شہر شہر


  وقت اشاعت: 4 دن پہلے 

یوں توبہت سی بیماریاں ہیں جو کہ نہ صرف جان لیوا ثابت ہوتی ہیں بلکہ ان بیماریوں سے ڈر کر مریضوں کے اپنے بھی ساتھ چھوڑ جاتے ہیں۔ ایسی ہی ایک بیماری جزام یعنی کوڑھ کی بھی ہے۔ اس مرض کے شکار مریضوں کا جسم گلنے سڑنے لگتا ہے اوران کے زخموں سے شدید بدبو آتی ہے۔ مگر تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ پاکستان اس مہلک بیماری کو شکست دے کر ایشیا کا پہلا ملک بنا جس نے جزام جیسے موذی مرض پر قابو پایا۔  1996 میں عالمی ادارہ صحت نے پاکستان کو جزام سے پاک ملک قرار دے دیا۔  یہ  چھوٹی کامیابی نہیں تھی بلکہ بہت بڑی فتح تھی جس کا سہرا انفرادی طور پر جرمنی کی ایک نیک دل خاتون ڈاکٹرروتھ کیتھرینا مارتھا فاؤ کے سر ہے۔ وہ انسانیت دوست نہایت شفیق انسان تھیں جنہوں نے رنگ، نسل اورمذہب کی تفریق سے بالاتر ہو کرمحض انسانیت کے ناتے ہزاروں کوڑھ اور ٹی بی کے مریضوں کی دادرسی کی۔ مگر اب یہ مریض اپنی شفیق مسیحا کی شفقت اور سائے سے محروم ہو چکےہیں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 5 دن پہلے 

غربت ، کہ جس کو دنیا بھر میں تمام برائیوں کی ماں قرار دیا جاتا ہے۔ اسے ہمارے معاشرے کی اکثریت کسی نہ کسی بنیاد پر آزمائش سمجھتی ہے۔ اس کے برعکس مغربی یورپ، چین اور مشرق بعید  میں  غربت کو ایک چیلنج سمجھا۔ اسے مذہبی لبادہ اوڑھانے کی بجائے  وہاں ریاستیں غربت کو دیس نکالا دینے میں بڑی حد تک کامیاب ہو گئی ہیں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 14 اگست 2017

27 رمضان المبارک کی مقدس شب کو معرض وجود میں آنے والا یہ دیس رب کی خاص عنایتوں کا مرہون منت ہے جولاتعداد بین الاقوامی اور داخلی سازشوں کے باوجود  قائم و دائم ہے۔ بلکہ ان سازشوں کو زیر کرتے ہوئے آگے بھی بڑھ رہا ہے۔  گزشتہ ستر سال ہرگز پاکستان کے لئے آسان نہ تھے اسے شدید سیاسی دباؤ، معاشی اورسفارتی بحرانوں کا سامنا رہا حتٰی کہ سنہ 1971 میں اسے دولخت کر دیا گیا مگر پھر بھی پاکستان کی ترقی کا سفر رکا نہیں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 14 اگست 2017

ملک میں اگرچہ دہشت گردی پر قابو پایا جاچکا ہے لیکن ابھی اس پر مکمل قابو نہیں پایا گیا اور جب تک دہشت گردی کی جڑکا خاتمہ نہیں کیا جاتا ، اُس وقت تک یہ مسئلہ عوام الناس کو خون کے آنسو رُلاتا رہے گا۔ قیامِ پاکستان کا پُرجوش خیر مقدم کرتے وقت ٹائن بی نے ہمیں فرقہ واریت کے فتنہ سے خبردار کرنا ضروری سمجھا تھا ۔ فرقہ وارانہ مذہبی جنون کو پاکستان کے استحکام اور بقاء کے لیے زہرِ قاتل قرار دیتے وقت فلسفۂ تاریخ کے اس نامور شناور نے کتنا درست اور کیسا بروقت انتباہ کیا تھا مگر افسوس کہ ہمارے دینی اور سیاسی قائدین نے آج تک اس بیان کی دُوررس معنویت پر غور کرنا مناسب نہیں سمجھا۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 13 اگست 2017

