تجھے اے زندگی لاؤں کہاں سے

پاکستان میں سیاسی کارکنوں کی جانب سے آپ بیتی لکھنے کا رجحان بہت کم ہے ۔ حالانکہ نظریاتی سطح پر کام کرنے والے سیاسی کارکنوں کی جدوجہد ہے اوریہ کمزور سا جمہوری نظام ، ان ہی سیاسی کارکنوں کا مرہون منت ہے ۔دائیں او ربائیں بازو کے لئے کام کرنے والے نظریاتی ساتھیوں یا کارکنوں کی سیاسی جدوجہد سے انکار نہیں ۔ وہ زندگی بھر اپنی نظریاتی اور فکری سوچ کی بنیاد پر اپنی سیاسی جدوجہد کرتے رہے ہیں۔
اچھی آپ بیتی کا کمال یہ ہوتا ہے کہ ایک طرف وہ مصنف کی زندگی اور اس سے جڑی سیاسی جدوجہد کے مختلف پہلوؤں سے آگاہی دیتی ہے تو دوسری طرف ایک پوری سیاسی جدوجہد پر مبنی کہانی کو بھی نمایاں کرتی ہے۔اس طرز کی آپ بیتی ہمیں کئی ایسے کرداروں اور واقعات سے آگاہی دیتی ہے جو عمومی طور پر ہماری نظروں سے دور رہتی ہے ۔ ایک اہم آپ بیتی “تجھے اے زندگی لاؤں کہاں سے معروف سیاسی دانشور، کارکن او رپیپلزپارٹی کے بنیادی رکن اسلم گوداسپوری کی ہے ۔
اسلم گورداسپوری کی ساری زندگی سیاسی او رسماجی جدوجہد اور علمی و فکری مباحث میں گزری ہے۔وہ بنیادی طور پر ایک ایسے سیاسی کارکن ہیں جو اپنے اندر ایک دانشورانہ صفت بھی رکھتے ہیں ۔ اسلم گورداسپوری سے کئی دہائیو ں سے قریبی تعلق ہے ۔ میں ان کو ہمیشہ سے پاکستانی سیاست او ربالخصوص پیپلز پارٹی کی عملی اور نظریاتی طرز کی سیاست کا انسایکلوپیڈیا سمجھتا ہوں۔ آج بھی ان کے پاس ایسے ایسے سیاسی اور سماجی واقعات ہیں جو عمومی طور پر سامنے نہیں آتے۔ میں اکثر اسلم گورداسپوری کو ایک زبانی تاریخ سمجھتا ہوں ۔لیکن اچھی بات یہ ہے کہ ان کی حالیہ کتاب ان کی سیاسی ، سماجی اور علمی و فکری زندگی کے مختلف پہلوؤں کا احاطہ کرتی ہے ۔ان کی ساری زندگی کمزور طبقات کی حمایت میں گزری ہے ۔ وہ سیاست میں ہوں یا اہل دانش کی مجالس ہوں یا ان کی اپنی شاعری ہوا س میں سب سے نمایاں حیثیت کمزور طبقات کو حاصل ہوتی ہے ۔ان کی سوانح عمری ایک ایسے سیاسی کارکن کے حالات زار ہیں جو ساری زندگی جدوجہد کرتا رہاہے ۔ اس نے سیاست کی یا دانشوری یا شاعری سب سر اٹھا کر کی او ر کبھی بھی کسی بھی مصلحت کا شکار نہیں ہوا۔ مزاحمتی سیاست ان کے اندر رچی بسی ہے او رآج کے سیاسی حالات پر ان کا نوحہ بھی خوب اور جاندار ہوتا ہے ۔
ان کی یہ سوانح عمری محض ان کی یا پیپلز پارٹی کی سیاسی تاریخ نہیں بلکہ ملکی سیاسی تاریخ ہے ۔ وہ ملک میں موجود ائیں او ربائیں بازو کی سیاسی کہانی کو دلیل کے ساتھ پیش کرتے ہیں ۔ذوالفقار علی بھٹو سے ان کا عشق کسی سے ڈھکا چھپا نہیں لیکن پیپلز پارٹی کی اندھی محبت کا شکار بھی نہیں اور آج کی پیپلز پارٹی کی عملی سیاست کے ناقد بھی ہیں ۔