پاکستان کی سیاسی تاریخ میں جدو جہد کی علامت بے نظیر بھٹو شہید

آج سے تیس سال قبل بے نظیر بھٹو میں مسلم دنیا کی پہلی منتخب خاتون وزیر اعظم کی حیثیت سے حلف اٹھایا ۔یہ ایک تاریخی دن تھا ۔محترمہ نے دس سال تک مستقل مزاجی سے ضیاء آمریت کا مقابلہ کیا ۔اس عہد میں عدلیہ آزاد نہیں تھی ۔میڈیا پر پابندیاں تھیں ۔پیپلز پارٹی کے کارکنوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا تھا ۔انہیں کوڑوں کی سزا دی جا رہی تھی اور شاہی قلعہ میں بند کر دیا جاتا تھا۔
صاحبان اقتدار کے مطابق پیپلز پارٹی مر چکی تھی اور ضیاء الحق ہمیشہ کیلئے اسلامی نظام کے نفاذ کے ن ام پر اقتدار نشین ہو گیا تھا ۔بے نظیر بھٹو کو قید تنہائی میں رکھا گیاتھا جہاں پر کوئی بنیادی سہولتیں میسر نہیں تھیں۔ محترمہ کو با امر مجبوری باہر جانے کی اجازت دی اور انہیں جبرناً جلا وطنی کو قبول کرنا پڑی۔ ضیاء الحق نے اپنی مرضی کی جمہوریت کا انتخاب کر کے غیر جماعتی بنیادوں پر انتخابات کروائے اور محمد خان جونیجو کو وزیر اعظم بنایا ۔افغانستان سے امریکہ نے فوجوں کی منتقلی کا فیصلہ کیا تو ضیاء الحق نے بے نظیر بھٹو کو ملک واپس آنے کی اجازت دی۔ 1986میں لاہور میں محترمہ کا تاریخی استقبال ہوا جس میں لاکھوں افراد نے شرکت کی۔ یہ استقبالیہ جلوس 24گھنٹوں تک جاری رہا ۔اس سے بڑا جلوس اور اجتماع پاکستان کی تاریخ میں کبھی منعقد نہیں ہوا تھا۔ 1988اور1993میں پیپلز پارٹی کو شرائط کے تحت اقتدار دیا گیا ۔بے نظیر بھٹو اور اس کے کابینہ کے ارکین کو اہم امور کے بارے میں پالیسی بنانے یا مداخلت کرنے کی اجازت نہیں تھی۔ ان دونوں انتخابات کے دوران مختلف اداروں نے پیپلز پارٹی کی انتخابات میں کامیابی روکنے کیلئے دائیں بازو اور مذہبی جماعتوں کے اتحاد بنائے گئے۔ دائیں بازو کی سیاست کے اہم مائنڈ جنرل گل حمید کے بقول پارٹیوں کی نشو ر نما کی کانٹ چھانٹ ریاستی اداروں کی ضرورت ہوتی ہے تا کہ وہ بغاوت نہ کر سکیں ۔پارٹی کے دونوں عرصہ اقتدار سیاسی محاذ آرائی اور سازشوں کی نظر ہوئے اور حکومت طے شدہ آئینی مدت پوری نہ کر سکی۔ یہی صورتحال نواز شریف کے حوالے سے تھی وہ ریاستی اداروں کے پسندیدہ ہونے کے باوجود آئینی مدت پوری نہ کر سکے 1988سے 1999کے دوران سیاسی قیادتوں میں محاذ آرائی عروج پر روہی ۔سیاست دانوں پر مقدمات بنائے گئے جن کی پیشی کیلئے محترمہ بے نظیر بھٹو اپنے چھوٹے بچوں کےساتھ مختلف شہروں اور عدالتوں میں جاتی رہی ۔اس حوالے سے شائع ہونے والی تصاویر اس کی جدو جہد اور بے بسی کی مظہر ہے۔
وہ ایک جمہوریت پسند خاتون تھیں وہ ایسے معاشرے میں سیاست کرتی رہی جہاں پر عورت کیلئے گھر کی چار دیواری میں بھی تحفظ میسر نہیں ہے۔ وہ ایسے باپ اور والدہ کی بہادر بیٹی تھی جو کہ پاکستان کا سب سے زیادہ ذہین اور عوامی مفاد کے بارے میں سوچنے والا انسان تھا ۔محترمہ نے جدو جہد سے میرٹ کی بنیاد پر سیاست میں اعلیٰ مقام بنایا اس کے باپ کو تختہ دار پر چڑھایا گیا ۔بھائی شاہنواز کو سازشوں سے موت کی نیند سلا دیا گیا ۔مرتضیٰ بھٹو کو اس کے اقتدار کے دوران کراچی میں گولیوں کا نشانہ بنایا گیا ۔اس کے خاوند آصف علی زرداری کو طویل عرصہ تک پابند سلاسل رکھا گی۔ا اس کی جوانی محرومیوں سے دو چار ہوئی جبکہ بچوں کو باپ کی مناسب شفقت نصیب نہ ہو سکی ۔بے نظیر بھٹو کے دور سے لےکر اب تک آصف علی زرداری کی پارٹی وہ جماعت ہے جس نے جمہوریت اور انسانی حقوق کی خاطر بے پناہ قربانیاں دی ہیں۔
