بطیحا

  • آبادی بم اور ان کوالیفائیڈ والدین

    شومئ قسمت سے پاکستان کا ستارہ گردش میں ہے ۔ نا اہل حکمرانوں ، نالائق سیاستدانوں اور غیر ذمّہ دار قومی اور صوبائی اداروں نے مل جُل کر اِسے ناقابلِ حکومت بنا دیا ہے ۔ اور اب اِس مرے پہ نو سو دُرّے کہ غیر ضروری آبادی کا گراف خطرے کی ساری حدوں کو عبور کر گیا ہے ۔ ایسا لگتا ہے کہ دنیا [..]مزید پڑھیں

  • مُقدر کی چاردیواری میں قید ایک قوم

    آزادی حاصل کرنا جوکھوں کا کام ہے ۔ آزادی کے حصول کے لئے قوموں کو افراد کی قیادت میں آگ اور خون کے دریا سے گزرنا پڑتا ہے ۔ صبر آزما تحریکوں کی طول طویل  مشقت اُٹھانی پڑتی ہے لیکن ۔ ۔ ۔ لیکن آزادی حاصل کر کے اُسے برقرار رکھنا ، اُس کی ناموس کی حفاظت کرنا اور غلامی سے رہائی پانے وا [..]مزید پڑھیں

  • تبدیلی کا اطلاقی علم

    اس برس اگست کے وسط میں وطنِ عزیز اڑسٹھ برس  کا ہو جائے گا ۔  اس سے قطع نظر کہ پاکستان اپنی جغرافیائی حدود میں جو تھا ، وہ اب پہلے جیسا نہیں ہے ۔ ممکن ہے تقسیم سے پہلے یہ ملک کوئی خواب یا نظریہ رہا ہو مگر تقسیم کے بعد سے پاکستان ایک جیتی جاگتی حقیقت ہے ۔ اور یہ جیتی جاگتی ریاست [..]مزید پڑھیں

loading...
  • کہاں کا فرد اور کہاں کے اِدارے

    پاکستان کے معاملات میں دخل اندازی کی میں نے کبھی خواہش کی ہے نہ سازش ۔  لیکن میری مِٹّی چونکہ کنارِ چناب کی ہے ، اِس لئے میری مِٹّی کا دُکھ آنسو بن کر میرے قلم سے بہنے لگتا ہے ۔ پاکستان میں کالم نگاری ایک پیشہ ہے اور بعض کالمسٹوں  بلکہ ففتھ کالمسٹوں کا ایک ایک کالم لاکھوں می [..]مزید پڑھیں

  • تبدیلی کی دلی ابھی دور ہے

    اسلام کے ڈایا سپورا سے باہر آباد دنیا قانون اور آئین کی پابندی کی فصلیں اُگا رہی ہے اور اپنی اپنی معاشرتوں کے لیے فلاح و بہبود کے انبار کاٹ رہی ہے ۔ وہ جانتی ہے کہ قانون کی پابندی زندگی ہے اور قانون شکنی موت کا عمل ہے ۔ کر کزرنے والے ہر جگہ اپنی سی کر گزرتے ہیں اور اپنی لالچ اور ح [..]مزید پڑھیں

  • لاقانونیت کی حکمرانی

    پہلے پہل یہ بات معاشرتی علوم کی کتابوں میں پڑھی کہ ایک یونانی بابے ارسطو نے انسان کو سماجی حیوان ( جانور) قرار دے رکھا ہے ۔ کوئی فلسفی جب اپنی نسل کی وجودی تعریف وضع کرتا ہے تو وہ یہ کام نجی حوالے سے کرتا ہے ۔ چنانچہ ایک سماجی حیوان نے کہا کہ انسان سماجی حیوان ہے ۔  اور یہی حیوان [..]مزید پڑھیں

  • ایہہ سب “ بول “ تے کُجھ نہ پھول

    بول ، کون بولا ؟ نیویارک ٹائمز کا اداریہ بولا اور بُہت سُر میں بولا ۔ پاکستان جعلی ڈگریوں کے سکینڈل کی ملامت سے گونجا جس کی باز گشت پانچوں برِ اعظموں میں سنائی دی ۔ لگا کہ “ بول “ کی ب بالفتح ہو کر ایک تیزابی ریلے کی بکینی پہن کر شرل شرل بہ نکلی ۔ ایکس ایکٹ کے مدارالمہام شی [..]مزید پڑھیں

  • کیا کچھ سوالات پوچھنے کی اجازت ہے ؟

    قتل اور اقدام قتل اب ہماری معاشرتی روایت بن گیا  ہے اور سید منور حسین سابق امیرِ جماعت اسلامی کا “ قتال فی سبیل اللہ  “ کا نعرہ میرے کانوں میں گونج رہا ہے ۔ میں دوبارہ اس آواز کو سننے کی کوشش کرتا ہوں اور اُس کا درست مفہوم جاننا چاہتا ہوں مگر بس کے اسماعیلی مسافرو [..]مزید پڑھیں

  • جہالت کی یونی ورسٹیاں اور بے ادبی کی وزارتیں

    پاکستان اپنی تاریخ کے ایک انتہائی پُر آشوب دور سے گزر رہا ہے ۔ ہر طرف ایک انارکی اور انتشار ہے ۔ لوگ ایک دوسرے سے بر سرِ پیکار ہیں ۔ اخلاقی انحطاط اور ابتذال اس حد تک پہنچ گیا ہے کہ  لگتا ہے جیسے قانون کے محافظ ادارے کے اہل کار قانون کی اہمیت سے واقف ہی نہیں ۔ آج ہی ٹی وی کی کھڑک [..]مزید پڑھیں

  • ایک مہاجر کی ڈائری

    میں مہاجر ہوں ۔ میرے آباؤ اجداد نے جنت الفردوس سے زمین پر ہجرت کی تھی ۔ ہم سب فردوسی الاصل ہیں ۔  فی الوقت ہم مہاجروں میں سے کسی کو بھی معلوم نہیں  کہ ہمارا آبائی اور اصلی وطن فردوس کہاں تھا اور اب وہاں کون رہتا ہے ۔ شاید وہاں وہ خود کُش بمبار رہتے ہیں جو گندھک کے کُرتے پہن کر [..]مزید پڑھیں