شہر شہر


  وقت اشاعت: 1 دن پہلے 

سول سوسائٹی کی قوّتِ متحرکہ انسانی ضمیر کی آواز اور فکری بیداری ہوتی ہے ۔ زندہ معاشروں میں چونکہ سوچ و فکر کی آزادی ہوتی ہے ، جان کو خطرات لاحق نہیں ہوتے ، لہذا ایسے معاشروں میں سِول سوسائٹی بہت فعال اور کارآمد ہوتی ہے ۔ جبکہ ظلم و جبر کا شکار معاشروں میں سوچ و فکر آزاد نہیں ہوتی، جان کو خطرات ہوتے ہیں، لہٰذا یہی سِول سوسائٹی خوف کا شکار ہوجاتی ہے ۔ کیونکہ سِول سوسائٹی غیر جانبدار ہوتی ہے  لہذا اسے کسی پریشر گروپ ، کسی طاقتور مافیا، کسی سیاسی جماعت، کسی مذہبی تنظیم یا کوئی ریاستی سرپرستی حاصل نہیں ہوتی۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 1 دن پہلے 

افغانستان  اپنے داخلی بحران کے تناظر میں ایک بڑی مشکل صورتحال سے دوچار ہے ۔ یہ ناکامی محض آج کی موجود افغان حکومت کی ہی نہیں بلکہ اس حکومت کی براہ راست سرپرستی کرنے والے امریکہ کی بھی ہے ۔ کیونکہ امریکہ نے افغانستان میں قیام امن کے حوالے سے جو بھی حکمت عملی اختیار کی اس میں کامیابی کم اورناکامیاں  زیادہ رہیں۔  اول پہلے طاقت کا بھرپور استعمال کیا گیا اور دوئم بعد میں اچھے اور برے طالبان کے درمیان تمیز قائم کرکے طالبان کے ساتھ مفاہمت کا ایجنڈا بھی چلایا گیا ۔ لیکن امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی ناقص حکمت عملی نے افغانستان کو اس خطہ کی سیاست میں ایک خطرناک ملک بنا دیا ہے ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 3 دن پہلے 

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یروشلم کو سرکاری طور پر اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس فیصلے کو مدنظر رکھا جائے تو ان کے بارے میں متعدد باتیں سامنے آتی ہیں۔ یہ کہ وہ مایوس کن طور پر اپنی بنیاد مضبوط بنانا چاہتے ہیں جو کہ اُن عیسائی انتہاپسندوں پر مشتمل ہے جو اسرائیل کی بلاحجت کے حمایت کرتے ہیں۔ یہ کہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان "The Ultimate Deal" میں ٹرمپ کو کوئی دلچسپی نہیں۔ انہیں امریکہ کے قریب ترین حلیفوں کی رائے کا بھی کوئی احترام نہیں۔ بین الاقوامی قانون کے متعلق انہیں کچھ علم نہیں۔ انہیں بیرون ملک امریکی عملے کے تحفظ کی کوئی پروا نہیں۔ وہ مشرقِ وسطیٰ کے حالات ومسائل کی پیچیدگیوں کا فہم رکھتے ہیں اور نہ ہی اسے سمجھنے میں انہیں کوئی دلچسپی ہے۔ تمام انسانوں کے برابر انسانی حقوق پر بھی اُنہیں کوئی یقین نہیں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 4 دن پہلے 

بات علم و فنون کی ہو یا مذہب و روحانیت کی یا چاہے سیاست و معاشرت، ادب و صحافت، تہذیب و ثقافت، فن و سیاست، صنعت و معیشت کی یا کسی بھی شعبہ  زندگی کی بات ہی کیوں نہ ہو ہر میدان میں قصور کی زرخیز مٹی نے شہرہ آفاق ناموں کو جنم دیا ۔ مگرجب میں نے اپنے بزرگوں کے ہمراہ اِس شہرمیں آنا شروع کیا تو اتنا چھوٹا تھا کہ بابا بلھے شاہ ، بابا کامل شاہ، پیر جہانیاں جیسی برگزیدہ ہستیوں سے بھی نا واقف تھا اور محمد علی ظہوری قصوری، عبداللہ عبدالقادر خویشگی،  اقبال قیصر،  اقبال بخاری،  مقصود حسنی ، میڈم نورجہاں ، بھولو پہلوان، گاما پہلوان، یوسف خان، ضیاء محی الدین، مصور آزر روبی، قوال مہر علی اور شیر علی قوال، راجہ ٹوڈرمل سمیت ڈاکٹر معین قریشی اور خورشید محمود قصوری جیسی قصور کی نامور شخصیات بھی میرے علم میں نہ تھی۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 4 دن پہلے 

انہیں پاکستان کے ایٹمی پروگرام کا روح رواں کہیے ، قومی ہیرو قرار دیجئے یا نسیم حجازی کے ناولوں سے کشید کردہ اسلامی ہیرو۔ واقعہ یہ ہے کہ ڈاکٹر قدیر خان مہاتما بدھ کی حکایات کا اساطیری کچھوا ہیں۔ کچھوے میاں سے بار بار کہا جاتا ہے کہ سمندر کے پار اترنا ہے تو چھڑی کو منہ میں دبائے رکھو اور گل افشانی سے گریز کرو۔ مگر صاحب ڈاکٹر قدیر خان کو اپنی خوش بیانی پر ایسا غرہ ہے اور ان کی خدا داد ذہانت کو ایسا میٹھا برس لگا ہے کہ منہ کھولے بغیر نہیں رہتے ۔ نتیجہ یہ کہ خود بھی گہرے پانیوں میں غوطے کھاتے ہیں اور اپنے خوش عقیدہ مداحوں کو بھی پشیمان کرتے ہیں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 5 دن پہلے 

