شہر شہر


  وقت اشاعت: 16 اگست 2017

انتہائی متوازن سوچ اور رواداری کی دولت سے مالا مال کشمیری وحدت پسندوں نے پاک و ہند یوم آزادی کے موقع پر ایک بار پھر دونو ں ملکوں کی عوام کو آزادی کی مبارک باد دیتے ہوئے ان کے سرکاری اداروں کی کشمیر کے حوالے سے گمراہ کن مہم پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ متعصب اور شاطر ہندوستان صرف قومی تہواروں پر ہی نہیں بلکہ اپنے اور بھارتی مقبوضہ کشمیر کے بچوں کو بھی سکولوں میں پڑھاتا ہے کہ جموں کشمیر کا فیصلہ تقسیم ہند کے وقت ہو گیا تھا۔ لیکن پاکستان نے بعد میں اس فیصلہ کو مسترد کرکے عالمی سطع پر کشمیر پر اپنا حق جتانا شروع کر دیا۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 23 جولائی 2017

اچھائی کو عام کرنے اور برائی کو روکنے کا ایک اچھا طریقہ یہ ہے کہ اچھے کارنامے سرانجام دینے والے انسانوں کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ اورحوصلہ افزائی کا بہترین طریقہ عزت افزائی ہوتا ہے۔ اسی اصول کے تحت تحریک استحکام پاکستان کونسل ہر سال نایاب شخصیات کو تلاش کرکے قومی سطح کی تقریب میں گولڈ میڈل ایوارڈ دیتی ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 15 جولائی 2017

برطانیہ کا شمار ایسے سامراجی ممالک میں ہوتا ہے جن کی پالیسی نے دنیا میں بہت بد امنی پیدا کی۔ کئی قوموں نے اپنا حق آزادی کھویا اور کئی ممالک ٹکڑوں میں تقسیم ہوئے۔ برطانیہ نے جس بھی ملک پر قبضہ کیا اسے چھوڑنے سے پہلے کئی ٹکڑوں میں تقسیم کرکے ایسے مسائل پیدا کیے جن کی وجہ سے آزاد ہونے والی قومیں اپنی آزادی سے پوری طرح مستفید نہ ہو سکیں۔ اس طرح کی منفی پالیسیوں کے باوجود برطانیہ نے کچھ ایسے اصول اپنا رکھے ہیں جن کی وجہ سے دنیا میں اب بھی اس کا بھرم قائم ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 12 جولائی 2017

یوں تو برطانیہ سے واپسی کے بعدپونچھ میں متعدد اجتماعات و تقریبات میں شرکت کی لیکن یہ دورے صرف جائے تقریب تک محدود رہے۔ کئی بار مختلف دوست احباب نے ذاتی دعوتیں دیں مگر حالات نے اجازت نہ دی ۔ میری بڑی بیٹی دس سالہ مومنہ نے چار سال کی عمر میں ہمارے ساتھ بن جوسہ کی سیر کی تھی ۔ اس نے اپنی چھوٹی بہنوں چھ سالہ امینہ اور چار سالہ سلویہ کے ساتھ کشتی سواری کا کئی بار زکر کیا ۔ ان کا اصرار تھا کہ وہ بھی بن جوسہ دیکھنا چاہتی ہیں۔ ذاتی زندگی کے حوالے سے یہ تین معصوم بیٹیاں میری کل کائنات ہیں جن کی ہر جائز خوائش پوری کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 05 جولائی 2017

میرا بھی یہی خیال ہے کہ امریکی قاتل ریمنڈ ڈیوس اپنے کیس کے حوالے سے پاکستانی اداروں کے کردار بارے اگر سارا جھوٹ نہیں تو مبالغہ آرائی ضرور کر رہا ہوگا۔ لیکن میں پاکستانی میڈیا کے سچ کے بارے بات کرنے سے قبل دو سوال کرنا چاہتا ہوں: اول عدالت کو علم ہوگا کہ کیا آئی ایس آئی کے اس وقت کے سربراہ جنرل پاشا دوران سماعت عدالت میں موجود تھے۔ اگر تھے تووہ وہاں کیا کر رہے تھے۔ ریمنڈ ڈیوس نے لکھا کہ جنرل پاشا کو اس کی حکومت نے دھمکی دی تھی کہ اگرڈیوس کو سزا ہوئی تو پاشا اس کے ذاتی طور پر ذمہ دار ہوں گے۔ جس کی وجہ سے پاشا خائف ہوکر لمحہ بہ لمحہ میسنجر پر امریکی حکومت کو سماعت کی کارروائی سے باخبر رکھ رہے تھے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 02 جولائی 2017