بانئ پاکستان محمد علی جناح اگر وطن عزیز میں لوٹ آئیں تو سب سے پہلے اس مخمصے یا کشمکش کا شکار ہو جائیں گے کہ وہ جغرافیائی طور پر کون سے پاکستان کے قائداعظم ہیں۔ مغربی پاکستان کے یا مشرقی پاکستان ( موجودہ بنگلہ دیش) کے۔  کیونکہ جس پاکستان کو ہم " اے قائد اعظم ترا احسان ہے احسان" مانتے ہیں اسے مغربی یعنی موجودہ پاکستان کے حساس و نیم حساس اداروں، غیر حساس سیاستدانوں، اور مطالعہ پاکستان اور سرکاری تاریخ کے بیانئیے کے مطابق، مکار و عیار ہندو بنیے اور عالمی استعمار کی ریشہ دوانیوں کے نتیجے میں دولخت کیا گیا۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 11 اگست 2017

امریکہ کے صدر رچرڈ نکسن اپنی مقبولیت کے عروج پر تھے کہ ایک امریکی صحافی نے تہلکہ خیز خبر شائع کی کہ صدر نکسن کے احکامات پر اپوزیشن راہنماوں کے ٹیلی فون ٹیپ کئے جا رہے ہیں۔ اس خبر کا شائع ہونا تھا کہ امریکہ کی سیاست میں بھونچال آگیا۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 11 اگست 2017

میں جب بھی شاہراہِ اسلام آباد (Islamabad Highway) سے گزرتے ہوئے ایک چھوٹی سی پہاڑی پر
faith
unity
discipline
لکھا ہؤا دیکھتا ہوں تو مجھے قائداعظم کے مشہور قول :
unity
faith
discipline
یاد آتا ہے اور میں سوچتا ہوں کہ صدر جنرل ضیاء الحق نے قائداعظم کے اس مشہور قول کو بدل دینے کی جرأت کیسے کی؟

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 07 اگست 2017

احسن اقبال درمیانے طبقے سے تعلق رکھنے والے ان معدودے چند سیاستدانوں میں سے  ہیں جن کا خمیر طلبہ سیاست سے اٹھا ہے۔ ان کی والدہ آپا نثار فاطمہ جماعت اسلامی سے وابستہ تھیں۔ جنرل ضیاء الحق کی مجلس شوریٰ کی رکن نامزد ہوئیں۔ احسن اقبال امریکہ کے وارٹن بزنس سکول سے تعلیم یافتہ ہیں۔ زمانہ طالب علمی میں انہوں نے ایک کامیاب یوتھ کنونشن کا انعقاد کروایا۔ اسلامی جمعیت طلبہ کی تربیت نے ان کی تحریر و تقریر میں نکھار پیدا کیا۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 06 اگست 2017

جنرل (ر) پرویز مشرف بی بی سی کو دیئے گئے انٹرویو میں فرماتے ہیں کہ ملک میں لگنے والے تمام مارشل لاء اس وقت کی ضرورت اور عوام کی خواہشات کے مطابق تھے۔ پاکستان نے مارشل لاء کے زیر اثر ترقی کی اور جمہوری ادوار میں ترقی کے اس سفر کوبرہک  لگ گئی۔ عوام کو اس سے غرض نہیں کہ حکومت آئینی ہے یا غیر آئینی۔ عوام صرف خوشحالی چاہتے ہیں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 04 اگست 2017

نہیں کرنے کا میں تقریر ادب سے باہر
میں بھی واقف اسرار ہوں کہوں یا نہ کہوں
وقت بدل چکا ہے نہ تو اب وہ وقت رہا کہ جب محبوبہ کو اپنی محبت کی یقین دہانی کے لئے کچھ موسمی عاشق کسی پرندے یا جانور کا خون نکال کر خط لکھ بھیجتے تھے ۔ اور یہ پیغام   دینے کی کوشش کرتے تھے کہ یہ میں نے اپنے جسم کے خون سے لکھا ہے۔  بلکہ یوں کہیے کہ خون جگر سے لکھا ہے۔ اور یہ میری سچائی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اور نہ تو اس دور میں فرانزک ٹیسٹ کی سہولت موجود تھی اور اگر ہوتی تو ہزاروں عشاق خوب بے نقاب ہوتے۔  آج عالمی سیاست کا منظر نامہ بھی کچھ ایسا ہی دکھائی دے رہا ہے۔

مزید پڑھیں

Praise and prayers for the great people of Turkey

One year ago, this day, the people of Turkey set an example by defending their elected government and President Recep Tayyip Erdogan against military rebels.

Read more

loading...