کسی بھی جمہوری سیاست  اصلاحات اہم ہوتی ہیں۔  سیاسی حکومتیں جمہوری پلیٹ فارم  سے  معاشرے میں حقیقی تبدیلیوں کے لئے اقدامات کرتی ہیں۔  جمہوری معاشروں میں  بڑے انقلاب نہیں آتے ، بلکہ انقلاب کی بجائے سیاسی طبقات اصلاحات کی مدد سے آگے بڑھتے ہیں ۔  جمہوری سیاست میں  اصلاحات کا عمل کنجی کی حیثیت رکھتا ہے لیکن بدقسمتی سے ہم اصلاحا ت کی سیاست کو  طاقت فراہم نہیں کرسکے ۔  اگر اصلاحات کی سیاست میں عوام اہم نہ ہوں اوراس کی جگہ افراد یا خاندان کے مفادات بن جائیں تو پھر اصلاحات کے ایجنڈے کی کیا اہمیت رہ جاتی ہے ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ عوام ، ریاست، حکومت اور اس کے اداروں کے درمیان ایک بڑی خلیج پیدا بنتی جارہی ہے جو  اس ملک کے مفادات کے خلاف ہے ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 6 دن پہلے 

پاکستان کے قیام کے فوراً بعد ہی سے ایک متفقہ شناخت کو سوچے سمجھے طریقے سے پر اسراریت کا جامہ پہناکر مشکلات کو دعوت دی گئی۔ تمام کثیر القومیتی اور کثیر الثقافتی کمیونٹیوں، نیز رنگا رنگ ریاستی اکائیوں کے مابین یکجہتی پیدا کرنے کا کام سر انجام دینے کی کوششش کی گئی ہے جن سب سے مل کر پاکستان بنا ہے۔ اس دو قومی نظریے کے ذریعے جس نے تقسیم ہند سے قبل علیحدہ خطہ حاصل کرنے میں بنیاد ی کردار ادا کیا تھا، ریاستی آقاؤں میں ہم آہنگی پیدا کرنے کی کوشش بھی کی۔ ہمارے بانی راہنماؤں نے مستقبل کے اثرات و نتایج زیر غور لائے بغیر ہی گو ناں گوں مسائل کا جواب اس سادہ ترین حل میں تلاش کرنے کی کوشش کی ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 6 دن پہلے 

چودہ انسانی جانوں کے خون میں نہائے ہوئے سانحہ ماڈل ٹاؤن پر جسٹس نجفی رپورٹ منظرعام پر آگئی ہے، جس کے بعد ملکی سیاست خصوصاً پنجاب کی سیاست میں ایک نیا بھونچال آگیا ہے۔ 16،17 جون 2014 کو پاکستان عوامی تحریک کے مرکزی سیکرٹریٹ پر پنجاب پولیس کے دھاوے اور آپریشن کے نتیجے میں 14 بے گناہ افراد مارے گئے تھے، جس پر عوامی تحریک اور حکومت مخالف سیاسی جماعتوں کی جانب سے مسلسل احتجاج کیا جاتا رہا۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 7 دن پہلے 

امریکی صد ر ٹرمپ نے اپنے اتحادی اور حامی عرب ممالک کی تنقید اور مخالفت کے باوجود یورو شلم کو اسرائیل کا دار الحکومت تسلیم کرنے اور وہاں پر مستقل امریکی سفارتخانہ قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس نے اپنی انتخابی مہم کے دوران سفارتحانہ تل ابیب سے یورو شلم منتقل کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ٹرمپ کے بقول امریکی کانگریس نے 22سال پہلے 1995میں مکمل اتفاق رائے سے فیصلہ کیا تھا کہ تل ابیب سے دار الحکومت  منتقل کیا جائے گا۔ ہر امریکی صدر چھ ماہ بعد اس عمل کو موخر کرنے کیلئے آرڈر پر دستخط کرتا رہا ہے۔  ٹرمپ سے پہلے صدور اس منصوبہ کو  عملی جامہ پہنانے میں ناکام رہے مگر ٹرمپ نے وعدہ پورا کر دیا۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 07 2017

کمپیوٹر انفارمیشن ٹیکنالوجی ایک ایسی تیز رفتار ارتقائی سائنس ہے ، جس میں روزانہ کی بنیاد پر نت نئی ایجادات، تحقیقات، اور اختراعات شامل ہوتی رہتی ہیں۔ جب کمپیوٹر وجود میں آیا تو اس وقت اس کو حساب کتاب تک محدود مشین تصوّر کیا جاتا تھا مگر انٹرنیٹ کے وجود میں آجانے ، الیکٹرانک کمیونیکیشن کے زرائع وسعت پانے اور کمپیوٹر ٹیکنالوجی میں حیرت انگیز ترقّی کے بعد باقاعدہ طور پر کمپیوٹر انفارمیشن ٹیکنالوجی نے ایمرجنگ سائنس کا روپ دھار کر دنیا کی شکل ہی بدل ڈالی ہے ۔

مزید پڑھیں

Growing dangers of Islamist radicalism on Pakistani politics

Mr Arshad Butt is an insightful observer of the political events in Pakistan. Even though the hallmark of Pakistani political developments and shabby deals defy any commo

Read more

loading...