شہر شہر


  وقت اشاعت: 1 دن پہلے 

اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ماضی کے مقابلے میں بلوچستان کی صورتحال میں بہتری آئی ہے ۔ اس کا اعتراف وہی لوگ کرسکتے ہیں جو عملی طور پر بلوچستان کے داخلی مسائل اور اس کے حل کے لئے اٹھائے گئے اقدامات کا فہم رکھتے ہیں ۔ بلوچستان میں بہتری کوئی آسان عمل نہیں بلکہ ایک مشکل چیلنج تھا ۔ کیونکہ ایک طرف بلوچستان کی صورتحال کے بگاڑ میں داخلی مسائل تھے تو خارجی مسائل و  بیرونی مداخلت نے بھی صورتحال کو گھمبیر کردیا تھا ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 1 دن پہلے 

معزول وزیراعظم نوازشریف اور اُن کے بیٹوں نے جمعہ کے روز نیب حکام کے سامنے پیش ہونے سے انکار کرکے ایک نئی لڑائی کا آغاز کر دیا ہے۔ نیب حکام کا مسلسل انتظار اور آخر کار شریف خاندان کا نیب حکام سے سوالنامہ مانگنا اس رویے کا اظہار ہے جس میں اشرافیہ اپنے آپ کو کسی جگہ پر جواب دہ نہیں سمجھتی۔ شریف خاندان کا یہ رویہ اس غلط فہمی کا اظہار بھی ہے جس کے تحت یہ خاندان اب بھی اپنے آپ کو وزیراعظم سمجھتا ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 1 دن پہلے 

ٹی وی دیکھتے ہوئے بریکنگ نیوز پر نظر پڑی، سپین کے شہر بارسلونا کی مشہور سیاحتی رامبلا اسٹریٹ پر ایک گاڑی سیاحوں کے ہجوم پر چڑھ دوڑی۔ گزشتہ کچھ عرصے سے یورپ میں ایسے واقعات تواتر سے ہوئے اور خوفناک ثابت ہوئے، اسی لئے سنبھل کر دیکھنے بیٹھ گئے کہ یہ حادثہ تھا یا ایک سوچی سمجھی دہشت گردی ۔ تفصیلات سامنے آنا شروع ہوئیں تو اندازہ ہو گیا کہ یہ حادثہ نہ تھا بلکہ ایک دہشت گرد ی کا واقعہ تھا۔ اس واقعے میں تیرہ لوگ جان سے گئے اور 130 زخمی ہوئے۔ کچھ دیر بعد اسپین کے ایک دوسرے شہر میں پانچ اشخاص نے اسی انداز میں مجمع پر گاڑی چڑھانے کی کوشش کی۔ اس وقت تک سیکیورٹی الرٹ ہو چکی تھی ، فوری جوابی کاروائی میں پانچوں مارے گئے لیکن اس دوران ایک ہلاک اور چند زخمی ہو گئے۔ اس واقعہ کی گونج ابھی باقی تھی کہ فن لینڈ میں ایک شخص نے چاقو سے دو کو ہلاک اور آٹھ افراد کو زخمی کر دیا۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 2 دن پہلے 

مسلم لیگ (ن) کے اندر مفاد کی جنگ نہیں ہورہی۔ لیڈرآپس میں شراکت اقتدار پر نہیں لڑ رہے۔ وزارتوں کی بندر بانٹ پر کوئی لڑائی نہیں ہے۔ سوچ اور نظریہ کی لڑائی ہے۔ مسلم لیگ (ن) کی سینئر لیڈر شپ میں سوچ اور نظریہ کا اختلاف بڑھ گیا ہے۔ ایک طرف مفاہمت کی سوچ اور دوسری طرف مزاحمت کا نظریہ ہے۔ مزاحمت والے مفاہمت والوں کی بات سننے کو تیار نہیں اور مفاہمت والے مزاحمت والوں کے ساتھ ایک قدم بھی چلنے کو تیار نہیں۔ دونوں طرف سے ایک ہی بات ہے کہ بس بہت ہو گئی۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 3 دن پہلے 

اس برس پاکستان کا یوم آزادی بڑی شان و شوکت سے منایا گیا اور اس میں سیاسی ، فوجی قیادت کے علاوہ ہر طبقہ فکر کے لوگوں نے  پاکستان سے اپنی یکجہتی کا اظہار کیا ۔ یوم آزادی سے  محبت کا اظہار ہر پاکستانی کا حق ہے۔ کیونکہ غلامی کے مقابلے میں آزادی ایک نعمت سے کم نہیں ۔ آزادی کا احساس اسی کو ہوسکتا ہے جو آزادی کے مقابلے میں غلامی کے شکنجے میں جکڑا ہوا  ہو۔ اس لیے اپنی آزادی کے دن کو منانا ہمارا حق بھی ہے  اور فرض بھی۔  بالخصوص ہماری نئی نسل کو سمجھنا ہوگا کہ آزادی کیوں ضروری تھی اوراس کو کیسے محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 4 دن پہلے 

