کتبوں سے خطبوں تک

ملک کے ’ہاٹ‘ عالم دین مولانا طارق جمیل کے پاکستان کی مجوزہ مدینہ ریاست اور اس کے سرپرستوں کی توصیف میں بیانات کے بعد اب ایک عالم دین نے ایک خطاب میں پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی دینداری اور اعلیٰ دنیاوی و اخروی درجات کی شان میں خطاب ارشاد فرمایا ہے۔ ملک کے دینی طبقہ کی طرف سے عسکری قیادت یا حکمرانوں کی شان بیان کرنے کا یہ کوئی پہلا یا انوکھا واقعہ نہیں ہے۔ پاکستان کی تاریخ گو کہ مختصر ہے لیکن اس قسم کے نادر روزگار واقعات اور قائدین کے بارے میں توصیف بھرے دعوؤں سے بھری پڑی ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ اس تعریف اور سرپرستی کے مستحق وہی لوگ ٹھہرتے ہیں جو اس وقت اقتدار میں ہوں یا صاحبان اختیار ہوں۔ اس طرح کہا جاسکتا ہے کہ تعریف و توصیف میں زمین آسمان ایک کردینے والے یہ بیان دراصل اس عہدہ یا کرسی کی توصیف میں ہوتے ہیں جس پر ممدوح براجمان ہوتا ہے۔ اس عہدہ سے رخصت ہونے کے بعد قصیدہ خواں اگلے عہدیدار کی خوبیاں تلاش کرنے میں مصروف ہوجاتے ہیں۔
پاک فوج اور ملک کی دینی جماعتوں اور گروہوں کے درمیان تعلق کی تاریخ دلچسپ ہونے کے ساتھ عبرت ناک بھی ہے۔ اس کے کئی پہلو ہیں جن میں سے بعض نے ملک کی سلامتی اور خارجہ امور پر گہرے اثرات مرتب کئے ہیں۔ بلکہ پاکستان اب تک ان اثرات سے گلو خلاصی کروانے میں کامیاب نہیں ہؤا ہے۔ اگرچہ امریکہ کے صدر ٹرمپ نے افغانستان سے نکلنے کی جلدی میں فی الوقت پاکستان کو تختہ مشق بنانے کی بجائے ایلچی اور پیغام رساں کے فرائض سونپے ہوئے ہیں لیکن پھر بھی پاکستان کو گاہے بگاہے یہ یاددہانی کروائی جاتی رہتی ہے کہ وہ دہشت گردوں کا سرپرست ہے اور اس نے بعض ایسے خطرناک لوگوں کو پناہ دی ہوئی ہے جو مسلح جد و جہد پر یقین ہی نہیں رکھتے بلکہ جنگجو گروہوں کی قیادت کرتے ہوئے انہیں ہمسایہ ملک میں دہشت گرد کارروائیوں کے لئے استعمال کرتے رہے ہیں۔
ماضی قریب میں بھارت میں ہونے والے متعدد دہشت گرد حملوں کی ذمہ داری ایسے گروہوں پر عائد کی جاتی رہی ہے جو پاکستان میں نہ صرف یہ کہ مقیم ہیں بلکہ محفوظ و مامون ہونے کے علاوہ وقت پڑنے پر دشمن کے دانت کھٹے کرنے کے لئے ریلیاں اور جلسے منعقد کرکے واشگاف لفظوں میں اپنے عزائم کا اظہار بھی کرتے رہتے ہیں۔ امریکہ سمیت دنیا کے متعدد ملکوں کو شکوہ ہے کہ حافظ سعید اور مولانا اظہر مسعود جیسے دینی لیڈروں کو سزا دلوانے اور ان کے اثر و رسوخ کو محدود کرنے کی بجائے ، ملک کے عسکری اور سول اداروں نے انہیں مکمل آزادی فراہم کی ہوئی ہے۔
جماعت الدعوۃ ہو یا جیش محمد یا اسی قسم کے دیگر عسکری گروہ ،پاک فوج کے ساتھ ان عناصر کے مراسم کا آغاز اگرچہ پہلی افغان جنگ سے ہؤا تھا جب امریکہ ، صدر رونالڈ ریگن کی قیادت میں خود جہاد کا سرپرست بنا ہؤا تھا اور آج جن ملاّؤں کو دہشت گرد اور فسادی قرار دے کر ٹھکانے لگانے کی باتیں کی جاتی ہیں ، اس وقت انہیں وہائٹ ہاؤس میں اعزاز دے کر کمیونزم کے خلاف نام نہاد ’آزاد دنیا‘ کے تحفظ کا فرنٹ مین سمجھا جاتا تھا۔ اس جہادی نسل کی اگلی پیڑھیوں نے جب دہشت کی آگ کو امریکہ تک پہنچانے کا کارنامہ انجام دیا تو اسے اس ’مقدس ‘ جنگ کو دہشت گردی اور دنیا کا سب سے بڑا مسئلہ قرار دیتے دیر نہیں لگی۔
