شہر شہر


  وقت اشاعت: 1 دن پہلے 

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے گلہ کیا ہے کہ ملک میں عوامی مینڈیٹ کو تسلیم نہیں کیا جا رہا۔ یہ بات انہوں نے کسی اخباری پریس کانفرنس، کسی صحافی سے انٹرویو، کسی اخباری بیان میں نہیں کی بلکہ نوشہرو فیروز (سندھ) میں غلام مرتضیٰ خان جتوئی کے گھر پر ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے اس موقع پر یہ بھی کہا کہ سیاسی فیصلے، عدالتوں اور سڑکوں پر نہیں ہوتے، یہ فیصلے پولنگ سٹیشنوں پر ہوں گے۔ انہوں نے یہ انکشاف بھی کیا کہ حکومت نے 28 جولائی کا عدالتی فیصلہ تسلیم کیا ہے۔ اس موقع پر یہ بھی کہا کہ میثاقِ جمہوریت پر عمل نہ کرنے سے سیاست اور سیاست دان بدنام ہو رہے ہیں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 1 دن پہلے 

آج کل پاکستانی وزیر خارجہ آصف کے بیان پہلے گھر کی صفائی، کے حوالے سے میڈیا اور سرمایہ دارانہ سیاست میں ہیجان خیز صورت حال برپا ہے۔ صفائی توگھر کی ہونی چاہیے مگر ہمارے علاقائی ممالک بھارت اور افغانستان کی سیاست سماجیت اور اخلاقی غلاظت نے ان کے معاشروں کو تعفن زدہ بنادیا ہے۔ بھارت جو کہ سیکولرازم کا علمبردار تھا اور ماضی میں غیر وابستہ تحریک سے منسلک رہا ہے، نے بے پناہ فوجی ظاقت حاصل کی۔ اس کے علاوہ گزشتہ دہائیوں میں  تجارتی مفادات کے لئے  حکمران طبقے نے  مذہب کو بطور خاص  استعمال کیا ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 1 دن پہلے 

اچھے جمہوری معاشروں کی بنیادی خوبی یہ ہوتی ہے کہ وہ سیاسی ، سماجی ، معاشی ، قانونی ، انتظامی اور دیگر اصلاحات کے ساتھ آگے بڑھتے ہیں ۔ کیونکہ جمہوری نظام کی کنجی اصلاحات کا عمل ہی ہوتا ہے ۔ جمہوریت پر مبنی نظام میں فوری انقلاب نہیں آتے بلکہ وہ اصلاحات کو بنیاد بنا کراپنے لیے بہتر اور خوشحالی کا راستہ اختیار کرتے ہیں ۔ اصلاحات کا عمل جتنا زیادہ  مؤثر اور مضبوط  ہوگا،  اتنا ہی اس کی  ساکھ بھی قائم ہوگی ۔ لوگ عمومی طور پر ایسی اصلاحات کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں جن سے ان کے مفادات وابستہ ہوتے ہیں ۔  وہ ان ملکیت کو بھی قبول کرتے ہیں ۔ لیکن ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ اصلاحات  پر ہمارا  یقین کمزور ہوتا ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 3 دن پہلے 

ہمارے ہاں اردو کے نفاذ کا معاملہ برصغیر کی آزادی کے ساتھ ہی شروع ہوگیا اور آغاز بھی تلخ ہوا۔ مشرقی پاکستان میں علیحدگی کے بیج اسی مہم کے سبب پنپنا شروع ہوئے۔ اردو کو برصغیر میں مسلمانوں کی شناخت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ یہ ایک نہایت کمزور دلیل ہے۔ اگر اردو مسلمانوں کی زبان ہے تو پشتو، پنجابی، سندھی، بلوچی، بنگالی اور شمالی علاقوں میں بولی جانے والی زبانیں کس کی ہیں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 4 دن پہلے 

جماعتیں کیوں بنتی ہیں۔ سیاسی اورمذہبی جماعتیں طے شدہ مقاصد اور ایجنڈے کے تحت وجود میں آتی ہیں۔ سیاسی جماعتیں جمہوری نظام کے پیراڈائم اور فریم ورک میں تشکیل پاتی ہیں۔ وہ لوگوں کے لئے ملک و قوم کی ترقی اور بہتری کے لئے ایک بہتر آپشن کی صورت میں سامنے آتی ہیں۔ ان کے مقاصد میں جمہوری روایات کا استحکام اقتدار ملنے کی صورت میں داخلہ اور خارجہ معاملات کو صحیح سمت میں لے کر جانا تاکہ ملک وقوم ، بین الاقوامی برادری میں باعزت مقام پا سکے ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 5 دن پہلے 

