شہر شہر


  وقت اشاعت: 2 دن پہلے 

عزیز دوست اسد خالد فوج میں اچھے رینک پر فائز تھے۔ مطالعے کا شوق تھا۔ اپنے جوانوں سے بات چیت کرتے تو علاوہ دیگر امور کے معلومات عامہ پر بھی بات کرتے۔ ان کا خیال تھا کہ ایک اچھے سپاہی کے لئے بندوق کے علاوہ ایک سوچنے سمجھنے والے دماغ کا مالک ہونا بھی ضروری ہے۔ ایک روز انہوں نے ایک جوان سے سے پوچھا کہ پاکستان کس نے بنایا؟ جوان نے کہا کہ علامہ اقبال نے۔ اسد نے سرزنش کے انداز میں کہا کہ میں نے تو سنا ہے کہ پاکستان قائداعظم نے بنایا تھا۔ پوٹھوہار کے سیدھے سادھے جوان نے خالص فوجی روزمرہ میں افسر سے اتفاق کرتے ہوئے کہا ۔ ’جی ہاں سر ۔ اس کی بھی ڈیوٹی لگی تھی‘۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 2 دن پہلے 

پاکستان کی سیاست کے اپنے ہی ڈھنگ ہیں۔ فوجی حکومت ہو یا سول ، اس میں عوام کی سیاست کی بجائے اقتدار کی سیاست کا ہی راج ہوتا ہے۔ گو سول حکومتیں جمہوریت کے ادوار میں عوام کا ذکر اپنے بیانات اور خطابات میں بڑے زور سے کرتی ہیں لیکن عملاً سول حکومتیں بھی اقتدار میں داخل ہونے اور رہنے کے لیے عوام پر انحصار کم اور ’’طاقت کے مراکز‘‘ کی سرپرستی کی ہی خواہاں رہتی ہیں۔ طاقت کے مراکز مقامی ہوں یا بیرونی۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 4 دن پہلے 

چند دنوں سے افغان امن کے حوالے سے روس کے شہر ماسکو میں کانفرنس کے بارے خبریں گردش کر رہی ہیں۔ اس حوالے سے چند ماہ قبل بھی کوششیں کی گئیں جن میں افغان امن پر اتفاق کیا گیا۔ اسی ضمن میں اگلے ماہ ماسکو میں روس، چین، افغانستان، پاکستان، بھارت اور دوسرے وسطی ایشیائی ممالک کے وفوداکٹھے ہوں گے۔ امریکہ کا شمولیت سے انکار کئی شکوک و شبہات  پیدا کرے گا۔ 

مزید پڑھیں

loading...

  وقت اشاعت: 4 دن پہلے 

ملک میں اگلے عام انتخابات کے لیے غیر اعلانیہ تیاریاں شروع ہوچکی ہیں۔ بیشتر سیاسی جماعتوں نے اس کے لیے اپنی اپنی حکمت عملی تیار کرلی ہے۔ اگرچہ ابھی اس حکمت عملی کا باقاعدہ اعلان نہیں ہوا لیکن سیاسی جماعتوں کی قیادت کے ذہنوں میں اس حوالے سے ایک واضح نقشہ موجود ہے جس کو سامنے رکھ کر وہ آگے بڑھ رہی ہیں۔ اور وقت آنے پر اس نقشے کی اپنی پارٹیوں کی سینٹرل ایگزیکٹو یا مجالسِ عاملہ جیسی فیصلہ ساز باڈی سے منظوری لے لیں گی۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 5 دن پہلے 

حسین حقانی کیا چاہتے ہیں؟ یہ بات وہ لوگ یقیناً بہتر سمجھ سکتے ہیں جو اُن کی صحافتی اور سیاسی زندگی سے آگاہ ہیں۔ وہ دائیں بازو کے عروج میں جنم لینے والے اُن طلبا رہنماؤں میں سرفہرست تھے جو جنرل ضیاالحق کے دور میں عملی زندگی میں ابھرنا شروع ہوئے۔ ذہین اور موقع پرست شخصیت رکھنے والے حسین حقانی وقت کے ساتھ بدلنے کا فن خوب جانتے ہیں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 6 دن پہلے 

