شہر شہر


  وقت اشاعت: 11 2017

تعلیم کسی بھی معاشرے کی تعمیر و ترقی کا بنیادی جزو ہے۔ جو معاشرے آج ریخت کا شکار ہیں بغور جائزہ لیجیے تو تعلیم ان معاشروں میں بہت بعد میں آتی ہے۔ ان معاشروں کی ترجیحات میں تعلیم شامل  نہیں ہے۔ ایشا سے یورپ، مشرق وسطی سے افریقہ تک کسی بھی طرف نگاہ دوڑائیے آپ کو باعلم دماغ ہی اعلیٰ عہدوں پہ بھی نظر آئیں گے اور معاشرے میں ایک ممتاز مقام بھی رکھتے ہوں گے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 08 2017

وطن عزیز اسلامی جمہوریہ پاکستان اس لحاظ سے پوری دنیا میں انفرادیت رکھتا ہے کہ یہاں لمحوں میں متنازعہ معاملات کو ٹھنڈا کردیا جاتا ہے اور لمحوں میں ہی غیر ضروری بحث کو قومی سطح کا موضوع بنا دیا جاتا ہے۔ مملکت خدادا میں حکومتیں، عہدے، وزارتیں، اس بنیاد پہ نہیں ملتیں کہ پاکستان کی بہتری اس میں ہے بلکہ یہاں معیار شخصیات ہیں جو بعض اوقات آپ کو پاکستان سے بھی اوپر محسوس ہوتی ہیں۔ بے شک شخصیات کی انفرادی سوچ ہوتی ہے جو کسی بھی ملک کو دنیا میں ممتاز مقام دے سکتی ہے جیسے مہاتیر محمد ایک ترقی پذیر ملک کو ترقی یافتہ ممالک کے ساتھ کھڑا کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ جیسے احمدی نژاد جیسا راہنما ایک مڈل کلاس طبقے سے تعلق رکھنے کے باوجود ایران جیسے ملک کا نہ صرف سربراہ بن گیا بلکہ اُس نے امریکہ کی آنکھوں میں آنکھیں بھی ڈالیں۔ اور قائد اعظمؒ کی مثال تو سب مثالوں میں اولین ہے کہ جنہوں نے دنیا کا نقشہ ہی تبدیل کر دیا۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 30 ستمبر 2017

یزید کی زود و پشیمانی:
بعض روایات میں آتا ہے کہ شروع میں یزید امام حسین کے قتل پر راضی تھا ، اور جب ان کا سر مبارک لایا گیا اُس نے خوشی کا اظہار بھی کیا  لیکن اس کے بعد جب یزید کی بدنامی سارے عالم اسلام میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی اور تمام دُنیا کے مسلمان اسے اپنا مبغوض تریں شخص سمجھنے لگے تو وہ اپنے کیے پر بہت نادم ہوا، اور کہنے لگا کہ: ’’اے کاش! میں تکلیفیں اُٹھا لیتا اور امام حسین کو اپنے ساتھ اپنے گھر میں رکھتا اور ان کو اختیار دے دیتا کہ وہ جو چاہیں کریں، اگرچہ میرے اس اقتدار کو نقصان ہی کیوں نہ پہنچتا، اس لئے کہ رسول اللہ کا، ان کا اور ان کی قرابت کا یہی حق تھا۔ اللہ تعالیٰ ابن مرجانہ پر لعنت کرے! اُس نے ان کو مجبور کرکے قتل کردیا، حالاں کہ اُنہوں نے یہ کہا تھا کہ: ’’مجھے یزید کے پاس جانے دو، یا کسی سرحدی مقام پر پہنچادو!۔‘‘ مگر اِس نالائق نے قبول نہ کیا اور ان کو قتل کرکے ساری دُنیا کے مسلمانوں میں مجھے مبغوض کردیا، اِن کے دلوں میں میری عداوت کا بیج بودیا کہ ہر نیک و بد مجھ سے بغض رکھنے لگا، اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو ابن مرجانہ پر!۔‘‘

