معزز صارفین ہماری ویب سائٹ اپ ڈیٹ ہو رہی ہے۔ اگر آپ کو ویب سائٹ دیکھنے میں دشواری پیش آرہی ہے تو ہمیں اپنی رائے سے آگاہ کریں شکریہ

شہر شہر


  وقت اشاعت: 26 جنوری 2018

ہر کوئی اپنی بات منوانا چاہتا ہے۔ منوانے والوں کے طریقے بھی مختلف ہوتے ہیں۔  جدید دورکی رعنائیوں میں میڈیا نے خوب چار چاند لگائے ہیں اور منوانے کی  ذمہ داری اٹھانے کی بھرپور کوشش میں مصروف عمل ہے۔  آج لفظوں کا شور ہے اور منوانے والوں کہ ہاتھوں میں ڈھول ہیں ۔  یہ تو سب خوب سمجھتے ہیں کہ منوانے کا قانون سے گہرا تعلق ہے۔ قانون کا کام جرم کی روک تھام ہی نہیں بلکہ معاشرے میں ایک ایسی فضاء قائم کرنا ہے جس سے عوام میں قانون اور قانون کے محافظوں پر بھروسہ اور اعتماد قائم ہوسکے۔ اور وہ معاشرے میں رونما ہونے والے جرائم کے سدباب کیلئے قانون کے شانہ بشانہ کام کرنے میں فخر محسوس کریں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 12 جنوری 2018

آج صبح گھر سے دفتر جاتے ہوئے اسکول جانے والے معصوم بچوں پر جب نظر پڑ رہی تھی تو دل پر ایک خراش پڑتی تھی ۔ قصور میں ہونے والے واقعہ کی تحقیق یا اس کی گہرائی میں جانے کی مجھ میں سکت نہیں ہے۔ اور نہ ہی مجھے اس واقعہ کے سیاق و سبق سے کوئی واسطہ ہے۔ میرا اس سے واقعہ سے بہت گہرا تعلق ہے جس کے باعث گزشتہ شب بیداری کی نظر ہو گئی، در اصل میری بیٹی کا نام بھی زینب ہے اور اس نام کا تعلق ہمارے پیارے نبی ﷺ کے گھیرانے سے  ہے ۔ میری خواہش تھی کے میرے پاس اتنا اختیار ہوتا کہ میں پاکستان بھر کے اسکول آج احتجاجاً بند کروا سکتا اور زینب کے خاندان والوں کے ساتھ اظہار ہمدردی کر سکتا۔ دوسرا یہ کہ ارباب اختیار تک یہ بات پہنچاسکتا کہ زینب صرف قصور ہی نہیں،  پورے پاکستان کیلئے کتنی اہم ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 11 جنوری 2018

تھانے کی حدود میں بہت بڑا جرم ہوا تھا۔ سات آٹھ سالہ بچی کو کسی نے اپنی ہوس کا نشانہ بنایا، گلہ گھونٹا اور اس کا لاشہ کچرا کنڈی میں لے جا پھینکا۔ دیس میں ہونے والے معمولی واقعوں میں سے یہ محض ایک واقعہ ہے۔ اس میں غیر معمولی یہ ہوا کہ خبر آنا فانا چاروں اور پھیل گئی۔ یہ اس دیس کا قصہ ہے، جہاں غیرمعمولی سانحہ وہ کہلاتا ہے جو آن کی آن میں چاروں اور پھیل جائے۔ جس جس کو یہ اطلاع ملی اس نے سہم کے اپنے کم سن بچوں کی طرف دیکھا۔ یہ دیکھ کر کہ اس کی آنکھوں کا نور، اس کی ننھی پری اب تک محفوظ ہے، اس نے خدا کا لاکھ لاکھ شکر ادا کیا۔ سب کچھ معمول کے مطابق ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 04 جنوری 2018

میڈم نورجہان کو میں نے صرف ایک بار دیکھا تھا۔ میرے بچپن کا اختتامی زمانہ تھا۔ ہم حج کے لیے جدہ ائرپورٹ پر اترے تھے۔ اچانک وہ میرے سامنے آگئیں۔ سفید احرام ماتھے کو آدھے تک ڈھکے ہوئے تھا۔ سفید سوتی شلوار قمیص۔ ململ کا سفید دوپٹہ، نماز میں اوڑھنے کے انداز میں لپٹا ہوا۔ شفاف اور مکمل دھلا دھلایا چہرہ۔
یہ ان کے انتہائی عروج کا زمانہ تھا مگر وہ اطراف کے لوگوں سے قطعی بےنیاز تھیں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 04 جنوری 2018