9ستمبر 2001 سے دہشت گردی کے خلاف شروع ہونے والی اس عالمی جنگ میں پاکستان کو اہم فریق کی حیثیت حاصل رہی ہے۔ تاہم پاکستان ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کرپایا کہ یہ جنگ اس کی اپنی جنگ ہے یا وہ ڈالروں کے عوض امریکہ کے خلاف لڑنے پر مامور رہاہے۔ اگر وزیر اعظم عمران خان کے دعوے کو تسلیم کیا جائے تو پاکستانی فوج نے خدا نخواستہ ماضی میں کرائے کی فوج کا کردار ادا کیا تھا ۔ تاہم ریاست مدینہ کی طرز پر نیا پاکستان تعمیر کرنے والے وزیر اعظم اب پاک فوج کو کرائے کی فوج سے قومی فوج بنانے کے منصوبہ کا آغاز کرچکے ہیں ۔ ان کا کہنا ہے پاکستان اب کبھی ڈالروں کے لئے کسی کی جنگ نہیں لڑے گا۔ لیکن قضیہ یہ بھی ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ ان 33 ارب ڈالر کا حساب مانگتا ہے جو بقول اس کے پاکستان کو ادا کئے گئے لیکن پاکستان نے وہ کام نہیں کیا جس کے ’معاوضے‘ میں یہ خطیر رقم اسے ادا کی گئی تھی۔ اس جھنجھلاہٹ میں ٹرمپ کبھی امریکہ کے سابق صدور کو احمق قرار دیتا ہے اور کبھی پاکستان کو دھوکہ باز کہتا ہے۔
پاک امریکہ محبت و نفرت کی اس پیچیدہ کہانی کے تازہ ترین صفحہ پر البتہ یہ رقم ہے کہ ’امریکہ نے پاکستانی وزیر اعظم کے مؤقف کے مطابق افغان طالبان سے سیاسی مذاکرات کرنے کا اصول مان لیا ہے اور پاکستان نے امریکی صدر کی درخواست قبول کرتے ہوئے طالبان کو امریکی نمائیندے سے ملنے اور بات چیت کرنے پر آمادہ کرلیا ہے‘۔ گویا اس گئے گزرے وقت میں بھی جب افغان طالبان پاکستانی معلومات کے مطابق ’خود مختار اور اپنے ہی ملک میں طاقت ور ہوچکے ہیں ‘ پاکستانی حکام کا اتنا اثر و رسوخ بہر حال باقی ہے کہ طالبان زلمے خلیل زاد کے ساتھ ملاقات کرنے اور معاملات کو سیاسی بنیادوں پر حل کرنے کے لئے نیم رضا مند کئے جاچکے ہیں۔
یہ پس منظر دہرانے کی ضرورت یوں محسوس ہوئی کہ افغانستان ہی نہیں پاکستان کے دینی طبقات کے ساتھ بھی پاک فوج کی محبت اور تعاون کی تاریخ تقریباً اتنی ہی پرانی ہے جتنی افغانستان میں سویت فوجوں کے خلاف شروع کئے جانے والے جہاد کی کہانی۔ اس موقع پر ہی امریکی قیادت پر اچانک انکشاف ہؤا تھا کہ پاکستان کا صدر ضیا الحق فوجی آمر نہیں بلکہ کمیونزم کے خلاف جنگ کا مجاہد ہے۔ اور اسی کے تعاون سے سویت فوجوں کو افغانستان سے نکلنے پر مجبور اور سویت یونین کا شیرازہ بکھیرنے کا اہتمام کیا جاسکتا ہے۔ ایک تیر سے دو شکار کرنے کی اس امریکی پالیسی کے نتیجے میں کہ افغانستان کو سویت فوجوں سے آزاد کروایا جائے اور کابل پر اپنا قبضہ جمایا جائے، امریکہ اور جنرل ضیا بھائی بھائی ہوگئے۔
اس بھائی بندی کے نتیجے میں اسلام کے اس ’عظیم مجاہد‘ جنرل ضیا الحق پر یہ ایمان افروز انکشاف ہؤا کہ جہاد کے جو طریقے افغان مجاہدین سویت فوجوں کے خلاف استعمال کرتے رہے ہیں ، انہیں مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کے جذبہ آزادی کی تسکین کے لئے برتتے ہوئے پاکستان بھی امریکہ کی طرح ایک تیر سے دو شکار کرسکتا ہے۔ ایک طرف اسٹریجک ڈیپتھ کے لئے کابل تک کی سرزمین پر تصرف حاصل کرسکتا ہے، دوسرے کشمیر کو آزادی دلوا کر پاکستان کا حصہ بنا سکتا ہے۔ اس مجاہدانہ حکمت عملی کے نتیجے میں کشمیری اب تک پاکستان کو کوستے ہیں کہ ان کی پرامن اور بین العقیدہ جد و جہد کو جہادی روپ دے کر ان کی مشکلات میں اضافہ اور آزادی کو دور کردیا گیا۔ اور پاکستان آج تک یہ قسمیں کھانے اور وعدے کرنے کی کوشش کرتا رہتا ہے کہ اس کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں ہے لیکن ہر امتحان کے موقع پر یہی سوال دہرایا جاتا ہے اور پاکستان کے رٹے رٹائے جواب کو غلط کہتے ہوئے مسترد کردیا جاتا ہے۔
