شہر شہر


  وقت اشاعت: 2 دن پہلے 

میں ساقی بک ڈپو دہلی کی مطبوعہ کتاب بعنوان “دھواں ” کا مصنف ہوں ۔ یہ کتاب میں نے 1941 میں جب کہ میں آل انڈیا ریڈیو دہلی میں ملازم تھا، ساقی بک ڈپو کے مالک میاں شاہد احمد صاحب کے پاس غالباً تین یا ساڑھے تین سو روپے میں فروخت کی تھی۔ اس کے جملہ حقوق اشاعت اب ساقی بک ڈپو کے پاس ہیں ۔ اس کتاب کے جو نسخے میں نے عدالت میں دیکھے ہیں، ان کے ملاحظہ سے پتہ چلتا ہے کہ یہ کتاب کا دوسرا ایڈیشن ہے ۔ چوبیس افسانوں کے اس مجموعے میں جو انسانی زندگی کے مختلف شعبوں سے متعلق ہیں، دو افسانے بعنوان “دھواں “، اور “کالی شلوار” استغاثہ کے نزدیک عریاں اور فحش ہیں ۔ مجھے اس سے اختلاف ہے، کیوں کہ یہ دونوں کہانیاں عریاں اور فحش نہیں ہیں ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 3 دن پہلے 

پاکستان کا بحران کیا ہے؟ شاید ہم ابھی تک یہ طے ہی نہیں کر پائے۔ 1940 میں قراردادِ لاہور کے وقت، مسلمانانِ ہند نے اپنی آزادی اور اقتدار کے لیے یہ قرارداد منظور کی اور 1947 میں پاکستان بن گیا۔ اگر قراردار منظور ہوگئی اور پھر اس پر وقت اور سیاسی حالات و تقاضوں کے حوالے سے 1947 میں عمل بھی ہوگیا پھر تو بحران ختم ہوگیا۔ لیکن ایسا ہوا نہیں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 6 دن پہلے 

آصف علی زرداری کی پاکستان آمد کے بعد پیپلزپارٹی کے اندر خوشی سے زیادہ خاموشی چھائی ہوئی ہے۔ بلاول بھٹو زرداری جب سے متحرک ہوئے اور انہوں نے پنجاب میں تنظیم نو کے لیے جو اقدامات اٹھائے اور اس دوران انہوں نے اپنے اردگرد پارٹی کے نظریات کے حوالے سے جانے گئے لوگوں کو اکٹھا کیا۔ اپنے بیانات وتقریروں میں پارٹی کی نظریاتی اور فکری اساس کے نقصانات کو قبول کرکے اس کے ازالے کے لیے اقدامات اٹھانے کا آغاز کیا۔ اس طرح پارٹی کے اندر ہی نہیں بلکہ عوام میں بھی ایک خوش گوار احساس اجاگر ہوا کہ پارٹی کی اعلیٰ قیادت کو اپنی نظریاتی، فکری اور مقبولیت کے خطرناک حد تک محروم ہوجانے پر پریشانی بھی ہے اور اس طرف دوبارہ سفر کا آغاز بھی کردیا ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 7 دن پہلے 

الیکشن کی نزدیکی کا کرشمہ ہے ، واقعی حکومت کو گرتی ہوئی ہوئی برآمدات پر ترس آ گیا ہے یا بڑھتے ہوئے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے سے وزیر خزانہ کا دل پسیج گیا ہے۔ وجہ جو بھی ہو وزیر اعظم نے براآمدات میں اضافے کے لیے اس ہفتے 180 ارب روپے کے پیکیج کا اعلان کیا۔ ہماری یاد داشت کی کمزوری کا بھی کچھ قصور ہے اور کچھ گزشتہ ایک آدھ سال میں اعلان ہوئے پیکیج د ر پیکیج کی افراط کے سبب ہمیں یہ یاد رکھنے میں دقت پیش آرہی ہے کہ حکومت کی فیاضی کے ہاتھوں نحیف خزانے سے کتنے سو ارب روپے مزید لڑکھڑاتے ہوئے کسی نئے سیکٹر کو دے کر حکومت نے اسے بچا لیا۔ جس دلسوزی سے وزیر خزانہ ایسے مواقع پر بتاتے ہیں کہ اس پیکیج پر حکومت کو اتنے سو ارب کا نقصان برداشت کرنا پڑا، ہماری ہمدردیاں پیکیج لینے والوں سے زیادہ ان کے ساتھ ہوجاتی ہیں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 12 جنوری 2017

پانامہ لیکس کے انکشافات اور اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے احتساب کے مطالبے کو حکومت اور وزیراعظم کے خلاف سازش قرار دینے والے لوگ شاید وہ وقت بھول چکے ہیں جب اس ملک پر عوام ہی کے ووٹوں سے دوسری مرتبہ منتخب ہونے والی وزیراعظم بے نظیر بھٹو کی حکومت تھی اور موجودہ وزیراعظم میاں نواز شریف تمام حلقوں کے ہر دلعزیز اپوزیشن رہنما تھے۔ کہانی جو میں آج آپ کو سنانے والا ہوں، وہ  صرف 20 برس پرانی ہے۔ اس کہانی کے نام کردار اور واقعات ہرگز فرضی نہیں ہیں۔ کہانی کو سمجھنے اور اس کے حقائق جانے کے لئے آپ  کو کسی  لائبریری میں جا کر 20 برس پرانے اخبارات کی فائلوں سے گرد کی تہہ ہٹانا ہوگی۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 10 جنوری 2017

