے کیلئے امید کی کوئی کرن، کوئی شمع یا کوئی جگنو کہیں نہ کہیں موجود ضرورہوتا ہے جو تاریکی کا طلسم توڑتا ہے۔ مگر وہ رات عام راتوں جیسی نہیں تھی۔ وہ رات کچھ زیادہ ہی سیاہ تھی اور اس سیاہی کے بطن سے روشنی اور امید کی نئی کرنیں بھی طلوع ہورہی تھیں۔ جولائی1977 میں جمہوریت کاقتل کرنے والے جنرل ضیاءالحق کو معلوم نہیں تھا کہ 4 اپریل1979 کی شب وہ جس نام کو مٹانے جارہاہے وہ نام رہتی دنیا تک کےلئے تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔ وہ نہیں جانتا تھا کہ سچائی کو قتل بھی کردیا جائے تو وہ کبھی قتل نہیں ہوتی۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 27 مارچ 2017

کبھی کبھی یوں ہی کچھ لکھ لینا چاہیئے ۔ بلا وجہ اور کسی مقصد کے بغیر اور دل کی بھڑاس نکالنے کے لئے۔ لیکن سوال پھر یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا دل کی بھڑاس کبھی نکل بھی سکتی ہے۔ اور  ہم جب دل کی بھڑاس یا دل کا غبار نکال لیتے ہیں تو کیا واقعی غبار چھٹ جاتا ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 27 مارچ 2017

کھیل کسی بھی صحت مند معاشرے کا ایک اہم حصہ ہوتے ہیں، جو معاشرے میں مثبت رجحانات اور صحت مند مقابلے کو پروان چڑھاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کے تمام ممالک کھیلوں کے شعبے میں خصوصی دلچسپی لیتے ہوئے اس کی ترقی کے لیے کوشاں رہتے ہیں۔ ایک وقت تھا کہ دنیا میں پاکستان کے بغیر کھیلوں کا تصور ناممکن تھا اور ہم بیک وقت کرکٹ، ہاکی، سکواش اور سنوکر کے عالمی چیمپئن تھے۔ موجودہ دور میں دہشت گردی اورسیاسی بحران نے جہاں تعلیم وصحت کے اداروں کوتباہ کیا ہے وہیں اس کا براہ راست اثر کھیلوں کے شعبے پر بھی پڑا ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 15 مارچ 2017

ابنِ کلیم سے میری پہلی ملاقات کب ہوئی۔ یہ تو یاد نہیں۔ البتہ یادوں کی البم میں شروع کی ملاقاتیں آج بھی محفوظ ہیں۔ انہوں نے پل شوالہ ملتان سے کچھ فاصلے پر ایک چھوٹی سی دکان میں اپنا دفتر بنا رکھا تھا جہاں پر وہ خطاطی کیا کرتے تھے۔ یہ بات 1982-83 کی ہے۔ ابنِ کلیم کے ہاں بیٹھا ہوا تھا تو وہ مختلف کتبوں پر خطاطی کر رہے تھے۔ مَیں نے مذاق میں کہا حافظ صاحب! آپ کا کتبہ کون لکھے گا۔ مسکرا کر کہنے لگے مَیں نے اپنا کتبہ خود لکھ کر سنگِ مرمر پر ڈیزائن کروا کے محفوظ کر لیا ہے۔ میرے مرنے کے بعد اُس کتبے پر صرف تاریخِ وفات لکھی جائے گی اور وہ کتبہ مکمل ہو جائے گا۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 14 مارچ 2017

کپاس ہمارے ملک کی ایک اہم نقد آور فصل ہے جس کا جی ڈی پی میں حصہ 1.7فیصد ہے۔ ٹیکسٹائل کے شعبے میں کپاس کا مرکزی کردار ہے اورٹیکسٹائل انڈسٹری نہ صرف ہمارے 66 فیصد برآمدات کا احاطہ کرتی ہے بلکہ 40 فیصد مزدوروں کو روزگار بھی فراہم کرتی ہے۔ ملکی آب و ہوا کپاس کے لیے ساز گار ہونے کے باعث پاکستان عرصہ دراز سے کپاس کی پیداوار کے لحاظ سے دنیا کے پانچ بڑے ممالک میں شامل رہا ہے۔ لیکن گزشتہ پانچ سالوں میں کپاس کی پیداوار میں تشویشناک حد تک کمی نے ملکی معیشت کو بری طرح متاثر کیا ہے۔

مزید پڑھیں

Islamic Council Norway Fails Muslims and the Society

By hiring Nikab-wearing Leyla Hasic, Islamic Council Norway has taken a clear stand in a controversial debate. Norwegian Muslims neither are represented nor served with t

Read more

loading...