شہر شہر


  وقت اشاعت: 2 دن پہلے 

پاکستان کا سیاسی اور جمہوری کلچر ہر لحاظ سے قابل  تنقید ہے ۔ حکومت ہو یا حزب اختلاف کی جماعتیں یا مجموعی طور پر تمام سیاسی جماعتوں کی قیادت اور کارکنوں کا سیاسی طرز عمل ہے  جمہوری او رسیاسی اخلاقیات کے برعکس ہے۔  یہ توجہ طلب مسئلہ ہے ۔ مجموعی طور پر ہماری سیاسی جماعتوں کی تنظیم میں جو گرواٹ ہے اس نے سیاسی جماعتوں کے مجموعی کلچر کو کافی نقصان پہنچایا ہے ۔ دلیل یہ دی جاتی ہے کہ سیاسی جماعتیں ، ان کی قیادت اور کارکنان اپنے سیاسی تجربے کی بنیاد پر اچھے اور بہتر طرز عمل کی طرف بڑھتے ہیں ۔ لیکن یہاں دو مسائل غالب رہے ۔ اول سیاسی اورجمہوری نظام اپنے اندر تسلسل برقرار نہیں رکھ سکا او ربار بار کی فوجی مداخلت نے سیاسی نظام کو کمزور کیا ۔ دوئم سیاسی جماعتوں نے ماضی کے تجربات کی بنیاد پر اپنی غلطیوں سے سبق سیکھنے کی بجائے ان ہی غلطیوں کو مزید شدت سے دہرایا ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 3 دن پہلے 

جب بھی دنیا کے کسی بھی ملک میں دو روائتی حریفوں کے درمیان کوئی بڑا کھیل کا مقابلہ ہو تو اس میں دونوں اطراف میں جذباتیت کا رجحان غالب نظر آتا ہے ۔ یہ فطری امر ہے اور اس کو آسانی سے نظرانداز کرنا بھی ممکن نہیں ہوتا۔ کرکٹ اس وقت پاکستان اور بھارت کے درمیان عملا ایک بڑی جنگ کی صورت اختیار کرچکی ہے ۔ ایک وجہ تو یہ ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان باقاعدگی سے سیاسی وجوہات اور تنازعات کے باعث کرکٹ  کھیلی نہیں جارہی ۔ اب جب بھی بھارت اور پاکستان کا مقابلہ ہوتا ہے تو اس میں ہمیں عالمی سطح کے بڑے مقابلوں کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔ اور کئی برسوں کے انتظار کے بعد کوئی مقابلہ ان دونوں ملکوں کے درمیان ہوتا ہے تو اس میں جذباتیت ، جنونیت اور جوش قابل دید ہوتا ہے ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 5 دن پہلے 

محاورے کی حد تک کچھ یوں کہا جاتا ہے کہ اقتدار کے ذریعے کرپشن در آتی ہے اور اگر یہ اقتدار کلّی ہو تو کرپشن میں بھی یہی رجحان در آتا ہے۔ معاشی ترقی کے ضمن میں بھی ایک قول کچھ یوں ہے کہ تیز تر ترقی کے دوران کہیں نہ کہیں کرپشن لازماٌ اپنی جگہ بنا لیتی ہے۔ گزشتہ چند دِہائیوں میں ایشائی ٹائیگرز کے ہاں جوں جوں ترقی کی محیر العقول داستانیں عام ہوئیں، توں توں کرپشن کی داستانیں بھی عام ہوئیں۔ اکثر معیشت دانوں اور سماجیات کے ماہرین نے اسی قول کا سہارا لے کر یقین دِلانے کی کوشش کی کہ دن دوگنی اور رات چوگنی ترقی کرنے کے دوران تھوڑی بہت کرپشن اس تیز تر ترقی کا سائیڈ ایفیکٹ ہے جِسے برداشت کر لینے میں ہرج نہیں۔

مزید پڑھیں

loading...

  وقت اشاعت: 20 جون 2017

فیض احمد فیض نے تو کسی اور رنگ میں کہا لیکن ہمیں اس میں آج کا عکس دکھائی دیا۔
جو رکے تو کوہِ گراں تھے ہم ، جو چلے تو جاں سے گذر گئے
رہِ یار ہم نے قدم قدم تجھے یادگار بنا دیا
کہاں تو یہ عالم تھا اورہے کہ ملک کی معیشت کا ساٹھ فی صد غیر دستاویزی ہے ۔ اس بلیک اکونومی میں ہارڈ کیش ہی کے سر سہرا ہے۔ ٹیکس کی جھنجھٹ نہ کوئی اثاثے ظاہر کرنے کی پابندی۔ اس کیش اکونومی میں سب سے زیادہ سرمایہ کاری پراپرٹی میں تھی اور ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 20 جون 2017

بلاول بھٹو سے ملاقات، اُس ملاقات سے کہیں مختلف تھی جو اُن کی والدہ محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کے ساتھ میری نوجوانی میں پہلی مرتبہ ہوئی۔ وہ ملاقات ایک نوجوان ایکٹوسٹ کی اپنے رہبر کی بیٹی سے ملاقات تھی جو سزائے موت کا سامنا کررہا تھا۔ وہ ملاقات ایک رہبر کی بیٹی سے تھی اور یہ ملاقات ایک رہبر کے بیٹے سے تھی۔ اُس ملاقات اور اِس ملاقات کے درمیان چار دہائیوں کا فاصلہ تھا۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 18 جون 2017

