شہر شہر


  وقت اشاعت: 1 دن پہلے 

نئی نسل کو وطنِ عزیز کا مکمل نام "اسلامی جمہوریہ پاکستان" بتاتے ہوئے بہت دکھ ہوتا ہے۔ یہ ویسے ہی ہے  کہ آپ کسی خوبصورت سے عنوان اور سرورق کی وجہ سے کوئی کتاب خرید لائے ہوں اور کتاب کے مطالعہ کے بعد آپ کو عنوان اور سرورق کے برعکس مایوسی کا سامنا کرنا پڑے۔  اور کسی حد تک اپنی اس رائے کو تبدیل کرنا پڑے کہ  کتاب بہت عمدہ ہوگی۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 2 دن پہلے 

میرے سامنے 25 مارچ کا روزنامہ جنگ میں  سلیم صافی کا کالم ’’طالبان کے خلاف عام معافی کیوں؟‘‘ موجود ہے اور میں اس  مضمون کو  کئی  مرتبہ پڑھ چکا ہوں۔  میں یہاں  صرف  اس مضمون  میں سے ان باتوں کو نقل کروں گا جس  مقصد کےلیے سلیم صافی نے یہ مضمون  لکھاہے۔ موصوف فرماتے ہیں  کہ ’’میرا عقیدہ ہے کہ ریاست کے خلاف بندوق اٹھانے سے بڑھ کر سنگین جرم کوئی نہیں۔ چونکہ میں جانتا ہوں کہ ریاست کے خلاف بندوق اٹھانے والوں اور اپنے جسموں سے بم باندھ کر خود اپنے آپ کو اور معصوم پاکستانیوں کو اڑانے والوں کی ایک بڑی تعداد مخلص لوگوں پر مشتمل ہے اور چونکہ میں جانتا ہوں کہ عسکریت پسندوں کی ایک بڑی تعداد ٹریپ ہوکر ریاست پاکستان کے خلاف اس ناپاک اور ناپسندیدہ جنگ میں مبتلا ہے۔ اس لئے میں زہر کا یہ گھونٹ پی کر اس موقع پر یہ گزارش کررہا ہوں کہ حکومت پاکستان عسکریت پسندوں کے لئے عام معافی کا اعلان کردے‘‘۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 3 دن پہلے 

چار سال ہونے کو آئے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ نے متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) سے کسی بھی مذاکرات سے انکار کردیا تھا۔  اسٹیبلشمنٹ کا کہنا تھا کہ جب تک وہ اعتماد سازی کے لیے بعض شرائط پوری نہیں کرتے، ان سے بات  چیت نہیں ہوسکتی۔ گزشتہ سال  جولائی تک اسٹیبلشمنٹ ایم کیو ایم سے چاہتی تھی کہ پہلے وہ اس کی شرائط پوری کرے، پھر مذاکرات ہوں گے۔

مزید پڑھیں

loading...

  وقت اشاعت: 4 دن پہلے 

پاکستان میں ہر سال   23 مارچ کا دن پوری پاکستانی قوم ’’ یوم پاکستان‘‘ کے طور پرشاندار طریقے سے مناتی ہے ۔ 23 مارچ 1940 کو لاہور کے منٹو پارک (موجودہ اقبال پارک جہاں اب مینار پاکستان بھی موجود ہے)  میں آل انڈیا مسلم لیگ کے تین روزہ سالانہ اجلاس کے اختتام پر ایک تاریخی قرارداد منظور کی گئی تھی جس کی بنیاد پر مسلم لیگ نے برصغیر میں مسلمانوں کےلیے ایک علیحدہ وطن کا مطالبہ کیا۔  یہ یاد رہے کہ آج جس وطن ’’پاکستان‘‘   میں ہم رہ رہے ہیں درحقیقت یہ 90 سال  کی جہدوجہد کا نتیجہ ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 5 دن پہلے 

ہر کسی سے سنا تھا افغان بستی میں اکیلا جانا اپنی زندگی کے ساتھ کھیلنا ہے۔ دوسرے الفاظ میں افغان بستی میں جاؤ گے تو واپسی ممکن نہیں، مگر یہ سب جھوٹ نکلا۔ شاید میری قسمت اچھی تھی یا پھر لوگوں کا کہنا غلط تھا۔ کبھی نہیں سوچا تھا افغان لوگ اتنے مہمان نواز ہوں گے۔ کبھی خیال تک نہیں آیا تھا کہ یہ لوگ کسی غیر قوم قبیلے ( یعنی افغانیوں) کے علاوہ کسی کو اپنے گھر میں لے جائیں گے۔ 

