جنرل باجوہ کے اشارے اور تحریک انصاف کا نوشتہ دیوار

پاک فوج کے سربراہ نے گزشتہ روز کورپس کمانڈرز کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھاکہ ملک میں امن و امان کی صورت حال بہتر ہونے کے بعد اب سماجی و معاشی ترقی کی صورت میں عوام کو اس کا فائدہ ملنا چاہئے۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ اب فوج سرحدوں کی حفاظت اور آپریشن ردالفساد کے نتیجے میں پیدا ہونے والے استحکام کو قائم رکھنے کے علاوہ بیرونی ایجنسیوں اور دشمن قوتوں کی تخریب کاری کی روک تھام پر فوکس کررہی ہے۔ آرمی چیف کی طرف سے سامنے آنے والے اشاریے تو بلاشبہ مثبت اور حوصلہ افزا ہیں لیکن عوام کی معاشی بہتری کا کوئی ٹھوس منصوبہ فی الوقت دکھائی نہیں دیتا۔ حکومت کی معاشی پالیسی کے بارے میں شبہات قوی ہورہے ہیں اور یوں لگتا ہے کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی طرف سے ملنے والی عبوری امداد کے ثمرات بھی عوام کونہیں ملیں گے۔ بلکہ یہ وسائل درآمداور برآمد کے عدم توازن کو پورا کرنے میں ہی تحلیل ہوجائیں گے۔ تحریک انصاف کی حکومت چھے ماہ گزرنے کے باوجود کوئی ایسا روڈ میپ دینے میں ناکام رہی ہے جس سے قومی پیداوار میں اضافہ اور عوام کو معاشی ریلیف ملنے کا کوئی امکان دکھائی دیتا ہو۔
اس دوران ملکوں کی معیشت کی عالمی سطح پر درجہ بندی کرنے والے بین الاقوامی ادارے سٹینڈرڈ اینڈ پورز ریٹنگ ایجنسی نے پاکستان کی طویل المدتی معاشی درجہ بندی کم کردی ہے۔ اب اسے ’بی‘ سے ’منفی بی‘ کر دیا ہے جس کے نتیجے میں خدشہ پیدا ہو گیا ہے کہ بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور عالمی منڈیوں سے پاکستان کو مہنگے قرض لینے ہوں گے۔ ایک عالمی ادارے کی طرف سے پاکستان کی معاشی صورت حال پر منفی رائے کے بعد ملک میں سرمایہ کاری کے بارے میں سوچنے والے بھی اپنے منصوبوں پر نظر ثانی کریں گے۔ یہ نئی منفی ریٹنگ پاکستان میں قومی پیداوار میں کمی کی بنیاد پر تیا رکی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ مستقبل قریب میں بھی پاکستانی شرح پیداوار میں اضافہ کا امکان نہیں ہے۔ مہنگائی کے ستائے ہوئے پاکستانی عوام اور خالی خزانہ کو بھرنے کے لئے قرضے مانگتی پاکستانی حکومت کے لئے یہ کوئی خوش آئیند خبر نہیں ہے۔ سٹینڈرڈ اینڈ پورز کی رائے کے علاوہ متعدد اقتصادی ماہرین بھی تحریک انصاف کی معاشی اور اقتصادی حکمت عملی سے مطمئن نہیں ہیں۔ موجودہ حکومت کی سب سے بڑی کمزوری یہی رہی ہے کہ وہ کوئی واضح معاشی منصوبہ دینے میں بھی ناکام ہے اور قومی اسمبلی کو اعتماد میں لے کر معیشت کی بہتری کے لئے بھی کوئی اقدام کرنے سے قاصر ہے۔