پاکستان کی سیاست کا المیہ کئی طرح کے فکری مغالطوں منسلک ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری سیاست مسائل حل کرنے کی بجائے ان کے بگاڑ کا سبب بنتی ہے۔  رائے عامہ کی سطح پر فکری تقسیم  بھی مسئلہ کے حل میں یا متفقہ رائے عامہ بنانے میں  رکاوٹ بنتی ہے ۔ فکری محاذ پر خیالات کی تقسیم ایک فطری امر ہے اور اس میں کوئی برائی بھی نہیں۔ لیکن ایک خاص منصوبہ بندی اور ذاتی مفادات کی بنا پر جب ہم رائے عامہ کو گمراہ کرتے ہیں تو اس سے ایک منصفانہ اور شفاف نظام میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے ۔ ایک مسئلہ سازشی تھیوریوں کا بھی ہے ۔ حکمران بالادست طبقے ہمیشہ اس طرح کی  تھیوریوں کو اپنے حق اور مخالفت میں استعمال کرتے رہتے ہیں ۔ ان سازشی تھیوریوں کو بنیاد بنا کر معاملات میں شفافیت کی بجائے الجھاؤ پیدا کیا جاتا ہے ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 16 جون 2017

کسی بھی بجٹ کی منظوری کے لئے اس سے زیادہ مثالی حالات کیا ہوں گے کہ اپوزیشن اسمبلی سے باہر بیٹھی ہو، اندر صرف سرکاری بنچوں کی رونق ہو اور باہر خلق خدا پانامہ اور جے آئی ٹی کے ہنگامے میں مصروف ہو۔ خوش قسمتی کا آج کل کسی اور جگہ ڈیرہ ہو نہ ہو وزیر خزانہ کے ہاں اس کا قیام یقینی دکھائی دیتا ہے۔ انہوں نے نئے سال کا بجٹ پیش کیا تو وہی مانوس حالات تھے۔ ایوان میں شور شرابا، کئی ایک اپوزیشن ارکان نے حسبِ معمول بجٹ کاپیاں بھی پھاڑیں۔ اپوزیشن نے بجٹ کو مایوس کن قرار دیا۔ امید یہی تھی کہ بجٹ سے اس قدر مایوس اپوزیشن بحث کے دوران حکومت کے خوب لتّے لے گی۔ حکومت پر تنقید کے نشتر برسا کر نشاندہی کرے گی کہ یہاں یہاں حکومت نے ٹھوکر کھائی۔ مطالباتِ زر اور کٹوتی کی تحریکیں لا کر حکومت سے کچھ کچھ نہ تو منوا کر ہی دم لے گی لیکن ہوا اس کے الٹ۔ بقول غالب:
تھی خبر گرم کہ غالب کے اڑیں گے پرزے
دیکھنے ہم بھی گئے مگر تماشا نہ ہوا

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 15 جون 2017

پاکستان میں احتساب کا عمل ایک بڑا چیلنج ہے۔ جب احتساب کا عمل سیاست کی نذر ہوجائے اوراس میں انصاف کے مقابلے میں سیاست کا عمل دخل زیادہ ہو تو یہ متنازعہ بن جاتا ہے ۔ عمومی طور پر احتساب کے عمل کو یقینی بنانے کے لیے تین عوامل اہم ہوتے ہیں ۔ اول جو بھی حکومت  ہو اس کا احتساب ، جوابدہی اور شفافیت پر مبنی نظام اور مضبوط سیاسی کمٹمنٹ ، دوئم انصاف کے عمل کو یقینی بنانے سے وابستہ اداروں کی خود مختاری اور سوئم عوام اور سول سوسائٹی میں احتساب اورجوابدہی کا تصور اور ریاستی و حکومتی اداروں پر دباؤ کی پالیسی ۔ یہ تینوں نکات ایک دوسرے کی مدد اور تعاون سے  ہی احتساب کے عمل کو یقینی بناتے ہیں ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 13 جون 2017

ساٹھ کی دہائی پاکستان میں انقلاب کی دہائی تھی۔ ذوالفقار علی بھٹو نے 1966-67 میں پاکستان میں پہلی عوامی تحریک کی قیادت کی۔ طلبا اور صنعتی مزدور اس عوامی تحریک کا ہراول دستہ تھا۔ انقلاب، استحصال، مزدور، محنت کش، کسان، سوشلزم، سامراج، جاگیرداری، سرمایہ داری، عوامی راج اور ایسے لاتعداد موضوعات اس دہائی کی سیاست کا عنوان تھے۔ جاری دہائی پاکستان میں ’’تبدیلی‘‘ کی دہائی ہے۔ استحصال کی جگہ ’’کرپشن‘‘، انقلاب کی جگہ ’’تبدیلی‘‘، عوامی حکمرانی کی جگہ ’’گڈ گورننس‘‘ اس جاری سیاست کا عنوان ہیں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 13 جون 2017

پاکستان سفارتی تنہائی کا شکار ہو رہا ہے، بھارت کا یہ واویلا تو سمجھ میں آتا ہے لیکن اپنے ہاں بھی یار لوگوں نے کافی عرصے سے اپنے اپنے سیاسی پوائنٹ کے لئے یہ جتلانے کا کوئی موقع ضائع نہ کیا۔ حکومت نے وزیر خارجہ مقرر نہ کرکے ان احباب کو مسقل ایمونیشن فراہم کر رکھا ہے۔ اس پس منظر میں شنگھائی تعاون تنظیم نے قازقستان کے شہر آستانہ میں اپنے 17 ویں سربراہی اجلا س میں پاکستان کو تنظیم کی مستقل رکنیت دینے کا فیصلہ کیا تو ان یار لوگوں نے خاموشی ہی مناسب جانی۔

مزید پڑھیں

Conflicts in Conflict

The conflict of Jammu and Kashmir (J&K) is one of the long standing issues of the world. The unfortunate but this unique multi-ethnic, multilingual and multi-religious po

Read more

loading...