شہر شہر


  وقت اشاعت: 5 دن پہلے 

وقت آن پہنچا ہے کہ  اپنے ملک کی خاطر نفرت اور شر انگیز سیاسی و مذہبی حربوں سے جان چھڑالی جائے۔ پاکستان میں پہلی دفعہ کسی بااثر شخصیت کو جواب دہ ہونا پڑا ہے حالانکہ وہ ملک کا وزیر اعظم تھا۔  اس باعث ملک کے  سیاسی ماحول میں خوف موجود ہے۔ یہ اندیشہ موجود ہے کہ  فوج کا دوبارہ اقتدار نہ سمبھال لے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 6 دن پہلے 

پاکستان کی سیاسی  تاریخ   میں تین  تاریخی دن5  جولائی 1977، 4 اپریل 1979 اور 17 اگست 1988  ہیں جنہوں نے پاکستان   کی سیاست اور سوچ کو بدل ڈالا۔ 5 جولائی 1977کی صبح جب  پاکستانی عوام  سوکر اٹھے تو انہیں پتہ چلا کہ ذوالفقار علی بھٹو کی جمہوری حکومت  ختم ہوچکی ہے اورپورے ملک میں مارشل لاء لگا دیا گیا ہے۔  یعنی فوج نے سول حکومت سے بغاوت کردی  تھی اور ملک پر قبضہ کرلیا تھا۔ جنرل ضیاء نے اپنی پہلی نشری تقریر میں نوے روز میں انتخابات کے انعقاد کا وعدہ کیا تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ میرے والد نے مجھے سچ بولنا سکھایا ہے۔ نوے دن کا وعدہ تو کبھی پورا نہیں ہوا۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 15 اگست 2017

نواز شریف کی ریلی کامیاب رہی یا ناکام۔ اس سوال کا جواب تو بہت جلد سامنے  آجائے گا لیکن اسلام آباد سے لاہور تک نواز شریف  اپنے ہر خطاب  میں ایک ہی سوال کو بار بار دہراتے رہے کہ  ’’بتاوُ مجھے نااہل کیوں کیا‘‘۔ اس کے علاوہ  وہ سپریم کورٹ کے ان پانچ ججوں کو مسلسل ہدف تنقید بناتے رہے جنہوں نے انہیں ’نااہل‘ قرار دیا تھا ۔ میں نے چار اگست کو ایک مضمون ’’ نواز شریف نااہل ، چمک کا کمال‘‘ لکھا تھا ، نواز شریف کے اس سوال کہ ’’بتاوُ مجھے نااہل کیوں کیا‘‘ کا  جواب کافی حد تک اس مضمون کے پہلے پیرگراف میں موجود تھا۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 13 اگست 2017

سابق وزیراعظم نواز شریف کا اسلام آباد سے لاہور تک کا  سفر بذریعہ جی ٹی روڈ  مکمل ہوا۔ ان کے جاں نثاروں نے مختلف مقامات پربکرے صدقہ کئے جبکہ اسی سفر میں لالہ موسیٰ کے قریب ایک بارہ سالہ بچے  حامد کی بھی قربانی دی گئی۔ بچے کےوالد کو دل کا دورہ پڑا اور لواحقین اوردوسرے لوگوں نے مشتعل ہوکر  جی ٹی روڈ پر ٹائر جلائے اور شدید احتجاج کیا۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 12 اگست 2017

بچہ مر گیا
 جمہوریت کا قافلہ آگے بڑھ گیا
نواز شریف کی جدوجہد کو بس شہید کے خون کی ضرورت تھی، سو بالآخر ایک بچہ جمہوریت کی راہ میں کچلا گیا اور صد آفرین کہ کیپٹن صفدر جیسے درویش صفت مجاہد نے بچے کی کچلی گئی لاش کو اس جدوجہد کا شہید ہونے کا تمغہ بھی عطا کر دیا، جو سیدھا بچے کے باپ کے دل میں جا لگا ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 12 اگست 2017

پاکستانی قوم پچھلے ستر سالوں سے مسائل اور امتحانات سے نمٹتی چلی  آرہی ہے۔ ہم نے بحیثیت قوم ہمیشہ مسائل سے نمٹنے کیلئے وقتی فیصلے کئے۔ ہم نے کبھی بھی مکمل نجات کی جانب دھیان نہیں دیا۔ جس کی وجہ سے وہ مسائل پھر اسی طرح سے ہمیں ستاتے چلے آرہے ہیں ۔ سیلاب ہر سال ہی ہمارے علاقوں میں تباہی مچاتے ہیں۔ ہم ہر سال ان سیلابوں کی وجہ سے کتنا نقصان برداشت کرتے ہیں۔ ہم ہر سال وقتی سدِ باب کرکے آگے بڑھ جاتے ہیں مگر کوئی با قاعدہ انتظام نہیں کرتے۔ کوئی ڈیم نہیں بناتے۔ اپنے نہری نظام پر دھیان نہیں دیتے۔ کیونکہ عوام یہ مطالبہ ہی نہیں کرتے۔ بس جیسے بھی ہو وہ وقت گزر جائے ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 11 اگست 2017

