معزز صارفین ہماری ویب سائٹ اپ ڈیٹ ہو رہی ہے۔ اگر آپ کو ویب سائٹ دیکھنے میں دشواری پیش آرہی ہے تو ہمیں اپنی رائے سے آگاہ کریں شکریہ

شہر شہر


  وقت اشاعت: 07 فروری 2018

آج کل عدلیہ کی توہین ھماری سیاست کا موضوع ہے۔ جب سے سابق وزیراعظم نواز شریف پانامہ لیکس کے مقدمہ میں نا اہل قرار پائے ہیں، مسلم لیگ (ن) کی قیادت اور وزرا عدلیہ کو مختلف ایشوز پر طعنے دے رہے ہیں۔ عدلیہ نے توہین عدالت کے مرتکب راہنماؤں کو سزا دینے کا عمل شروع کردیا ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 06 فروری 2018

اگر آپ کے پاس ایسا لیڈر موجود ہے جو بیک وقت پیر ہو، مذہبی رہنما ہو اور سیاست دان ہو۔ ایسا لیڈر جو خواب بیچ سکے، ٹی وی کیمروں کے سامنے گلے میں کفن لٹکا سکے، ڈی چوک میں سلطان راہی مرحوم کے گریبان پھاڑ انداز میں مائیک کے سامنے سینہ ٹھوک کر کہے ’آﺅ میرا سینہ حاضر ہے‘۔ یا کم ازکم جس کے پاس ایک عدد کروڑوں روپے کا جادوئی کنٹینر ہو، جو کینیڈا کی شہریت رکھتا ہو، جس کے پاس دنیا کی معمر ترین ملکہ سے وفاداری کا حلف نامہ موجود ہو، جو ہر سال کینیڈا سے چھٹی منانے پاکستان آکر ایک عدد ’ ساشے پیک منی انقلاب‘ لاتا ہو، تو چالیس لائیو کیمروں کی گارنٹی ہم دیتے ہیں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 26 جنوری 2018

جاٹوں راجپوتوں میں پنجاب کے اقتدار کی کشمکش پرانی ہے۔ سیاسی طاقت تعداد میں یہ تقریبا برابر ہیں۔ پنجاب میں نواز شریف فیصلہ کن طاقت ہیں۔ گجرات کے چوہدری کبھی ان کے عزیز ترین مضبوط ترین دوست تھے۔ جاٹ زیادہ تر چوہدری فیملی کے پیچھے کھڑے تھے۔ راجپوتوں کی قیادت چوہدری نثار کرتے ہیں۔ چوہدری فیملی نواز شریف کے زیادہ قریب تھی جبکہ چوہدری نثار کا تعلق شہباز شریف کے ساتھ زیادہ تھا۔ اب بھی انہی دونوں کو اک مک سمجھا جاتا ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 07 جنوری 2018

اس لیے کہ مجھے کچھ کہنا ہوتا ہے ۔ ادب پڑھتا ہوں، ادیبوں سے ملتا ہوں، زندگی کو پڑھتا ہوں۔ زندگی کے مطالبات اور ادیب کی تخلیقات کو بیک وقت دیکھتا ہوں تو اکثر اوقات ادب زندگی کے تقاضوں کو پورا کرتا نظر نہیں آتا اور ادیب زندگی سے آنکھیں چراتا اور زندگی پر قابض قاہر و جابر استبدادی قوتوں سے جسم و جاں کو بچاتا نظر آتا ہے ۔ ایسے میں میرے دل پر جو گزرتی ہے اسے قلمبند کر دیتا ہوں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 31 2017

بانئِ پاکستان ، قائداعظم ،محمد علی جناح کے سیاسی اور تہذیبی معیار و اقدار کی بحث میں لادینیت (سیکولرزم) کاسوال اُٹھانا بدمذاقی ہے۔ خود قائداعظم سے جب پہلی بار، 4جولائی 1947 کی ایک پریس کانفرنس میں، یہ سوال کیا گیا تھا تو اُنہوں نے اسے ایک بیہودہ سوال قرار دیا تھا۔ جب ایک اخبار نویس نے یہ سوال کیا تھا کہ :
Will Pakistan be a secular or theocratic State?
تو قائداعظم نے فرمایا تھا کہ :
You are asking me a question that is absurd. I do not know what a theocratic state means. When you talk of democracy, I am afraid, you have not studied Islam. We learnt democracy thirteen centuries ago

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 30 2017

جب سے سابق وزیر اعظم نواز شریف نے آنے والے عام انتخابات میں شہبازشریف کی بحثیت وزیراعظم نامزدگی کا اعلان کیا ہے، بڑی منصوبہ بندی سے وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کا امیج بلڈ کیا جا رہا ہے۔ انہیں قومی سطح کا راہنما، عالمی طاقتوں کا منظور نظر، ایسٹبلشمنٹ کا پسندیدہ گھوڑا بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 23 2017

