عاصمہ جہانگیر کو بھلایا نہیں جا سکتا

عاصمہ جہانگیر کو بچھڑے ایک سال ہو گیا ہے ۔ وہ گزشتہ سال 11فروری کو اچانک حرکت قلب بند ہو جانے سے لاہور میں انتقال کر گئیں تھیں۔ ان کی وفات کے بعد عاصمہ جہانگیر کا دنیا کے کونے کونے میں جس دکھ و غم سے ذکرہوا ہے اس سے علم ہوا کہ عاصمہ کون تھی اور ان کی خدمات کیا تھیں۔ انسانی حقوق کا شعبہ عاصمہ جہانگیر کے تذکرے کے بغیر نامکمل رہے گا، جب بھی اور جہاں بھی انسانی حقوق کے محافظوں کے کاوشوں کی بات ہو گی وہاں عاصمہ جہانگیر کا نام سرفہرست ہوگا۔
پاکستان کی بات ہو یا جنوبی ایشیا کی، یورپ ہو یا اقوام متحدہ، ہر جگہ عاصمہ جہانگیر ایسی ایسی داستانیں چھوڑ آئی ہیں کہ جن کو پڑھ پڑھ کر انسانی حقوق کے کارکن اور تنظیمیں ہمیشہ تحفظ انسانی حقوق کے پرچم کو سربلند رکھنے کے لئے کوشاں رہیں گی۔ اور نصابوں میں عاصمہ جہانگیر کی جدوجہد سنہرے لفظوں سے لکھی جائے گی۔ عاصمہ جہانگیر کی وفات کو ایک سال ہو رہا ہے اور اس گزرے سال میں دنیا بھر میں کہیں نہ کہیں عاصمہ جہانگیر کو یاد کیا جاتا رہا ہے۔ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ جس طرح کا سوگ عاصمہ جہانگیر کی وفات پر منایا گیا ہے، ویسا دکھ و غم پاکستان سمیت جنوبی ایشیا کی شاید ہی کسی اورشخصیت کا منایا گیا ہو۔ عاصمہ جہانگیر نے مرنے کے بعد بھی پاکستان کی عزت و توقیری میں جو اضافہ کیا ہے اس کی مثال ملنا مشکل ہے۔
سچ تو یہ ہے کہ عاصمہ جہانگیر کی اچانک وفات کے بعد اب پاکستان کے اندر انسانی حقوق، انصاف، مساوات اور جمہوریت کے تحفظ کے باتیں محض خواب ہی لگتی ہیں۔عاصمہ جہانگیر مظلوم طبقوں کے تحفظ کے لئے ایک ایسی نسوانی آواز تھی جو بڑے بڑے قدآور اور طاقتور حلقوں کو دبک جانے پر مجبور کردیتی تھی۔عاصمہ جہانگیر اور لاہور میں واقع ایچ آر سی پی دونوں ہی لازم و ملزوم تھے ۔پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق ایک آزاد اور خود مختار ادارہ ہے جو انسانی حقوق کے تحفظ اور اس کے فروغ،انصاف کی فراہمی اور جمہوری اقدار کے لئے کئی دہائیوں سے جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس کا ممبر ہونا بھی ایک اعزاز ہے۔عاصمہ جہانگیر اس ادارہ کے نہ صرف بانیوں میں شامل تھیں بلکہ اس کے وقار، مقام کو بڑھانے اوراس کی اہمیت کو چار چاند لگانے والی صرف عاصمہ جہانگیر ہی تھیں۔
عاصمہ جہانگیر27 جنوری1952کو لاہور میں پیدا ہوئیں تھیں اور11فروری2018 کو لاہور ہی میں حرکت قلب بند ہو جانے کی وجہ اچانک وفات پا گئیں ۔ عاصمہ جہانگیر کی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر بہت کچھ ان کی وفات پر لکھا جا چکا ہے جس سے ان کی شخصیت کھل کر سامنے آتی ہے انہوں نے نہ صرف پاکستان بلکہ جنوبی ایشیا سمیت یورپ اور اقوام متحدہ میں بھی اپنی اہلیت و قابلیت کا لوہا منوایا ،اقوام متحدہ نے 2018 کا انسانی حقوق کا ایوارڈ عاصمہ جہانگیر کے نام سے منسوب کرکے ان کی خدمات کو زبردست خراج تحسین پیش کیا اوران کی جدوجہد کو تسلیم کیا۔ اس سے قبل2010 میں حکومت پاکستان کی طرف سے ان کی خدمات کے اعتراف میں ان کو ہلال امتیاز دیا گیا تھا، اس کے علاوہ بھی ان کو انسانی حقوق کے عالمی اداروں کی طرف سے متعدد اعزازات ان کی زندگی میں ان کو دیئے جا چکے ہیں ۔ رامون میگ عاصمہ جہانگیر کو1995 میں دیا گیا اس ایوارڈ کو ایشیا کا نوبل ایوارڈ بھی تصور کیا جاتا ہے ۔ دیگر ایوارڈ میں یونسکو پرائز، فرینچ لیجن آف آنر اور مارٹن اینیلیز ایوارڈز شامل ہیں۔