پاکستان کے بڑے مسائل میں سے ایک مسئلہ غربت ہے۔ اگریوں کہا جائے تو بہتر ہوگا کہ غربت صرف ایک مسئلہ ہی نہیں ہے بلکہ غربت کی کوکھ سے بہت سے مسائل جنم لیتے ہیں۔غربت جہالت میں اضافے کا سبب بنتی ہے،  غربت ہی ملک کی مجموعی پیداوار اور اقتصادی سرگرمیوں میں رکاوٹیں پیدا کرتی ہے۔ پاکستان میں مزدور طبقے کی  ایک بڑی اکثریت  غلاموں  کی  طرح زندگی گزار رہی ہے۔ حکومت یا تو سرمایہ دار کی ہوتی ہے یا پھر جاگیردار کی  اور یہ دونوں طبقے اپنے پاس  کام کرنے والوں کو اپنا غلام تصورکرتے ہیں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 07 اگست 2017

اقوام متحدہ ہر سال بارہ جون کو چائلڈ لیبر کے خلاف عالمی دن مناتی ہے۔ اس کا مقصد دنیا بھر میں 168 ملین بچوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کی طرف دھیان مبذول کرانا ہے۔ عالمی ادارہ محنت کے رکن ممالک نے 1999 میں ایک کنوینشن منظور کیا تھا، جس میں چائلڈ لیبر کی شدید مذمت کی گئی تھی۔ اس کنوینشن کے تحت اٹھارہ سال سے کم عمر کا ہر فرد بچہ تصور کیا جاتا ہے۔ دنیا بھر کے ممالک میں پانچ سے سترہ برس کی عمر کے دس فیصد بچے مختلف نوعیت کے کام کرتے ہیں۔  عالمی ادارہ محنت کی 2013 کی سالانہ رپورٹ کے مطابق چائلڈ لیبر  میں ملوث پچاس فیصد سے زائد بچوں کو انتہائی برے حالات کا سامنا ہوتا ہے۔ انہیں رات گئے تک  کام کرنا پڑتا ہے۔ ان میں سے بہت سے بچے بغیر کسی کنٹریکٹ اور ملازمین کو ملنے والے فوائد کے مزدوری کرتے ہیں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 06 اگست 2017

آج میں آپ کے سامنے عاصمہ جہاں گیر کے بارے میں وہ مخفی معلومات رکھ دینا چاہتا ہوں جس کی ہر ایک کو خبر نہیں۔ لاہور کی یہ معمولی سی وکیل عاصمہ جہاں گیر، جنہیں دنیا نے خوام خواہ اپنے سر چڑھا رکھا ہے، یہ ملک غلام جیلانی کی بیٹی ہیں۔ پہلے میں آپ کو ملک غلام جیلانی کے بارے میں بتا دوں تاکہ آپ کا ذہن پوری طرح سے بن جائے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 05 اگست 2017

نواز شریف  کے نااہلی کا  فیصلہ آنے سے قبل  کافی تجزیہ نگاروں کا خیال تھا کہ نواز شریف تیسری مرتبہ تو اپنی مدت مکمل کریں گے حالانکہ پاناما کیس میں وہ لندن کے فلیٹوں  کی ملکیت کے بارےمیں مسلسل غلط بیانی کرتے رہے ہیں۔ منی لانڈرنگ اور اقتدار سے مالی فائدے اٹھانے کے فن سے شریف برادران بہت اچھی طرح واقف ہیں۔ نااہل ہونےکے بعد اسلام آباد کے پنجاب ہاؤس میں پارلیمانی پارٹی کے اجلاس سے خطاب میں سابق وزیر اعظم نوازشریف کا  کہنا تھا کہ ’’مجھے فخر ہے کہ میری نااہلی کی وجہ کرپشن نہیں ہے‘‘۔

مزید پڑھیں

Praise and prayers for the great people of Turkey

One year ago, this day, the people of Turkey set an example by defending their elected government and President Recep Tayyip Erdogan against military rebels.

Read more

loading...