پارٹی کی موجودہ قیادت میں تجربہ کار سیاست دان موجود ہیں جو کہ ریاستی امور تاریخ اور سیاست سے با خوبی واقف ہیں ۔وہ مخصوص نقطہ نظر اور سیاسی پختگی رکھتے ہیں ۔ان کی سیاسی ترجیحات اور افکار عہد حاضر کے دیگر سیاسی جماعتوں کی نسبت کہیں بہتر ہوتے ہیں جس میں ریاست سماج کی بہتری کے حوالہ سے اظہار خیال کیا جاتا ہے ۔یہ سیاسی شعور و فکر کا نظریاتی فہم و ادراک پارٹی قیادت ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو کی سیاسی تربیت اور نظریات کا مرہون منت ہے۔ پارٹی کے بنیادی کارکن بھی نظریاتی حوالے سے سیاسی طور پر گفتگو میں پختگی کا اظہار کرتے ہیں ۔پیپلز پارٹی وہ سیاسی جماعت ہے جو کہ اقلیتوں کے تحفظ میں سب سے آگے ہے۔ بلکہ اس نے اقلیتوں کے نمائندوں کو مخصوص نشستوں کی بجائے براہ راست انتخابات میں کامیاب کروایا ہے۔ یہ پاکستان کی واحد ترقی پسند اور سیکو لر جماعت ہے جو کہ تمام شہریوں کو بلا تمیز مذہب رنگ و نسل برابری کی نسل سے دیکھتی ہے ۔محترمہ بے نظیر بھٹو نے اپنے دور اقتدار کے دوران غریب عورتوں کی امداد کیلئے ایشیا کے سب سے بڑے ویلفیئر پروگرام بے نظیر انکم سپورٹ کا اغاز کیا ۔اس کے ساتھ وسیلہ روز گار کے پروگرام کے تحت ان کی روزی روٹی کے حصول کو یقینی بنایا ۔باپ نے ملک میں ایٹمی پروگرام کا آغاز کیا تو بیٹی نے جدید میزائل ٹیکنالوجی سے لیس کر کے وطن عزیز کے دفاع کو نا قابل تسخیر بنا دیا ۔وہ ایک عملیت پسند سیاست دان تھیں وہ معروض سے ہم آہنگ سیاست کرنا جانتی تھی۔ وہ دنیا میں سویت یونین کے منتشر ہونے والی سیاسی ثقافتی اور معاشی تبدیلیوں سے آگاہ تھیں ۔اس کو معلوم تھا کہ پرانے نظریاتی پیکج کے ساتھ دنیا میں زندہ رہنا مشکل ہے ۔
یاد رہے جب ذوالفقار علی بھٹو نے سیاست کا آغاز کیا تو دنیا میں ایشیا سرخ اور سوشل ازم کے نعرے سنائی دیتے تھے۔ سرمایہ دارانہ اجارہ داریوں کو توڑنے اور نچلے طبقات کو معاشی اور سماجی ریلیف فراہم کرنے کیلئے صنعتوں اور اداروں کو قومی طویل میں لینا ضروری تھا مگر وقت گزرنے کے ساتھ ان اداروں کو ریاستی طویل میں چالانا ممکن نہیں تھا ۔دوسرے سرمایہ کاری کیلئے آزادانہ فضا کی ضرورت ہوتی ہے تا کہ منڈی کی معیشت کے اسٹیک ہولڈر صنعتی ترقی کیلئے اپنا کردار ادا کر سکیں ۔جس کیلئے نیو لبرل ازم کا ایجنڈا سامنے آیا جس کو مار گریٹ تھیرچر اور امریکن تھینک ٹینک سے کاروباری اور صنعتی فروغ کیلئے لازمی قرار دیا ا۔س ایجنڈے کے تحت بے نظیر بھٹو نے ملک میں صنعتوں اور اداروں کی نجکاری کے پروگرام کا آغاز کیا جس سے پیپلز پارٹی کے نظریاتی کارکن ناراض ہوئے ۔مگر ایسا کرنا وقت کی ضرورت تھا ۔