محبت ماند بھی پڑ جائے تو بھی اس کے اثرات سے نجات حاصل کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ پاکستان نے جہاد سے توبہ کی، دہشت گردی کو مسترد کیا، جہادی گروہوں اور جنگجوؤں کو غلط قرار دیا لیکن کسی نہ کسی طور سے ان کی ضرورت کو بھی تسلیم کیا جاتا رہا۔ جب بھارت کو کوئی ایسا پیغام دینے کی ضرورت محسوس ہوتی جو سفارتی ذرائع سے دینا ممکن نہ ہو اور جنگ کے میدان میں محاذ گرم کرنے کا فائدہ نہ ہو تو کسی لال مسجد یا اسلامی ڈیفنس کونسل کے پلیٹ فارم سے اس کا واشگاف اعلان کروایا جاسکتا ہے۔ اس طرح قومی سلامتی کا تحفظ کرنے کے ساتھ خارجہ پالیسی کے اہداف حاصل کئے جاتے رہے ہیں۔ گویا سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔ لیکن اس جد و جہد میں بعض ایسے سنپولیے پیدا ہوگئے جو ہر دم قومی سلامتی کو یوں نگلنے لگے کہ ملک کی گلیاں اپنے ہی لوگوں کے خون سے لال ہوئیں اور سفارتی سطح پر پاکستان کو مسلسل کٹہرے میں کھڑا رہنا پڑا۔ لیکن جنگ اور محبت کے تقاضوں کو بدلا نہیں جاسکا۔
محبت کے ان ہی تقاضوں کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ جنرل راحیل شریف کو جب ملک کا مسیحا بنتے ہوئے عوام تک یہ پیغام پہنچانے کی ضرورت محسوس ہوئی تو یہی دیندار مختلف تنظیموں کی صورت میں بینر اور کتبے اٹھائے ’جانے کی باتیں نہ کرو ۔ اب آجاؤ‘ پکارتے سیاسی حکومت کو یہ بتانے کے لئے میدان میں نکلتے رہے کہ پاک فوج کا سپہ سالار حکم دے تو ان مولویوں کی سرکردگی میں ساری قوم سیاست دانوں بھگانے کے لئے میدان میں اتر آئے گی۔
جنرل قمر جاوید باجوہ کے کمان سنبھالنے کی خبریں سامنے آنے لگیں تو کسی نے ان کے احمدی ہونے کا شوشہ چھوڑ دیا اور جنرل صاحب نے دنیا کی سب سے بہادر فوج کی کمان سنبھالتے ہی گھر پر محفل میلاد اور سفر عمرہ کی تصویریں آئی ایس پی آر کے ذریعے جاری کرکے اپنے ایمان کی ضمانت فراہم کردی۔ اس ایمان پر واری جانے کے لئے اہل ایمان کا قافلہ فیض آباد میں یوں خیمہ نشین ہؤا کہ حکومت کو ناک رگڑ کر معافی مانگنا پڑی ۔ اس طرح فوج اور ملاؤں کا رشتہ محبت مزید استوار ہوگیا۔
اسی محبت و عقیدت کا تقاضہ ہے کہ شباب اسلامی نامی تنظیم کے بانی اور صدر علامہ مفتی محمد حنیف قریشی نے جنرل قمر جاوید باجوہ کی قلندرانہ شان کا بیان اپنے ایک ایمان افروز خطاب میں کیا ہے۔ یہ وہی مفتی صاحب ہیں جو کل تک پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر کے قاتل ممتا زقادری سے لاتعلقی کے لئے عدالت میں بیان حلفی جمع کروا رہے تھے۔ اب وہ رسول اللہ ﷺ سے جنرل باجوہ کی محبت و عقیدت کی شدت بیان کرتے ہوئے جھومنے لگتے ہیں۔
کتبوں سے خطبوں تک کی یہ کہانی تہ دار اور پیچیدہ ہے۔ پاکستانی فوج اور قوم کو صرف یہ سوچنا ہے کہ اسے جاری رکھنے سے وہ جنگ کیسے جیتی جائے گی جسے فتنہ پرور مولویوں نے ہی چنگاری دکھائی تھی۔ یا وہ بیانیہ کیسے تیار ہوگا جس کا ذکر جنرل قمر جاوید باجوہ نے حال ہی میں کراچی میں نیوی افسروں کی پاسنگ آؤٹ سے خطاب کے دوران کیا ہے۔ اگر یہ نیا بیانیہ بھی خوشامد اور سازش میں شریک ملاؤں کے ذریعے ہی تیار ہونا ہے تو اس سے تبدیلی اور بھلائی کی امید کیسے کی جائے؟

Comments:- User is solely responsible for his/her words