اس سوانح عمری میں انہوں نے اپنی روزمرہ کی زندگی ، علمی و فکری مجالس اور دوستوں کے ساتھ مشاغل سمیت لاہور کے سیاسی کلچر کا جو نقشہ کھینچا ہے وہ بھی کمال کا ہے ۔اپنے دوستوں کی تعریف کرنے میں کہیں بھی وہ کنجوسی کا مظاہرہ نہیں کرتے بلکہ ایک زندہ دل شخص کی طرح دوستوں کے کمالات کو کھلے دل سے قبول کرتے ہیں ۔پاکستانی سیاست کےمختلف اتار چڑھاؤکے وہ عینی شاہد ہیں اور ملکی سیاست نے جو جو رنگ دکھائے اوربکھیرے اسلم گورداسپوری نے نہایت دیانت داری سے اسے اپنی تحریروں کا حصہ بنا ڈالا ہے ۔
اسلم گورداسپوری کمال کے شاعر بھی ہیں اور شاعری بھی ایسی جو سیاسی مزاحمت کے دائرہ کار میں آتی ہے ۔ ان کی شاعری میں نظام کی تبدیلی کی مختلف جھلکیاں بھی نظر آتی ہیں ۔ اسلم گورداسپوری کے بقول پہلی بار ان کو 10جنوری 1968میں لاہور سے سیاسی طور پر حکومتی حکم نامہ کی بنیاد پر دربدر کردیا گیا ۔ان کے بقول ان کی نظربندی کے حکم نامہ پر درج تھا کہ اس شخص کو صرف شاعر ہونے کی وجہ سے نظربند کیا گیا ہے وگرنہ ایسے انسان کی جگہ جیل ہوتی ۔ان کی نظربندی میں چھ ماہ کے لیے ان کی زبان بندی بھی کردی گئی تھی ۔ان پر بغاوت کا مقدمہ درج کیا جانا تھا مگر شاعر ہونے کی وجہ سے وہ بچ گئے ۔جس نظم پر ان کے خلاف یہ کاروائی ہوئی اس نظم کا ایک مصرع تھا “دوستو اٹھ کے غلامی سے بغاوت کردو”اس مصرعے کو ایو ب خان کی حکومت نے بغاوت قرار دیا تھا او رحکم نامہ میں تحریر تھا کہ لفظ بغاوت کردو تعزیرات پاکستان کی رو سے جرم اور بغاوت کے زمرے میں آتا ہے ۔
اسلم گورداسپوری مزاحمتی فرد تھے ۔ اس لیے اس زبان بندی کے خلاف بھی مزاحمت کی اور زبان بندی کے عنوان سے نئی نظم لکھ ڈالی :
میری زباں تو منہ سے نکال لی تم نے
زبان خلق کو نقارہ خدا سمجھو
متاع عظمت آدم سے کھیلنے والو
یہ ابتدا میرے مقصد کی انتہا سمجھو
اسلم گورداسپوری کا سیاسی سفر ذوالفقار علی بھٹو سے شروع ہوا اور پھر نصرت بھٹو او ربے نظیر بھٹو تک وہ سیاسی جدوجہد کرتے رہے ۔ان کے بقول میری جدوجہد کیا تھی ۔کوئی سوچے کے میری جدوجہد کیا تھی ۔نہ تو میں نے شہید بھٹو سے کوئی فائدہ اٹھایا تھا ۔ نہ وزیر بنایا گیا او رنہ ہی سفیر ۔ بھٹو جس قومی آزادی اور عوام کے معاشی بنیادی حقوق کی جنگ لڑرہے تھے میں بھی وہی جنگ لڑرہا تھا ۔ان کے پاس تو زندگی کے تمام وسائل تھے ۔میں وہ سپاہی تھا جو بغیر وسائل کے جنگ لڑرہا تھا ۔میں وہ کامریڈ مجاہد تھا جس کا جذبہ اور جس کے عظیم مقاصد ہی اس کے اصل وسائل تھے ۔
پاکستان کی سیاست میں اسٹیبلیشمنٹ ہمیشہ سے ایک طاقت ور فریق کے طور پر رہی ہے ۔ اسلم گورداسپوری کے بقول پاکستان میں اتحادی سیاست میں اسٹیبلیشمنٹ کا اہم کردار رہا ہے ۔ پی این اے، ایم ارڈی اور اے ار ڈی جیسے اتحادوں میں اسٹیبلیشمنٹ نے اپنی مرضی کے نتائج حاصل کیے او رپس پردہ اہل سیاست ان ہی اتحادوں میں بیٹھ کر اسٹیبلیشمنٹ کے مفادات کو تقویت دیتے رہے ہیں ۔