جب قومی سیاست اور ریاستی نظام اپنے ارد گرد موجود مسائل کا حل تلاش کرنے کی بجائے ایک دوسرے کے خلاف مقابلہ بازی اور محاز آرائی کا راستہ اختیا رکرلیں تو نتیجہ میں ملک  عدم استحکام  کا شکار ہوتا ہے۔ یہ عدم استحکام محض سیاست تک محدود نہیں ہوتا بلکہ اس کے اثرات معیشت اور قومی سلامتی یا سیکورٹی کے معاملات میں بھی دیکھنے کو ملتے ہیں ۔ کیونکہ معاملات کو سیاسی تنہائی میں دیکھنے کی روش بہتر نہیں۔ معاملات کو ایک دوسرے فریقین یا اداروں کے درمیان جاری کشمکش کی صورت میں دیکھنے کی صلاحیت پیدا کرنی چاہیے ۔ پاکستان کا مسئلہ بھی موجودہ صورتحال میں ایک گھمبیر منظر کی نشاندہی کررہا ہے ۔ سیاسی ، انتظامی ، قانونی اور قومی سیکورٹی اداروں کے درمیان جاری بداعتمادی یا مقابلہ بازی کی فضا نے داخلی اور خارجی سیاست کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 6 دن پہلے 

برادر عزیز راجہ صاحب کو گلہ رہتا ہے کہ درویش سخن گسترانہ بات کالم کے آخری پیراگراف تک چھپائے رکھتا ہے۔ یک سطری رائے پڑھنے کے لیے پورے کالم کے تالاب سے گزرنا پڑتا ہے۔ نوٹنکی کے ٹانڈے کی ہانک پہ جو بچہ بالک جمع ہوتے ہیں انہیں مشتری بائی کی ایک جھلک دکھا کر پردہ گرا دیا جاتا ہے۔ آج ایسا نہیں ہوگا۔ اسلام آباد کی احتساب عدالت کے باہر محترم وکیلوں کی طرف سے بد تہذیبی کے مظاہرے کا کوئی دفاع ممکن نہیں۔ اس کی غیر مشروط مذمت کرنی چاہئیے۔ عدالت کی دہلیز پہ عدل کی زنجیر ہلائی جاتی ہے، دروازہ نہیں پیٹا جاتا۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 6 دن پہلے 

ملک میں عدم استحکام پانامہ کی وجہ سے سے چل رہا ہے۔ لیکن لگتا ہے کہ اب فریقین کو بھی انداذہ ہو تا جارہا ہے کہ وہ معاملات کو زیادہ عرصہ اس طرح نہیں چلا سکتے۔ یہ عدم استحکام ہمارے لئے زہر قاتل ہے۔ ہم لمبے لمبے میچ کھیلنے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ اس لئے اب گیم کو ختم کرنے میں ہی ملک کی بہتری ہے۔ آرمی چیف نے کراچی میں اپنے خطاب میں ملک کی معیشت کے حوالہ سے خطرہ کی گھنٹیاں بجا دی ہیں۔  انہوں نے برملا کہا ہے کہ ملک کی معاشی حالت ٹھیک نہیں ہے۔ قرضے آسمان کو چھو رہے ہیں۔ ان کا مقدمہ سادہ ہے کہ فوج نے ملک کا امن و امان ٹھیک کر دیا ہے لیکن سیاسی قیادت ملک کی معیشت ٹھیک نہیں کر سکی ہے۔ بات یہیں ختم نہیں ہو ئی بلکہ اگلے دن ڈی جی آئی اسی پی آر نے آرمی چیف کی تقریر کے فالو اپ میں کہا ہے کہ ملک کی معاشی حالت ٹھیک نہیں۔ لہذا اس پر مل بیٹھ کر بات چیت کرنے کی ضرورت ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 6 دن پہلے 

مین سٹریم میڈیا اور سوشل میڈیا پر جو سب سے بڑا موضوع دیکھنے اور سننے کو مل رہا ہے، وہ یہ ہے کہ سیاست دانوں نے ملک برباد کردیا، لوٹ کر کھا گئے سیاست دان۔ ملک کی تمام بربادی کے ذمے دار سیاست دان اور سیاست سے بری کوئی بیماری نہیں جو اس ملک کو دیمک کی طرح چاٹ کر کھا گئے۔ بڑے بڑے ٹی وی ٹاک شوزہوں یا مزاح پر مبنی پروگرام، سب سے بڑا فوکس ہی یہ ہے ۔ اسی طرح سوشل میڈیا پر بھانت بھانت کے گم نام شاعر اپنی شاعری سے سیاست دانوں اور سیاست کا اس طرح تمسخر اڑا رہے ہوتے ہیں جیسے اُن کی شاعری کوئی آسمانی صحیفہ ہیں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 7 دن پہلے 

ناروے کا ڈرامہ نگار ہنرک ابسن کسی قدر دل پھینک واقع ہوا تھا۔ عمر بھر کی بے قراری تھی۔ دل ہاتھ میں لئے پھرتے تھے، کوئی پوچھے کہ یہ کیا ہے تو چھپائے نہ چھپے۔ ایسا نہیں کہ کسی کلی نے آنکھ بھر کر نہیں دیکھا۔ قطار اندر قطار پھول کھلے تھے مگر ہزار سالہ بلبل ہنرک ابسن بال بکھیرے پھرتے تھے۔ پیرانہ سالی میں ایملی باردخ سے معرفت ہو گئی۔ خط میں لکھتے ہیں کہ تم میری زندگی کے ستمبر میں مئی کا سورج بن کر آئی ہو۔

مزید پڑھیں

Praise and prayers for the great people of Turkey

One year ago, this day, the people of Turkey set an example by defending their elected government and President Recep Tayyip Erdogan against military rebels.

Read more

loading...