یوم پاکستان کی آمد پر فیس بک پر طرح طرح کے تبصرے پوسٹ ہوئے۔ کچھ جذبوں میں شرابور اور کچھ تعصب میں تر بتر۔ ہماری ایک پوسٹ پر ایک صاحب نے انتہائی عارفانہ اور فلسفیانہ انداز میں یہ نکتہ اٹھایا کہ یہ آزادی بھی کوئی آزادی ہے! عرض کیا ، نا شکری کے ڈکار ہیں ورنہ آزادی کے معنی بھارتی ریاست اتر پردیش کے ان چار کروڑ مسلمانوں سے پوچھئے جن پر الیکشن میں حصہ نہ لینے والے تعصب کے پرچارک یوگی ادیتیہ ناتھ بطور وزیر اعلیٰ مسلط کر دیئے گئے ۔ یا پھر یہ معنی ان دس لاکھ کے لگ بھگ برما کے روہنگیا مسلمانوں سے پوچھئے جنہیں برما کی فوج نابود کر رہی ہے۔ اور اڑوس پروس میں بنگلہ دیش اور تھائی لینڈ پناہ دینے سے گریزاں۔ جائیں تو کہاں، زندہ رہیں تو کہاں؟ اپنے ملک میں آزادی کے معنی کے بال کی کھال اتارنے میں جو بھی علمی درفنطنی مقصود ہو، اس کی عیاشی اِسی آزادی کی مرہون منت ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 21 مارچ 2017

پاکستان میں سول ملٹری تعلقات کا موضوع دہائیوں سے اپنی جگہ موجود رہا ہے۔ موجودہ نواز حکومت سے لے کر 1985 میں جونیجو حکومت بننے تک یہ موضوع سیاسی، صحافتی اور عوامی حلقوں میں کھل کر زیر بحث  ہے۔ اس سے پہلے یہ معاملہ موجود تو تھا لیکن ایسے اہم موضوع پر کھلی بحث کم کم ہی دیکھنے کو ملتی تھی۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 20 مارچ 2017

یہ واقعی ایک حقیقت ہے کہ پاکستان کا امن افغانستان کے امن سے جڑا ہوا ہے۔ خطے میں اس وقت تک امن کی فضء کو قائم نہیں رکھا جا سکتا جب تک افغانستان امن کی خاطر تہہ دل سے اقدامات نہ کرے۔ دونوں ملک 2640 کلو میٹر کی لمبی سرحد سے دوطرفہ تجارت کرتے ہیں۔ اس سرحد کو ڈیورنڈ لائن کہتے ہیں۔ اس سے بھی بڑھ کر اس سرحد کے آر پار رہنے والے ایک ہی زبان بولتے ہیں بلکہ ایک دوسرے کے  رشتہ دار بھی ہیں۔ ایک ہی مذہب ایک ہی ثقافت بالکل ایک جیسے لوگ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 18 مارچ 2017

بابائے سوشلزم شیخ رشید، ملک معراج خالد، حنیف رامے اور راؤ رشید، یہ میرے اُن دوستوں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے پچھلی صدی کے آغاز میں آنکھ کھولی۔ میں جب اوائل نوجوانی میں داخل ہوا تو میری زندگی میں زیادہ تر دوستوں کا تعلق اسی نسل سے تھا۔ اس نسل کے لوگوں سے دوستی نے میری عملی زندگی میں وہ کچھ متعارف کروادیا، جو انہوں نے اپنی جوانی میں برپا کیا۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 17 مارچ 2017

ہم کتنے ہیں ۔ ہمیں کیا چاہئے۔ گنیں تو جانیں ۔ مردم شماری۔ بہتر کل کی تیاری۔ یہ ہے مردم شماری کی اشتہاری مہم کا سلوگن۔ ہمیں اس سلوگن سے قبل ہی اندازہ ہو گیا تھا کہ ہو نہ ہو مردم شماری ایک اہم آئینی اور قومی مسئلہ ہے۔ گزشتہ کچھ عرصے سے ایک عجیب روایت چل نکلی ہے کہ کسی بھی معمول کی آئینی ذمہ داری کے پورا ہونے کی نوبت معمول کے مطابق نہیں آتی، جب تک سپریم کورٹ ایسا کرنے کا حکم نہ دے۔ بلدیاتی انتخابات کروانا حکومت کی آئینی ذمہ داری ہے لیکن اس کی نوبت اس وقت آئی جب سپریم کورٹ نے ایک طویل عدالتی پراسیس کے بعد فیصلہ سنایا۔ اس فیصلے کے بعد کم از کم دو صوبائی حکومتوں نے اس مہارت سے عمل کیا کہ عمل در آمد کا سانپ بھی مر جائے اور اختیارات کی لاٹھی بھی محفوظ رہے۔ ایسی مقامی حکومتیں قائم ہوئی ہیں کہ انہیں اپنے اختیارات اور وسائل کا مقام ابھی تک نہیں مل رہا۔

مزید پڑھیں

Threat is from inside

Army Chief General Raheel Sharif assured the nation that country’s borders are secure and the army is aware of threats and intrigues of the enemies. Speaking at an even

Read more

loading...