شہر شہر


  وقت اشاعت: 3 دن پہلے 

دوسری جنگ عظیم کے خاتمہ کے بعد غالب ا ور فاتح اقوام نے مل کر جنگی زبوں حالی کا شکار ہستی بستی انسانی آبادیوں کو ویرانیوں اور کھنڈرات میں تبدیل کیا۔ اور اُن پر تعمیر و ترقی کے محلات تعمیرات کرنے کا  منفرد اور مخصوص پلان تیار کیا تھا۔ تاہم اُس میں اس بات کا خاص طور پر خیال رکھا گیا تھا کہ عالمی سیاست و معیشت کو اس طرح پروان چڑھایا جائے کہ اس کے فوائد و ثمرات سے صرف چند بڑے اور مال دار ممالک ہی مستفید ہوسکیں۔ چھوٹے اور غریب ممالک صرف آہوں اور سسکیوں پر ہی گزارہ کریں ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 6 دن پہلے 

گزشتہ چند صدیوں سے معاشی ، اقتصادی اور صنعتی ترقی کی جو بین الاقوامی دوڑ شروع ہوئی ہے اِس وقت عوامی جمہوریہ چین اُس میں نہایت ہی برق رفتاری کے ساتھ اُبھر کر سامنے آرہا ہے۔ اور پوری دُنیا کی صنعت و تجارت پر قبضہ کرنے کے لئے آئے روز نت نئے راستوں کی تعمیر کر رہا ہے ۔  معاشی ماہرین کی پیش گوئی کے مطابق آئندہ آنے والی چند دہائیوں میں دیکھتے ہی دیکھتے چین پوری دُنیا کی معاشی سپر طاقت بن کر عالمی تجارتی منڈیوں پر چھا جائے گا۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 07 مئی 2017

چھ لاکھ انسانی قربانیوں کی بنیاد پر استوار ہونے والا وطن عزیز ملک پاکستان عرصہ ہوا کیا اپنے کیا پرائے سبھی کی آنکھوں میں کانٹے کی طرح کھٹک رہا ہے ۔ کوئی اس کا جانی دُشمن ہے تو کوئی مالی ، کوئی اس کے زندہ دل غیور عوام کی نسل کشی کرنا چاہتا ہے تو کوئی دُنیا کے نقشے سے اس کا وجود مٹانے پر تُلا ہوا ہے۔ لیکن جانے کس کی نیم شب کی دعاؤں کی بدولت یہ ملک آج تک اپنی پوری آب و تاب اور شان و شوکت کے ساتھ قائم دائم ہے اور تاقیامت انشاء اللہ اسی طرح قائم دائم اور پھلتا پھولتا رہے گا ۔

مزید پڑھیں

loading...

  وقت اشاعت: 22 اپریل 2017

اللہ تعالیٰ کے ذکر اور اُس کی یاد میں منہمک اور لگے رہنا بندۂ مومن کی شان اور اُس کا جزوِ ایمان ہے اور اللہ تعالیٰ کے ذکر اور اُس کی یاد سے غافل اور لاپرواہ رہنا بڑی ہی بدنصیبی اور شقاوت قلب کی علامت ہے ۔ ہم لوگ ہر آن ہر لمحہ اللہ تعالیٰ کی کتنی ہی نعمتوں اور اُس کے کتنے ہی احسانات سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ لیکن اِس دوران کبھی بھولے سے بھی ہم نے یہ بات نہیں سوچی یا  غور و فکر نہیں کیا کہ ہم لوگ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور اُس کے احسانات کا کتنا شکر یا کم از کم اُس کریم و رحیم ذات کو کتنا یاد کرتے ہیں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 18 اپریل 2017

پر آشوب دور میں لفظوں میں جذبات کہنے کا فن یقیناًایک ایسی صلاحیت ہے کہ معاشرہ تعمیری جہتیں پا سکتا ہے۔ برداشت کا معاشرے میں سے مفقود ہوتا ہوا پہلو، اور خون ارزاں ہوجانالمحہ فکریہ ہیں۔ مگر ان سخت حالات میں اپنے لفظوں سے معاشرے کی اصلاح کے ساتھ ساتھ رویوں کی درستگی کا بیڑا اُٹھا لینا کسی بھی طرح سے عام فیصلہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 31 مارچ 2017