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 29 ستمبر 2017

چراغ گل ہیں۔۔۔ دل سے راضی ہونے کی یقین دہانی بھی کی گئی ہے۔۔۔ جنت کی بشارت اور شفاعت کا وعدہ بھی ہے۔۔۔ خود کو مصیبت سے نکال لینے پہ اصرا ر بھی ہے ۔۔۔ یہ منظر ہے اُس رات کا جس کی صبح نے سرزمین کرب و بلا میں برپا ایک ایسا معرکہ دیکھا کہ تا قیامت حق اور باطل کے درمیان پہچان واضح کر دی گئی ۔ ایک ایسی رات کہ جس نے رہتی دنیا تک یہ واضح کر دیا کہ حق کا راستہ کٹھن ہے مگر دائمی سکون لیے ہوئے ہے۔ باطل کا راستہ بظاہر مفادات، مال و دولت سے بھرا ہوا ہے مگر اس کا انجام سوائے جہنم کی آگ کے اور کچھ نہیں ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 29 ستمبر 2017

دشمن کی فوج سے تن تنہا مقابلہ:
اب امام حسین تقریباً تن تنہا اور بے یار و مددگار رہ گئے تھے، لیکن ان کی طرف بڑھنے کی کسی کو ہمت نہیں ہورہی تھی ، کافی دیر تک یہی کیفت رہی کہ جو شخص بھی آپ کی طرف بڑھتا اسی طرح واپس لوٹ جاتا اور کوئی بھی آپ کے قتل کا گناہ اپنے سر لینا نہیں چاہتا تھا ، یہاں تک کہ قبیلہ کندہ کا ایک شقی القلب شخص مالک بن نسیر آگے بڑھا اور اس نے امام حسین کے سر مبارک پر حملہ کردیا ، جس سے آپ شدید زخمی ہوگئے ۔ اس وقت آپ نے اپنے چھوٹے صاحب زادے عبد اللہ بن حسین کو اپنے پاس بلایا اور ابھی اپنی گود میں بٹھایا ہی تھاکہ بنو اسد کے ایک بد نصیب شخص نے ان پر ایک تیر چلایا جس سے وہ بھی شہید ہوگئے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 28 ستمبر 2017

تین شرطیں:
ملاقات میں امام حسین نے عمر بن سعد کے سامنے تین شرطیں رکھیں : ’’ایک یہ کہ میں جہاں سے آیا ہوں وہیں واپس چلا جاؤں۔ دوسری یہ کہ میں یزید کے پاس چلا جاؤں اور خود اس سے اپنا معاملہ طے کرلوں ۔ تیسری یہ کہ مجھے مسلمانوں کی کسی سرحد پر پہنچادو ، وہ لوگ جس حال میں ہوں گے میں بھی اسی حال میں رہ لوں گا۔‘‘ عمر بن سعد نے امام حسین صکی یہ تینوں باتیں سن کر ابن زیاد کی طرف دوبارہ ایک خط لکھا کہ: ’’ اللہ تعالیٰ نے جنگ کی آگ بجھادی اور مسلمانوں کا کلمہ متفق کردیا ۔ مجھ سے امام حسین صنے ان (مذکورہ) تین باتوں کا اختیار مانگا ہے جن سے آپ کا مقصد پورا ہوجاتا ہے اور امت کی اسی میں صلاح و فلاح ہے۔‘‘