عاصمہ جہانگیر کو اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے کی خصوصی مندوب برائے مذہبی آزادی اور عقائد کے علاوہ مندوب برائے ماورائے عدالت قتل کی حثیت سے بھی کام کرچکی تھیں جب کہ ایران کے لئے تادم وفات کام کر رہی تھیں۔ سویڈن کی حکومت کا متبادل نوبل پرائز کا ایوارڈ بھی ان کو دیا گیا۔ان کی کاوشیں ان کی وفات کے بعد زیادہ منظر عام پر آئیں جب دنیا کے کونے کونے میں ان کی یاد میں تعزیتی ریفرنسوں میں ان کی شخصیت پرمقالے پڑھے گئے۔میری خوش قسمتی رہی ہے کہ مجھے فرینکفرٹ اور برلن میں عاصمہ جہانگیر کے بارے میں ذاتی مشاہدات پیش کرنے کے مواقع ملے۔
عاصمہ جہانگیر نے پاکستان سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی پہلی خاتون صدر کا اعزاز حاصل کیا۔پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق کی سربراہ کے طور پر لمبا عرصہ کام کرکے ادارے کے نام کے عزت و وقار میں اضافہ کیا اور اس ادارہ نے اپنی بانی سربراہ کی خدمات کے اعتراف کا حق’’عاصمہ جہانگیر کانفرنس 2018‘‘ کی شکل میں چکانے کی کامیاب کوشش کی۔ لاہور میں منعقد ہونے والی اس تین روزہ کانفرنس میں ملکی دانشوروں،نامور قانون دانوں، وکلاء، وکلاء تنظیموں کے سربراہوں، سیاست دانوں،پارٹی سربراہوں کے علاوہ عالمی اداروں کے درجنوں نمائندوں،سربراہان اور غیرملکی سفیروں نے شرکت کرکے اپنی تقاریرمیں عاصمہ جہانگیر کی خدمات کو غیرمعمولی الفاظوں سے خراج عقیدت پیش کیا۔پاکستان کے اندر سے قابل ذکر شخصیات میں اس وقت کے چیف جسٹس ثاقب نثار، چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ، سابق وزرائے اعظم پاکستان، پیپلز پارٹی کے چیئر پرسن بلاول زرداری بھٹو، ای این پی کے افراسیاب خٹک، وفاقی وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق شامل تھے جبکہ غیرملکی شخصیات میں یورپی یونین کے صدر اور جرمنی، سویڈن، آسٹریلیا، بھارت کے سفیروں نے بھی شرکت اور اظہار خیال کیا۔اس کے علاوہ مختلف ممالک کے سابق چیف جسٹس صاحبان ، عالمی وکلاء کے اداروں کے سربراہان ، قانون دان، شعراء و ادبی شخصیات نے شرکت کی،یہ اپنی نوعیت کی منفرد کانفرنس تھی جس میں عاصمہ جہانگیر ، ان کی جدوجہد اور کاوشوں کا اجتماعی طور پر اعتراف کیا گیا تھا۔
عاصمہ جہانگیر کی جدوجہد ایسی ہے جس کی بنیاد اسی تعلیم پر ہے جو ہمیں خطبہ جمعتہ الوداع میں ملتی ہے کہ تمام انسان برابر ہیں۔ امتیازی قوانین کے علاوہ آپ کی جدوجہد میں بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ، سب کے لئے فوری انصاف کی فراہمی، مساوات، اظہار رائے کی آزادی، خواتین کے حقوق اور حقیقی جمہوریت کا نفاذ قابل ذکر عوامل تھے۔ شہریوں کے مساوی اور بنیادی حقوق کو بہت اہمیت دیتی تھیں اور ان کے تحفظ کے لئے عدالتوں میں خوب گرجا کرتی تھیں۔ صنفی مساوات کی بہت بڑی علمبردار تھیں اور ان کے مساوی حقوق کے لئے مرتے دم تک جدوجہد کرتی رہیں۔
ان کی شخصیت میں ایک مقناطیسی کشش تھی،ان کی گفتگو میں نرمی لیکن انتہائی مدلل ہوا کرتی تھی۔ پریس اور اظہار رائے آزادی کی بہت بڑی علمبردار تھیں، صحافیوں میں بہت مقبول تھیں۔عاصمہ جہانگیر نے پاکستان کے اندر انسانی حقوق کی آواز بلاخوف ہر اس طبقے کے لئے بلند کی جن کے حقوق نفرت اور تعصب کی آڑ میں پامال کئے گئے۔اقلیتوں کی عبادت گاہوں پر حملوں پر ان کا احتجاج پر امن لیکن بہت شدید ہوا کرتا تھا ۔انہوں نے عوامی جتھوں کے اقلیتوں پر حملوں کے تسلسل پر ہمیشہ سخت تشویش کا اظہار کیا اور ہر حکومت وقت کو ایسے حملوں پر آڑے ہاتھوں لیا اور بھرپور مذمت کرتی تھیں۔
ان کی وفات پر عالمی نشریاتی اداروں نے جس طرح خراج عقیدت پیش کیا وہ پاکستان کے لئے بھی بڑے اعزاز کی بات ہے۔پاکستان کے اندر میڈیا اور جمہوریت کو جس بحران ہے، اس میں عاصمہ کی کمی زیادہ محسوس کی جارہی ہے۔

Comments:- User is solely responsible for his/her words