عمران خان اور تحریک انصاف کی طرف سے اسمبلیوں اور اپوزیشن پارٹیوں کو یکساں طور سے دھتکارنے اور نظرانداز کرنے سے اس تاثر کو تقویت ملتی ہے کہ فوج کی اعانت اور سرپرستی حاصل ہونے کی وجہ سے ان کے حوصلے جوان ہیں اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ انہیں ان سیاسی پارٹیوں سے سیاسی مفاہمت کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے جنہیں وہ بدعنوانی کرنے اور قومی خزانہ لوٹنے کا مرتکب قرار دیتے رہے ہیں۔ بلکہ اس حوالے سے اعلانات مختلف صورتوں میں سامنے آتے رہتے ہیں۔ انہی دنوں میں نواز شریف کی علالت اور ان کی کوٹ لکھپت جیل سے ہسپتال متقلی کوبنیاد بنا کر صوبائی اور مرکزی حکومت کے نمائیندوں نے ایک بار پھر این آر او کی بحث چھیڑی ہوئی ہے اور یہ دعویٰ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی قیادت کسی بھی طرح حکومت سے نواز شریف کو ملک سے باہر بھجوانے کے لئے ڈیل کرنے کی کوشش کررہی ہے ۔لیکن اصول پسند تحریک انصاف اور اس کے پرعزم لیڈر عمران خان ایسی چالوں میں آنے والے نہیں ہیں۔ حالانکہ ملک کی موجودہ معاشی اور سیاسی صورت حال میں حکومت کے نمائیندوں کو اس قسم کے مباحث کا حصہ بننے سے گریز کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر حکومت کسی ایسے منصوبہ کا حصہ نہیں ہے جس میں کسی بھی سیاسی لیڈر کو اس کے ’جرائم ‘ سے درگزر کرتے ہوئے رعایت دینے کی بات کرنا مقصود ہو تو اس میں حکومت کے لئے پریشانی کی کوئی بات نہیں ہونی چاہئے۔ لیکن جب اصرار کے ساتھ سیاسی مخالفین کی کردار کشی کے نقطہ نظر سے حکومت میں شامل لوگ بیان بازی کریں گے تو اس سے یہی سمجھا جائے گا کہ حکومت صوبائی اور مرکزی سطح پر اپنا کام کرنے میں ناکام ہورہی ہے۔
پاک فوج کے سربراہ کا مطالبہ اور عالمی ادارے کی طرف سے ملکی معیشت کے بارے میں منفی ریٹنگ ، دو متضاد سمتوں میں کئے جانے والے اشاریے ہیں۔ یعنی ملک کی فوج تو یہ سمجھ رہی ہے کہ سیکورٹی اداروں نے سخت محنت اور کوشش کے بعد دہشت گرد اور انتشار پسند عناصر کا خاتمہ کردیاہے ۔ ملک میں امن و امان بحال ہو گیا ہے ۔ اس لئے سول حکومت کو اب عوام کو معاشی ریلیف فراہم کرنے کے لئے عملی اقدامات کرنے چاہئیں۔ گویا فوج کے سربراہ نے ملک کے موجودہ معاشی مسائل کی ذمہ داری قبول کرنے کی بجائے یہ واضح کیا ہے کہ اس کا کام امن و امان کی بحالی تھا جو وہ کرچکی ہے۔ اب حکومت سماجی و معاشی ترقی کا اہتمام کرے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی ایس اینڈ پی نے ملکی معیشت کو ناقابل اعتبار اور زوال پذیر بتا کر یہ قرار دیا ہے کہ پاکستان کی حکومت عوام کو مزید معاشی ریلیف دینے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت اسی سوال پر ابھی تک آئی ایم ایف کے ساتھ بھی اختلاف کا اظہار کررہی ہے کہ اس فنڈ کی طرف سے معیشت کو بہتر بنانے اور بچت کے لئے جو شرئط پیش کی جارہی ہیں ، اس سے ملک کے غریب عوام پر معاشی بوجھ میں اضافہ ہوگا۔ حکومت موجودہ مشکل سیاسی صورت حال میں یہ اقدام کرنے کا حوصلہ نہیں رکھتی۔ اس لئے عارضی بنیادوں پر قرضے لے کر کام چلایا جارہا ہے۔
گویا تحریک انصاف کی حکومت نہ تو سیاسی ہم آہنگی پیدا کرکے معاشی استحکام کا راستہ چننے کے لئے تیار ہے اور نہ ہی عالمی مالیاتی ادارے سے اتفاق کرتے ہوئے ملک میں بچت کے منصوبوں کا آغاز کر پا رہی ہے۔ اس دوران فوج کی طرف سے عوام کو امن کی بحالی کے اقتصادی فائدے پہنچانے کی بات سامنے آئی ہے۔ ملکی سیاست میں پاک فوج کے کردار کو دیکھتے ہوئے یہ سمجھنا دشوار نہیں ہونا چاہئے کہ فوج کے سربراہ نے دراصل یہ بیان دے کر تحریک انصاف کی حکومت کو یہ اشارہ دیا ہے کہ اسے ملک میں معاشی احیا کے لئے مؤثر طریقے سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔