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 27 ستمبر 2017

ضروری تمہید:
تاریخ عالم کا ورق ورق انسان کے لئے عبرتوں کا مرقع ہے ۔ بالخصوص تاریخ کے بعض واقعات تو انسان کے ہر شعبہ زندگی کے لئے ایسے عبرت ناک ہیں کہ جن سے صرف نظر نہیں کیا جاسکتا ۔ انہیں واقعات میں سے ایک واقعہ ٗ میدانِ کربلا میں حضرت امام حسینص کی مظلومانہ شہادت کابھی ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ جب سے اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو وجود بخشا ہے اس وقت سے لے کر آج تک اور شاید قیامت تک کوئی ایسا واقعہ رُونما نہ ہوکہ جس پر خود تاریخ کو بھی رونا آگیا ہو ، لیکن امام حسینص کی شہادت کا واقعہ ایسا درد ناک اور اندوہ ناک واقعہ ہے کہ جس پر انسانوں کی سنگ دل تاریخ بھی ہچکیاں لے لے کر روتی رہی ہے۔ اس میں ایک طرف ظلم و ستم ، بے وفائی و بے اعتنائی اور محسن کشی و نسل کشی کے ایسے دردناک والم ناک واقعات ہیں کہ جن کا تصور کرنا بھی ناممکن ہے ۔ دوسری طرف اہل بیت اطہار ، رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے چشم و چراغ اور ان کے ستر، بہتر متعلقین کی ایک چھوٹی سی جماعت کا باطل کے مقابلہ کے لئے ثابت قدمی اور جان نثاری جیسے ایسے محیر العقول واقعات ہیں کہ جن کی نظیر تمام عالم انسانیت کی تاریخ میں ملنا مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہے ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 28 اگست 2017

امریکی مفادات کے حوالے سے  ڈونلڈ ٹرمپ  سے زیادہ عاقل شخص میری نظر میں تو کوئی اور ہے نہیں۔ میکسیکو کی سرحد کے ساتھ دیوار کی تعمیر ہو یا شورش زدہ علاقوں سے فوج کی تعداد میں کمی۔ اخراجات کے حوالے سے نیٹو ممالک کی کان کھچائی ہو یا پھر ہم خیال ممالک سے تعلقات، وہ ہر معاملے میں امریکی مفادات کا تحفظ کر رہا ہے۔ اور میرے جیسے دیوانے جو توقع لگائے بیٹھے تھے کہ شاید اس کی روش اقتدار میں آنے کے بعد تبدیل ہو جائے، حقیقت کا روپ نہیں دھار سکی۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 11 اگست 2017

وقت خوش نما ہوا کا جھونکا ہے ، وقت ظالم بھی ، وقت زخم بھی ہے اور مرہم بھی۔ وقت بادشاہ بھی بناتا ہے اورفقیر بھی ۔ وقت منصف بھی بنائے اور مجرم بھی ۔ سابق وزیر اعظم نواز شریف پنجاب ہاؤس اسلام آباد سے لاہور کیلئے روانہ ہوئے تو مجھے نواز شریف کے  وہ الفاظ یاد آرہے تھے کہ  میں ان بھکاریوں کے کہنے پر استعفیٰ نہیں دوں گا۔ میرے سامنے میاں نواز شریف کی پنجاب ہاؤس سے روانگی کی تصویر ہے۔ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اور نوازشریف بغل گیر ہورہے ہیں۔  نواز شریف کے دائیں جانب وزیر خزانہ  اسحاق ڈار بھی موجود ہیں۔ مجھے اس تصویر میں نواز شریف بے حد بے بس اور مفلس دکھائی دئیے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 03 اگست 2017

یہ کہنا چاہئے کہ نہ ذولفقار علی بھٹو صنعتوں کو قومیانے کی پالیسی متعارف کرواتے(72سے 77) نہ میاں محمد شریف  کی سٹیل مل قومی تحویل میں لی جاتی۔ نہ  وہ ضیاء الحق کے ہم خیال بنتے (اپنا کاروبار بچانے کے لیے) اور  نہ ہی انہیں میاں محمد نواز شریف صاحب کو سیاست میں متعارف کروانا پڑتا (1976میں مسلم لیگ کا حصہ)۔  پھر نہ ہی  غلام جیلانی  نئے سیاسی راہنماؤں کی تلاش میں نکلتے اور نہ ہی ان کی نظر انتخاب میاں نواز شریف پر پڑتی (1980) اور نہ ہی انہیں پنجاب مشاورتی کونسل کا ممبر چنا جاتا(1981)۔ جس کے بعد انہوں نے مڑ کر پیچھے نہیں دیکھا اور آج وہ تیسری مرتبہ وزارت عظمیٰ کی کرسی سے اتر چکے ہیں۔

مزید پڑھیں

Praise and prayers for the great people of Turkey

One year ago, this day, the people of Turkey set an example by defending their elected government and President Recep Tayyip Erdogan against military rebels.

Read more

loading...