بطیحا

  • فوجی عدالتوں پر بحث

    فوج پاکستان میں کبھی براہِ راست اور کبھی بالواسطہ ہمیشہ ہی بر سرِ اقتدار رہی ہے  اور اس کا آغاز سن اُنیس سو اٹھاون کے اکتوبر میں ہوا جب جنرل محمد ایوب خان نے ملک میں مارشل لاء نافذ کیا اور اُس وقت کے غیر فوجی حکمرانوں کو ، جو بر سرِ اقتدار تھے ، معزول کرکے ایبڈو کے قانون کے تحت& [..]مزید پڑھیں

  • مقتل میں خلطِ مبحث

    ان دنوں میڈیا  میں ،  خواہ سوشل ہو یا اینٹی سوشل  دو  چٹھیوں کا تذکرہ ہے ۔ ایک وہ جسے ایک قطری شہزادے نے وزیر اعظم  نواز شریف کے  بچوں کی املاک کو جائز وراثت ثابت کرنے کے ضمن میں  لکھا ، جسے پاکستان کی عدالتِ عظمیٰ میں پیش کیا گیا ۔ دوسرا خط سابق بعد ازاں نا اہل وز [..]مزید پڑھیں

  • قرار داِ دِ لاہور کے ستتر برس بعد

    یہ ستتر سال پہلے کا وہ قصّہ ہے جو نئی نسل کو تو کیا ، اس عہد کے بیشتر سیاسی خُداؤں پر بھی پوری طرح آشکار نہیں ۔ میرے جیسے لوگ جو عمر میں پاکستان سے بھی دو چاربرس بڑے ہیں ، محض سنی سنائی اور رپورٹ کی ہوئی باتوں پر ایمان رکھتے ہیں ۔ ماقبلِ تقسیمِ ہند کی مخلوط مذہبی سوسائٹی میں  جس [..]مزید پڑھیں

loading...
  • کالم نگاری کی بیماری

    تحریر اور ردِ تحریر ، ابلاغ اور ردِ ابلاغ اور مدح  و ذم ،  سب کے سب جدید معاشرتی اور  صحافتی لوازمات ہیں ۔ کالموں کا پیٹ بھرنے کے لیے ناگزیر ہیں  کیونکہ نقار خانے کے  طوطیوں  کا منصب یہی ہے کہ وہ اپنے اپنے لہجے میں ٹیں ٹیں کرتے رہیں ۔ میڈیا ایک صحرا ہے جس میں صدا تو [..]مزید پڑھیں

  • بارود اور کرکٹ

    یہ انسانی رشتوں کی موت کا نوحہ ہے ۔ یہ ہماری نفسا نفسی اور بے حسی کا منظر نامہ ہے کہ ایک ہی گلی کے ایک گھر میں جنازہ پڑا ہوتا ہے اور دوسرے گھر میں شادی کی ڈھولک بج رہی ہوتی ہے ۔ یہ روایت بہت پرانی ہے اور ہماری زندگیوں کے تمام شعبوں میں مختلف انداز میں اپنے پر پُرزے نکالتی دکھائی دی [..]مزید پڑھیں

  • دیکھو ! کون بولا

    ارسطو نے قبلِ مسیح ایک سیاسی بیان جاری کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ انسان سوشل اینیمل یعنی سماجی حیوان ہے ۔ چنانچہ اس راز سے آشنا ہو جانے کے بعد میں چالیس برس تک سماجی حیوان بن کر سماجی حیوانوں میں پھرتا رہا لیکن مجھے بطور سماجی حیوان قبول ہی نہیں کیا گیا بلکہ ہمیشہ ایک آؤٹ سائی [..]مزید پڑھیں

  • دلوں کو ملانے والی سڑکیں اور پُل

    منم عثمان مروندی کہ یارِ شیخ منصورم ملامت می کُند خلقے کہ من بر دار می رقصم اور شیخ عثمان مروندی لال شہباز قلندر کی درگاہِ عالیہ قلندریہ پر سینکڑوں دھمالی لہو میں نہا گئے ۔ دار محبت پر رقص برپا ہو گیا اور ایسا رقص کہ رقاصوں کے پرزے اُڑ گئے ۔ اور پرزے کچھ ایسے اُڑے کہ پر لگا کر کچ [..]مزید پڑھیں

  • جدید سیاسی فنون

    جدید سیاسی فنون میں جو فن پاکستان میں سب سے زیادہ مقبول ہے وہ ہے اپنے سیاسی حریف کو اسٹیج پر کھڑے ہو کر بیان کی توپوں سے داغ دینا ۔ ہمارے یہاں تو عدالتوں میں بھی یہ بات معزز وکیلوں کی زبان سے کہلوائی جا چکی ہے کہ اسمبلی میں کی گئی حکمرانوں کی تقریروں کا مطلب وہ نہیں ہوتا جن کو الف [..]مزید پڑھیں

  • جنازوں میں زندگی

    ردِ عمل ظاہر کرنے اور کُڑھنے کے لیے بہت سی باتیں ہیں اور پھوڑنے کے لیے دل کے بہت سے پھپھولے ہیں  لیکن اس وقت آپا بانو قدسیہ کی رُخصتی رقم کرنے کا مرحلہ درپیش ہے  کہ وہ اپنے محبوب اشفاق احمد سے ملنے جا رہی ہیں ۔ اُنہیں ڈھنگ سے رُخصت کرنا اور اس رُخصتی کو ایک تقریب بنانا جو ان ک [..]مزید پڑھیں

  • دہشت گردی کا قہقہہ

    ہیں در پئے غارت گری مذہب کے جُنونی ٹیکساس سے تا خاکِ کینیڈا و واشنگٹن اور وہ آگ جس نے افغانستان کو تاراج کیا ، عراق کے پُرزے اُڑائے ، لیبیا کو برباد کیا اور پاکستان کے گلی کوچوں میں پچھلی تین دہائیوں سے وحشت و بربریت کا خونیں کھیل کھیلتی رہی ہے ، اب وہ  اپنے اصلی مرکز کی طر [..]مزید پڑھیں