شہر شہر


  وقت اشاعت: 1 دن پہلے 

کسی زمانے میں پاکستان میں نظریاتی سیاست کا رواج تھا لیکن اب پاکستان میں نظریاتی اور اصولوں کی سیاست ختم ہوچکی ہے۔ اب صرف شدت پسندی، مفاد پرستی اور منافقت کی سیاست ہوتی ہے۔ ملک میں  دہشتگردوں کے حامی  ڈاکٹر سلمان حیدر  اور ان کے ساتھیوں کی گرفتاری  پر جس طرح خوش ہوئے ہیں  بالکل ایسا لگ رہا ہے کہ ایک بانجھ عورت کے ہاں غیر متوقع طور پرلڑکا پیدا ہوا ہے۔   مذہب فروش منہ بھر بھر کے لبرلز کو گالیاں دے رہے ہیں۔  ان میں  سےاکثریت کو  شاید یہ پتہ بھی نہیں ہوگا کہ لبرلز  کہتے کسے ہیں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 3 دن پہلے 

بچپن  میں میری  والدہ   مجھے اور میرے بہن بھائی  کواکثر اپنے  چچاکے گھر پیر الہی بخش کالونی  لے جاتی  تھیں۔  والدہ کے چچا کی اولادوں میں تین بیٹیاں اور دو بیٹے تھے۔ بدقسمتی سے یہ بہن بھائی زیادہ پڑھے لکھے نہیں تھے۔ ان میں چھوٹے بھائی کا نام مبین انصاری تھا جو اپنے بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے اور  گھر میں سب ان کو مبن  کہا کرتے تھے۔ مبین نے  شاید میٹرک پاس کیا تھا اس لیے ان کو اول تو کوئی نوکری ملتی نہیں تھی اور جو ملتی تھیں وہ مبین کو قبول نہیں  ہوتی تھی۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 6 دن پہلے 

یحییٰ خان نے 1969میں ملک کی باگ دوڑ سھنبالی تو ساتھ ہی سات دسمبر 1970کوعام انتخابات کا اعلان کردیا اور پہلی جنوری 1970سے سیاسی سرگرمیوں کی اجازت دے دی۔ 1970 میں میری عمر 18 سال تھی اور انقلابی سوچ تھی  اور کتابیں پڑھنے کا بہت شوق تھا۔ بھٹو صاحب توپیپلز پارٹی کا  انقلابی منشور 1967 میں پیش کرچکے تھے، جس میں سے ایک پوائنٹ تھا کہ ‘سوشلزم ہماری معیشت ہے’، ساتھ  پیپلز پارٹی کی طرف سے یہ نعرہ  بلند ہوا کہ ‘روٹی کپڑا اور مکان’ ہر انسان کا بنیادی حق ہے اور ریاست اس کی ذمہ دار ہے۔ 

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 7 دن پہلے 

جنرل(ر) راحیل شریف افواج پاکستان کے 15ویں سربراہ تھے۔ انہوں نے 29 نومبر 2013 سے29 نومبر 2016 تک پاک فوج کی سربراہی کی اور 15 جون 2014 سے 29 نومبر 2016 تک آپریشن ضرب عضب کہ رہنمائی کی۔ رینجرز کے زریعے کراچی آپریشن کی قیادت کی۔ جنرل راحیل شریف کو وزیراعظم کی طرف سے الوداعی ظہرانہ دیا گیا اور وہ عزت و احترام کے ساتھ اپنے عہدے سے سے29 نومبر 2016 کوسبکدوش ہوگئے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 09 جنوری 2017

بھارتی لیجنڈ اداکار اوم پوری 66 سال کی عمر میں انتقال کرگئے۔ وہ 18 اکتوبر 1950 کو بھارتی صوبے ہریانہ کے شہر انبالہ میں پیدا ہوئے تھے۔ اپنی زندگی کے آخری مہینوں میں پاکستان اورپاکستانی اداکاروں کی حمایت کرنے پر اوم پوری کو بھارت میں کافی تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کے انتقال کے بعد بھارت اور پاکستان دونوں ملکوں میں ٹوئٹر پر انہیں خراج عقیدت پیش کیا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 30 2016