یہ بات بڑی معنی خیز ہے کہ اب ہمارے ہاں اپنی قومی تاریخ اور اپنے قومی اکابرین کو بھارتی تناظر میں پیش کرنے کا چلن شروع ہو گیا ہے۔ اس مرتبہ روزنامہ ’’ڈان‘‘ نے بابائے قوم حضرت قائداعظم ؒ کے یومِ پیدائش پر اپنی خصوصی اشاعت میں دو ایسے مضامین بھی شامل کیے ہیں جن میں قائداعظم کو بھارتی تناظر میں پیش کیا گیا ہے۔ یہ مضامین دو مختلف کتابوں میں سے بطور خاص اخذ کرکے قارئین کی خدمت میں پیش کیے گئے ہیں۔ پہلا مضمون دہلی یونیورسٹی میں سیاست کی پروفیسر محترمہ اجیت جاوید کی تحریر ہے جس میں دعوی کیا گیا ہے کہ قائداعظم ایک عظیم مگر ناکام رہنما تھے۔ اُن کی عظمت کا سب سے بڑا راز یہ ہے کہ وہ آخر دم تک ہندوستان کو متحد رکھنا چاہتے تھے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 29 2017

2008 میں برطانیہ کے ایک چھوٹے سے قصبے کی ایک بڑی سی جامعہ میں، ایک وفاقی وزیر تشریف لائے۔ ویسے تو ہمیں کبھی ان سے ملاقات کا شرف نصیب نہ ہوتا، چونکہ اس جامعہ میں پاکستانیوں کی تعداد خاصی کم تھی اس لئے ہمیں بھی شرف قبولیت بخشا گیا۔ باقی باتیں تو بھول گئیں، لیکن ایک بات یاد ہےکہ وفاقی وزیر نے بڑے درد ناک انداز میں فرمایا۔ "پاکستان کو اس حال میں پہنچانے میں ہم سب کا کردار ہے۔ آج پاکستان میں حالات بہت خراب ہیں لیکن میں ایک امید کی کرن دیکھ رہا ہوں۔ میں آپ لوگوں کو دیکھتا ہوں اور سمجھتا ہوں آپ پاکستان کو بہتری کی طرف لے جائیں گیں۔ دیکھیں ناں، حالات اس سے زیادہ تو خراب نہیں ہو سکتے نا؟ اب چیزیں بہتری کی طرف کی جائیں گی۔ انشا اللہ"۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 27 2017

علامہ اقبال نے ہوش سنبھالتے ہی مسلمان معاشروں کو جن بیماریوں میں مبتلا پایا اُن میں سے ایک مہلک بیماری کا نام مقدر پرستی ہے۔ انسان کی تقدیر کے بارے میں یہ تصور راسخ ہوچکا تھا کہ ہر شخص پیدائش کے وقت اپنا مقدر ساتھ لاتا ہے۔ یہ مقدر کسی صورت میں بھی تبدیل نہیں ہو سکتا۔ کوئی بھی انسانی جدوجہد انسان کے مقدر کو تبدیل نہیں کر سکتی۔ چنانچہ آدمی کو غربت سے لے کر غلامی تک ہرچیز کو تقدیر کا فیصلہ سمجھ کر چپکے چپکے برداشت کرتے رہنا چاہیے۔ اقبال مقدر پرستی کے اس تصور کو قرآنِ حکیم کی تعلیمات کے منافی قرار دیتے ہیں:
اسی قرآں میں ہے اب ترکِ جہاں کی تعلیم
جس نے مومن کو بنایا مہ و پرویں کا امیر
تن بہ تقدیر ہے آج ان کے عمل کا انداز
تھی نہاں جن کے ارادوں میں خُدا کی تقدیر

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 14 2017

دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جہاں ستر ہزار سے زائد پاکستانیوں نے اپنی قیمتی جانیں گنوائیں  وہیں اس جنگ کے نتیجے میں متعدد سیاہ ترین واقعات بھی ہماری یاداشتوں کا حصہ بنے جو ہرگز کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہیں۔ مگران سب سیاہ ترین واقعات میں جو امتیازی مقام جولائی 2007 کے سانحے کو حاصل ہے اس کی نظیر دیگر اقوام کی تاریخ میں شاید ڈھونڈنے سے بھی نہ ملے۔ کیونکہ تبھی عالمی میڈیا میں پاکستان کو ایک دہشت گرد ریاست کے طور پر متعارف کروانے کے اُس تشویشناک سلسلے کا باقاعدہ آغاز ہوا جس کی جھلک ہم آئے دن بین الاقوامی فورمز پر مشاہدہ کرتے رہتے ہیں۔

مزید پڑھیں

Donald Trump's policy towards Pakistan

Donald Trump's; the president of US war of tweets was a fierce attack on Pakistan, accusing the country of "lies and deceit" and making "fools" of US leaders. Trump decla

Read more

loading...