آج کی پاکستانی سیاست کے بارے میں ا ن کا دکھ نمایاں ہے ۔ وہ لکھتے ہیں کہ پاکستان کی سیاست میں ہر لیڈر اپنی ذات کا غلام ہوتا ہے ۔ اس کو زندگی کے ہر معاملے میں اپنی ذات کے علاوہ کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ان سیاست دانوں کے نزدیک دولت کا نام سیاست ہے ۔ جس کے پاس جتنی دولت ہوتی ہے وہ اتنا ہی بڑا سیاست دان کہلاتا ہے ۔یہ ہی وجہ ہے کہ کرپشن اور لوٹ مار کو پاکستان کی سیاست میں اہم سمجھا جاتا ہے ۔پاکستان کی سیاست میں کسی لیڈر کے لیے علم وتعلیم کا نہ تو کوئی مقام ہوتا ہے او رنہ ہی کسی عالم فاضل انسان کی کوئی قدرو قیمت ہے ۔ ان کو جھوٹے او رمکرو فریب والے لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے جن کا کوئی چہرہ نہیں ہوتا ۔میں حقیقت میں علم و ادب کا انسان تھا جو سیاست کی بھینٹ چڑھ گیا ۔ شہید بھٹو کے عہد میں مجھے کبھی سیاست میں اپنے مس فٹ ہونے کا احساس نہیں ہوا تھا۔ مگر ان کے بعد کی سیاست میں میری حالت بہت غیر ہوگئی ۔1990کے بعد کی سیاست میں، میں پارٹی کی سیاست میں ایک بے معنی انسان بن کر رہ گیا تھا ۔اس لیے کے میری سیاست کی بنیادیں عوامی سیاست کے نظریات کی حامل تھیں۔میری سیاست کی تعلیم جس ماحول میں ہوئی تھی اس ماحول میں سیاست صرف عوام کے مسائل حل کرنے کا ہی قاعدہ ہوتی تھی ۔پارٹی سے علیحدگی اس لیے بھی ضروری تھی کہ پارٹی میں عوامی سیاست کا سلسلہ ہی ختم کردیا گیا تھا ۔لہذا اس قسم کی شخصی پارٹی میں رہنا ناکردہ گناہوں میں شریک ہونے کے مترادف ہوتا ، جو مجھے قبول نہ تھا ۔
اسلم گورداسپوری کی سیاسی کہانی ایک ایسے سیاسی کارکن کی کہانی ہے جس میں اہل سیاست اور سماج کے لیے سوچنے اور سمجھنے کے لیے بہت فکری مواد ہے ۔ جس نظریاتی سیاست کی بنیاد پر انہوں نے سیاست شروع کی آج وہ سیاست کیسے ایک کاروبار کی شکل اختیار کرگئی ہے ۔ یہ المیہ محض اسلم گورداسپوری کا ہی نہیں بلکہ یہ نوحہ پاکستان کے دائیں او ربائیں بازو کے ان نظریاتی ساتھیوں کا بھی ہے جن کی ساری زندگی سیاست او رنظریاتی محاذ پر جاری رہی لیکن نتیجے کے طور پر ان کی قیادتوں نے جمہوریت کے مقابلے میں ایک ایسے سیاسی کلچر کو طاقت دی جو حقیقی جمہوریت کے خلاف تھا ۔یہ ہی وجہ ہے کہ ماضی کے نظریاتی ساتھی آج سیاسی طور پر تنہا نظر آتے ہیں اور انہوں نے خاموشی کے ساتھ اپنے آپ کو سیاسی نظام میں محدود کرلیا ہے ۔
اسلم گورداسپوری کی یہ کہانی پاکستان پیپلز پارٹی کے نشیب وفراز او رناکامیوں کی کہانی سمیت قومی سیاست کے بحران کی بھی عکاسی کرتی ہے کہ کیسے ہماری سیاست عوامی نظریات سے دورچلی گئی ہے ۔

Comments:- User is solely responsible for his/her words