آج صبح قائدِ اعظم محمد علی جناح کے ایک پیغام سے آنکھوں کوبصیرت میسر آئی اور یہ پیغام جیسے آنکھوں میں جم کر رہ گیا ، کوشش کریں کے اسے پڑھنے کیلئے دل کی زبان استعمال کریں ۔  وہ کہہ رہے تھے کہ میں اپنا کام کرچکا ہوں، قوم کو جس چیز کی ضرورت تھی وہ اسے مل گئی ہے ، اب یہ قوم کا کام ہے کہ وہ اسے تعمیر کرے ۔ قائد کے فرمان سے جو چیز میں نے سمجھی ہے، وہ ہے قوم ، کیا ہم قوم ہیں۔ ہم تو قومیتوں کا ایک ریوڑ ہیں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 21 2017

میڈیا کے توسط سے بارہا یہ باور کرایا جاتا رہا ہے کہ ہم سب برائے فروخت ہیں یعنی سب کی قیمتیں لگتی ہیں اور جیسے بازار میں مختلف  اقسام کی اشیاء فروخت کیلئے پیش ہوتی ہیں ، بالکل اسی طرح سے ہم لوگ بھی بکتے ہیں۔ اب  خریدار ہمارے ساتھ جو چاہے کریں۔ بدعنوانی دوطرفہ عمل ہے۔ اگر ایک بدعنوانی کررہا ہے تو کسی کے ساتھ بدعنوانی ہورہی ہے۔ یعنی اس کے لئے یہ ضروری ہے کہ آپ اس مکمل زنجیر کو بے نقاب کریں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 10 2017

تاریخ کا مطالعہ کئی شعبہ جاتِ زندگی میں بہت ضروری  ہے ۔ گو کہ ہم تک تاریخ درست حالت میں نہیں پہنچی تاہم اس کی افادیت میں کمی نہیں آئی۔  تاریخ کا سبق ہمیں جاوید ہاشمی کی نواز شریف سے ملاقات کے بعد یاد آیا ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 08 2017

دنیا بادشاہت سے بہت اچھی طرح سے واقف ہے اور بادشاہ یا ملکہ بننے کی خواہش ہردل کے کسی نہ کسی پنہاں گوشے میں دبکی بیٹھی رہتی ہے۔ بادشاہت میں طاقت کا منبع ایک فرد اوراس کا خاندان ہوتاہے۔ دنیا نے ترقی کے ساتھ ساتھ اس خاندانی حکمرانی سے جان چھڑا لی ۔ آج چند ممالک کے علاوہ بادشاہت صرف محلات یا ایک مہر تک محدود کر دی گئی ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 08 2017

پیارے مولوی صاحب!
گزارش ہے کہ میں اس وقت مدینے میں ہوں۔ ویسی ہی ہوں جیسی پاکستان میں ہوتی ہوں۔ اِک بندہ گندا۔ باہر سے دھلی دھلائی اندر سے گناہوں اور خطاؤں سے لدی اور میلی۔ شیطان مردود یہاں بھی ساتھ ساتھ چلا آیا ہے اور عین نماز میں میرے سر پر پنجے گاڑ کر آ بیٹھتا ہے۔ امام تکبیر دیتا ہے تو چونک کر یاد آتا ہے کہ میں تو نماز میں ہوں! ساتھ ہی آنکھیں پھاڑ کر سامنے دیکھتی ہوں تو دھک سے رہ جاتی ہوں۔ الامان! صرف نماز ہی میں نہیں ہوں بلکہ مسجد نبوی میں بھی ہوں!

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 06 2017

گزشتہ کئی ماہ سے ملک خداداد پاکستان میں جمہوریت کی بقا کی خاطر کیا کچھ داؤ پر لگایا جا چکا ہے۔ جمہوریت کی آڑ میں اپنی اپنی مرضی کے قوانین مرتب دئیے جاتے رہے ہیں تاکہ اپنے اقتداروں کو دوام بخشا جاسکے۔  قوانین میں  ترامیم کرتے وقت اس بات کو نظر انداز کیا جا رہا ہے کہ آنے والے وقتوں میں ان ترامیم سے کیسے کیسے لوگ مستفید ہوں گے۔  محسوس ایسا ہورہا ہے جیسے فوج کے صبر کو آزمایا جا رہا ہے کیونکہ عوام تو ووٹ دینے کے ہی گنہگار ہوتے ہیں۔ پھر یہ لوگ اسمبلیوں میں اپنے مفادات کی جنگ لڑتے ہیں۔ 

مزید پڑھیں

Donald Trump's policy towards Pakistan

Donald Trump's; the president of US war of tweets was a fierce attack on Pakistan, accusing the country of "lies and deceit" and making "fools" of US leaders. Trump decla

Read more

loading...