بہت سے لوگ شکوہ کناں رہتے ہیں کہ اس ملک میں سکول کے نصابات میں غلط تاریخ پڑھائی جاتی ہے اور یہ شکوہ بہت حد تک بجا ہے۔ میں دوسری جماعت کا طالب علم تھا جب ملک میں فوجی حکومت قائم ہوئی۔ اسی حکومت کے زمانے میں نئی نصابی کتابیں مرتب ہوئیں۔ ان کتابوں میں پاکستان کے اولین جمہوری دور کے سیاست دانوں کو نااہل، بد دیانت اور خائن قرار دیا گیا۔ ایوب خان کو ایک مسیحا اور نجات دہندہ کے طور پر پیش کیا گیا جو اس قوم کی ڈولتی نیا کو طوفانوں سے نکال کر بحفاظت ساحل مراد پر لے آیا ہے۔ بچپن میں پڑھی ہوئی کتابوں کے ذہن پر اثرات بہت گہرے ہوتے ہیں۔ ان کتابوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ میری نسل اور اس کے بعد آنے والے افراد کا اس بیانیہ پر یقین پختہ ہوگیا کہ اگر یہ نجات دہندہ نہ ہوتا تو پاکستان سیاست دانوں کے ہاتھوں تباہی اور بربادی کا شکار ہو چکا ہوتا۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 4 دن پہلے 

دنیا ایک گلوبل ویلج بن گئی ہے۔ اس سے جہاں ممالک کے درمیان سرحدوں کی اہمیت کم ہو گئی ہے، وہاں سرحدوں پرہونے والی لڑائی کی ہیئت بھی بدل گئی ہے۔ پہلے جنگیں صرف سرحدوں پر لڑی جاتی تھیں لیکن جدید میڈیا کے اس دور میں اب جنگ ہر گھر میں لڑی جاتی ہے۔ دشمن آپ کے گھر گھر اور ہر بیڈ روم تک پہنچ گیا ہے۔ ایسے میں اس کو شکست دینے کے لئے جنگی حکمت عملی کو بھی تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ پہلے جنگ لڑنا صرف فوج کا کام تھا۔ لیکن اب تو جب تک آپ کا ہر شہری آپ کے ساتھ شریک نہیں آپ دشمن سے کوئی بھی جنگ نہیں جیت سکتے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 4 دن پہلے 

یکم اگست کو فلسطینی بدوی گاؤں الاراقیب کو 116ویں بار تباہ کردیا گیا۔ اسرائیلی بلڈوزروں کے اپنا بہیمانہ کام مکمل کرتے اور اسرائیلی فوجیوں کے اس علاقے کو خالی کرتے ہی، اس گاؤں کے باسیوں نے اپنے گھروں کی تعمیرِ نو کا کام دوبارہ شروع کردیا۔ تقریباً 22 خاندانوں کے کم وبیش 101لوگ یہاں آباد ہیں۔ اب تک وہ سب اس تکلیف دہ روٹین کے عادی ہوچکے ہیں۔ اس گاؤں کو سب سے پہلے جولائی 2010 میں مسمار کیا گیا تھا۔ یعنی 2010 سے اب تک اس گاؤں کو فی سال 17بار ادھیڑا جاچکا ہے۔ اور ہر بار اس گاؤں کے باسیوں نے اس کی تعمیر نو کی، دوبارہ تباہی کے لیے۔ اگر لگاتار تباہی اسرائیل کی ہٹ دھرمی اور اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ ڈھٹائی سے فلسطینی بدوؤں کو اس علاقے سے نکالنے پر مصر ہے تو اس کی متواتر تعمیر نو فلسطین کی بدو کمیونٹی کے عزم و ہمت کا اعلیٰ ثبوت اور ایک مثال ہے۔ الاراقیب اس تاریخی جنگ میں ایک مثال اور علامت کی حیثیت رکھتا ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 6 دن پہلے 

پاکستان کا ایک بڑا مسئلہ معاشی بدحالی سے نمٹنا اور  کر ملک کو  ترقی اور خوشحالی کے راستے پر ڈالنا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے  ریاست ، حکومت اور ادارہ جاتی سطح پر موجود ترجیحات کا جائزہ لیں تو اس میں  سیاسی اور معاشی نعرے تو نظر آتے ہیں مگر عملی صورتحال کافی بگاڑ کا شکار ہے ۔  حکومت اور اس کے  ماہرین  معاشی صورتحال کے اعداد وشما ر کو ترقی کے تناظر میں پیش کرتے ہیں ۔ مگر حقائق حکومتی دعوؤں کے برعکس ہیں اور یہ صورتحال  حکمرانوں  اور عوام  کے درمیان بداعتمادی پیدا کرتی ہے ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 6 دن پہلے 

جاتی عمرا کی خبریں تو یہی ہیں کہ میاں نواز شریف کسی بھی قسم کا سرنڈر کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔ ایک اندازہ تو یہی تھا کہ جی ٹی روڈ یاترا کے بعد میاں نواز شریف کو اندازہ ہو گیا ہوگا کہ وہ بند گلی میں پھنس گئے ہیں۔ بلکہ خبریں تو یہ ہیں کہ جی ٹی روڈ مارچ کے بعد وہ یہ سمجھ رہے ہیں کہ جنہوں نے انہیں گھر بھیجا ہے وہ بند گلی میں پھنس گئے ہیں۔ اس لیے اب انہیں گھر بھیجنے والی قوتوں کے پاس نواز شریف کی شرائط ماننے کے سوا کوئی راستہ نہیں ہے۔ نواز شریف پوری قوت سے ٹکرانے کا فیصلہ کر رہے ہیں۔ وہ مشاورت بھی انہیں سے کر رہے ہیں جو ان کے ہم خیال ہیں۔ جن کو ان سے اختلاف ہے، ان کو مشاورتی اجلاسوں میں بلایا بھی نہیں جا رہا۔ اسی لیے چوہدری نثار علی خان سمیت کئی بڑے نام نظر نہیں آرہے۔

مزید پڑھیں

Praise and prayers for the great people of Turkey

One year ago, this day, the people of Turkey set an example by defending their elected government and President Recep Tayyip Erdogan against military rebels.

Read more

loading...