مبصرین کو حیران کر دینے کی صلاحیتوں سے مالا مال پاکستان کرکٹ ٹیم جب دورہ آسٹریلیا سے قبل نیوزی لینڈ پہنچی تھی تو بہت سارے لوگ یہ امید لگائے بیٹھے تھے کہ مصباح الیون کشتوں کے پشتے لگا کر کینگروز کے دیس پہنچے گی۔ اور انہیں پہلی بار انہی کی سرزمین پر تگنی کا ناچ نچا کر رکھ دے گی۔ نیوزی لینڈ کی نسبتاً کمزور ٹیم سے شکست پر کنڈیشنز میں ایڈجسٹ نہ ہونے کا بہانہ کم آیا اور شاہینوں پر تنقید کے نشتر کچھ کم برسائے گئے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 28 2016

ایک دن گپ شپ کے دوران عائشہ صدیقہ نے پوچھا کہ بی بی کی لیگیسی کیا ہے؟ فوری جواب تو یہ بنتا تھا کہ پیپلز پارٹی! پر پتہ نہیں کیوں ایک فضول سا جواب لگا یہ۔
حال ہی میں بلاول کو دیکھتے ہوئے اپنے ہی دماغ نے یہ سوال دہرایا اور جواب سوچا کہ کیا بلاول بی بی کی لیگیسی ہے؟
اس جواب پر بھی دل نہ مانا۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 21 2016

پاکستان کا صوبہ سندھ ہزاروں سال سے سیاسی لحاظ سے اہم رہا ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ کراچی کی بندرگاہ ہے۔  پاکستان کے بننے کے بعد کراچی شہر کے سبب پاکستان اور بالخصوص  صوبہ سندھ تجارت و صنعت اور ترقی کی جانب بڑھا۔ پاکستان کے ابتدائی ادوار سے ہی کراچی کی بندرگاہ بہت ہامیت کے حامل رہی ہے۔ 

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 13 2016

اسلامی جمہوریہ پاکستان کا مقصد ہی یہی ہے کہ یہاں کی ریاست میں عدل و انصاف کےساتھ دین اسلام کے قوانین کے مطابق ریاست کے نظام کو چلایا جائے۔  قائد اعظم محمد علی جناح کی پوری زندگی ہمارے لئے  بہترین سیاسی رہنما کا نمونہ ہے۔ قائد اعظم نے تمام کی ساری  زندگی کو سچ و حق پر چلنے سے عبارت ہے۔ انہوں نے محنت کی۔ یہی وجہ ہے آپ نے ہمیشہ کامیابی اور سرخروئی حاصل کی۔  آپ کی ذہانت، قابلیت اور عقلمندی کی وجہ سے ہی مسلمان پاکستان کا مقدمہ جیت پائے تھے۔ 

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 11 2016

پاکستان میں حقیقی سیاسی جماعتوں کی کمی ہر دور میں محسوس کی جاتی رہی ہے۔  اسی لیے طالع آزما،  آمر بآسانی اقتدار پر قابض ہوتے رہے اور اپنی حکومت کو دوام بخشنے کے لیے غیر حقیقی سیاسی جماعتیں بناتے رہے۔  اگر غور کیا جائے تو موجودہ اسمبلیوں اور سینیٹ میں وہی لوگ یا ان کی اولادیں بیٹھی نظر آئیں گی۔  جن کی سیاسی نشونما دور آمریت میں ہوئی ہے۔  یہی وجہ ہے کہ جب بھی ملک میں جمہوری عمل شروع ہوتا ہے،  حقیقی جمہوریت قائم نہیں ہوپاتی۔  آمریت کی خوو بومحسوس کی جاتی ہے۔ 

مزید پڑھیں

Threat is from inside

Army Chief General Raheel Sharif assured the nation that country’s borders are secure and the army is aware of threats and intrigues of the enemies. Speaking at an even

Read more