حکمرانوں کے لئے کتابوں کا انتخاب

پیرس میں ایک چھوٹی دکان کتابوں کی… یہ درصل ایک کتاب کا نام ہے جو میں نے چند سال پہلے پڑھی تھی۔ ایک مقبول جرمن ناول کا انگریزی ترجمہ۔ اپنی گفتگو میں اس کا ذکر کئی بار کرچکا ہوں۔ وہ اس لئے کہ اس ناول کا مرکزی کردار خود کو ایک ایسا معالج مانتا ہے کہ جو کتابوں سے ذہنی اور جذباتی طور پر پریشان اور ناآسودہ افراد کا علاج کرسکتا ہو اس نے پیرس کے دریائے سین پر لنگر انداز ایک کشتی یا بحرے پر اپنی جو دکان کھولی ہے اسے آپ کتاب دوا خانہ کہہ سکتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ناول کی کہانی بہت پھیلی ہوئی اور پیچیدہ ہے۔ کردار اور واقعات فرضی ہیں۔ لیکن بیشتر کتابیں جن کا ذکر ہے وہ اصلی ہیں۔ جس طرح کسی دوا کی خاصیت بیان کی جاسکتی ہے اسی طرح مختلف معروف کتابوں کے فائدے اور نقصانات کا تذکرہ ہے۔ مطلب یہ کہ کتابوں سے سکون آور دوائوں کا کام لیا جاسکتا ہے۔ اور یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ وہ لوگ جنہیں مطالعے کا شوق ہے اور جنہیں کتابوں سے عشق ہے وہ جانتے ہیں کہ کتابیں زندگی کا کتنا بڑا سہارا ہیں۔ وہ کیسے ہم میں اپنے آپ اور اپنی دنیا کو سمجھنے کی صلاحیت پیدا کرتی ہیں۔ یہ ایک کافی پرانی ریسرچ ہے کہ شاعری اور اداس شاعری بھی ڈپریشن یعنی مریضانہ مایوسی میں کمی کر سکتی ہے۔
یہ سوال شاید آپ کے ذہن میں آئے کہ میں اس وقت کہ جب سپریم کورٹ کے کئی معنوںمیں ایک تاریخی فیصلے اور موجودہ حکومت کے ایک زردار رہنما علیم خان کی گرفتاری نے سرخیوں اور تبصروں کا ایک طوفان کھڑا کردیا ہے کتابوں کی کیوں بات کررہا ہوں… اس کا ایک حوالہ تو وہ ادبی فیسٹیول ہے جو گزشتہ اختتام ہفتہ کراچی میں منعقد ہوا اور جس نے پڑھے لکھے اور باشعور شہریوں کو تین دن کے لئے جیسے اپنی گرفت میں لے لیا۔ ایک معیاری ادبی میلے میں ادیب، شاعر اور مفکر ایک خاص سطح پر اپنے معاشرے سے ہم کلام ہوسکتے ہیں۔ بنیادی رشتہ کتابوں کا ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہم خیال دوستوں اور شناسائوں سے ملنے کا موقع بھی ملتا ہے۔ دل بہل جاتا ہے۔ کتابوں کا ذکر کرنے کی دوسری اور اتنی ہی مناسب وجہ یہ ہے کہ گزشتہ ہفتے کے آغاز میں دو دن میں نے برف پوش مری میں گزارے جہاں پاکستان انسٹی ٹیوٹ فارپیس اسٹیڈیز نے سماجی ہم آہنگی کے موضوع پر یونیورسٹی کے اساتذہ کے ساتھ ایک مکالمے کا بندوبست کیا تھا۔ میں نے وہاں مطالعے کے کلچر پر بات کی۔ اب یہ دیکھئے کہ ہمارے تھنک ٹینک اور غیرسرکاری تنظیمیں اور سول سوسائٹی کے مجاہد کیسے ایک روشن خیال اور انسان دوست معاشرے کی تشکیل کے لئے اپنی جدوجہد میں مصروف ہیں لیکن مقتدر حلقے اور حکمراں نظریات ان کے راستے میں ایک دیوار بن کر کھڑے ہیں۔ پھر بھی، ایک تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا کی یلغار نے ہمارے دیرینہ یقینوں اور عقیدوں میں کئی شگاف ضرور ڈال دئیے ہیں۔ سپریم کورٹ کا فیض آباد دھرنے کا تفصیلی فیصلہ اس ضمن میں واقعی قابل غور ہے۔ اس فیصلے کا پیغام کہاں تک جائے گا اور اسے کوئی کتنا سمجھے گا، یہ دیکھنے کی بات ہے۔ جہاں سے میں نے بات شروع کی تھی اس کو نظر میں رکھتے ہوئے میرے ذہن میں یہ خیال آیا ہے کہ ہم کسی ’’کتاب حکیم‘‘ سے یہ مطالبہ کریں کہ وہ حکمرانوں کی ذہنی الجھنوں کے علاج کے لئے چند کتابوں کا نسخہ تجویز کریں۔ اب سوچئے کہ وہ کتابیں کونسی ہوں گی۔ قوموں کے عروج و زوال کے بارے میں کوئی مستند تاریخی تجزیہ… کوئی ناول… کوئی ڈرامہ جو شاید شیکسپیئر کا ہو… الف لیلہ کی داستانیں… منٹو کے افسانے… فیض کی شاعری۔ وغیرہ وغیرہ… یہ ایک دلچسپ مشق ہوگی کہ ہم اپنے حکمرانوں کے لئے کن کتابوں کا انتخاب کریں۔ چلئے اس مشق کو ہم کسی اور وقت کے لئے اٹھا رکھتے ہیں۔ اچھا تو یہ ہوتا کہ یہ کتابیں انہوں نے خود ہی پڑھ لی ہوتیں۔ ایسا ہوتا تو حالات بھی مختلف ہوتے۔ اس ملک کی تقدیر بھی بدل چکی ہوتی۔
میری نظر میں یہ بات کہ ہمارے پڑھے لکھے لوگ بھی اور خاص طور پر وہ جنہیں فیصلے کرنے کا اختیار ہے، کتابیں نہیں پڑھتے ایک المیہ ہے۔ میں جانتا ہوں کہ اس طبقے میں گنے چنے ایسے افراد ضرور ہیں جو مطالعے کے عادی ہیں۔ میرا اشارہ پاکستان کی عمومی فکری اور علمی پسماندگی کی طرف ہے۔ اس سلسلے میں جو اعداد و شمار میں نے جمع کئے ہیں اور دنیا کے دوسرے ملکوں میں دانائی، دانشوری اور عقلیت پسندی کا جو ماحول دیکھا ہے اس کے حساب سے ہمارا حال انتہائی خراب ہے۔
یہ سچ ہے کہ ترقی کے لئے ہمیں کئی محاذوں پر اپنی جنگ لڑنا ہے۔ میری نظر میں پڑھنے، سوچنے اور خواب دیکھنے کی صلاحیت سب سے اہم ہے۔ ایک دلیل یہ ہے کہ افسانوی ادب اور شاعری سے ہمارے تخیل کی قوت میں اضافہ ہوتا ہے۔ آئن اسٹائن کی ایک مشہور کہاوت کچھ یوں ہے کہ تخیل یا تصور علم سے بھی برتر ہے۔ بچوں کی ذہانت کو فروغ دینے کے لئے اس کا مشورہ تھا کہ ان کو داستانیں یعنی پریوں کی کہانیاں پڑھ کر سنائیں۔ افسانوی ادب سے ہم زندگی گزارنے کا ہنر سیکھتے ہیں۔ ایک نہیں، کئی زندگیاں جی لیتے ہیں۔ کئی زمانوں میں سانس لے سکتے ہیں۔ اس طرح ہم میں دوسرے افراد کی مشکلات اور محسوسات کو سمجھنے کی ایک خاص صلاحیت پیدا ہوتی ہے جو ہمیں ایک بہتر انسان بنا سکتی ہے۔ لیکن جس بات پر میں زیادہ زور دیتا ہوں وہ یہ ہے کہ افسانوی ادب سے ہماری تخلیقی استعداد میں اضافہ ہوتا ہے ہم ایجادی سوچ اپنا سکتے ہیں۔ زندگی میں جدت پیدا کرسکتے ہیں۔ جو خواب ہم دیکھتے ہیں (وہ بھی جو ہم جاگتے میں دیکھتے ہیں) ان میں وسعت پیدا ہوتی ہے۔ فکر کی اس راہ پر آگے چل کر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ کیونکہ ہمارے ملک میں بہت زیادہ لوگ کتابیں اور خاص طور پر افسانوی ادب نہیں پڑھتے اس لئے ہماری قومی اور اجتماعی قوت تخلیق کمزور ہے۔ اور اسی لئے ہم مادی اور معاشی ترقی کی دوڑ میں بھی اتنے پیچھے رہ گئے ہیں۔ اس تعلق کی صداقت آپ پر واضح ہوجائے گی اگر آپ یہ جان لیں کہ کس ملک میں کتنی لائبریریاں ہیں۔ کتنی کتابیں شائع ہوتی ہیں۔ کتنی فروخت ہوتی ہیں۔ اور اس پیمانے پر کسی ملک کی فی کس آمدنی یا اقتصادی قوت کتنی کم یا زیادہ ہے۔
(بشکریہ: روز نامہ جنگ)

Comments:- User is solely responsible for his/her words