ہم نے دیکھا کہ سویت یونین کے منتشر ہونے کے بعد نظریاتی پسپائی کا آغاز ہوا ۔مغرب کا فلاحی نظام لرزہ نظر آیا کیونکہ ریاستوں نے بتدریج انسانی فلاح کے منصوبوں اور ریلیف سے دستبردار ہونا شروع کر دیا۔ آج بھی یورپ میں کئی ممالک میں ریاست کے نیو لبرل ایجنڈے کے تخت محنت کشوں کی مراعات چھینی جا رہی ہیں ۔یونین فرانس اور سپین میں حکومتوں کے خلاف تحریک جاری ہے ۔بے نظیر بھٹو نے اپنے مختلف مضامین اور تقاریر میں مستقبل میں ہونے والی معاشی اور ثقافتی تبدیلیوں اور وقت کے ساتھ نہ چلنے والی قوموں کے زوال کے بارے میں برملا اظہار کیا ۔وہ ایک ترقی پسند اور روشن خیال لیڈر تھیں اور جانتی تھی کہ پاکستان کو قدامت اور رجعت پسندی کے نظریات کے ساتھ نہیں چلا سکتا ۔یہاں پر تمام لوگوں، نسلوں او ر عورتوں کو مساوی حقوق دینے کی ضرورت ہے ۔اس نے جمہوریت اور انسانی حقوق کیلئے تمام عمر جدو جہد کی ۔راولپنڈی میں انتخابی مہم میں جلسہ عام کے بعد خود کش دھماکے ، کے بعد گولیوں سے شہید کر دی گئیں ۔
یہ پاکستان کی سیاسی تاریخ کا لیاقت علی خان کی شہادت اور ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے بعد تیسرا بڑا سیاسی المیہ تھا ۔ملک میں بے پناہ ہنگامے ہوئے جس میں اربوں روپے کی مالیت کے اثاثے جلا دیئے گئے۔ آصف علی زرداری نے پاکستان کھپے کا نعرہ لگا کر تحریک کو فسطائیت نسلی اور صوبہ پرستی کی نظر ہونے سے روک دیا۔ اس سانحہ کی وجہ سے ہم پاکستان کی قد آور اور عالمی شہرت کی حامل سیاست دان سے محروم ہو گئے ۔پیپلز پارٹی کی موجودہ قیادت اپنے بنیادی نعروں روٹی کپڑا مکان بالخصوص سوشلسٹ پروگرام سے ہٹ چکی ہے۔ آج وہ ایک سوشل ڈیمو کریٹ منشور کی حامی ہے جو جدید فلاحی ریاستوں کا بنیادی ایجنڈا ہے۔ یاد رہے سیاسی جماعتوں میں تمام لوگ نظریاتی نہیں ہوتے مگر وہ مفادات کی خاطر کسی سیاسی جماعت کا انتخاب کرتے ہیں جس کی قیادت عوام میں مقبولیت رکھتی ہو ۔
موجودہ حکومت کا اقتدار ان ایلکٹ ایبل کی وجہ سے ہے جو ہر ایک اقتدار کا حصہ ہوتے ہیں ۔اب ہمیں ملک میں احتساب ، احتساب کی گونج سنائی دیتی ہے۔ بظاہراس کا مقصد سیاسی مخالفین کو آؤٹ کرنا ہے جبکہ ریاست کو معاشی بحران کا سامنا ہے آئی ایم ایف سے قرضہ حاصل کرنے کیلئے غیر ملکی زر مبادلہ میں دو ارب اضافے کی ضرورت ہے ۔اس وقت بڑا مسئلہ بلوچوں کی محرومیوں کو دور کرنا ہے انہیں قومی دھارے کی سیاست میں شامل کرنا ہے ان معاملات کو طے کرنے کیلئے اٹھارویں ترمیم کا کریڈیٹ پیپلز پارٹی کو جاتا ہے۔ مگر اس حوالے سے بہت کچھ کرنا باقی ہے۔
27دسمبر کو بے نظیر بھٹو کی شہادت کے دن پیپلز پارٹی ایک بڑا جتماع کرے گی۔ پارٹی قیادت کو بد عنوانی کے حوالہ سے کئی مقدمات کا سامنا ہے ۔احتساب کی تلوار ان کے سروں پر لٹک رہی ہے۔ ایسی صورتحال میں کیا لائحہ عمل بنایا جائے گا اس کے حوالے سے بہت بڑا سوال ہے۔ ماضی میں سیاسی جماعتیں اقتدار میں آنے کیلئے مخالف جماعتوں کا گلہ دباتی رہی ہیں۔ اور اقتدار کی خاطر مقبول عام قیادتوں کو جانوں کی قربانیاں دینی پڑی ہیں ۔آج میاں نواز شریف کا خاندان بھی مکافات عمل سے گزر رہا ہے۔ اللہ کرے ہم ذاتی اغراض کیلئے ایک دوسرے کی تکلیف پر تالیاں بجانا بند کر دیں۔
پیپلز پارٹی کے ساتھ عملیت پسندی کے حوالہ سے اختلافات کے باوجود نظریاتی آئیڈیل ازم اور شخصی رومانس کے حوالہ سے پارٹی بارے میں میرے دل میں آج بھی نرم گوشہ موجود ہے۔ پاکستان کا ترقی پسند اور سیکو لر سیاست کا مستقبل پیپلز پارٹی کے ساتھ وابستہ ہے آئندہ اس حوالے سے سیاست کا مرکز اور محور بلاول زرداری بھٹو ہوگا ۔

Comments:- User is solely responsible for his/her words