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 7 دن پہلے 

انیس سو تیرہ (1913) میں امریکہ کی تین یونیورسٹیوں  میں زیر تعلیم کچھ سکھ، ہندو اور مسلمان طلبہ نے امریکہ کے شہر سان فرانسسکو میں غدر پارٹی قائم کی۔ غدر پارٹی کے قیام کا مقصد متحدہ ہندوستان کو  مسلح جہدوجہد کے ذریعے برطانوی تسلط سے آزاد کرانا تھا۔ 1915میں غدر پارٹی کے ارکان امریکہ اور کینیڈا سے ہندوستان آئے اور مقامی لوگوں کے ساتھ مل کر برطانوی فوج میں موجود مقامی سپاہیوں کو بغاوت پر اکسانے لگے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 7 دن پہلے 

ہم پاکستانی بجلی، پانی، گیس اور سب سے بڑھ کر بھوک جیسے گھمبیر مسائل کہ جال میں بری طرح سے جکڑے ہوئے ہیں اور پھنستے ہی جارہے ہیں۔ ہر گزرتا دن اس جال کی سختی بڑھاتا جارہا ہے اور آنے والے دن کی مشقت میں اضافہ کر رہا ہے۔ ہر دن نئی سے نئی دشواری لئے ہوتا ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 21 مارچ 2017

بھارت کی پانچ ریاستوں پنجاب، گوا، منی پور، اترکھنڈ اوراترپردیش میں ریاستی اسمبلیوں کے لیے 11 فروری سے 8 مارچ 2017 تک 690 نشستوں کے لیے 16 کروڑ سے زائد ووٹروں میں سے13 کروڑ 90 لاکھ ووٹرزنے اپناحق رائے دہی استعمال کیا۔ نتایج کے مطابق پانچ میں سے چار ریاستوں گوا، منی پور، اتر کھنڈ اوراتر پردیش میں بھارتیہ جنتا پارٹی کو کامیابی ملی ہے جبکہ پنجاب میں ایک عشرہ کےبعد کانگریس کو کامیابی ملی ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 20 مارچ 2017

متحدہ قومی موومنٹ(ایم کیو ایم) پاکستان  کی چوتھی بڑی سیاسی جماعت ہے۔ ایم کیو ایم کے  قومی اسمبلی  میں 25 اور صوبہ سندھ میں 51 صوبائی اسمبلی کے ممبر ہیں، اس کے علاوہ سینٹ میں 8 سینیٹرز ہیں۔  اس کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار ہیں جو خود بھی ایم این اے ہیں  ان کو  17 اور 18 مارچ کی درمیانی شب کو پولیس نے ڈرامائی انداز میں گرفتار کرنے کے بعد رہا کردیا۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 17 مارچ 2017

ہماری تہذیب تو اس بات کی اجازت نہیں دیتی مگر زمانے میں اب یہ ریت چل پڑی ہے کہ کچھ بھی ہوجائے سماجی میڈیا پر اس کا چرچا ضرور کیا جاتا ہے۔ کسی کی پیدائش کی خبر تو سماجی میڈیا کے توسط سے تو اچھی لگتی ہے مگر کسی کا سفرِ آخرت پر گامزن ہونے کا سماجی میڈیا پر کچھ اچھا نہیں لگتا۔ گھریلو جھگڑے بھی سماجی میڈیا کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ یعنی اب جو کچھ ہے وہ سماجی میڈیا پر موجود ہے۔ اب باتیں کسی کے اچھے یا برے لگنے سے بہت آگے نکل گئیں ہیں۔ اب تو بس شائع کرنا مقصد ہے۔ کسی کی دل آذاری ہو یا پھر کسی کے دل کو خوشی ملے، شائع کرنے والے کو اس سے کوئی غرض نہیں ہوتی۔ وہ تو بس شائع کرکے سماجی ذمہ داری پوری کرنے کا حق ادا کرتا ہے۔

مزید پڑھیں

Threat is from inside

Army Chief General Raheel Sharif assured the nation that country’s borders are secure and the army is aware of threats and intrigues of the enemies. Speaking at an even

Read more

loading...