ترکی تیزرفتار سیاسی تبدیلیوں کا سامنا کررہا ہے۔ یہ سیاسی تبدیلیاں خطے اور اندرون ملک دونوں طرف برپا ہیں۔ 2002 میں جو ترکی انصاف وترقی پارٹی (AKP) کو ورثے میں ملا، اُس ترکی اور اِس ترکی میں اب واضح فرق دیکھا جا سکتا ہے۔ ترکی کے دہانے پر اسّی کی دہائی سے 2003 تک تین بڑی جنگیں برپا ہوئیں جس میں لاکھوں انسان ہلاک ہوئے لیکن ترکی اِن تنازعات میں عملی اور ظاہری طور پر خاموش رہا۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 07 جنوری 2017

استنبول سے چارٹرڈ فلائٹ پیرس کے لیے سستی تھی، اس لیے جہاز میں زیادہ تر بیک پیکرز سیاح تھے۔ فلائٹ جب آدھی رات کو چارلس ڈیگال ایئرپورٹ اتری تو میری دوست کیتھرین سیباگ مجھے ایئرپورٹ لینے آئی تھی۔ کیتھرین اُن دنوں مختلف اوقات میں پاکستان میں ہمارے گھر ہی مہمان رہی تھی۔ وہ پاکستان میں بسنت کے حوالے سے ایک ڈاکیومنٹری بنانے آئی تھی۔ اب اُسے مجھے اپنا مہمان بنانے کا اشتیاق تھا۔ جیسے میں نے اسے لاہور دکھایا، مادھو لعل حسین، میاں میر، پیر مکی، داتا صاحب سمیت مختلف مزارات، موچی گیٹ کے پتنگ فروش، بادشاہی مسجد کے گرد پتنگ بازی کے لیے دھاگوں کو مانجھا لگانے والے، شاہ عالمی کے اندرونی محلے پری محل کے پتنگ باز نوجوانوں کے گھروں سے لے کر جناب ملک معراج خالد مرحوم، منو بھائی اور دیگر دوستوں کی محفلوں کا لطف اٹھانے تک۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 01 جنوری 2017

کیا اسرائیل سپر پاور بننے والا ہے؟ یہ فقرہ جب بھی سننے میں آتا ہے، یک دم چونکا دینے والی کیفیت طاری ہوجاتی ہے۔ یہودی ملک ، جس کی آبادی اور رقبہ چند ہندسوں میں آتا ہے، کیا وہی اسرائیل عالمی طاقت بنے گا۔ عالمی فیصلے کرے گا۔ کیا سارے مسلم ممالک اتحاد کرکے بھی اس کا راستہ نہیں روک سکتے وغیرہ وغیرہ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 31 2016

ناصر کاظمی نے کہا تھا:
یہ صبح کی سفیدیاں، یہ دوپہر کی زردیاں
اب آئنے میں دیکھتا ہوں میں کہاں چلا گیا
ایک اور سال گزر گیا۔ کیلنڈر پر تاریخ بدل جائے گی۔ کیا وقت کی اس گردش میں ہمارے فائدے کا بھی کوئی سامان ہے یا اس میں زیاں ہی زیاں ہے؟ وقت کے تغیر و تبدل سے ہمیں نقصان کا احساس کیوں ہوتا ہے؟ اس حقیقت سے انکارممکن نہیں کہ مشرق ہو یا مغرب، انسانوں کی بڑی تعداد حرکت و تغیر سے خائف رہی ہے ۔ سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 31 2016

ہمارے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے زیادہ تر موضوعات عالمی، علاقائی یا اعلیٰ لوگوں سے ہی متعلق ہوتے ہیں۔ اسلامی اُمہ کے مسائل سے لے کر افغانستان، مشرقِ وسطیٰ، امریکہ کی سیاست اور اسی طرح ملک کی اعلیٰ شخصیات اور اُن کے خاندان۔ کبھی کسی اعلیٰ عہدے دار کی نوکری کی بحالی پر پوری کی پوری وکلا برادری متحرک نظر آتی ہے تو کبھی عمران خان کی شادی اور طلاق پر۔ جب ریحام، عمران خان سے شادی کرتی ہیں تو وہ مسلم لیگ (ن) کے حلقوں میں ناپسندیدگی کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہیں اور پھر انہی حلقوں میں طلاق کی خبروں اور طلاق یافتہ ہونے کے بعد عزت واحترام کے اعلیٰ مقام کی حق دار ٹھہرادی جاتی ہیں۔ اُن کے علم وفکر اور تدبر سے متعلق بحثیں شروع ہوجاتی ہیں۔

مزید پڑھیں

Threat is from inside

Army Chief General Raheel Sharif assured the nation that country’s borders are secure and the army is aware of threats and intrigues of the enemies. Speaking at an even

Read more