چھے ماہ پہلے سول ملٹری قیادت کے ایک پیج پر ہونے کے نعرے کے ساتھ برسر اقتدار آنے والی حکومت کے لئے یہ کوئی مثبت اور حوصلہ افزا اشارہ نہیں ہے۔ اس صورت حال میں وزیر اعظم اور ان کے ساتھیوں کو یہ بنیادی بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ وہ بیک وقت ملک کی تمام سیاسی قوتوں سے محاذ آرائی کرکے معاشی بحالی کا مشکل اور پیچیدہ کام نہیں کرسکتے۔ خاص طور سے ایسی سیاسی کیفیت میں جب اپوزیشن جماعتیں بھی کسی ’اشارے‘ کے انتظار میں ہوں ، اس قسم کی رسہ کشی ملکی مفاد پر زک لگانے سے پہلے تحریک انصاف کے اقتدار کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔
ملکی معیشت کے بارے میں جنرل قمر جاوید باجوہ کا بیان ملک کی سیاسی ترجیحات اور عملی اقدامات کے بارے میں عدم اطمینان کا اشارہ بھی سمجھا جاسکتا ہے۔ موجودہ حکومت کے بارے میں اگر فوج کی بے چینی میں اضافہ ہوتا ہے تو ملک ایک بار پھر سیاسی انارکی کی طرف جا سکتا ہے۔ اس صورت حال کا سیاسی اور جمہوری حل تو یہی ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں ماضی کے تجربات سے سبق سیکھیں اور پارلیمنٹ کو طاقت ور بنا کر ملک کے منتخب لوگوں کو فیصلے کرنے کا مجاز بنایا جائے ۔ اس طرح عملی طور سے فوج کو بھی یہ پیغام پہنچ سکتا ہے کہ تمام سیاسی قوتیں اب نہ جمہوریت پر سودے بازی کرنا چاہتی ہیں اور نہ ہی سیاسی معاملات میں درپردہ اشاروں اور احکامات پر عمل کرنے کے لئے تیار ہیں۔ اس طرح سیاست دان ایک تیر سے دو شکار رکرسکتے ہیں۔ ایک طرف ان کی باہمی ہم آہنگی ملک میں اعتماد اور معاشی احیا کا ماحول پیدا کردے گی تو دوسری طرف فوج پر یہ واضح ہوجائے گا کہ اب ملک کے سیاست دان سن
بلوغت کو پہنچ چکے ہیں اور خود اپنے فیصلے کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
تاہم موجودہ حالات میں سیاست دانوں کی طرف سے اس قسم کی بلوغت کی توقع عبث ہوگی۔ فی الوقت حکومت ہو یا اپوزیشن وہ سیاسی رسہ کشی میں ہر قسم کا ہتھکنڈا جائز سمجھ رہی ہیں۔ اس کی وجہ سے فوری طور پر ملکی معیشت خطرے میں ہے۔ تاہم حالات اسی نہج پر رواں رہے تو سیاسی انتظام اور جمہوریت کو بھی اندیشے لاحق ہوں گے۔ تحریک انصاف پر اس صورت حال کو سمجھنے کی اولیّن ذمہ داری عائد ہوتی ہے کیوں کہ اس کے پاس اقتدار ہے اور طاقت کے مراکز سے دوری سب سے پہلے اس کے منصوبوں کے لئے مہلک ہوگی۔
عمران خان سمیت تحریک انصاف کی پوری قیادت ابھی تک اس گمان میں ہے کہ پانسہ تبدیل نہیں ہوگا اور حالات نعرے لگاتے اور مخالفین کو للکارتے تبدیل ہوجائیں گے۔ یہ طرز عمل بدلا نہ کیا گیا تو مستقبل کا منظر نامہ تحریک انصاف کے لئے حیرانیوں سے لبریز ہوسکتا ہے۔

Comments:- User is solely responsible for his/her words