اصغر خان کیس: ملوث فوجی افسران کے خلاف 4 ہفتے میں تحقیقاتی رپورٹ پیش کرنے کا حکم

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے اصغر خان عملدرآمد کیس میں ملوث فوجی افسران کے خلاف وزارت دفاع کو 4 ہفتے میں تحقیقاتی رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔
جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے اصغر خان عملدرآمد کیس کی سماعت کی۔ اس موقع پر ایف آئی اے حکام نے معاملے پر پیش رفت سے بنچ کو آگاہ کیا۔
دوران سماعت جسٹس گلزار احمد نے پوچھا کہ فوجی افسران کے خلاف کورٹ مارشل کارروائی کیوں نہیں شروع ہوئی؟ جسٹس اعجازالاحسن نے استفسار کیا کہ ریٹائرمنٹ کے کتنے عرصے بعد کورٹ مارشل ہوسکتا ہے؟ اٹارجی جنرل نے بتایا کہ تحقیقات میں شواہد سامنے آنے پر کورٹ مارشل ہوگا۔ فراڈ یا کرپشن پر ریٹائرمنٹ کے بعد بھی کورٹ مارشل ہو سکتا ہے۔
جسٹس گلزار نے ریمارکس دیئے کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی اس کیس سے ہاتھ اٹھانا چاہتی ہے۔ دوسری جانب فوج نے رپورٹ دی ہے کہ افسران کے خلاف کارروائی جاری ہے۔
انہوں نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ آپ بتائیں ملوث افراد کا کورٹ مارشل کرنے کی بجائے انکوائری کیوں کررہے ہیں، جس پر اٹارنی جنرل نے بتایا کہ کورٹ مارشل سے پہلے تفتیش کرنا قانونی تقاضا ہے۔
جسٹس گلزار نے استفسار کیا کہ الطاف حسین اور متحدہ قومی موومنٹ کو بھی پیسے ملے تھے جبکہ نہ ہی کیس میں ان کا نام سامنے آیا نہ ہی ایف آئی اے رپورٹ میں۔ جس پر اٹارنی جنرل نے بتایا کہ ایف آئی اے رپورٹ میں الطاف حسین کا نام تھا۔
اٹارنی جنرل نے بتایا کہ الطاف حسین اور چند دیگر ملزمان کی حوالگی کے لیے برطانیہ سے بات چیت جاری ہے اور بہت جلد اہم پیش رفت متوقع ہے.
عدالت نے پاک فوج کو ملوث افسران کے خلاف 4 ہفتے میں تحقیقات مکمل کرنے کا حکم دیتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ تفتیش مکمل کرکے رپورٹ پیش کی جائے اور ایف آئی اے کی رپورٹ کا جائزہ وزارت دفاع کے جواب کے ساتھ لیا جائے گا۔
واضح رہے کہ 11 جنوری کو چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے مرحوم ایئر مارشل (ر) اصغر خان کے اہلِ خانہ کی درخواست قبول کرتے ہوئے اس کیس کی کارروائی جاری رکھنے کا حکم دیا تھا۔ اس لیے جسٹس گلزار احمد، جسٹس فیصل عرب اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل سپریم کورٹ کا 3 رکنی بینچ اس کیس کی سماعت کررہا ہے۔
29 دسمبر 2018 کو ایف آئی اے نے سپریم کورٹ میں رپورٹ جمع کرواتے ہوئے اصغر خان عمل درآمد کیس کی فائل بند کرنے کی درخواست کی تھی۔

Comments:- User is solely responsible for his/her words