افغان حکومت کی امن مذاکرات میں شرکت کے سوال پر تنازعہ

اسلام آباد: پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے افغان صدر اشرف غنی کے خصوصی ایلچی عمر داودزئی نے بی بی سی کو دیئے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں کہا ہے کہ افغانستان کے حوالے سے پاکستانی رویہ بدل چکا ہے۔ ’میں ماضی میں نہیں جانا چاہتا، لیکن حال میں بہت سارے ایسے شواہد ہیں کہ پاکستان افغان مذاکرات میں مثبت کردار ادا کر رہا ہے۔‘
امن اور سلامتی کے علاقائی اُمور کے لئے افغان صدر کے خصوصی ایلچی عمر داودزئی کے مطابق پاکستان میں نئی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ ایک پیج پر ہیں۔ ایسے حالات میں پاکستان کے ساتھ ایشوز پر بات کرنے میں آسانی ہوتی ہے۔ ’بہت عرصے بعد ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ یہاں سیاسی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ افغانستان میں امن اور مذاکرات کے لیے ایک پیج پر ہیں۔‘
افغان طالبان کے بعض ذرائع کے مطابق دوحہ میں منگل کو امریکہ کے ساتھ دو روزہ اجلاس کو متفقہ طور پر ملتوی کردیا گیا لیکن پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے افغان صدر کے ایلچی کا کہنا تھا کہ منگل کو دوحہ میں کوئی اجلاس ہونا ہی نہیں تھا۔ ’دوحہ میں آج کے اجلاس کے بارے میں نہ ہمیں پتہ تھا اور نہ ہی امریکہ کو خبر تھی۔ طالبان نے خود میڈیا کو بتایا تھا کہ آج کوئی اجلاس ہے۔‘
بعض میڈیا رپورٹس میں یہ کہا گیا تھا کہ دوحہ میں امریکی سفارتکار زلمے خلیل زاد اور طالبان نمائندوں کی پہلی ملاقات میں افغان حکومت کو نہ پہلے اور نہ ہی بعد میں آگاہ کیا گیا تھا۔ تاہم عمر داودزئی نے ان رپورٹس کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایک سال پہلے امریکہ نے نہ صرف افغان حکومت بلکہ افغان سیاستدانوں سے بھی مشورہ کیا تھا کہ طالبان کے ساتھ براہ راست مذاکرات شروع کیے جائیں یا نہیں۔ ’امریکہ نے تو یہ کوششیں شروع کرنے سے پہلے ہی افغان حکومت سے اجازت لی تھی کہ کیا اب وقت ہے کہ طالبان کے ساتھ براہ راست مذاکرات کیے جائیں۔‘
اس سوال کے جواب میں کہ طالبان افغان حکومت سے کیوں مذاکرات نہیں کرنا چاہتے، عمر داودزئی کا کہنا تھا کہ طالبان کی ایک عرصے سے یہ خواہش تھی کہ پہلے امریکہ سے بات چیت کرلیں اور بعد میں افغان حکومت کے ساتھ بیٹھیں گے۔ اُن کے مطابق ابھی تک جب امریکہ اور طالبان کے درمیان کوئی حتمی بات نہیں ہوئی ہے، اس لیے طالبان افغان حکومت سے ملنے سے انکار کر رہے ہیں۔ تاہم افغان صدر کے خصوصی ایلچی نے اس بات پر زور دیا کہ طالبان افغان حکومت کے ساتھ بیٹھیں گے اور بات چیت بھی کریں گے۔
اس سے قبل افغانستان کے چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ نے بدھ کے روز کہا تھا کہ طالبان کی طرف سے مذاکرات میں افغان حکومت کی شمولیت سے انکار کا مطالب یہ ہوگا کہ 17 برس سے جاری تنازعے کا خاتمہ محض ایک ’خواب‘ ہی رہے گا۔
عبداللہ عبداللہ کے اس بیان سے ایک روز قبل طالبان نے قطر میں ہونے والے امریکی اہلکاروں سے مجوزہ مذاکرات اس بات پر منسوخ کر دیئے تھے کہ اُن میں افغان اہلکار بھی شرکت کر رہے تھے ۔ اس سے پہلےحالیہ ہفتوں کے دوران مذاکرات کے ذریعے اس تنازعے کے حل کے امکانات بڑھ گئے تھے۔
امریکہ طالبان لیڈروں پر زور دے رہا ہے کہ وہ افغان حکام کے ساتھ بات چیت کرے۔ تاہم طالبان کا کہنا ہے کہ اصل فریق امریکہ ہی ہے اور افغان انتظامیہ درحقیقت امریکہ کی کٹھ پتلی حکومت ہے۔

Comments:- User is solely responsible for his/her words