عنوان بالا پر شاید کچھ  قارئین کو حیرت ہوگی لیکن اس کے حق میں میرے دلائل پڑھ کر قارئین کرام فیصلہ کریں کہ میری رائے غلط ہے یا درست۔ امریکہ کو الزام نہ دینے کا مشورہ میں غیر مشروط امریکہ پرستوں اور صلاح الدین کو دوش نہ دینے کا مشورہ پاکستان نواز کشمیریوں اور تحریک خود مختار کشمیر کے اندر موجود ایسے لوگوں کو دے رہا ہوں جن میں سے کچھ تو ہیں ہی کالی بھیڑیں اور کچھ بے چارے نادان ہیں جن کو مشورہ وقت گزرنے کے بعد سمجھ میں آتا ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 22 جون 2017

ماہ فروری 1984 ۔ ملک برطانیہ۔ کیس بھارتی سفارکار مہاترے کی ہلاکت۔ ہائی رسک اور موسم سرد تر ین تھا۔ ایک طرف برطانیہ کو اپنی غیر معمولی سیکورٹی کی ناکامی کا غصہ تھا جس کی وہ ہمیں سزا دینا چاہتا تھا۔ دوسری طرف ہماری بے خوف جوانی اور جذبہ حریت تھا۔ برمنگھم انوسٹیگیشن سنٹر سے دس دن کے بعد بیس سالہ طالب علم ریاض ملک سنتیس سالہ صدیق بھٹی اور راقم کو ونسن گرین جیل برمنگھم کے ٹاپ سیکورٹی بلاک ڈی کے اندر الگ الگ سیلوں میں بند کر دیا گیا۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 10 جون 2017

طویل اسیری کے بعد جب میں وطن واپس آیا تو دیکھا کہ ہمیں بچپن میں نصابی کتب میں جو محدود تاریخی و جغرافیائی معلومات ملتی تھی، اس سے بھی ہمارے بچوں کو اب محروم کر دیا گیا ہے۔ حالانکہ تحریک آزادی کا تقاضا تھا کہ ہم اپنے بچوں کو قومی تاریخی معلومات سے لیس کریں۔ انہیں سکولوں میں پورے جموں کشمیر کی تاریخ پڑھا کر بتائیں کہ ہم کس طرح جموں کشمیر کے مالک و وارث ہیں۔ لیکن یہاں ایک طرف جموں کشمیر کو آزاد کرانے کے چرچے تھے اور دوسری طرف ہمارے بچوں کو اپنے ملک کی بنیادی معلومات تک فراہم نہیں کی جا رہی تھیں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 09 جون 2017

دوسری جنگ عظیم کے بعد بے شمار اسلامی ممالک آزاد تو ہوگئے لیکن وہ خود ایک قوت بننے کے بجائے دائیں بائیں کی سیاست کی قیادت کرنے والے دو بڑوں امریکہ اور سابق سوویت یونین کے حاشیہ بردار بن کر امت مسلمہ کا ناقابل تلافی نقصان کر چکے ہیں۔ سات سو سال دنیا کے ایک بڑے حصے پر حکومت کرنے والی سلطنت عثمانیہ کوجب مغربی اتحادیوں نے تباہ و برباد کیا تو ترکوں نے کمال پاشا اتا ترک کی قیادت میں چار سال کے اندر اندر ترکی کو آزاد کرا لیا۔ مگر اس نے اسلام سے مکمل ناطہ توڑ دیا۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 04 جون 2017

پہلی اور دوسری جنگ عظیم کے بعد سامراجی قوتیں پاش پاش ہوئیں جس کے نتیجے میں بے شمارممالک آزاد ہوئے۔  متعدد نئے ممالک نے جنم لیا تو ان سامراجی قوتوں نے بدلتے ہوئے حالات کے مطابق نئی پالیسیاں بنا کر ایک بار پھر اپنی برتری قائم کرلی۔ نو آبادیاتی نظام کے دوران ایک دوسرے کا قتل عام کرنے والے یورپی ممالک کو سوویت یونین اور اسلام سے خوف زدہ کرکے امریکہ نے مغرب کو اپنی قیادت میں اکھٹا کر لیا۔

مزید پڑھیں

Praise and prayers for the great people of Turkey

One year ago, this day, the people of Turkey set an example by defending their elected government and President Recep Tayyip Erdogan against military rebels.

Read more

loading...