میلوں ٹھیلوں میں اکثر دوکاندار پرانے مال کو نیا روغن کرکے گاہکوں کے سامنے پیش کر دیتے ہیں۔ سادہ لوح لوگ اس پرانے مال کو نیا سمجھ کر ہاتھوں ہاتھ لیتے ہیں۔ بھولے سے کوئی اندھوں میں کانا راجا اگر پرانے مال پر سے روغن ہٹا کر پرانا مال دیکھ کر کچھ کہنے کی  کوشش کرے تو اس کی آواز نقارخانے میں طوطی کی آواز سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتی۔ پرانے مال کو نیا بنا کر بیچنا اب میلوں ٹھیلوں سے ہماری عام زندگی میں بھی شامل ہو گیا ہے۔ اور وقت گزرنے کے ساتھ پاکستان کی سیاست میں یہ رجحان تقویت پانے لگا۔ اور آج حال یہ ہے کہ پرانے گھاک کھلاڑی پاکستانی عوام کی امنگوں سے کھیلنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 23 مارچ 2017

نام اور کنیت:
آپؓ کا نام نامی اسم گرامی عبداللہ ہے ۔ زمانۂ جاہلیت میں آپؓ کو’’عبدالکعبۃ ‘‘ کہا جاتا تھا۔ حضوراقدس ؐنے آپؓ کا یہ نام بدل کرعبداللہ  رکھا۔ لقب صدیق اور عتیق ۔ والد کا نام عثمان، کنیت ابوقحافہ بن عامرہ اور والدہ کا نام سلمیٰ بنت صخر ہے۔
 

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 12 مارچ 2017

ہم لوگ تجارت و زراعت وغیرہ مختلف ذرائع سے روپیہ پیسہ کمانے میں جتنی محنت اور کوشش کرکے اس کو جمع کرتے ہیں، وہ سب اسی لئے ہوتا ہے کہ آنے والے وقت کے لئے کچھ ذخیرہ اپنے پاس محفوظ رہے تاکہ ضرورت کے وقت کام میں لایا جاسکے۔  نہ معلوم کس وقت کیا ضرورت پیش آجائے ۔ لیکن جو اصل ضرورت کا وقت ہے اور اُس کا پیش آنا بھی ضروری ہے اور اُس میں اپنی سخت احتیاج بھی ضروری ہے۔  یہ بھی یقینی ہے کہ اُس وقت صرف وہی کام آئے گا جو اپنی زندگی میں خدائی بینک میں جمع کردیا گیا ہو۔ 

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 25 فروری 2017

مہمان کے آنے پر اس کا پر تپاک استقبال کرنا، اسے خوش آمدید کہنا اور اس کی خاطر مدارات کرنے کا رواج روزِ اوّل سے ہی دنیا کی تمام مہذب قوموں کا شعار رہا ہے ۔ ہر ملک ، ہر علاقے اور ہر قوم میں مہمان نوازی کے انداز و اطوار اور اس کے طور طریقے مختلف ضرور ہیں لیکن اس بات میں کسی قوم کا بھی اختلاف نہیں کہ آنے والے مہمان کے اعزاز و اکرام میں اس کا پرتپاک استقبال کرنا، اسے خوش آمدید کہنا اور اس کی اپنی حیثیت کے مطابق بڑھ چڑھ کر ہر ممکن خدمت سر انجام دینا، اس کا بنیادی حق ہے ۔ اس لئے کہ دنیا کی ہر مہذب قوم کے نزدیک مہمان کی عزت و توقیر خود اپنی عزت و توقیر اور مہمان کی ذلت و توہین خود اپنی ذلت و توہین کے مترادف سمجھی جاتی ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 25 فروری 2017

سوچا اب کی بار بھی کچھ نہ لکھوں، ایک نہ سو سکھ ۔۔۔ نہ لکھوں گا ، نہ سوچوں گا۔ نہ ہی ذہنی خلفشار کا شکار ہوں گا۔ مگر بھلا ہو آزاد میڈیا کا ، بکھرے لاشے ، بہتا خون، لتھڑی دیواریں، روتی آنکھیں، بین کرتی مائیں، چلاتی بہنیں، دھاڑیں مارتے بھائی، بے سدھ ٹھنڈے فرش پہ ٹانگیں پسارے باپ، چاک گریباں بھاگتے بیٹے، ساکت و جامد آنکھیں لیے بچے ۔۔۔ کچھ اس انداز سے دکھاتا ہے کہ دل میں  اک ابال سا ابلنا شروع ہو جاتا ہے۔

مزید پڑھیں

Islamic Council Norway Fails Muslims and the Society

By hiring Nikab-wearing Leyla Hasic, Islamic Council Norway has taken a clear stand in a controversial debate. Norwegian Muslims neither are represented nor served with t

Read more

loading...