بطیحا

  • بادشاہ ننگا ہے

    جس معاشرے میں محبّت نہیں ہوتی وہاں ہر شخص اپنی ذات کا کشکول لیے ایک رتّی مسکراہٹ اور دو بول اپنائیت کے دن بھر مانگتا پھرتا ہے مگرشام کو ناکام اور نامراد ہو کر لوٹتا ہے۔ اور اپنی اذیت کے بستر میں جا گرتا ہے جہاں نیند کے بجائے بے خوابی کے پِسّو اُسے کاٹ کاٹ کر ہلکان کر دیتے ہیں ۔ [..]مزید پڑھیں

  • نظریہ پاکستان کا ملبہ
    • 01/13/2020 5:05 PM
    • 1550

    1947سے پہلے کُل ہند مسلم لیگ نے جو بیانیہ ایجاد کیا اسے دو قومی نظریے کا نام دیا گیا اور یہ نظریہ مسلمانوں کے لیے ایک سنہرا اور سہانا خواب بنا کر پیش کیا گیا ۔ بنیادی طور پر یہ ایک خوبصورت خیال تھا کہ ایک مذہب کے ماننے والے ایک ایسا ملک بنائیں جو آسمان کے حتمی دینی نظریے کی عملی تع [..]مزید پڑھیں

  • جنگِ دُنیا ، جنگِ دیں ، جنگِ وطن

    ہم وہ بد قسمت انسانی گروہ ہیں جن کی زندگی میں کبھی امن آیا ہی نہیں ۔ ہمیں بتایا جاتا ہے کہ ہم اقبال کے خوابوں کی سرزمین اور قائدِ اعظم کے دوقومی نظریے کے مُلک میں رہتے ہیں ، جس میں ان دونوں بزرگوں کو خراج پیش کرتے ہوئے  کبھی کسی نے غریب عوام کا ذکر تک نہیں کیا ۔  جس ملک میں عو [..]مزید پڑھیں

loading...
  • الوداع 2019

    ایک غیر ضروری نوٹ وہ  365 دنوں کا روزنامچہ  جن کے صٖفحات میں میری زندگی کے ایک سال کا حساب درج ہے ، اب اپنے  دو آخری صفحات میں سال بھر کا تتمہ لکھ رہا ہے جو میرے اعمال کی بیلنس شیٹ ہے ۔ میں اپنے روز و شب کو جس طرح ضائع کرتا رہا ہوں اور جس طرح اپنے ناکردہ اعمال کو  کارنا [..]مزید پڑھیں

  • کالم کلوچ

    صحافت ہمیشہ سے لڑائی کا ہتھیار رہی ہے ۔ پاکستان کی آزادی کی تحریک میں صحافت کا کردار جنگجویانہ تھا ۔ صحافت نے جہالت ، لاعلمی ، نا خواندگی اور بے خبری کے خلاف معرکوں میں جھنڈے گاڑنے میں کبھی کوئی کسر اُٹھا نہیں رکھی لیکن فی زمانہ یہ ہتھیار سیاسی خانہ جنگی کے لیے مخصوص ہو کر رہ گ [..]مزید پڑھیں

  • بے بسی کے آنسو

    قلم پر سکتہ طاری ہے کہ کیا لکھے ۔ اب میرے لکھنے کو رہ ہی کیا گیا ہے ؟ بہت بہادر ہیں وہ لوگ جو ہر  سیاسی موسم  میں  اپنے قلم پستول کی طرح چلاتے ہیں اور کُشتوں کے پُشتے لگاتے چلے جاتے ہیں ۔ معمولی معمولی  سی سیاسی مراعات پر مٹھائیاں بانٹتے اور کھاتے کھلاتے  ہیں اور اپن [..]مزید پڑھیں

  • گالی سے گولی تک

    نفرت ایک زہر ہے جس کے اظہار کے کئی ظاہری اور باطنی قرینے ہیں ۔ کسی کو دل ہی دل میں بُرا کہنا ، بھویں تان لینا ، ماتھے پر بل ڈال لینا ، آنکھوں سے شعلے برسانا ، تُو تُو میں میں کرنا ،گالی دینا اور گولی مارنا سب نفرت کے پیرائے ہیں جو اب پاکستانی معاشرت کے عمومی خدو خال بن کر رائج ہیں [..]مزید پڑھیں

  • سیان کی نسل پرستی کا مکروہ انداز

    سیان نامی نارویجین تنظیم  بظاہر تو نارویجین معاشرت کو اسلامیائے جانے سے روکنے کی دعویدار ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ ایک نسل پرست نازیّت نواز تنظیم ہے جو ناروے میں تارکین وطن کی آمد پر مکمل پابندی کے حق میں ہے ۔ وہ تارکینِ وطن جو جنگ زدہ معاشرتوں سے نکل کر ناروے پہنچے ہیں اُن [..]مزید پڑھیں

  • مفادات سے محبت تک

    گوردوارہ کرتار پور کے افتتاح کی تقریب جاری ہے ۔ بابا گورو نانک دیو جی نے ہندوستانی مذاہب کے درمیان جو پُل تعمیر کرنے کی کوشش کی وہ پچھلی کئی صدیوں سے جاری ہے ۔ اس تعمیراتی کام میں کرتا پور گوردوارہ کی عمارت کا افتتاح ایک اہم پیش رفت ہے ۔  اس امن راہداری کے افتتاح کی تقریب میں [..]مزید پڑھیں

  • مذہبی کارڈ

    ابنِ رُشد سے منسوب ایک قول میں کہا گیا ہے کہ اگر جاہلوں پر حُکمرانی کرنا چاہتے ہو تو مذہب کا لبادہ اوڑھ لو ۔ مجھے جاہل آدمی کی کوئی مستند تعریف اب تک نہیں ملی مگر ایک عرب شاعر غالباً امر القیس کا شعری متن یاد ہے جس کو یوں بیان کیا جا سکتا ہے : (دیکھنا کوئی ہم سے جہالت نہ کرے ورنہ [..]مزید پڑھیں